فلسطین ماضی سے حال تک

وسیم احمد
فلسطین جنوب مشرقی ایشیا میں بحیرۂ روم  کے مشرقی ساحل پر ایک ایسے خطے کا نام ہے جو اپنے اندر تاریخ کے بے شمار نشیب و فراز سمیٹے ہوا ہے۔کہا جاتا ہے کہ تیسری ہزاری قبل مسیح جب لوگوں نے بستی بسا کر رہنے کا سلیقہ سیکھ لیا تھا تو اسی دور میں  عرب کے بنو کنعان فلسطین کے مقام’ اریحا ‘میں آکر آباد ہوئے تھے۔یہ جگہ تجارتی نوعیت سے بڑی اہمیت کی حامل تھی ۔مصر ، شام اور ماوراء النہر  کے ممالک یونان وغیرہ کو جوڑنے کا کام کرتی تھی۔یہی وجہ تھی کہ یہاں آبادی تیزی سے بڑھنے لگی۔اس علاقے کے لوگ بہت خوشحال تھے۔ قرب و جوار کے حکمرانوں کی للچائی نظر اس خطے پر لگی رہتی تھی۔خاص طور پر مصر کا حاکم جو اپنے وقت کا طاقتور  حاکم سمجھا جاتا تھا ،نے اس علاقے پر قبضہ کرنے کے لئے کئی کوششیں کیں۔جس کے نتیجے میں مصر اور بنو کنعان میں کئی خونریز جنگیں ہوئیں۔مصری حکمراں اور کنعانیوں کے درمیان طاقت کے مظاہرے کا یہ سلسلہ دوسری ہزاری قبل مسیح تک جاری رہا،لیکن وہ کنعانیوں پر حاوی نہیں ہوسکے۔ چودہویں صدی عیسوی  قبل مسیح سے مصر کا زوال شروع ہوا۔ لوگ مصر سے نکل کر دوسرے علاقوں میں منتقل ہونے لگے۔1270 ق م مصر کی عبری قوم نے کنعانیوں کے ساتھ جنگ کی۔ اس جنگ میں عبریوں کی قیادت ’جوشوا‘ کر رہا تھا۔لمبی جنگ کے بعد اس نے 1230 ق م فلسطین کے کچھ حصے پر قبضہ کر لیا اور پہاڑی علاقے پر اپنی آبادی بسا لی۔ گرچہ ان کی کوشش تھی کہ وہ پورے فلسطین پر قبضہ کرلیں مگر کنعانیوں نے اپنے ملک کا سخت دفاع کیا اور عبریوں کو کچھ حصے پر ہی اکتفا کرنے پر مجبور کردیا۔فی الوقت عبریوں کو پورے فلسطین پر قبضہ کرنے سے روک تو دیا گیا تھا مگر وہ مسلسل اس کوشش میں تھے کہ پورے خطے پر اپنا اقتدار قائم کریں ۔ا س مقصد کو حاصل کرنے کے لئے عبریوں نے ایک چال چلی۔اسرائیلی  جو اریحا کے کچھ فاصلے پر مقام ’یہودا‘ میں آباد تھے، کے  ساتھ ساز باز کی اور ان کے ساتھ مل کر1125 میں کنعانیوں کے ساتھ جنگ چھیڑ دی۔ اس جنگ میں دو رخی حملے کی وجہ سے کنعانیوں کو جنگ ہارنی پڑی۔اس طرح فلسطین کے جنوبی ساحل پر عبریوں کی اور بالواسطہ اسرائیلیوں کی حکومت قائم ہوگئی۔اسی خطے میں بیت المقدس واقع تھا لہٰذا شکست کے بعد کنعانیوں کو بیت المقدس سے محروم کردیا گیا، لیکن ابھی کچھ عرصہ ہی گزرا تھا کہ اسرائیلیوں نے عبریوں  کے ساتھ سازش کرنی شروع کردی۔اس سازش کی وجہ سے عبریوں نے اسرائیل کی بہت بڑی اکثریت کو 1050 ق م  میں ملک سے نکال دیا۔ اب اسرائیلیوں کے لئے ہر طرف مشکلیں ہی مشکلیں تھی۔ ایسے میں ان کے لئے ضروری تھا کہ وہ متحد ہوکر اپنی ایک ریاست قائم کریں، لہٰذا 1000 ق م میں انہوں نے کنعانیوں جو عبری سے شکست کھانے کے بعد بہت کمزور ہوچکے تھے کی کچھ زمینوں پر قبضہ کرکے وہاں اپنی آبادی بسا لی۔ کنعانیوں کی زمین پر قبضہ کرنے کے بعد انہوں نے قرب و جوار کی کمزور بستیوں پر قبضہ کرنا شروع کیا اور کچھ سال میں ہی اپنی ایک ریاست قائم کرلی ۔جب حضرت داوٗد ؑ اور سلیمان ؑ کے دور میں اسرائیلیوں کی طاقت بہت بڑھی تو انہوں نے اپنا علاقہ بڑھا کر القدس تک  ریاست کی توسیع کرلی تھی اور القدس کو  راجدھانی بنادیا۔لیکن ان کی موت کے بعد 922 ق م میں اسرائیلیوں کی حکومت تقسیم ہونے لگی۔ آپسی اختلاف اور اتحاد میں کمی کے سبب وہ اتنے کمزور ہو چکے  تھے کہ  721-722 ق م میں اسرائیلی ریاست کو مملکت آشوریہ جو اس وقت کی طاقتور حکومت تھی کے ما تحت آگئی۔یہودی آشوریہ کو ٹیکس دیتے تھے جس کے بدلے میں ان کو جان و مال کا تحفظ ملتا تھا۔لیکن اندر ہی اندر اسرائیل آشوریہ کے خلاف نفرت پھیلا رہے تھے ۔داخلی خلفشار کی وجہ سے آشوریہ کی حکومت کمزور ہونے لگی۔ بابلیوں نے اس کمزوری کا فائدہ اٹھایا اور 586 ق م حملہ کرکے حکومت کو اپنے زیر دست کرلیا۔بابلی اسرائیل کے فتنوں سے واقف تھے لہٰذا انہوں نے  تمام یہودیوں کو ملک بدر کردیا اور بیت القدس کو ڈھادیا۔ بابلیوں نے نہ صرف یہودیوں کو ملک بدر کیا بلکہ ان کی شناخت کو مٹانے کے لئے ان کی مذہبی اور تاریخی دستاویزات کو بھی نذر آتش کردیا۔لیکن یہودی اپنی روایت اور تہذیب کے شیدائی تھے لہٰذا اس کی حفاظت کے لئے وہ جہاں بھی گئے،  اپنی روایت کو سپرد قلم کرتے رہے۔خاص طور پر وہ اسرائیلی جن کو بابلیوں نے جیل میں قید کر رکھا تھا، وہ جیلوں میں ہی اپنی روایت کو محفوظ کرتے رہے،لیکن اسرائیلیوں کی خوش نصیبی کہیے کہ انہیں در بدر کی ٹھوکریں زیادہ دنوں تک نہیں کھانی پڑیں، کچھ سال کے بعد 539 میں فلسطین واپس آگئے۔ دراصل سیروس اعظم  نے اسی زمانے میں فلسطین پر حملہ کردیا تھا ۔بابلیوں نے ان کا  سخت مقابلہ کیا لیکن سیروس کے سامنے ان کی فوج پسپا ہوگئی ۔فتح حاصل کرنے کے بعد سیروس نے تمام اسرائیلیوں کو فلسطین میں واپس بلا لیا اور فلسطین کے خطہ یہودا میں انہیں دوبارہ آباد ہونے کی اجازت دے دی،ساتھ ہی انہیں مذہبی آزادی بھی دی۔اسرائیلیوں نے یہودا میں واپسی کے بعد القدس کی از سر نو تعمیر کی اور یہاں سے  پھر اپنی سماجی زندگی کا آغاز کیا۔اس زمانے میں فارسی حکمراں کی طوطی بولتی تھی اور فلسطین میں بھی ان کا اثر و رسوخ گہرا تھا  لیکن 333 ق م سکندر اعظم المقدونی نے فلسطین پر حملہ کرکے  اس علاقے کو اپنے  زیر نگیں کرلیا ۔ان کا اقتدار فلسطین میں ان کی دو نسلوں بتلومیس اور سیلیوسدس تک چلا۔ سیلیوسدس  اپنی تہذیبی وراثت کا سخت پابند تھا۔ اس نے اپنی رعایا کو یونانی تہذیب اختیار کرنے پر مجبور کردیا۔لیکن ایک صدی کے اندر ہی اسرائیلیوں نے ’ماکابیس ‘کی قیادت میں سیلیوسدس کی حکومت سے بغاوت کردی جس کے نتیجے میں 141 ق م حکومت کا تختہ پلٹ گیا اور اسرائیلیوں کے ہاتھ میں اقتدار آگیا۔اسرائیلیوں نے اپنی مستقل ریاست قائم کرلی۔لیکن روم کا حاکم بومبی  جو اپنے وقت کا مشہور حاکم گزرا ہے نے اسرائیلی ریاست کو کمزور کرنے کے لئے 63 ق م وہی طریقہ اختیار کیا جو آج امریکہ عراق اور شام کے خلاف اختیار کر رہا ہے یعنی اس نے اسرائیلی مملکت کا بائیکاٹ کردیا جس کی وجہ سے اسرائیلی حکومت کمزور ہونے لگی۔کچھ دہائی بعد یعنی 4-37 ق م ’ہرود اکبر‘ نے اس کمزوری کا فائدہ اٹھایا اور وہاں اپنی حکومت قائم کرلی۔ یہی وہ دور ہے جب حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش ہوئی۔ اسرائیلیوں نے اپنی حکومت واپس لینے کے لئے کئی انقلاب برپا کیے لیکن انہیں ہر دفعہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ان انقلابوں میں بے شمار اسرائیلی قتل کیے گئے اور جو پکڑے گئے انہیں غلام بنا لیا گیا اور جو اسرائیلی ادھر ادھر بچ گئے تھے انہیں  القدس میں جانے سے روک دیا گیا۔اور یہودا جہاں پر القدس واقع تھا  کا نام سوریا فلستینا رکھ دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ’ قسطنتین اول‘ جو ایک رومانی امپائر تھا کی ماں گیلینا القدس کی زیارت کرنے آئی۔اس کی زیارت کے بعد لوگوں میں القدس کی زیارت کا شوق اتنا بڑھا کہ لوگ جوق در جوق فلستینیا کا سفر کرنے لگے۔زائرین کی کثرت کی وجہ سے  لوگوں کی آمدنی میں زبردست اضافہ ہوا۔کہا جاتا ہے کہ 313 عیسوی  تک القدس کی اتنی شہرت پھیل چکی تھی کہ ہمہ وقت وہاں ایک ازدحام لگا  رہنے لگا۔یہ دور مسیحیوں کے لئے سنہریٰ دور تھا۔بے شمار لوگ مسیحی مذہب میں داخل ہوئے۔لیکن القدس پر مسیحیوں کی گرفت کچھ صدیوں تک ہی رہی۔ 638 میں اسلامی لشکر نے فلسطین اور القدس پر حملہ کرکے اپنے قبضہ میں کرلیا۔ یہاں سے اس سر زمین پراسلام کی عظیم تاریخ کا آغاز ہوتا ہے۔ اسلامی لشکر نے فلسطین پر فتح حاصل کرنے کے بعد 1300 سال تک  بلا شرکت غیر حکومت کی۔ فلسطین  مسلمانوں کے لئے ایک مقدس مقام تھا ،کیونکہ ان کا قبلہ اول اسی ملک میں واقع تھا۔ مسلمانوں نے فلسطین میں رہنے والے دیگر مذاہب والوں پر اسلام تھوپنے کی کوشش نہیں کی۔ انہیں اپنے مذہب پر رہ کر آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کا پورا پورا حق دیا۔اسلام کے طرز معاشرت اور مساوات کے مزاج نے عام لوگوں کے ذہنوں پر گہرا اثر چھوڑا اور ایک صدی کے اندر اندر اکثر لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔فلسطین کو مذہبی اہمیت حاصل ہونے کے سبب اموی دور خلافت میں  یہ خطہ ایک تجارتی مرکز بن گیا تھا لیکن 750 عیسوی میں جب عباسی دور آیا تو  مملکت اسلامیہ کی راجدھانی دمشق کے بجائے بغداد کو بنادیا گیا۔ اس کے بعد فلسطین جس کو تجارتی اہمیت حاصل تھی کی اہمیت کم ہونے لگی۔ حکومت نے فلسطین  پر توجہ دینی کم کردی جس کی وجہ سے وہاں طرح طرح کے مسائل پیدا ہونے لگے۔ لیکن فلسطینیوں نے ان تمام مسائل کا سامنا کیا مگر اپنی تہذیب اور اسلامی تشخص کو بچائے رکھا۔ 1517 میں عثمانی دور خلافت شروع ہوا۔ دور عثمانی میں جتنے بھی خلفاء آئے اور فلسطین پر حکومت کی، ان میں سے کسی نے بھی یہودی یا مسیحی کو مذہبی آزادی سے نہیں روکا۔ دور عثمانی کی اگرچہ عرصے تک فلسطین پر حکومت رہی لیکن 17 ویں صدی میں ہی ان کا زوال شروع ہوچکا تھا۔ ۔ فلسطین  میں تجارتیں کم ہوگئیں ، کھیتیاں ختم ہوگئیں ۔ لوگوں کی مالی حالت خستہ ہونے لگی، البتہ جب خلفاء عثمانیہ میں محمد علی 1831-1840  میںمصر کا والی بنا تو اس نے فلسطین پر خاص توجہ دی اور وہاں نہ صرف کھیتی باڑی کے کام کو از سر نو اوپر اٹھایا، بلکہ تجارت و حرفت اور تعلیم و تربیت پر بھی خاص توجہ دی۔ جس کی وجہ سے زوال پذیر فلسطین ایک مرتبہ پھر ترقی کی راہ پر چل پڑا۔ محمد علی کے بعد فلسطین میں پھر سے مسلمانوں کی حالت کمزور ہونے لگی۔ اس کا فائدہ یوروپی ممالک نے اٹھایا اور فلسطین میں اپنی جڑیں مضبوط کرنی شروع کیں۔ ان کے اس مشن میں یہودیوں نے عیسائیوں کی حوصلہ افزائی کی اور فلسطین پر انہیں اپنے قدم جمانے کی راہ میں بھرپور تعاون دینے کا یقین دلایا۔ یہی وہ موقع تھا جب یہودی فلسطین میں اپنی شناخت مضبوط بنانے کے لئے ہاتھ پیر ما ر رہے تھے۔ایک طرف مسلمانوں کی بکھرتی طاقت اور دوسری طرف یہودیوں کی عیسائیوں کے ساتھ بڑھتی دوستی نے یورپین کو فلسطین میں اثرو رسوخ بڑھانے کا موقع فراہم کیا۔موقع کا فائدہ اٹھا کر یہودیوں نے مختلف ملکوں سے یہودیوں کو لا کر فلسطین میں بسانے کا منصوبہ بنایا۔مشہور یہودی رائٹر ثیوڈور ھیرزل نے 1897 میں’’ انٹرنیشنل جیوس آرگنائزیشن‘‘ قائم کی تھی،جس کا مقصد بھی یہی تھا، اگرچہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے یہودی 1880 سے ہی فلسطین میں آنا شروع ہوگئے تھے مگر گزشتہ بیسویں  صدی میں ان کی آبادی یہاں اتنی زیادہ ہوگئی تھی کہ مسلمان  95 فیصد ہونے کے باوجود اپنے اندر خوف  محسوس کرنے لگے تھے۔ کیونکہ یہود ی تیزی کے ساتھ فلسطین میں آکر زمین خرید رہے تھے اور آباد ہورہے تھے جس سے مسلمانوں میں کسی ناگہانی خطرے کا احساس ہورہا تھا۔1918 میں برطانیہ نے ترک امپائر سے حکومت چھین لی۔ دراصل کچھ عربوں نے عرب خطے میں ترک امپائر  کو کمزور کرنے کے لئے برطانیہ کی مدد کی تھی۔ اس میں ان کا ایک لالچ بھی چھپا ہوا تھا۔ برطانیہ نے مکہ کے والی شریف الحسن سے یہ وعدہ کیا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد وہ اسے مکہ کا مستقل والی بنادے گا ۔ اس طرح شریف الحسن نے برطانیہ کی بھرپور مدد کی اوریہی فلسطین میں ترک حکومت کے بے دخل  ہونے کا سبب بنا۔دوسری طرف برطانیہ نے 1916 میںہی فرانس اور روس سے ایک خفیہ معاہدہ کر رکھا تھا جس میں اس نے یہودیوں کو فلسطین میں مستقل  طور پر بسانے کی بات کہی تھی۔ جس کے لئے اس نے 1922 سے ہی راہیں ہموار کرنی شروع کر دی تھیں ۔ادھر نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں پر ڈھائے گئے مظالم کی وجہ سے اسے پورے یوروپ کی ہمدردی حاصل تھی لہٰذایہودیوں نے اس ہمدردی کا خوب فائدہ اٹھایا اور غیر قانونی طور پر فلسطین میں ہجرت کرکے آنے لگے ۔حالانکہ اس کی اس غیر قانونی ہجرت اور کثیر تعداد میں ان کی منتقلی کی وجہ سے برطانیہ بھی تشویش میں پڑگیا تھا،لہٰذا جب دوسرے ممالک سے ایک لاکھ یہودیوں کو فلسطین میں لاکر بسائے جانے کی بات کہی گئی تو برطانیہ نے اس پر اعتراض کیا تھا۔ اس کے بعد اس معاملے کو 1947 میں اقوام متحدہ میں پیش کیا گیا۔ اقوام متحدہ نے فلسطین میں یہودی بستی بسائے جانے کی منظوری دے دی اور اس طرح 1948 میں انہیں فلسطین کی زمین پر آباد کردیا گیا۔
خطے میں یہودی بستی بسائے جانے کے بعد فلسطینیوں کے لئے نئی مشکلیں کھڑی ہوگئیں۔ یوروپین ممالک کی معاونت سے یہودی فلسطینی مسلمانوں کے لئے نئے نئے مسائل پیدا کرنے لگے۔ چنانچہ اسی اختلاف کا نتیجہ تھا کہ 1945 میں دونوں کے مابین جھڑپیں ہوئیں۔حالانکہ مسلمانوں کی تعداد  یہودیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی مگر یہودی طاقت کے اعتبار سے مسلمانوں سے کہیں زیادہ تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فلسطینیوں کو عرب انقلاب کے بعد سنبھلنے اور تیاری کرنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا جبکہ یہودی خفیہ طور پر اس کی پوری تیاری میں لگے تھے۔ اس کے علاوہ عرب انقلاب اور یہودیوں سے جنگ کی وجہ سے فلطینیوں کے بڑے بڑے لیڈر جیلوں میں قید تھے۔اسی وجہ سے مئی 1948 میں جب عرب اسرائیل جنگ چھڑی تو عربوں کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا۔اس جنگ میں عربوں پر اسرائیل کی طاقت کا خوف طاری ہوگیا جس کا فائدہ اٹھا کر اسرائیل نے عربوں کے بہت سے علاقے کو اپنے قبضے میں کرلیا۔جنگ کے بعد اردن کے حصے میں نہر اردن کا مغربی کنارہ آیا اور مصر نے غزہ کے کچھ علاقے کو اپنے حصے میں کرلیا، لیکن کچھ سال بعد ہی ان دونوں حصوں کو اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں اپنے قبضہ میں کرلیا۔ اسرائیل کی طاقت کے سامنے عرب بے بس تھے، یہودیوں کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں تقریبا 780000 فلسطینی اپنا وطن چھوڑنے اور بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے۔ان میں بڑی تعداد کو شہید کردیا گیا۔ لیکن ایک بات جس کی داد دینی پڑے گی کہ فلسطینیوں پر ہر طرح کے مظالم ڈھائے گئے مگر انہوں نے اپنی تہذیب اور روایت کو مضبوطی سے تھامے رکھا اور ان اسرائیلیوں سے اپنا حق واپس لینے کے لئے کوشاں رہے۔ آج بھی ان کی اسرائیلیوں کے ساتھ جو بھی جھڑپیں ہوتی ہیں اسی وجہ سے کہ فلسطینی اپنا حق جس پر اسرائیلیوں نے قبضہ کر رکھا ہے واپس لینا چاہتے ہیں۔  g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *