سیف الاسلام کی گرفتاری سے تفتیش کی نئی راہیں کھلیں گی

وسیم احمد
قذافی کے دوسرے بیٹے اوران کی حکومت کے وارث سیف الاسلام کی  ڈرامائی گرفتاری کے بعد تمام قیاس آرائیوں کا سین ڈراپ ہوچکا ہے۔جب تک سیف کی گرفتاری نہیں ہوئی تھی تو اس وقت تک الگ الگ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں۔کوئی اسے نائجیریا میں روپوش ہونے کی بات کررہا تھا تو کوئی الجزائر میں اور کوئی یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ وہ مارا جا چکا ہے مگر گزشتہ دنوں لیبیا کے وزیر اعظم عبد الرحیم الکیب نے سیف کی پراسرار روپوشی سے پردہ اٹھاتے ہوئے دنیا کوحیران کردیا کہ سیف لیبیا میں ہی روپوش تھا اور  لیبیا کی فوج نے اسے گرفتار کیا ہے۔سیف کی گرفتاری کے بعد جو بات  سامنے آئی  ہے اس کو جاننے کے بعد ماننا پڑتا ہے کہ قذافی کی سلطنت کا وارث بننے والا یہ نوجوان انتہائی زیرک اور تیز دماغ رکھتا تھا۔اس نے لیبیا سے بھاگنے کے لئے انتہائی منظم اور پر اسرار منصوبہ تیار کیا تھا مگر سچ کہا جاتا ہے کہ جب قسمت ساتھ نہ ہو تو انسان کی تمام تدبیریں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ایسا ہی سیف الاسلام کے ساتھ بھی ہوا ۔اسے اپنی منزل تک پہنچنے میں بس کچھ وقت ہی باقی تھا کہ اچانک لیبیا کی خفیہ ٹیم کی نظر اس پر پڑی اور اسے گرفتار کرلیا گیا اور اب اس کی قسمت کا فیصلہ لیبیا کی عدالت میں ہونا ہے جبکہ سیف یہ چاہتاتھا کہ اس پر ملک سے باہر مقدمہ چلایا جائے۔وہ لیبیا کی عدالت پر بھروسہ نہیں کررہا ہے۔سیف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خطروں کو سونگھ لیا کرتا تھا اور اس سے  نمٹنے کے لئے بہت محتاط قدم اٹھاتا  تھا، یہی وجہ تھی کہ اس نے قذافی حکومت کے زوال کے بعد لیبیا سے باہر جانے کے بجائے ملک کے اندر روپوش ہونے میں ہی عافیت محسوس کی تھی،کیوںکہ اگر وہ اپنے خاندان کے دیگر افراد اور اپنی ماں کی طرح پڑوس ملک نائجیریاچلا جاتا تو کرمنل کورٹ اس کو وہاں سے گرفتار کرسکتا تھا ۔ جون میں کرمنل کورٹ نے اس کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا۔اس پر عوام کے خلاف فوجیوں کو بھڑکانے کا الزام ہے ،اس وجہ سے سینکڑوں بے گناہوں کی جانیں گئی تھیں۔اس لئے سب سے بہتر اور محفوظ راستہ یہی تھا کہ وہ عام ذہنوں کو زک دے کر  لیبیا میں ہی چھپا رہے اور دنیا اسے پڑوس ملک میں تلاش کرتی رہے،لیکن نئی حکومت کے خفیہ ذرائع  اور عوام میں اس کے تئیں پائے جانے والے غم و غصے نے جلد ہی  اسے احساس دلا دیا کہ وہ لیبیا میں زیادہ دنوں تک محفوظ نہیں ہے،لہٰذا اس نے اپنی پناہ کے لئے نائجیریا جو فی الوقت اس کے لئے سب سے محفوظ جگہ تھی جانے میں عافیت سمجھی۔اس  نے اپنے چچا زاد بھائی الساعدی سے جو پہلے سے ہی وہاں پناہ لئے ہوئے ہیں، سے رابطہ قائم کیا۔الساعدی نے اس کے لئے راہیں ہموار کی اور اسے چھپ کر نائجیریا کی سرحد میں داخل ہونے کا سگنل دیا۔اب سیف کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ تھا لیبیائی ایجنسی سے چھپ کر کسی طرح  نائجیریا میں داخل ہونا۔ اس کے لئے اس نے جو منصوبہ بنایا اس کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ  واقعی وہ ایک  انتہائی زیرک اور منصوبہ بندی کا ماہر انسان ہے۔وہ ریگستان سے تین گاڑیوں میں پندرہ  لوگوں کے جھرمٹ میں قبائلی کمبل میں  لپٹ کر چہرے  پر نقاب لگائے ہوئے ساحل کی طرف چلپڑتا ہے ۔ساحل سمندر پر نائجیریا کی حدود میں اس کا بھائی الساعدی  بے صبری سے اس کے آنے کا انتظار کر رہاہے ،جہاں سے وہ سیف کو لے کر کسی  محفوظ مقام کی طرف لے  جاتا،الساعدی نے نائجیریا میں مقامی افسروں سے سیف کے بارے میں بات کر رکھی تھی،لیکن  اسیمعلوم نہ تھا کہ لیبیا کی انٹیلی جنس  سیف کی تلاش کے لئے ہر طرف مضبوط جال بچھا رکھا ہے۔لیبیا کی انٹیلی جنس کو پہلے سے ہی یہ خدشہ تھا کہ  اگر وہ  لیبیا میں چھپا ہوا ہے تو نائجیریا جانے کی کوشش کرے گا، لہٰذا تمام گزرگاہوں پر پیشگی احتیاط کے طور پر کالیں ریکارڈ کی جارہی تھیں ۔ ساتھ ہی ٹریننگ یافتہ کچھ مخصوص کارندوں کو دکانداروں کی شکل میں جابجا ہر گزرگاہ پر تعینات کردیا گیا تھا۔اپنی گرفتاری سے محض ایک دن پہلے سیف الاسلام نے اپنے خاندان کے کچھ افراد سے، جوزندہ بچ گئے  تھے اور وہ نائجیریا اور الجزائر کے علاقوں میں روپوش تھے، سے باتیں کی تھیں۔یہ باتیں اس نے بہت مختصر کیں ۔پہلے اس نے اپنی ماں صفیہ فرکاش اور بہن عائشہ سے بات کی جو الجزئر میںہیں۔ اس نے صرف خود کو محفوظ جگہ پر ہونے کی بات کہی تھی اور اپنی ماں کو یہ اطمینان دلایا تھا کہ وہ اب اس سے بھی زیادہ محفوظ ترین جگہ پر منتقل ہونے والا ہے۔ سیف کے نائجیریا جانے کے بارے میں اس کا بہنوئی عبد اللہ السنوسی جو قذافی کے دور میں انٹیلی جنس کا چیف تھا وہ سیف کے منصوبے سے واقف تھا اور وہ انٹیلی جنس میں ہونے کے سبب سرحدی علاقے کے پیچ و خم سے بھی واقف تھا،وہ سیف کے قافلے کو انتہائی محفوظ طریقے  سے ساحلی راستوں سے نائجیریا کی طرف جارہا ہے۔ لیکن اس کی بدقسمتی کہئے کہ جس وقت سیف اپنی ماں سے باتیں کررہا تھا تو اس وقت برطانوی انٹلی جنس کی خفیہمشینری نے اس کی  لوکیشن کے بارے میں لیبیا  کی حکومت کو اطلاعات فراہم کردی تھی۔اس اطلاع کے بعد لیبیا کی موجودہ حکومت نے پورے علاقیمیں خفیہ سیکورٹی کا جال بچھا دیا تھا۔حالانکہ سیف کویہ خدشہ تھا کہ ٹیلی فون ریکارڈ کیا جارہا ہوگا لہٰذا اس نے اپنے رشتہ داروں سے بات کرنے کے بعد فوری طور پراپنی جگہ بدل لی تھی ۔جگہ بدلنے کے بعد وہ مطمئن تھا کہ اب پوری طرح محفوظ ہے، لہٰذا جنوبی لیبیا کے مقام اوباری سے جو ایک پٹرول کے ذخیرے والا خطہ ہے اپنے ساتھیوں کے ساتھ دن کے تقریبا ڈیڑھ بجے منزل مقصود کی طرف چل پڑا ۔انٹلی جنس کی طرف سے مقررہ کارندوں نے  جو ریگستانی علاقے میں گاہے بگاہے خیمہ لگا کر حالات پر نظر رکھے ہوئے تھے ان میں سے ایک نے لیبیائی محکمے کو اطلاع دی کہ تین گاڑیوں کا ایک قافلہ نائجیر ساحل کی طرف بڑھ رہا ہے۔کارندے بغیر پیشگی اطلاع کے کوئی قدم اٹھانا نہیں چاہتے تھے کیونکہیہ علاقہ قبائلیوں کا ہے اور یہاں قبائلی سفر کے دوران کسی کی دخل اندازی کو ناپسند کرتے ہیں بسا اوقات وہ مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں ،لیکن وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے کارروائی لازمی تھی۔وہ کارندے جن کو  ہر گزرنے والوں پر نظر رکھنے کے لئے متعین کیا گیا تھا ، کو ایک میسیج ملتا ہے۔ اگلی کارروائی کے لئے کہا جاتا ہے۔اس کے ساتھ ٹریننگ یافتہ ٹیم ہے۔میسیج ریسیو ہوتے ہی کارندے آگے بڑھتے ہیں اور ہوا میں فائر کر کے تینوں گاڑیوں کو رکنے کا اشارہ کرتے ہیں۔دو گاڑیاں رک جاتی ہیں مگر ایک گاڑی کاڈرائیور ان کے اشارے کو نظر انداز کرکے آگے بڑھنے  کی کوشش کرتا ہے مگر کارندوں  کے تیور دیکھ کر ڈرائیور کو گاڑی روکنی پڑتی ہے۔ ڈرائیور باہر آتا ہے۔ ایک کارندہ اس سے شناختی کارڈ دکھانے کے لئے کہتا ہے۔ٹیم کے کچھ نوجوان اس درمیان پیچھے کی دونوں گاڑیوں کی طرف بڑھتے ہیں۔گاڑی میں کئی اجنبی نوجوان  سہمے ہوئے بیٹھے ہیں ۔ان پر ایک نظر ڈالی جاتی ہے،پھر کارندے تیسری گاڑی کی طرف بڑھتے ہیں ۔اس میں تین نوجوان بیٹھے ہیں۔ان کے بیچ میں ایک شخص نے اپنے چہرے پر قبائلی نقاب لگا رکھا ہے اور اس کا جسم اوور کوٹ سے ڈھکا ہوا ہے ۔ایک کا رندہ اس سے نام پوچھتا ہے ۔وہ کانپتی ہوئی آواز میں اپنا نام عبد السلام بتاتا ہے۔بولتے ہوئے اس کی آواز کپکپارہیہے۔اس سے باہر نکلنے کو کہا جاتا ہے۔نقاب پوش بغیر کسی مزاحمت کے گاڑی سے باہر آتا ہے اور ان کے سامنے کھڑا ہوجاتاہے۔ کارندہ غور سے اس کی آنکھوں میں جھانکتا ہے اور پھر اچانک اس کے چہرے پر عجیب قسم کی چمک پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ گاڑی کے بالکل قریب جاکر کہتا ہے ہے تم سیف ہو۔ کیا یہ سچ نہیں ہے ؟کیا تم قذافی کے بیٹے نہیں ہو؟
ذرائع بتاتے ہیں کہ کارندے کی آواز سن کر سیف نے بالکل خاموشی اختیار کرلی تھی۔کارندہ  اس سے نقاب ہٹانے کو کہتا ہے اور پھر چند پل میں ہی ایک عظیم سیاست داں جس کے نام سے کبھی یوروپ کی چولیں ہل جاتی تھیں، کا جانشیں سیف الاسلام خوفزدہ کھڑا ہوا ہے۔عاجمی علی العثیری  جس کی ٹیم نے سیف کو گرفتار کیا ،کا کہنا ہے کہ جیسے ہی ایک کارندے نے کہا کہ یہ قذافی کا بیٹا سیف الاسلام ہے  تو وہ خوف سے کانپنے لگا۔پہلے تو اس نے اپنے آپ پر بہت قابو پانے کی کوشش کی مگر جلد ہی وہ بے قابو ہوگیا اور کہنے لگا مجھے گولی ماردو ،مجھے مارڈالو،میرے سر پر گولی چلائو۔کچھ دیر چیخنے کے بعد سیف خاموش ہوجاتا ہے۔جب کارندے اسے لے کر چلنے لگے تو وہ کہتا ہے اگر مار نہیں سکتے تو مجھے شہرزنتا ن کی طرف  جلد سے جلد لے چلو۔جب ان کی تلاشی لی گئی تو ان کے پاس سے پستول ، کچھ دستی بم ملے، لیکن ان میں سے کسی نے بھی حملہ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی۔سیف کی ڈارھی بڑھی ہوئی تھی اور چہرہ خشک تھا۔داہنے ہاتھ پر پٹیاں بندھی  تھیں اور ایک لوکہا بھی زخمی تھا۔اسے دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ اس نے کئی دنوں سے نیند پوری نہیں کی ہے۔جب اسے گرفتار کرکے شہر زنتان کے لئے ہوائی جہاز پر بیٹھا یا گیا تو وہاں سیکورٹی والوں نے اس کے ساتھ نرمی کا برتائو کیا ۔اس سے مختلف موضوعات پر بات چیت کی۔اس طرح کچھ دیر کے بعد اس نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پالیا اور سیکورٹی والوں سے کچھ کچھ باتیں بھی کرنے لگا۔ دھیرے دھیرے بالکل نارمل ہوگیا یہاں تک کہ اپنی بہادری کے بارے میں بھی کچھ باتیں سیکورٹی سے شیئر کی۔اسے طرابلس سے مغرب کی جانب170  کلو میٹر دور زنتان لایا گیا اور اب اس سے زنتان کی جیل میں رکھا گیا ہے ۔تاکہ قذافی کے دور حکومت کے کچھ راز معلوم کیے جاسکیں۔قذافی خاندان کا یہ پہلا شخص ہے جسے گرفتار کرکے جیل میں رکھا گیا ہے ورنہ اس کے خاندان کے لوگ یا تو مارے گئے یا پھر کسی دوسرے ملک میں جاکر روپوش ہوگئے ہیں۔بہر کیف لیبیا حکومت کو سیف الاسلام کی شکل میں ایک بڑی کامیابی ملی ہے ،کیونکہ سیف کرنل قذافی کے دور حکومت میں ایک اہم رکن کی حیثیت سے کام کررہا تھا ،گرچہ اسے با ضابطہ کوئی عہدہ نہیں دیا گیا تھا،مگر سلطنت کے تمام کام میں وہ بلا روک ٹوک دخل دیتا تھا۔ لہٰذا اس سے لیبا کے کئی اہم راز کے علاوہ  باہری ملکوں کے بینکوں میں سرمایہ جمع کرنے ، 1978 میں شیعہ  رہنما موسیٰ الصدر کے قتل کے بارے میں بہت کچھ جانکاری ملسکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ قذافی خاندان کے جو لوگ روپوش ہیں انہوں نے لیبیا سے باہر بے شمار دولت جمع کر رکھی ہے جس کے بارے میں سیف سے بہت کچھ معلوم کیا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ فروری میں انقلاب برپا ہونے کے بعد فوج کے کئی اہم عہدیداروں کو جن پر قذافی کو شک تھا کہ وہ  باغی گروپ کو، اس کے ٹھکانے کے بارے میں بتا سکتے ہیں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔بہر کیف لیبیا کے عوام اور وہاں کی حکومت یہ سمجھ رہے ہیں کہ سیف الاسلام کی گرفتاری سے سابق حکومت کے کئی راز آشکار ہوں گے۔اب دیکھئے آگے کیا ہوتا ہے۔فی الوقت وہ زنتان کی جیل میں قید ہے ۔جیل  سے اس کا ایک بیان جاری ہوا ہے جس میں وہ جیل افسر کو کہتا ہے کہ ’’ لوگ عنقریب جان لیں گے کہ قذافی کی حکومت میں انہوں نے کیا پایا اور حالیہ حکومت میں کیا کھو رہے ہیں۔‘‘  g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *