یو پی کا آئندہ اسمبلی انتخاب اور مسلمانوں کی صورتحال

ڈاکٹر قمر تبریز
ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے۔ اس جمہوری نظام میں عوامی نمائندوں کو عوام کے ذریعے ہر پانچ سال میں ایک بار منتخب کیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے ملک کی بدقسمتی یہ ہے کہ سیاسی نمائندے جب منتخب ہو کر ایوان میں پہنچتے ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ انہیں کس نے منتخب کیا ہے۔ وہ عوام کے مسائل کو نظر انداز کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان پانچ سالوں میں شاید ہی کسی لیڈر کو اتنا وقت مل پاتا ہے کہ وہ اپنے حلقہ انتخاب کا دورہ کرکے وہاں کے مسائل کو جاننے اور پھر انہیں حل کرنے کی کوشش کرے۔ حالانکہ منتخب ہونے کے بعد ان کی یہ اولین ترجیح ہونی چاہیے کہ جن لوگوں نے انہیں چن کر اقتدار تک پہنچایا ہے، ان سے مل کر ان کے دکھ درد کو بانٹیں، ان کے مسائل کو حل کریں۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔ ان سیاسی لیڈروں یا عوامی نمائندوں کو ہوش تب آتا ہے، جب اگلا الیکشن قریب ہو۔ اتر پردیش میں اس وقت یہی ہو رہا ہے۔ برسر اقتدار بہوجن سماج پارٹی کو اب ہوش آیا ہے کہ اتر پردیش کے مسلمانوں کو ریزرویشن ملنا چاہیے۔ اس کے لیے صوبہ کی وزیر اعلیٰ نے مسلمانوں پر احسان کرتے ہوئے اس بابت وزیر اعظم ڈاکٹر منمو ہن سنگھ کو ایک مکتوب بھی ارسال کیا ہے۔ دوسری طرف کانگریس کے یو راج راہل گاندھی اس غم میں گھلے جا رہے ہیں کہ اتر پردیش کے لوگوں کو محنت و مزدوری کرنے اور اپنا ذریعہ معاش تلاش کرنے کے لیے مہاراشٹر اور پنجاب جیسے دور دراز کے علاقوں کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ وہیں ملائم سنگھ یادو کے فرزند ارجمند اکھلیش یادو وعدوں کی بوچھار کر رہے ہیں کہ آئندہ انتخاب میں اگر ان کی پارٹی جیت کر آئی تو گویا وہ اتر پردیش کے سارے مسائل کو یک و تنہا حل کر دیں گے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی بھی اتر پردیش کے آئندہ انتخاب کو مد نظر رکھتے ہوئے یاتراؤں پر یاترائیں کیے جا رہی ہے، اس نے بدعنوانی کو اپنا سب سے بڑا ایجنڈا بنا رکھا ہے، یہ بات دیگر ہے کہ خود اس کے ہی ایک وزیر اعلیٰ کو بدعنوانی کے الزام میں جیل کی ہوا کھانی پڑی ہے۔
ان سب سیاسی چالبازیوں کے درمیان بیچارہ مسلمان یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ وہ ان میں سے کس کو اپنا ہمدرد سمجھے۔ وہ اتنا تو ضرور سمجھ رہا ہے کہ پچھلے الیکشن میں جس کسی نے بھی اسے سنہرے خواب دکھائے، وہ خواب ابھی تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکا ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات اب بھی ہو رہے ہیں، دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں کو اب بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، مسلمان اب بھی دلتوں سے پچھڑا ہوا ہے، مسلمانوں کی تعلیم کا ابھی تک کوئی معقول بندو بست نہیں ہے، سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کے لیے کوئی خاص جگہ نہیں ہے، بیچارہ مسلمان جہاں بھی جاتا ہے اسے شک کی نظر سے اب بھی دیکھا جاتا ہے۔ ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے کہ پورے ملک میں ایک مخصوص ذہنیت کی طرف سے مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کی پوری کوشش کی گئی، اعظم گڑھ کو ’آتنک گڑھ‘ تک کہا جانے لگا۔ اس سے پہلے بابری مسجد کو شہید کر دیا گیا اور اب حالیہ دنوں میں یو پی کے ایک دو مقامات پر فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمانوں کے جان و مال کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ ہندوستان کا ایک مخصوص طبقہ نہیں چاہتا ہے کہ اس ملک کے مسلمان خوش حال ہوں، اسے تو مسلمانوں کو ڈرا سہما اور مالی طور پر بد حال دیکھ کر خوشی ہو تی ہے، وہ نہیں چاہتا کہ مسلمانوں کے بچوں کی تعلیم کا مناسب انتظام ہو، وہ نہیں چاہتا کہ سماجی و معاشی پس ماندگی کے سبب مسلمانوں کو سرکاری نوکریوں میں ریزرویشن ملے، وہ چاہتا ہے کہ جن علاقوں میں مسلمانوں کا کاروبار بہتر ہے وہاں کا ماحول اتنا خراب کر دیا جائے کہ ہندوستان کے دو بڑے فرقے کبھی باہم شیر و شکر ہو کر زندگی نہ گزار سکیں۔
ایسے میں اب مسلمانوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ اس ملک میں انہیں اپنے وجود کو کس طرح برقرار رکھنا ہے۔ اترپردیش میں الیکشن کا وقت قریب آ رہا ہے۔ اب ہر سیاسی پارٹی کا نمائندہ مسلمانوں کے دروازے پر آئے گا اور اپنے طریقے سے انہیں سمجھانے کی کوشش کرے گا کہ ان کی پارٹی اقتدار میں آئی تو وہ مسلمانوں کے ہر مسائل حل کر دیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہ تو پہلے کبھی ہوا ہے اور نہ ہی آئندہ ہونے کی کوئی قوی امید لگتی ہے۔ لیکن پوری طرح مایوس ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ ملک کے آئین نے ہمیں یہ حق دیا ہے کہ ہم نے پچھلی دفعہ جن نمائندوں کو منتخب کرکے ایوانِ اقتدار تک پہنچایا تھا، ہم ان سے جواب طلب کریں کہ انہوں نے اپنے پچھلے وعدوں کو پورا کیوں نہیں کیا، آئندہ کے لیے بھی اگر ہم چاہیں تو ایک شرط لگا سکتے ہیں اور ان سے کہہ سکتے ہیں کہ آپ ہمارے علاقے میں ہمارے بچوں کے لیے اسکول کھلوائیں تو ہم آپ کو ووٹ دیں گے، آپ مسلم محلوں میں صفائی ستھرائی کا معقول بندو بست کروائیں، بجلی پانی کا اچھا انتظام کر وائیں تب ہم آپ کو ووٹ دیں گے۔ آپ نے ان سیاست دانوں کو کئی بار آزمایا ہے، اب ان سے سختی سے کہیں کہ اگر آپ ہمارے مسائل حل نہیں کرا سکتے تو آپ کو ہمارے دروازوں پر ووٹ مانگنے کے لیے آنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کا یہ جواب سن کر ہو سکتا ہے وہ دوسرے طریقوں سے آپ کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کریں، لیکن آپ کو اس سے گھبرانا نہیں ہے۔ اگر آپ حق پر ہوں گے تو کوئی آپ کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔
اتر پردیش کے 2007 اسمبلی انتخاب کے اعداد و شمار پر اگر ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہمارے سامنے یہ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ مسلمانوں کے ووٹ نے ہر جگہ پر فیصلہ کن ووٹ کا کردار نبھایا ہے۔ اس لیے آپ کو اس وقت بھی یقین محکم ہونا چاہیے کہ مسلمانوں کو نظر انداز کرکے کوئی بھی پارٹی اقتدار میں آنے کا خواب نہیں سجا سکتی۔ لیکن ساتھ ہی آپ کو یہ بھی خیال رکھنا ہوگا کہ بعض سیاست دانوں کی یہ بھی سوچ ہوتی ہے کہ اگر مسلمان سیدھے طور سے انہیں ووٹ نہیں دیتا ہے تو ان کے محلوں میں فرقہ وارانہ فسادات کر وا دیے جائیں اور پھر ایک دو قصورواروں کے خلاف کارروائی کرکے یہ تاثر دیا جائے کہ فلاں پارٹی ہی ان کی ہمدرد ثابت ہو سکتی ہے، لہٰذا مسلمان اسے ہی ووٹ دیں۔ اس قسم کے بہکاوے میں آنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ ماضی میں بعض پارٹیوں کی طرف سے ایسا کرنے کی کئی بار کوشش کی گئی ہے۔ اسی طرح آپ ہر پارٹی سے یہ مطالبہ کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے انتخابی منشور میں اس بات کو شامل کرے کہ اس ملک کا مسلمان دہشت گرد نہیں ہے اور ایک دو مسلمان کے بھٹک جانے کے سبب پوری قوم کو دہشت گرد کہنا صحیح نہیں ہے۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کے نام پر جتنے بھی بے قصور مسلمان ہندوستان کی مختلف جیلوں میں بند ہیں، انہیں بلا شرط اور فوری طور پر رہا کرنے کا بھی مطالبہ آپ ان سیاسی نمائندوں سے کر سکتے ہیں۔
اگر آدمی ہوش و حواس میں ہو تو وہ اچھے اور صحیح فیصلے لے سکتا ہے، اس لیے مسلمانوں کو کسی بھی قیمت پر مشتعل نہیں ہونا چاہیے۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ضروری نہیں ہے کہ مسلم لیڈر ہی منتخب ہو کر آئے، غیر مسلم لیڈر بھی مسلمانوں کے مسائل کو حل کرا سکتا ہے، بشرطیکہ وہ ایماندار ہو۔ ہندوستان کا ہر ووٹر یہ جانتا ہے کہ اس کے علاقے کے مسائل کو حل کرانے کی اہلیت کس لیڈر کے اندر ہے، لہٰذا وہ کسی ایک مخصوص پارٹی کو ترجیح نہ دے کر سیاسی نمائندوں کی اہلیت کو سامنے رکھتے ہوئے اگر فیصلہ لیں تو شاید یہ اُن کے اور ان کے علاقے کے حق میں بہتر ہو سکتا ہے۔ اتر پردیش کے گزشتہ اسمبلی انتخاب کے اعداد و شمار یہی بتاتے ہیں کہ کئی ایسے علاقے جہاں پر مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی ہے وہاں پر کوئی بھی مسلم امیدوار نہیں جیت سکا، جب کہ اس کے برعکس اکثر ایسا دیکھنے کو ملا کہ جہاں پر مسلمان کم تعداد میں ہیں، وہاں پر بڑی تعداد میں مسلم امیدوار جیت کر آئے۔ یہ اسی بات کا اشارہ ہے کہ عوام نے ترقیاتی کام کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنا فیصلہ صادر کیا، ورنہ ایسا نہیں ہوتا۔ سیاست دانوں کو بھی اب یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ ہندوستان کا ووٹر اب سمجھدار ہو چکا ہے، جس میں مسلمان بھی شامل ہیں، اب انہیں آسانی سے بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا۔ جو بھی پارٹی ایمانداری سے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرے گی، وہ مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی، اس لیے اگر کوئی سیاسی پارٹی یہ سوچ رہی ہے کہ مسلم ایک بیوقوف قوم ہے، تو اب وہ اپنی اس سوچ سے جتنی جلد باہر نکل جائے، یہ اس کے حق میں بہتر ہوگا۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *