اسفر فریدی 
پاکستان میں ان دنوں عدم اعتماد کی ایک تازہ لہر چل پڑی ہے۔اس کاپہلا شکار امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی ہوئے ہیں۔ انہوں نے ’میموگیٹ‘ کے نام سے مشہور اسکنڈل سے اپنا نام منسوب ہونے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ان کی جگہ شیری رحمن امریکہ میں پاکستان کی سفیر مقرر کی گئی ہیں۔حسین حقانی کے مستعفی ہونے اور شہربانو رحمن کی تقرری سے بادی النظرمیں ایسا لگتا ہے کہ معاملہ ختم ہوگیا۔مگر گذشتہ چند دنوں کے اندر پاکستان کے حوالے سے جو خبریں آئی ہیں ان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بغیر دستخط اور مہروالاایک پیام بھی پاکستان کی بنیادیں ہلانے کے لیے کافی ہے۔
واضح رہے کہ عالمی میڈیا میں پاکستان کے حوالے سے جس ’میموگیٹ‘ کا ہنگامہ ہے، اس کی ابتداامریکہ کے مشہورکاروباری منصوراعجاز کے ایک مقالے سے ہوئی ہے۔منصوراعجاز نے لندن کے معروف اخبار فائنانشیل ٹائم میں شائع اپنے مقالے میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کے ایک سینئر سفارتکار نے ان سے امریکی فوج کے سابق سربراہ ایڈمرل مائک مولن کو صدرآصف علی زرداری کا پیغام سونپنے کے لیے رابطہ کیا تھا۔اس کے بعد توانکشافات یاالزامات اور ان سے انکار کا سلسلہ چل پڑا۔جب یہ سلسلہ طویل ہوا تو یہ کہاگیا کہ وہ سینئر اہلکار واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی تھے، اور یہ کہ مذکورہ پیغام مائک مولن کو ملا بھی تھالیکن انہوں نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی۔
اس پیغام کی جو نقل شائع ہوئی ہیں اس کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے امریکہ سے التجا کی تھی کہ وہ پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے چیف جنرل احمد شجاع پاشاکو واضح طور پر خبردار کردے کہ جمہوری حکومت کا تختہ پلٹ کرنے کی ہرگز کوشش نہ کریں۔اس کے عوض میںصدر زرداری نے ایسے بہت سے اقدامات کرنے کا امریکہ کو بھروسہ دلایا تھا جس کے لیے واشنگٹن بہت دنوں سے کہتا رہاتھا۔پیغام میں یہ اندیشہ ظاہر کیا گیا تھاکہ ایبٹ آباد میں امریکہ کی خفیہ کارروائی کے نتیجے میں القاعدہ لیڈر اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستان کی غیرفوجی حکومت پر شدید دباؤ ہے اور اس کافائدہ اٹھاکر فوج بغاوت کرسکتی ہے۔اس ممکنہ بغاوت سے جمہوری حکومت کو بچانے کے لیے امریکہ سے مدد کی اپیل کے ساتھ ہی یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ پاکستان میں ایمن الظواہری اور ملاعمر سمیت القاعدہ اور طالبان کے لیڈروں کو گرفتارکرکے انہیں امریکہ کے حوالے کیا جائے گا۔اس پیغام میں ہندوستان کے حوالے سے بھی ایک دلچسپ بات تھی۔اس کے مطابق 26/11کے ممبئی حملوں کے ملزموں کے خلاف ثبوتوں کی بنیاد پر پاکستان میں مقدمہ چلانے کے ساتھ ہی مجرموں کو ہندوستان کے حوالے کردیا جائے گا۔ایڈمرل مائک مولن کے سپردکیے گئے پیغام میں امریکہ کو اس اندیشے سے بھی خبردار کیا گیا ہے کہ اگر پاکستان میں فوج ایک بار پھر اقتدار پر قابض ہوتی ہے تو اس سے القاعدہ اور دوسرے دہشت گرد گروہوںکو بڑھاواملے گا۔
پاکستان کے سیاسی گلیاروں اور فوجی بیرکوں میں بھونچال لادینے والے اس پیغام کا پہلاباب حسین حقانی کے استعفے کے ساتھ بند ہوگیا ہے۔البتہ اس دوران کچھ باتیں ایسی ہوئی ہیں جو مستقبل کے خطروں کا اشارہ ہوسکتی ہیں۔ یہاں ایڈمرل مائک مولن کو بھیجے گئے پیغام کے الگ الگ کرداروں پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔
اس پیغام کو طشت از بام کرنے والے منصور اعجاز پاکستانی نژاد امریکی شہری ہیں۔ وہ بڑے کاروباری ہونے کے ساتھ ساتھ معروف صحافی بھی ہیں۔ اعجاز صاحب پاکستان اور اس کے مفادات سے جڑے دوسرے بین الاقوامی حالات وواقعات پر ٹی وی چینلوں پر ہونے والے بحث ومباحثے میں شریک ہونے کے علاوہ مختلف اخبارات ورسائل کے لیے لکھتے بھی ہیں۔ایک تعلیم یافتہ گھرانے کے پروردہ منصوراعجاز نے خود بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے۔منصور اعجاز کی خصوصیات یہیں ختم نہیں ہوجاتیں۔ امریکی اور پاکستانی سیاست دانوں کے ساتھ ان کے مراسم اچھے اور بہت اچھے ہونے کے علاوہ سی آئی اے اور امریکی فوج کے اعلیٰ اہلکاروں سے بھی ان کے بہتر تعلقات ہیں۔دوسرے کردار پروفیسر حسین حقانی ہیں۔
پروفیسر حسین حقانی بین الاقوامی امور کے ماہر ہیں۔پاکستان کی دو نوں اہم اورایک دوسرے کی حریف سیاسی جماعتوںپاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (نواز)کے بہت قریب رہے ہیں۔دونوں پارٹیوں میں پروفیسر حقانی کی پہنچ کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وہ وزیراعظم نوازشریف کا معاون رہنے کے علاوہ وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے بھی ترجمان رہے ہیں۔ گویا وہ حکومت اور اقتدار کا حصہ بنے رہنا چاہتے ہیں۔اس سلسلے میں یہاں میموگیٹ کے حوالے سے حسین حقانی کے خلاف منصور اعجاز کا یہ الزام معنی خیز ہے کہ ایڈمرل مائک مولن کو ارسال کردہ پیغام کے اصل روح رواں حسین حقانی ہی تھے۔ اس کے ذریعے وہ پاکستان میں ایسے سیکورٹی نظام کو غیرفوجی حکومت کے ماتحت رکھنا چاہتے تھے جو امریکہ اور پاکستان کے یکساں مفاد میں ہو۔ اس طرح پاکستان میں فوج کا اثر حکومت اور اقتدار پر سے کم ہوگا۔ اس سب کے پیچھے حسین حقانی کی یہ خواہش کارفرما تھی کہ وہ پاکستان واپس جاکر وہاں قومی سلامتی مشیر بن جائیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ اور پاکستان کے مابین تعاون کو نئی سمت دینے کی کوشش کریں۔ پروفیسر حسین حقانی سے دسمبر 2005میں تھوڑی دیرکی ملاقات ہوئی تھی۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی میں ’گیارہ ستمبرکے بعد پاکستان:کیابدلا کیا نہیں بدلا‘ کے موضوع پر لیکچر دینے کے لیے آئے تھے۔لیکچر اور سوال جواب کا دور ختم ہونے کے بعد جب وہ ہال سے باہر آئے تو ان سے ملنے کے لیے کچھ خواتین و حضرات خصوصی طور سے ان کے منتظرتھے۔ ان کی بات چیت سے معلوم ہوا کہ وہ سبھی خاندانی اعتبار سے ایک دوسرے کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ حسین حقانی نے انہیں بتایا تھا کہ ان کے کئی رشتہ دار پرانی دہلی میں ہیں۔
لیکچرکے دوران انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ میں گیارہ ستمبرکے حادثے کے بعد پاکستان کے حوالے سے جو سب سے بڑی تبدیلی ہوئی وہ یہ تھی کہ دنیا میں پاکستان کی فوجی حکومت کو تسلیم کرنے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگی۔البتہ جو چیز نہیں بدلی وہ یہ تھی کہ امریکہ کو پاکستان اپنا سب سے اچھا حلیف اور ہندوستان کو سب سے بڑا دشمن مانتا ہے۔ایک چھوٹے سے انٹرویو کے دوران میرے سوالوں کے جواب میں بھی انہوں نے تقریباً وہی باتیں دہرائیں، البتہ اس پر ضرور زور دیاتھا کہ عوام کے درمیان رابطوں کے بڑھنے سے پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات بہترہوں گے۔ایران سے پاکستان کے راستے ہندوستان تک گیس پائپ لائن کے پروجیکٹ کو بھی انہوں نے خطے میں امن وآشتی اور استحکام کے لیے اہم قراردیا تھا۔اس وقت امریکہ کی بوسٹن یونیورسٹی میں درس وتدریس کے کاموں میں مصروف رہے پروفیسر حسین حقانی کی ان باتوں کو دہرانے کا مقصد صرف اتنا بھر ہے کہ اقتدار کا حصہ بننے کے لیے وہ جمہوری عوامل کے قریب تو رہنا چاہتے ہیں مگر فکری اعتبار سے وہ فوجی حکومت اور آمریت کے مخالف نظرآتے رہے ہیں۔انہوں نے جنرل پرویز مشرف کی حکومت اور ان کے بہت سے فیصلوں کی شدید مخالفت کی۔اس کی پاداش میں دوسرے کئی پاکستانی رہنماؤں کی طرح پروفیسرحسین حقانی نے بھی خودکو جلاوطن کرلیاتھا۔
امریکہ کے لیے جہاں تک حسین حقانی کے دل میں نرم گوشے کی بات ہے تو پاکستان میں بہرحال ایک حلقہ ایسا ضرور ہے جو انہیں واشنگٹن میں امریکہ کا پاکستانی سفیر قرار دیتا رہا ہے ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ حقانی کے ناقدین مانتے ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ پاکستان سے زیادہ امریکی مفادات کا دھیان رکھاہے۔اس کی وجہ سے بہت سے تجزیہ کاراس بات کو ماننے میں جھجک محسوس نہیں کررہے ہیں کہ حسین حقانی نے واقعی میں مذکورہ پیغام کو ایڈمرل مائک مولن کی خدمت میں ارسال کروایا تھا۔اس سے امریکہ کو پاکستان کی غیرفوجی حکومت کے ساتھ ہی فوج پر بھی ایک بار پھر یہ باورکرانے کا موقع مل گیا کہ اسلام آباد میں مسند اقتدار پر کون فائز ہوتا ہے ، اس کا فیصلہ واشنگٹن کرے گا۔
امریکی فوج کے سابق سربراہ کو بھیجے گئے پیغام کا مرکزی کردار صدر آصف علی زرداری ہیں۔پاکستان کا صدر بننے سے پہلے ان کا سیاسی قدکتنا بلند وبالا تھا ، اس سے پاکستان کی سیاست پر نظررکھنے والے بیشترتجزیہ کار واقف ہیں۔ وہ بہت دنوںتک جیل میں رہنے سے پہلے اپنی اہلیہ مرحومہ بے نظیربھٹو کے دور اقتدار میں ’مسٹر 10پرسنٹ ‘ کے لقب سے مشہورہوئے۔ حد تو یہ ہے کہ کچھ لوگ 27دسمبر 2007کو پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی ہلاکت میں بھی’ اقتدار کے بھوکے‘ آصف علی زرداری کو ملزم گرداننے سے نہیں چوکتے ہیں۔اس طرح کے الزامات کو اس سے بھی تقویت ملتی ہے کہ بے نظیربھٹو کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی اقتدارمیں آئی ۔ اس کے تھوڑے ہی دنوں بعد آصف علی زرداری ملک کے صدر بنے۔ اس سب کے باوجود بے نظیر کی ہلاکت کے سلسلے میں جانچ اور اس کے نتائج کا اب تک کوئی پتہ نہیں ہے۔
میموگیٹ اسکنڈل کے بارے میں پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل مرزا اسلم بیگ نے کہاہے کہ امریکی فوج کے سابق سربراہ ایڈمرل مائک مولن کو حقیقت میں پیغام بھیجا گیا تھا۔ پاکستانی میڈیا میں شائع ان کے بیانات کے مطابق جنرل مرزا اسلم بیگ نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ پیغام کو حسین حقانی نے ہی منصور اعجاز کو تحریر کروایا تھا اور یہ کہ اسے ایڈمرل مائک مولن کے حوالے کرنے سے پہلے دونوں نے لندن جاکر اس کے لیے برطانوی فوج کے سربراہ سے تائید حاصل کی تھی۔پاکستان آبزرور کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں جنرل اسلم بیگ کہتے ہیں کہ اس سہ رخی سازش میں لندن اور واشنگٹن شامل ہیں مگر نئی دہلی کا کردار چھوٹ گیا ہے۔ان کا الزام ہے کہ یہ سب پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی عزت وتوقیر گھٹانے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ میموگیٹ کا ایک اہم مقصد جنوب ایشیائی خطے میں ہندوستان کو برتراور پاکستان کو ایک ماتحت ملک بنانا ہے۔گویا جتنے منھ اتنی باتیں ہورہی ہیں۔
اس تناظر میں یہ بات قابل غور ہے کہ فائنانشیل ٹائمز میں منصور اعجاز کا مضمون شائع ہونے کے بعد حسین حقانی نے اس نوعیت کا کوئی بھی پیغام تحریر کرنے یا ارسال کروانے سے انکار کیا ہے۔ شروع میں مائک مولن کے ترجمان نے بھی ایسے کسی پیغام کے حصول سے انکار کیا تھا، لیکن بعد میں انہوں نے تسلیم کیا کہ اس طرح کا ایک پیغام موصول ہوا تھا مگر اسے کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔اب منصور اعجاز کے کردار کو غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ منصور اعجاز اور حسین حقانی گہرے دوست ہیں۔ منصور پاکستانی نژاد امریکی شہری ہیںاور حسین حقانی امریکہ میں پاکستان کے سفیر۔دونوں اپنے آپ کو امریکہ کا زیادہ بہی خواہ مانتے ہیں۔دونوں اپنے اندر پاکستان کا درد رکھتے ہیں۔ دونوں امریکہ اور پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔اس اعتبار سے دیکھا جائے تو منصور اعجاز اور حسین حقانی میںایک طرح کی مقابلہ آرائی بھی ہے۔اس دلیل کی ایک وجہ یہ ہے کہ اگر بالفرض حسین حقانی نے پاکستان میں ممکنہ فوجی بغاوت کو روکنے کے لیے امریکہ سے مدد طلب کرنے کی کوشش بھی کی تھی تو اس انتہائی حساس راز کو میڈیا کے ذریعے سامنے لانے کا کیا مقصد تھا۔کیا پاکستان کے حالات پر گہری نظررکھنے والے منصوراعجاز کو احساس نہیں تھا کہ اس سے پاکستان میں اپنے پیرجمانے کی کوششوں میں کئی بار گرچکی جمہوریت کو گہری چوٹ لگے گی؟ میموگیٹ کے فوری نتائج اور اثرات بتاتے ہیں کہ اس سے پاکستان میں جمہوریت کو نقصان پہنچا ہے۔اس کی دلیل ایک تو حسین حقانی کا اپنے عہدے سے مستعفی ہونا ہے اور دوسرے شیری رحمن کے نام سے مشہور پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شہربانو رحمن کی امریکہ میں پاکستانی سفیر کے طور پر تقرری۔واضح ہوکہ شیری رحمن بے نظیر بھٹوکی قریبی رہ چکی ہیں مگر آصف علی زردار ی سے ان کے اختلافات ہیں۔صدر زرداری کے ساتھ اختلافات کے سبب ہی انہوں نے وزیراطلات ونشریات کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ گویا حسین حقانی نے فوج کے دباؤ میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تو دوسری طرف آصف علی زرداری سے اختلاف رکھنے والی شخصیت کو امریکہ میں پاکستانی سفیر بنایا گیا ہے۔اس کے ذریعے فوج نے صدر زرداری اور امریکہ کو واضح اشارہ دے دیا ہے کہ پاکستان میں آج بھی فوج ہی کا سکہ چلتا ہے اور فی الحال اس پر جنرل اشفاق پرویز کیانی کی تصویر ہے۔ g






