عشرت جہاں دہشت گرد نہیں تھی

سمیع احمد قریشی
انیس سالہ عشرت جہاں جسے اب ہم عشرت جہاں کہنے کا حق نہیں رکھتے۔ یقینی طور پر ہم اب اُسے عشرت جہاں کی بجائے عشرت جہاں شہید ہی کہہ سکتے ہیں۔ اب ہمیں یہی کہنا ہے۔ شہید عشرت جہاں۔ گجرات کے مودی یعنی موذی کی پولس نے اُسے ایک مڈبھیڑ میں مارا۔ الزام یہ لگایا کہ وہ لشکر طیبہ کی دہشت گرد ہے۔ مودی کو مارنا چاہتی تھی۔ ہم سلام کرتے ہیں۔ اُن کی بہادری جسارت کو جنہوں نے بے خوف و خطر بے سروسامانی کے عالم میں، جیسے رئوف لالہ۔ عشرت جہاں کی والدہ ، دیگر افراد میں جیتندر آہواڑ وغیرہ وغیرہ جنہوں نے خاطی و ظالم افراد کو سزا دلانے کے لیے، عشرت جہاں و دیگر افراد پر سے، دہشت گردی کا جھوٹا الزام ہٹانے کی خاطر مسلسل چھ سال سے بے انتہا، کڑی و سخت محنت کی۔ عدالت میں متواتر جاتے رہے۔ پولس اور حکومت کے خلاف، عدالت سے انصاف مانگنا کوئی معمولی بات نہیں، سخت دل و گردہ کا کام ہے۔ ایک کڑی آزمائش ہوتی ہے۔ کتنی دشواریاں اور صبرآزما دور سے گزرنا پڑتا ہے۔ خطرات جھیلنے پڑتے ہیں۔ جب سامنے، وقت کا ہٹلر، جومسولینی، چنگیز خان جیسے ظالموں کو بھی اپنے شیطانی و طاغوتی عمل سے شرما دے۔ ایسے موذی مودی، ہٹلر کے سامنے عدل و انصاف کا علمبردار بننا کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔ جون 2004سے 22؍نومبر2011تک، عشرت جہاں و دیگر کے لیے عدالت سے انصاف مانگنا، ایک لمبے عرصے تک لڑنا۔ انتہائی اہمیت کا حامل معاملہ ہے۔ آخر انصاف مِلا۔ عشرت جہاں و دیگر کو مڈبھیڑ میں مار دیا جانا، اب ساری دُنیا کے سامنے آشکار ہوگیا کہ فرضی تھا۔ عشرت جہاں و دیگر بے گناہ تھے۔ عدالت نے خاطی افسران پر مقدمہ چلانے کی ہدایت دے دی۔ شہید عشرت جہاں اب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے، مظلوموں، بے کسوں، محتاجوں، معصوم اسیروں کو، انصاف ، عدل کے لیے، راہ دکھاتی رہے گی۔ عشرت جہاں اب حصول عدل و انصاف و سچ کی خاطر ایک علامت بن گئی۔ جسے کوئی کافر ہی جھٹلا سکتا ہے۔ وہ لوگ جو ظلم سہتے ہیں۔ اذیتیں اُٹھاتے ہیں۔ اپنے والدین، رشتہ داروں، دوستوں کو خونی فسادات اور ظالم کے آگے کھو دیتے ہیں۔ ظالم کے خلاف انصاف کے لیے اُٹھ کھڑے نہیں ہوتے۔
داد نہ کر فریاد نہ کر
دِل روتا ہے تو رونے دے
اسی بات پر ڈر و خوف کی وجہ سے ظالموں کے خلاف میدان عمل میں نہ آکر، چپ رہ جاتے ہیں۔ آج اُنہیں ہمت مل رہی ہے کہ عشرت جہاں و دیگر کو عدالت نے بے گناہ قرار دیا۔ ہرگز ہرگز وہ دہشت گرد نہیں تھی۔ اللہ کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ ظالم کو کیفر کردار تک پہنچانا، ہمارا فرض ہے۔ ورنہ خدا کے یہاں ہمیں بھی جواب دینا پڑے گا۔
آج اطمینان کی بات ہے کہ ظالم مودی کے خلاف صرف مسلمان ہی نہیں ، انسانیت کی خاطر بڑی تعداد میں غیرمسلم برادران وطن تیستا شیتلواڑ، مکل سنہا، ملکہ سارا بھائی، سنجیو بھٹ، ہرش مندر، ممبرا کے ایم ایل اے  جیتندر ہواڑ و دیگر، گجرات کے 2002کے بھیانک خونی فسادات کے خلاف، مودی اور اُس کی انتظامیہ کے خلاف میدان عمل میں ہیں۔ انہیں سخت تکلیفوں کا بھی سامنا ہے۔ خاص طور پر سنجیو بھٹ گجرات کے سابق اعلیٰ آفیسر تھے۔ تیستاشیتلواڑ ، ملکہ سارا بھائی و دیگر کو جھوٹے الزامات میں، گجرات کی حکومت پھنسانے کی کوشش کررہی ہے۔ گواہوں سے جھوٹے بیانات دلوائے جارہے ہیں۔ سنجیو بھٹ کو جھوٹے الزامات میں جیل کی سلاخوں میں پہنچایا گیا وغیرہ وغیرہ۔ یقینی طور پر وقت کا مورخ جب تاریخ لکھے گا۔ ان غیر مسلم برادران ملک کو اچھے الفاظ میں یاد رکھے گا اور اُن مسلم منافقین کے بارے میں تاریخ کے صفحات میں کچھ اس طرح لکھا جائے گا کہ کچھ مٹھی بھر مسلمان تھے جن میں مولوی حضرات بھی تھے جو نفس پرستی اور دُنیا پرستی کے آگے، دُنیاوی مفادات کی خاطر، موذی مودی کے تلوے چاٹ رہے تھے۔ جب ساری دُنیا اُسے موت کا سوداگر ، ڈاکو ، ظالم کہہ رہی تھی۔ یہ مسلم حضرات، مسلمان پہچان و علامت لیے ہاں دیکھو ہم مسلمان ہیں۔ گجرات میں جگہ جگہ ٹوپی شال، مودی کو پیش کررہے ہیں۔ مودی ہے کہ اُسے قبول ہی نہیں کرتا۔ ایک طرح سے اِن کی حقارت ہی ہورہی ہے۔ پھر بھی وہ بار بار کررہے ہیں۔ اب تو حد ہوگئی کہ یہ مسلمان، مودی کو ہندوئوں کے بھگوان کی مورتیاں پیش کررہے ہیں۔ مسلمانوں کے ان کاموں میں نام نہادمولوی حضرات بھی شامل ہیں۔ شاید ان ہی کے لیے علامہ اقبال نے کہا تھا ؎
قوم کیا چیز ہے قوموں کی امامت کیا ہے
یہ کیا جانیں بے چارے دو رکعت کے امام
سالہا سال کی تاریخ رہی ہے کہ مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ سے ہی نقصان نہیں پہنچا، بلکہ منافقوںسے زیادہ ہوا ۔ ملت اسلامیہ کی تاریخ اِن مسلم منافقین سے بھری پڑی ہے۔ پیارے نبیؐ ہی کے زمانے میں منافقین تھے تو پھر بعد میں کس قدر ہوئے۔ یہ دُنیاوی مفادات کی خاطر۔ آخرت کے مقابلہ میں، منافق بنے۔ ہمارے ملک ہندوستان میں بھی یہ منافقین ہوتے آئے ہیں۔ یہ منافقین ہمارے ملک ہندوستان میں انگریزوں کے ساتھ تھے۔ اُن کی خاطر راجا، نوابوں، بادشاہوں اور حریت پسندوں کے خلاف، انگریزوں کے لیے مخبری کیا کرتے تھے۔ یہ انگریزی فوج اور پولس و انتظامیہ میں شامل ہوکر ، پنجۂ استبداد، آمریت کی مضبوطی کا باعث بنے تھے۔ ملک کی آزادی و عظمت کے ساتھ کھلواڑ کرتے رہے۔ کہیں سراج الدولہ کے خلاف اور کہیں شیر میسور ٹیپو سلطانؒ کے خلاف تھے۔ ان ہی جیسے کے لیے کہا گیا  ؎
جعفر ازبنگال صادق از دکن
ننگ دین ننگ ملت ننگ وطن
اِن منافقین میں ’علماء سو‘ بھی تھے۔ جو ملک کی آزادی کے لیے اپنا ملی فریضہ بھول گئے تھے۔ یہ وہی لوگ تھے۔ نہ صرف ہندو مسلمانوں میں بلکہ فروعی مسائل پر مسلمانوں میں تفرقہ کو بڑھاوا دیے جارہے تھے، تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی نہ رہے۔ ملت اسلامیہ میںاتحاد و اتفاق نہ ہو۔ اس طرح بخوبی انگریز حکومت چلتی رہے۔ اُس کی عمر لمبی ہو۔ غلام قوم کا سر پنجہ انگریز میں پھنسا رہے۔ اسی میں سے ایک نے نبی ہونے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔انہوں نے بھی جہاد جو مسلمانوں کے لئے زندگی کا پیام ہے کو ساقط قرار دیاکم و بیش اسی طرح کا ایک اور فتویٰ اسی دور کے ایک اور عالم نے دیا تھا ،انہوںنے نبی کا دعویٰ تو نہیں کیا لیکن وہ زندگی بھر انگریزوں کے ہمنوا رہے انگریزی حکومت میں ہندوستان کو دارالسلام کہا جبکہ علما کی اکثریت نےاس دور کے ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا تھا ۔
ملک کی آزادی سے آج تک، بڑے پیمانے پر ہزاروں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے۔ انسانیت کا بے پناہ خون ہوا۔ خاص طور پر ہزاروں معصوم مسلمانوں کا ناحق خون ہوا، مسلمانوں کو معاشی پریشانی میں مبتلا کیا گیا۔ ہم مسلمانوں نے خاطر خواہ طریقوں سے عدالتی ذرائع سے، حکومتوں سے عدل و انصاف نہیں مانگا۔ 1984 کے ہندو سکھ فسادات میں، سکھوں کا بے پناہ جانی و مالی نقصان ہوا۔ سالہا سال سے وہ عدالتوں سے عدل و انصاف مانگ رہے ہیں۔ اُنہیں کچھ حد تک کامیابی بھی مل رہی ہے۔ ہم مسلمانوں کو بھی، وہی کرنا ہے۔ دہشت پسندی اب ایک نیا حربہ ظالموں کے ہاتھ آیا ہے۔ جس سے ہندوستان کا مسلمان بھی جانی و مالی سطح پر پریشان ہے۔ اس کی یہ پریشانی ہندوستان، وطن عزیز کی ترقی کا باعث نہیں بن سکتی۔ مسلمان سکھوں سے بھی زیادہ کروڑوں کی مقدار میں ہیں۔ ان کا وجود، ملک کی بقاء و ترقی کا باعث ہی ہے۔ ان کی بلاوجہ کی ہزیمت ، قومی المیہ ہے۔ اس کی خاطر ہمیں میدان عمل میں ڈٹے رہنا ہے۔ حکومتوں سے زیادہ عدلیہ سے رجوع ہونا ہے۔ دیر ہی سے سہی اب ہم رجوع ہورہے ہیں۔ یہ اک ملی و قومی فریضہ ہے۔ بڑے پیمانے پر ہمارے ہندو بھائی بھی، ہمارے ساتھ شانہ بشانہ ہیں۔ ہم اُن کی قدر کرتے ہیں۔ عدلیہ سے ہمیں بڑی اُمید ہے۔ وہ آزاد ہے، انصاف دینے کے لیے یہ انصاف دی رہی ہے۔ مہنگا ضرور ہے۔ صبر آزما بھی۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ یہ ایک اہم نسخہ ٔ کیمیا ہے۔
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں یہی مردوں کی شمشیریں
موذی مودی کے حمایتی مسلمان ، جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود ،عشرت جہاں اب شہید عشرت جہاں بن گئی۔ جو ظلم و بربریت کے خلاف ایک روشن علامت بھی!  نفس پرستی، دُنیاوی جاہ و جلال، مادہ پرست مسلمان، جن میں مولوی بھی شامل۔ وقت کا موذی مودی کی خوشنودی کے لیے گرا جارہا تو دوسروں کی طرف انسانیت کی خاطر، ظلم و ستم کا سدباب کرنے کے لیے ہمارے ہندو بھائی، مودی کی بربریت و دہشت کو طشت از بام کرنے میدان عمل میں، ہر قسم کے خطرات مول لے رہے ہیں تو ایک شعر چاپلوس مسلمان اور بیدار حق پرست ہندو بھائیوں کو عیاں کرنے کے لیے سامنے ہے۔ جو شاعر اسلام علامہ اقبال کاہے۔
پرواز ہے دونوں کی ایک فضاء میں
شاہیں کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *