میاں! مجھ پر بھی مضمون لکھو

عظیم اختر
یہ چند سال پہلے کی بات ہے جب ہم ایک مقامی اخبار کے لیے دہلی کے گلی کوچوں میں گمنامی کی زندگی گزارنے والی نابغہ روزگار اور صاحب فن شخصیتوں کے خاکے لکھ رہے تھے تاکہ آنے والے کل کے دہلی والوں کو آج کی دہلی کی شعری، ادبی، سماجی، علمی، تہذیبی اورثقافتی زندگی کے بارے میں تہی دامنی کااحساس نہ ہو۔ ہم پرانے شہر کی گلیوں اور کوچوں میں گھوم پھر کر ایسی شخصیتوں کو تلاش کرتے، ان سے ملتے اور ان کو آنکتے پرانی دہلی والوں کا خاصہ ہے کہ دوتین ملاقاتوں میں بے تکلف ہوجاتے ہیں اور اپنا سمجھنے لگتے ہیں۔ دہلی والوں کی اس عادت سے ہمیں بہت فائدہ پہنچا۔ ہم بے تکلف ماحول میں ان سے کھل کر گفتگو کرتے اور ان کی سدابہار شخصیتوں کا مشاہدہ کرکے خاکہ لکھتے۔
ہمارے ان خاکوں کا سلسلہ جاری تھا۔ ایک دن ہم بازار چتلی قبر کی مسجد کے قریب اپنے ایک ڈاکٹر دوست کے کلینک میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے، دنیا جہاں کی باتیں ہورہی تھیں کہ کلینک کے قریب سے گذرتے ہوئے ایک گول مٹول شخص نے ہمیں غور سے دیکھا، ایک لمحہ کے لیے ٹھٹکے اور پھر آگے بڑھ گئے لیکن چند قدم چل کر پلٹے اور کلینک کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھ کر ہم سے مخاطب ہوئے ’’میاں تم عظیم اختر ہونا‘‘ یہ انداز تخاطب ہمیں ناگوار گذرا لیکن یہ سوچ کر چپ رہے کہ دہلی کے کر خندار اپنائیت کی وجہ سے ہی تم کہہ کر خطاب کرتے ہیں۔ ہم نے اثبات میں گردن ہلائی تو وہ ’’خوب پہچانا بھئی خوب پہچانا‘‘ کی تکرار کرتے ہوئے کلینک  میں داخل ہوئے اور ایک کرسی پر بیٹھتے ہوئے بے تکلفی سے تنکوں والی گول ٹوپی اتار کر ڈاکٹر کی میز پر رکھی اور پھر ہم سے مخاطب ہوئے ’’میاں یقین کرو میں خود تمہاری تلاش میں تھا اور تم سے ملنا چاہتاتھا۔ آج اتفاق سے تم پر نظر پڑگئی اور میں نے فوراً پہچان لیا۔ تم دہلی والوں پر خوب مضامین لکھ رہے ہو۔ میں نے اب تک تمہارے سارے مضمون پڑھے ہیں۔ میری طرح سلیس اور بامحاورہ زبان لکھتے ہو‘‘ یہ کہہ کر انہوںنے ہماری طرف دیکھا۔ ہم نے چونک کر کہا’’کیا آپ بھی صاحب قلم ہیں۔‘‘ اس پر انہوںنے ہمیں ایک بار پھر غور سے دیکھا اور بولے ’’ہیں؟ حیرت ہے تم مجھے نہیں جانتے۔‘‘ یہ کہہ کر انہوںنے ایک ہلکا ساقہقہہ لگایا اور ڈاکٹر سے مخاطب ہوئے ارے ڈاکٹر تمہارے دوست مجھے نہیں جانتے، میرے نام سے واقف نہیں۔ اس سے پہلے کہ ڈاکٹر ہم سے ان کا باقاعدہ تعارف کراتے، وہ خود ہی گویا ہوئے ’’میاں لگتا ہے اخبار نہیں پڑھتے، اسی لیے مجھ سے ناواقف ہو۔ ارے بھئی میں پشیتنی دہلی والاہوں اور یہاں کے گلی کوچوں کے مسائل کے بارے میں اخبارات میں مراسلے لکھتاہوں۔ دہلی کے تقریباً ہر اخبار میں میرے مراسلے شائع ہوتے ہیں۔ جن کو قارئین شوق سے پڑھتے ہیں۔ اب تک تقریباً تین سو مرا سلے لکھ چکاہوں اور سرکاری محکموں کی کارکردگی پر کڑی تنقید کرتاہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میرے ہر مراسلے سے سرکاری محکموں میں کھلبلی مچ جاتی ہےاور افسران کو لینے کے دینے پڑجاتے ہیں۔ کارپوریشن اور پولیس کا عملہ میرے نام سے ڈرتا ہے۔ ان گلی کوچوں میں جو صفائی اور ستھرائی نظرآرہی ہے وہ میرے مراسلوں کی ہی بدولت ہے ورنہ سرکاری محکمے ہمارے تمہارے علاقوں کی طرف سے توآنکھیں بند کئے رکھتے ہیں۔ یہ کہہ کر پشیتنی دلی والے نے داد طلب نگاہوں سے ہمیں دیکھا ور پھر گویا ہوئے ’’میں اپنے مراسلوں میں ان کی خوب خبرلیتاہوں۔ میرے ابا مرحوم بھی اخبارات میں مراسلے لکھ کر سرکاری افسران کا ناطقہ بند کئے رکھتے تھے۔ وہ انگریزوںکا دور تھا ظالموں نے ان پر کئی مقدمات چلائے اور ہربار منہ کی کھائی۔ میں بھی چاہتاہوں، سرکار میرے مراسلوں پر کوئی مقدمہ چلائے اور میں اس خاندانی روایت کو پور اکروں۔ لیکن میاں میں کبھی کبھی اپنے مراسلوں میں سرکاری کاموں کی تعریف بھی کرتارہتاہوں۔ شاید اسی لیے سرکار میرے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیتی۔ اب یہی دیکھو۔ یہ کہہ کر انہوںنے اپنی واسکٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک اخبار نکالتے ہوئے بولے ’’پچھلے مہینے ایک نیم سرکاری ادارے نے اردو کے فروغ کے لیے نئی دہلی میں خواتین کاایک مشاعرہ کیا تھا۔ منتظمین نے مجھے بھی وی آئی پی کارڈ بھیجا تھا۔ مشاعرے میں جاکر طبیعت خوش ہوگئی اور یقین ہوگیا کہ سرکار اردو کو سچ مچ فروغ دینا چاہتی ہے۔ میں نے اس مراسلے میں سرکاری اقدامات کی کافی تعریف کی ہے۔ منتظمین نے نہ جانے کہاںکہاں سے تلاش کرکے بہترین شاعرات کو مدعوکیاتھا۔ ان شاعرات کا ترنم کیا تھا بس کچھ نہ پوچھو ہرشاعرہ ’’شعلہ سالپک جائے ہے آواز تو دیکھو‘‘ کی تفسیر بنی ہوئی تھی۔ یہ کہہ کر انہوںنے ہماری طرف غور سے دیکھا اوراس سے پیشتر کہ وہ ان شاعرات کے خدوخال، نازوادا اور عشووں کے بارے میں لب کشائی کرتے، ہم نے جلدی سےا خبار لے کر موصوف کا مراسلہ پڑھنا شروع کردیا، قابل اشاعت مواد کی کمی کی وجہ سے ہر قسم کی خبریں مضامین اور مراسلات شائع کرنا بعض اخبارات کےا یڈیٹرز کی صحافتی مجبوری ہوتی ہے۔ا س نثری قصیدے کی اشاعت بھی اسی مجبوری کی مظہر تھی۔ ہم نے ان کو اخبار واپس کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ مراسلہ نہیں ایک عمدہ مضمون ہے اور کسی ادبی رسالے میں چھپنا چاہئے۔ آپ نے صحیح لکھا ہے کہ اردو کا جادو چڑھ کر بول رہا ہے اور یہ شاعرات دیوناگری رسم الخط میں غزلیں لکھ کر اردو کو فروغ دے رہی ہیں۔آپ اس مضمون کو پہلی فرصت میں کسی ادبی رسالے میں بھیج دیں اس کی اشاعت سے ادبی بحث و مباحثے کا دروازہ کھلے گا اور آپ کانام ہوگا۔‘‘ یہ سن کر موصوف باغ باغ ہوگئے اور بولے ’’میاں اب تو تم مان گئے کہ میں بڑی گہری نظر رکھتاہوں اور اچھی زبان لکھتاہوں۔‘‘ یہ سن کر ہم نے جواب دیا ’اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کھرے کے کھرے دلی والے ہیں ایسی سلیس زبان آپ کے علاوہ اور کون لکھ سکتاہے۔‘‘ موصوف ہماری بات کاٹتے ہوئے بولے ’’تو پھر میاں مجھ پر بھی مضمون لکھو۔ مجھ جیسا پشیتنی دلی والا اورصاحب قلم تمہیں کہاں ملے گا۔‘‘ ٹیپ کے اس مصرع پر ہم بری طرح چونکے اور جلدی سے بولے ’’ہاں‘‘ مضمون تو خیر لکھ دیں گے لیکن ذرا اخبارکے ایڈیٹر سے بات کرلیں۔ بس آپ ہمیں تھوڑا وقت دیں۔ ’’موصوف شاید ہماری ہر بات کو کاٹنے کی قسم کھاچکے تھے فوراً بولے ’’میاں ایڈیٹر سے کیا بات کرنی، تم مضمون تو لکھو۔ وہ مضمون تمہار ا بہترین مضمون ہوگا۔ کئی لوگ مجھ پر مضمون لکھناچاہتے ہیں لیکن میں نے سب کو منع کردیا۔ میری نگاہ میں صرف تمہاری تحریرہی جچتی ہے۔ ہاں،ا یک کام کرو پرسوں تم میرے یہاں کھانے پر آئو، کلو کی بہترین نہاری کھلوائوں گا پھر بیٹھ کر باتیں ہوگی۔
عام طور پر کہاجاتا ہے کہ دلی والے اسی طرح نہاری، بریانی، قورمہ، شیرمال اور کباب کھلاکر پیٹ میں اترتے ہیں اورکام کراتے ہیں، چنانچہ نہاری کی اس دعوت کو سنی ان سنی کرتے ہوئے ہم بولے ’’آپ نہاری وغیرہ کے تکلف میںنہ پڑیں، ہم کسی دن خود ہی آپ کے یہاں حاضر ہوجائیں گے یا پھر ڈاکٹر صاحب کے کلینک میں ہی بیٹھ کر باتیں کریںگے۔‘‘ یہ سن کر انہوںنے فوراً کہا ’’ہاں! یہ ٹھیک رہے گا، یہیں بیٹھ کر میرا انٹرویو کرلینا۔ سوالنامہ تو تیار کرہی لوگے۔ اب میں چلتاہوں۔ گوشت لینے کے لیے گھر سے نکلاتھا۔ گھر والی انتظار کررہی ہوگی۔ لیکن میاں مضمون ضرور لکھنا۔ یقین کرو مضمون کی فوٹوکاپیاں کرواکر سارے محلے میں بٹوائوںگا۔ اس طرح تمہاری شہرت میں اضافہ ہوگا۔‘‘ یہ کہہ کر موصوف اٹھے تنکوں والی گول ٹوپی سر پر رکھی اور السلام علیکم کہہ کر گوشت والے دکان کی طرف بڑھ گئے۔
ڈاکٹر جواس تمام عرصہ میں خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے ان کے جانے کے بعد کسمسائےا ورمسکراکر بولے ’’عظیم بھائی، اللہ آپ پررحم کرے، انہوںنے کئی بار مجھ سے آپ کے گھر کا پتہ معلوم کیا تھا اور میں نے ٹال دیا تھا۔ آخر آج پکڑ میں آہی گئے۔ یہ ہمارے علاقے کی چراند ہیں۔ سوچ لیجئے! اگر آپ نے مضمون نہیں لکھا تو یہ آپ کی اور میری خوب ایسی کی تیسی کردیں گے۔‘‘ ہم نے کہا ’’میاں گھبرائونہیں آج کے بعد ہم مہینوں تمہارے کلینک پر نظر نہیں آئیں گے۔ تم بس ٹالتے رہنا۔‘‘
اس پشیتنی دہلی والے مراسلہ نگار سے ملنے کے بعد ہم نے دہلی والوں پر خاکہ لکھنے کا سلسلہ ہی بند کردیا۔ اگرکل کلاں ایسے ہی کسی اور پشیتنی دہلی والے نے ہمیں یہ کہہ کر پکڑ لیا کہ وہ روزانہ اردو کا اخبار پڑھتا ہے، باقاعدہ نہاری کھاتا ہے سترہویں کے میلے میں اہتمام سے شرکت کرتا ہے بائولی میں نہاتا ہے۔ روزانہ رات دیر گئے تک اردو بازار کی بنددکانوں کے تھڑوں پر بیٹھ کریار دوستوں سے گپ ماتا ہے اور ٹھیٹ کر خنداروں کی زبان بولتا ہے اس پر بھی مضمون لکھاجائے تو ہم کیا کریں گے۔!!  g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *