لندن نامہ

حیدر طبا طبائی
ماضی کے تجربات ،تاریخ کے بے لاگ جائزے اور سنجیدگی ، شائستہ حدود میں رہ کر شاطرانہ سیاست کوئی برٹش امپائر سے سیکھے ۔ وزیر اعظم  ڈیوڈ کیمرون نے اپنی  تازہ گلفشانیۂ گفتار میں فرمایا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ اسلام اور عیسائیت ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ہیں۔بلکہ میں کہتا ہوں کہ برطانوی مسلمانوں کو اپنے مذہب پر فخر ہونا چاہئے۔ مزید فرمایا کہ عیسائیت اور اسلام میں کئی اقدار مشترک ہیں۔ برطانوی مسلمان  ہر شعبۂ زندگی میں گرانقدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔یہ سب باتیں وزیر اعظم کیمرون کے لبِ شیریں سے اس وقت نکلیں جب وہ عید الاضحی  کے موقع پر ملنے آنے والوں کے ایک استقبالیہ سے گفتگو کر رہے تھے۔ یہ محض ووٹ کی سیاست ہے کیونکہ اب مسلمانوں کا وجود برطانیہ کے لیے ناگزیر ہوچکا ہے۔

عراق سے لے کر افغانستان پر حملے تک امریکہ کا اہم حلیف بن کر فوجی کارروائی کرنے والےبرطانیہ  کے بارے میں گزشتہ دنوں سابق برطانوی وزیر اعظم جان میجر نے کہا کہ ’’ برطانیہ اور امریکہ کے درمیان فوجی اشتراک کے 70 سال قبل کے تعلقات اب رفتہ رفتہ تاریخ کی گرد میں دفن ہوتے جارہے ہیں ۔ ان تعلقات میں محبت و جذبات نہیں بلکہ خود غرضی اور دنیا کے لئے محض دکھاوا ہے۔

ایک طرف  اسلام اور عیسائیت میں کئی اقدار مشترک ہونے کی بات کہی جاتی ہے اور دوسری طرف برطانیہ میں مسلمانوںکی ایک جماعت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔چنانچہ ابھی کچھ دنوں پہلے ایک خبرمسلم کمیونٹی میںزبان زد عام تھی کہ برطانوی مسلمانوں کی ایک جماعت پر پابندی لگادی گئی ہے۔ یہ تنظیم ’’ مسلم اگینسٹ کروسیڈ‘‘ ہے۔ کروسیڈ یعنی عیسائیوں کی مسلمانوں کے خلاف خونی جنگ ، جو آج بھی جاری ہے۔ اب کچھ مسلمان نوجوان جو برطانیہ میں ہی پیدا ہوئے ہیں وہ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اس جنون آمیز کروسیڈ سے مقابلہ کرنے کے لئے، جس کو کیمرون صاحب نے بند کردیا، مکمل پابندی لگادی ہے۔ برطانوی ہوم سکریٹری تھریسا مے نے اس پابندی کا اعلان کیا ہے۔ اس پابندی کے مطابق اس تنظیم کے نام کو استعمال کرنے، اس کی رکنیت لینے یا اس کا سپورٹ کرنے کو جرم قرار دے دیا گیا ہے۔یہ تنطیم برطانوی فوج کے خلاف مظاہرے کرتی رہی ہے۔ہوم سکریٹری نے اس تنظیم پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم پہلے بھی دوسرے نام استعمال کرکے کام کرتی رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جس تنظیم پر دہشت گردی کی حمایت کرنے پر 2006 میں پابندی  عائد کر دی گئی تھی اس کو نام تبدیل کرکے کام کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ اس تنظیم  کے نام سے کئے جانے والے احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد کو دس سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ پابندی پر تبصرہ کرتے ہوئے تنظیم کے ایک ممبر چودھری کا کہنا ہے کہ حکومت حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے،مگر سچائی کی جیت ضرور ہوگی۔
حکومت کے اس اعلان کے بعد دوسرے دن لندن کی سڑکیں نعرۂ تکبیر ،اللہ اکبر اور یا علی مدد سے گونج اٹھیں ۔جب مسلمان نوجوان’ مسلم اگینسٹ کروسیڈ‘ کی پابندی کے خلاف جلوس لے کر پارلیمنٹ کی جانب بڑھ رہے تھے  تو پولیس نے لاٹھی چارج کرکے جلوس کو منتشر کیا اور کئی نوجوانوں کو گرفتار کر لئے گئے۔
ان دنوں برطانیہ میں ہندوستانی فلم اسٹار کے تئیں لوگوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ابھی کچھ روز قبل کرینہ کپور کا ایک مومی مجسمہ مادام تسائو کے میوزیم میں لگا یا گیا تھا۔اب اسی میوزیم میں ہالی وڈ کی ایک برطانوی نژاد  اداکارہ کِٹ ونسلیٹ کا ایک مومی مجسمہ نصب کیا گیا ہے۔لوگوں کی دلچسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان دونوں مجسموں کو دیکھنے کے لئے لوگ ہزاروں کی تعداد میں میوزیم آرہے ہیں۔
عراق سے لے کر افغانستانپر حملے تک امریکہ کا اہم حلیف بن کر فوجی کارروائی کرنے والا برطانیہ  کے بارے میں گزشتہ دنوں سابق برطانوی وزیر اعظم جان میجر نے کہا کہ ’’ برطانیہ اور امریکہ کے درمیان فوجی اشتراک کے 70 سال قبل کے تعلقات اب رفتہ رفتہ تاریخ کی گرد میں دفن ہوتے جارہے ہیں ۔ ان تعلقات میں محبت و جذبات نہیں بلکہ خود غرضی اور دنیا کے لئے محض دکھاوا ہے۔    g

اردو چوتھی دنیا کی اسٹوری اپنے میل پر حاصل کرنے کے لئے اپنا ای میل درج کریں

Leave a Comment :
اپنی رائے دیں

:
رد عمل