پریس اور اظہار رائے کی آزادی

کمل مرارکا
پریس کونسل کے نئے چیئرمین نے کچھ ایسے اہم ایشوز کو اٹھایا ہے، جس کی وجہ سے میڈیا میں افرا تفری کا ماحول بن گیا۔ اس کے پیچھے پریس کونسل کا مقصد صرف اتنا تھا کہ وہ پریس کے کام کاج اور معیاروں پر نظر رکھ سکے اور اپنے محدود اختیارات کے سہارے شکایتوں کو دیکھ سکے۔ امید کے مطابق ہی یہ ادارہ بھی بے اثر ثابت ہوا۔ کوئی شخص اگر اپنے خلاف شائع قابل اعتراض یا غلط خبر سے ناخوش ہے، تو اسے خود کو پاک صاف ثابت کرنے کے لیے عدالت کی پناہ میں جانا پڑتا ہے۔ جس طرح کا قانونی نظام ہمارے ملک میں ہے، اس میں تو اس شخص کو انصاف ملنے میں ہی 10 سے 15 سال لگ جائیں گے۔ پریس کونسل کے نئے چیئرمین نے دو نئی باتیں کہی ہیں۔ ایک تو پریس کونسل کو مزید اختیار دینے کی، جس سے وہ سخت کارروائی کر سکے اور دوسری، الیکٹرانک میڈیا کو بھی پریس کونسل کے دائرے میں لانے کی۔ پریس کونسل کے ذریعے اٹھائے گئے یہ مدعے کافی اہم ہیں اور اس پر بحث کی گنجائش بھی ہے، تاکہ اتفاق رائے بنایا جا سکے۔ کیا اچھا ہے، کیا اچھا نہیں ہے؟ کیا قابل قبول ہے، کیا ناقابل قبول ہے؟ کیا مناسب ہے، کیا نامناسب ہے؟ یہ ساری باتیں وقت اور معاشرہ کے مطابق بدلتی رہتی ہیں۔ ہندوستان میں کئی ایسے لوگ ہیں، جو یہ مانتے ہیں کہ فلم سنسر شپ کو ختم کر دینا چاہیے اور لوگوں کو، جو وہ چاہیں دیکھنے اور دکھانے کی آزادی ہونی چاہیے۔ لیکن ساتھ ہی اس ملک میں مورل پولس کا رول نبھا رہے ایسے لوگ بھی ہیں، جو ایم ایف حسین کی مصوری کی نمائش کی مخالفت کرتے ہیں، کیوں کہ حسین نے ایک ہندو دیوی کی برہنہ تصویر بنائی تھی، جب کہ مخالفت کر رہے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ کھجوراہو اور کونارک میں ایسی تصویریں ہر جگہ موجود ہیں۔ انا ہزارے کے گاؤں میں ایک شخص کو شراب پینے کے سبب لوگ مندر کے سامنے پول سے باندھ کر پیٹتے ہیں۔ کیا ہم یہی چاہتے ہیں؟ یقینی طور پر پریس پر سنسر شپ نہیں لگنی چاہیے، لیکن ایک شخص، اگر اس کی عزت پر آنچ آتی ہے، کی شکایت سننے  اور اس کے حل کے لیے ایک مضبوط ادارہ کا ہونا ضروری ہے۔ ہمارے ملک میں امریکہ کی طرح آئین میں پریس کی آزادی کا اہتمام نہیں ہے۔ ہندوستانی آئین میں دفعہ 14 ہے، جو ایک عام آدمی کو اظہارِ رائے اور تقریر کی آزادی دیتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس اختیار کو وسیع کرتے ہوئے پریس کو بھی اس میں شامل کر دیا۔ ایک شخص کے لیے یہ اختیار الگ بات ہے، جب کہ پریس کے لیے الگ۔ لیکن اسے قبول کر لیا گیا ہے۔ کیا ہم یہ کہتے ہیں کہ پریس کونسل کو ختم کردینا چاہیے؟ کیا ہم یہ کہتے ہیں کہ اسے اور مضبوط اور با اختیار بنانا چاہیے؟ یا ہم یہ کہتے ہیں کہ پریس کونسل کو ایسے ہی ایک بے اثر ادارہ کی شکل میں چلتے رہنے دینا چاہیے؟g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *