میری دلّی پرانی دلّی

(’میری دلی پرانی دلی‘ کالم کے تحت اب ہر ہفتے پرانی دلی کے بارے میں ہندوستان کے چیف الیکشن کمشنر، جناب ایس وائی قریشی کے خیالات قارئین کی خدمت میں پیش کیے جائیں گے۔)

ایس وائی قریشی (چیف الیکشن کمشنر، ہند)
دنیا کے تمام بڑے شہروں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے اندر طاقت اور سرمایے کا خزانہ تو رکھتے ہی ہیں، ساتھ ہی وہ معاشرتی زندگی کی خوبصورتی اور کثرت کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ قدیم روم متعدد قیصر کا شہر ہی نہیں تھا، بلکہ یہ شہر گلیڈییٹرس، موسیقاروں، محل سراؤں، اور اس قسم کے متعدد لوگوں کا بھی گہوارہ تھا۔
دنیا کے تاریخی شہروں میں دہلی کا مقام سب سے اونچا ہے، کیوں کہ اس شہر کی بعض خصوصیات آج بھی زندہ ہیں اور لوگوں کو اپنی جانب مائل کرتی ہیں۔ اگر آپ دہلی کی تاریخ کا مطالعہ کریں، تو آپ کو پتہ چلے گا کہ یہاں کی انسانی تاریخ 3000 سال سے زیادہ قدیم ہے۔ آپ جب مہابھارت کا مطالعہ کرتے ہیں، تو آپ کو پتہ چلتا ہے کہ دہلی تو اس وقت بھی راجدھانی تھی۔ اور جب آپ یوروپی سیاحوں کے سفرنامے پڑھیں گے اور دہلی میں ان کے قیام کا مطالعہ کریں گے، تو آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ دہلی اس وقت بھی ایک عالمی شہرت یافتہ شہر تھا، جیسا کہ آج کل ایک بار پھر وہ ایسا بننے کی کوشش کر رہا ہے۔
دہلی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سات شہروں کا مجموعہ تھا، جن میں سے ہر ایک کی بنیاد ایک نئے بادشاہ نے ڈالی تھی، لیکن یہ سارے شہر ایک دوسرے سے ملحق تھے۔ اور جب بھی ایک نئے شہر کی بنیاد پڑی، پچھلے والے شہر کو قدیم شہر قرار دے دیا گیا۔ اس طرح پرانی دلی کی بنیاد پڑی۔
شاہ جہان آباد، جو کہ بعد میں پرانی دلی کے نام سے مشہور ہوا، درحقیقت اِن سات شہروں میں سب سے نیا ہے، اور جس میں اتفاق سے نئی دہلی شامل نہیں ہے۔ یہ تقریباً 300 سالوں سے ہندوستان کی راجدھانی تھا۔ سترہویں صدی عیسوی میں جب پانچویں مغل حکمراں، شاہ جہاں نے اس کی تعمیر کروائی، اس وقت ایسے عالیشان اور مالا مال شہر کو اس سے قبل کسی نے بھی نہیں دیکھا تھا۔ اس کی گلیاں پوری طرح کشادہ تھیں، اس میں بہت سارے عالیشان محل تھے اور یہاں پر بودو باش اختیار کرنے والے لوگ پوری طرح خوشحال تھے۔
اتنا عظیم شہر ایک عظیم ثقافت کا گہوارہ بھی تھا۔ عالمکاری سے قبل کی دنیا کا ایک حصہ ہونے کی وجہ سے، اس شہر کی نوعیت بالکل انوکھی تھی۔ دکانیں (مالس کے برخلاف) ایک جیسی نہیں ہوتی تھیں، کھانے گھنٹوں پکا کرتے تھے، لوگ پیدل چلا کرتے تھے یا پھر تانگے کا استعمال کرتے تھے، یعنی صرف لوگوں کی بھیڑ ہوا کرتی تھی، کاروں کی نہیں۔ اس عہد میں یہ بات ہندوستان کے تمام مقامات پر صادق آتی تھی، لیکن راجدھانی ہونے کے سبب دہلی کی ایک خاصیت یہ تھی کہ جہاں ایک طرف وہ نئے ٹرینڈ قائم کر رہی تھی وہیں مختلف مقامات سے لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کا ذریعہ بھی تھی۔ لہٰذا، یہاں کے چاندنی چوک نے دوسری جگہوں پر بھی ایسے ہی چوک کھولنے کی راہ ہموار کی۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے مختلف مقامات سے آنے والے ہینڈی کرافٹس کو بھی یہاں کی دکانوں میں جگہ ملنے لگی۔
یہی حال یہاں کے لوگوں کا بھی تھا۔ انہوں نے اپنے خوابوں کے اس شہر میں اپنا ذریعہ معاش تلاش کیا۔یہ ایسا ہی تھا جیسے نیویارک اور ممبئی کو ایک ساتھ جوڑ دیا جائے۔ تاجر بڑے مہاجن بن گئے اور پہلوان سپراسٹار۔ امیر لوگ مزید امیر بنتے چلے گئے، اور روزمرہ استعمال کی اشیاء بیچنے والے شاعر بن گئے۔ اجنبی لوگ شام کے وقت جامع مسجد کی سیڑھیوں پر شطرنج کو دیکھنے کے لیے جمع ہوتے، جب کہ شہر کے ہندو مسلم باشندے کتاب کی دکانوں پر ایک دوسرے کے ساتھ چائے پیتے۔
اس خوبصورت شہر میں ہر مذہب کے ماننے والے ساتھ مل کر زندگی بسر کرتے۔ اس شہر کی طرف سے بہتر مستقبل کی یقین دہانی نے تمام لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیا، لہٰذا مسلم، ہندو، جین، عیسائی، سکھ سبھی ایک ساتھ یہاں جمع ہوگئے۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس شہر میں تشدد کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں، لیکن اس شہر کے لیے سب سے بڑا حادثہ 1947 میں رونما ہونے والا تقسیم ہند کا واقعہ تھا، جس کی وجہ سے اس شہر کی آبادی کی ترتیب بدل گئی اور اس کا سب سے برا اثر پرانی دہلی کے مشترکہ کلچر پر پڑا۔ اس سے مشترکہ زبان اور تہواروں کو مشترکہ طور پر منانے کا ماحول بری طرح متاثر ہوا۔ درحقیقت اس تقسیم نے دہلی کو سب سے زیادہ متاثر کیا، لیکن اس کے باوجود میں یہ ماننے کو ہرگز تیار نہیں ہوں کہ ایک ایسا شہر جہاں پر مندر، گرودوارے اور مسجد ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں، وہاں پر تشدد کو بڑے پیمانے پر حمایت حاصل ہوگی۔ اس شہر کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں کے ہندو تاجروں نے مسجدوں کی حفاظت کی ہے، جب کہ مسلم بادشاہ نے عیسائیوں کو تحفظ فراہم کیا ہے۔ بقیہ زخم بھی وقت کے ساتھ ساتھ بھر جائیں گے۔ ان تمام زخموں کا علاج پرانی دلی کی زندہ روایتوں میں موجود ہے، جس کے اندر کثیر جہتی ثقافت کی خاصیت اب بھی باقی ہے۔
اس شہر کے اندر نئی دریافتوں کا سلسلہ جاری ہے، مثلاً حال ہی میں شروع کی گئی میٹرو ریل۔ اس قسم کی مزید پہل کی جانی چاہیے۔ لیکن ساتھ ہی میرا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ پرانی دلی کی روح اب بھی اس کے شاندار ماضی میں پوشیدہ ہے، اور یہ روح کبھی مرنے والی نہیں ہے۔ روایتیں زندہ ہیں، اور پرانی دلی ہمیشہ کی طرح اب بھی اتنی ہی نئی ہے۔
میں اسی شہر میں پیدا ہوا، شکریہ میرے اُن آباء و اجداد کا جنہوں نے اس شہر کی تعمیر کے وقت سے ہی شاہ جہان آباد کو اپنا مسکن بنایا۔ میرا بچپن بھی یہاں کے دوسرے بچوں کی طرح ہی گزرا، یعنی 300 سال پرانے شہر میں، 300 سال پرانے اسکول میں تعلیم حاصل کرکے۔ میں ایک طرف جہاں اپنے ریکارڈ پلیئر پر کلف رچرڈ کو سنتا تھا، وہیں میرے پڑوس سے طبلے کی بھی آواز سنائی دیتی تھی۔ ان دونوں کو ایک ساتھ سنتے ہوئے کبھی کوئی دقت نہیں پیش آئی۔ پرانی دلی نے مجھے یہ سکھایا تھا کہ رواداری کس کو کہتے ہیں۔ اس کے باوجود میں نے اس شہر سے تھوڑی دوری اختیار کرکے سول سروس میں اپنا کریئر تلاش کیا، جس کی وجہ سے میں متعدد مقامات کا سفر کر سکا۔ راجدھانی میں رہتے ہوئے بھی، مجھے لُٹین کی شاندار دہلی میں رہنے کا موقع ملا، جو پرانی دلی سے حقیقی معنوں میں دور ہے۔ میں یہ جانتا ہوں کہ میرے اندر کہیں نہ کہیں ایک ایسا نوجوان چھپا ہوا ہے جو تھیٹر میں سنیما دیکھنا چاہتا ہے، جس کو ختم ہوئے اب زمانہ ہو چکا ہے، یا جو دوڑ کر اردو بازار جانا چاہتا ہے تاکہ غالب کی شاعری پر ایک کتاب خرید سکے۔
آئندہ جو کچھ بھی لکھا جائے گا، اسے پرانی دلی کے لیے خراجِ عقیدت نہیں کہا جاسکتا، جیسا کہ میرے بہت سے دوستوں نے کہا، تاہم یہ الفاظ اس عظیم شہر سے متعلق میرے جذبات ہوں گے۔ یہ میری اب تک کی ساٹھ سالہ زندگی پر مبنی ہوں گے، وہ کہانیاں ہوں گی جو میری دادی نانی نے سنائیں، میرے پیارے ابّا، مولانا زبیر قریشی نے مجھے جو کچھ بتایا۔ اس کے لیے میں نے 45 سال سے لے کر 95 سال تک کے بزرگ ’دلی والوں‘ کے ساتھ تقریباً تیس انٹرویو کیے اور اس موضوع پر جتنا مجھ سے ہوسکا، اتنی کتابوں سے رابطہ کیا۔ مجھے پوری امید ہے کہ میرے قارئین پرانی دلی کی سیر کرتے وقت بالکل مایوس نہیں ہوں گے۔
(جاری…)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *