جب سرکاری اسپتالوں میں دوا نہ ملے

غریبوں کے لئے مہنگا علاج کرانا یا مہنگی دوائیاں خریدنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لئے سرکار نے سرکاری اسپتالوں اور سرکاری ڈسپنسریوں ( دواخانہ) کا انتظام کر رکھا ہے، لیکن ملک کی کچھ ریاستوں میں سرکاری اسپتال کا نام لیتے ہی ایک بد حال سی عمارت کی تصویر ذہن میں آتی ہے۔ڈاکٹرو ں کی لاپرواہی،بستروں اور دوائوں کی کمی ،چاروں طرف پھیلی گندگی کے بارے میں سوچ کر عام آدمی اپنا علاج سرکاری اسپتالوں میں کرانے کے بجائے کسی پرائیویٹ نرسنگ ہوم میں کرانے کا فیصلہ لے لیتا ہے،لیکن بے چارہ غریب کیا کرے، جو دو وقت کی روٹی  کے لئے  دن رات محنت  کرتا ہے تب بڑی مشکل سے اپنے گھر والوں  کے کھانے کے لئے انتظام کرپاتا ہے ،ایسی صورت حال میں اس کے پاس اس بد نظمی کے خلاف آواز اٹھانے کے علاوہ کیا راستہ بچتا ہے۔لیکن ایک راستہ  ہے، جس کے ذریعہ نہ صرف سرکاری اسپتالوں یا دوا خانوں میں پھیلی بد عنوانی کو دور کیا جا سکتا ہے، بلکہ اپنا حق بھی پایا جا سکتا ہے۔غریب سے غریب آدمی سرکار کو ٹیکس دیتا ہے۔ اس لئے سرکار سے اپنے دیے گئے ٹیکس کا حساب  مانگنا ہمارا حق ہے۔اچھی صحت کے لئے خدمات مہیا کرانا سرکار کی ذمہ داری ہے۔اگر سرکار اپنی ذمہ داری نبھانے میں لاپرواہی برتتی ہے تو کیا اس کے لئے پانچ سال تک انتظارکرنا ہوگا؟نہیں، کیونکہ اب  حقِ اطلاع قانون موجود ہے۔اس  قانون کے ذریعہ آپ سرکار کی ذمہ دار طے کر سکتے ہیں۔ سرکار کو اس کی لا پرواہی کے بارے میں بتایا جا سکتا ہے۔
سرکاری اسپتال کے معاملے میں سب سے زیادہ شکایتیں  دوائیوں کی کمی سے ہی جڑی ہوتی ہیں۔در اصل، ہر سرکاری اسپتال میں دوائیوں کی خرید کے لئے سرکار رقم مہیا کراتی ہے۔ مسائل یہیں سے  پیدا ہونا شروع ہوتے ہیں۔ اس بات کے لئے کوئی ایسی موثر مشینری نہیں ہوتی جو دوائیوں کی خرید اور جاری کی گئی رقم کی جانچ کرے۔نیچے سے اوپر تک کے افسران مل بانٹ کر اس رقم کو ہضم کر جاتے ہیں۔ خمیازہ بے چارے غریب کو بھگتنا پڑتا ہے۔ حقِ اطلاع قانون کے ذریعہ اسپتال اور متعلقہ سرکاری محکمے سے یہ پوچھا جا سکتاہے کہ اسپتال  کے اسٹاک میں ابھی کتنی دوائیں ہیں، کتنی دوائیں اس اسپتال کے لئے خریدی گئیں، کب کب خریدی گئیں، کتنی رقم کی دوائی خریدی گئی۔غریبوں کے بیچ مفت تقسیم کی جانے والی دوائوں کے بارے میں بھی جانکاری حاصل کی جاسکتی ہے۔مثال کے طور پر سرکاری پالیسی کے تحت ٹی بی جیسی خطرناک بیماری کے لئے ڈاٹس نام  کی دوا مریضوں کو مفت مہیا کرائی جاتی ہے۔ آپ اسپتال  انتظامیہ سے یہ جان سکتے ہیں کہ کسی خاص مقررہ وقت کے اندر کتنے مریضوں کو مفت دوا دی گئی۔آپ دوا خریدنے کے لئے ذمہ دار افسروں کے نام اور عہدے کے بارے میں بھی پوچھ سکتے ہیں۔ ظاہر ہے جب آپ سارے سوال پوچھیں گے تو افسروں پر دبائو بنے گا۔ جب دبائو بنے گا تو حالات بہتر ہوں گے۔ اس شمارہ میں ہم اسی مسئلے سے متعلق آر ٹی آئی نمونہ شائع کر رہے ہیں۔جس کا استعمال کر کے آپ اپنے گائوں اور شہر کے سرکاری اسپتالوں کی صورت حال میں سدھار لا سکتے ہیں۔
درخواست کا نمونہ (بدعنوانی سے متعلق شکایات کی صورتحال)
(اسپتال میں دواؤں کی کمی)
خدمت میں
پبلک انفارمیشن آفیسر
(محکمہ کا نام)
(محکمہ کا پتہ)
موضوع: حقِ اطلاع قانون 2005 کے تحت درخواست
جناب عالی،
—————- واقع ———- اسپتال کے سلسلے میں مندرجہ ذیل اطلاعات فراہم کرائی جائیں۔
1    تاریخ ———-سے  ———-کے درمیان اسپتال کے لئے کل کتنی دوائیاں خریدی گئیں۔دوائوں  کے خریدنے اور انہیں اسپتال؍ڈسپنسری سینٹر کے اسٹاک میں رکھے جانے سے متعلق رجسٹر کی پچھلے  ———- مہینے کی کاپی فراہم کرائیں۔
2     مذکورہ وقت کے بیچ کل کتنی رقم کی دوائیاں یہاں آنے والے مریضوں کو مفت تقسیم کی گئیں؟مفت دوائیاں  لینے والے مریضوں کی تعداد بتائیں اور ان کے نام و پتہ وغیرہ جس رجسٹر میں لکھے جاتے ہیں، اس رجسٹر کی پچھلے  ———-مہینے کی کاپی فراہم کرائیں۔
3     اسپتال کے لئے دوائیاں خریدنے اور تقسیم کے لئے مقرر افسروں کے نام، عہدے اور رابطہ کے پتے فراہم کرائیں
4    اس دوران جن ایجنسیوں سے دوائیاں خریدی گئیں،ان کی پوری تفصیل ان کے نام  و پتہ کے ساتھ فراہم کرائیں۔
5    اس اسپتال میں بنیادی طور پر کن کن بیماریوں سے متعلق دوائیاں مفت تقسیم کی جاتی ہیں؟
6    اسپتال کے ذریعہ دوائوں کی مفت تقسیم کس بنیاد پر کی جاتی ہے؟
میں درخواست فیس کے طور پر دس روپے الگ سے جمع کر رہا ؍رہی ہوں۔
آپ کا:نام   ———————————————————– ———– —————
پتہ   ——————————————————— ———————————
فون نمبر———————  منسلکہ(اگرکچھ ہو)  ———– — ———————————

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *