عشرت جہاں فرضی انکائونٹر: کیا ہندوستانی میڈیا اپنا محاسبہ کرے گا؟

عابد انور
ہمارے ہندوستان میں ماورائے عدالت قتل کرنے کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے اوراس سلسلے کے تقریباً 95 فیصدمعاملے فرضی ہی ہوتے ہیں۔ہندوستان میں جذبات مشتعل کرکے سیاست کرنے، کسی فرقہ کا ناطقہ بند کرنے،معاشی اور سیاسی فوائد حاصل کرنے اور معاشرتی استحصال کرنے کا رواج عام ہے ہندوستان کا سیاسی محور اسی کے ارد گرد گھومتا ہے کیوں کہ ان جرائم کرنے والے خاطیوں کو کبھی سزائیںنہیں ملتیںاس لئے اس طرح کے جرائم عام بات ہیں۔ کوئی بھی پولیس والاکسی کو جعلی انکائونٹرمیں مار سکتا ہے بشرطیکہ وہ مسلمان ہو۔ فرضی مڈبھیڑ کے بعد اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کے لئے بہ آسانی اس مجرمانہ فعل کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی قرار دے دیتا ہے۔ پھر کوئی یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا کہ مرنے والا شخص واقعی دہشت گرد تھا یا معصوم۔ میڈیا جسے جمہوریت کا چوتھاستون کہا جاتا ہے اور جس پر سچ بات پہنچانے ، ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرنے اور مظلوم کی آواز ایوان اقتدار تک پہنچانے کی ذمہ داری ہے وہ فرقہ پرستی، تعصب، تنگ نظری ،بددیانتی کے دلدل میں ڈوبا ہوا کارپوریٹ سیکٹر کا زرخرید غلام ہے۔ مسلمانوں کے تعلق سے ہندوستانی میڈیا کارویہ ہمیشہ متعصبانہ اور منفی رہا ہے۔مسلمانوں کا کوئی مسئلہ ہو اسے مسئلہ نظر نہیں آتااگر کسی پروگرام میں مسلمانوں کے خلاف برائیاںکی جائیں، اسے برا بھلا کہا جائے یا ان پر کیچڑ اچھالی جائے تو میڈیا انتہائی چاق و چوبند ہوجاتا ہے اور خشوع و خضوع کے ساتھ اسے شائع اور نشر کرتا ہے لیکن مسلمانوں پر ظلم و ستم کا معاملہ ہو تو ہندوستانی میڈیا کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں یہ اچھی پیش رفت ہوئی ہے کہ میڈیا کے ایک طبقہ نے عشرت جہاں کی فرضی مڈبھیڑ کے سلسلے میں ایک تجزیہ شروع کردیا ہے اور اسے فرضی قرار دینے لگاہے۔ اس ضمن میں ایک ویب سائٹ پر مشہور ٹیلی ویژن صحافی اور اینکر پنیہ پرسون واجپئی نے ایک مضمون لکھا تھا جس کا عنوان ہے ’’عشرت ہمیں معاف کردو‘‘۔  اس میں انہوں نے تفصیل کے ساتھ اس فرضی کائونٹر کا جائزہ لیا تھا کہ کس طرح میڈیا ہندوتو کے دبائو اور ٹی آرپی بڑھانے کیلئے ایک فرضی مڈبھیڑ کو سچ کا رنگ دینے کی کوشش کر رہا تھا حالانکہ وہ ٹی وی صحافی اور رپورٹر جانتے تھے کہ یہ انکائونٹر فرضی ہے اس کے باوجود سچ بولنے کی ہمت نہیں کررہے تھے۔ٹی وی چینل اور پرنٹ میڈیا کے بیشتر صحافیوں کو یہ معلوم تھا کہ یہ فرضی مڈبھیڑ ہے لیکن اس کے باوجود کسی صحافی نے سچ بولنے کی کوشش نہیں کی۔ ہندوستانی صحافیوں اور د نیا کے دیگر صحافیوں میں یہی فرق ہے کہ ہندوستانی صحافی یہاں پر کمزور طبقوں، دلتوں اور اقلیتوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کو ملک کے خلاف آواز اٹھانا اور ملک کی بے عزتی، بدنامی اور رسوائی تصور کرتے ہیں جب کہ دیگر ممالک کے صحافی کی سوچ ایسی نہیں ہے۔
پنیہ پرسون واجپئی نے اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ انکائونٹر کے بعد وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے جب پولیس انتطامیہ کی پیٹھ تھپتھپائی تو ریاست کو دہشت گردی سے پاک کرنے والے ہیرو کے طورپر وہ  ابھرے۔ لڑکی کا تعلق لشکر طیبہ سے ہونے کے مبینہ تعلق کی وجہ سے جب مودی نے یک خاص طبقہ (مسلمانوں ) کو گھیرا  تودہشت گردی کے خلاف ہندوتوا کے ہیرو کے طور پر سامنے آئے۔ اس ہیرو پر اس وقت کسی نے انگلی اٹھانے کی ہمت نہیں کی کیوںکہ جس طرح کی سیاست اس وقت عروج پر تھی اس میں پاکستان یا سرحد پار کے دہشت گردوں کا نام آکسیجن کا کام کرتا تھا۔ اس بارے میں کوئی انگلی اٹھاتا تووہ خود دہشت گرد بن جاتا۔ کئی انسانی حقوق سے وابستہ تنظیموں اور کارکنوں کو این ڈی اے کے دور حکومت میں اس فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔۔۔۔ اسی طرح ناگپور کے آر ایس ایس ہیڈکوارٹر حملہ ہوا تھاتو وہاں رہنے والے لوگوں کو یہ سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ کیسے کوئی میزائل جیسےہتھیار سے لیس ہوکراس جیسی گھنی آبادی میں گھس سکتاہے۔ اس حملے کو فرضی قرار دینے والے انسانی حقوق کے کارکنوں کا پولیس نے جینا محال کردیا تھا۔ ۔۔۔۔ اگر مجسٹریٹ جانچ صحیح ہے تو اس دور کے صحافیوں اور میڈیا کے کرداروں کو کس طرح دیکھا جائے۔ خاص طور پر کئی رپورٹ نے ممبئی کے مضافاتی علاقے میں جہاں عشرت جہاں رہتی تھی اس علاقے کومشتبہ قرار دینے میں میڈیا نے اہم رول ادا کیا تھا۔ اس دور میں میڈیا کی رپورٹ نے عشرت جہاں کی ماں اوربہن کا گھر سے نکلنا مشکل کردیا تھا۔ اس کی تلاقی کو ن کرے گا لیکن فی الحال اتنا توکہہ سکتے ہیں کہ ’’عشرت ہمیں معاف کردو‘‘۔
عشرت جہاں کا لشکر طیبہ سے منسلک ہونے کا ہے اس کے بارے میں صحافی نے لکھا ہے کہ 2001 کے بعد جب کچھ ہندوستانی صحافیوں نے لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید سے انٹرویو کے لئے رابطہ قائم کیا تھا اس وقت ہندوستان کے دو صحافیوں کوانٹرویو کیلئے منظوری دی گئی تھی ان میں سے ایک برکھا دت تھی لیکن خاتون ہونے کی وجہ سے حافظ سعید نے برکھا دت کو انٹرودیو دینے سے انکار کردیا تھا تو سوچیے جو کسی خاتون کوانٹرویو دینا گوارہ نہیںکرتا ہے وہ بھلا اپنی تنظیم میں کسی عورت کوکیسے پسند کرسکتاہے۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ لشکر طیبہ میں عورت کا داخلہ کتنا محال ہے۔
مسلم نوجوانوں کو فرضی مڈبھیڑ کے بہانے ماورائے عدالت قتل کرنے کا ایک موثر ہتھیار کے طور پر ہندوستانی پولیس استعمال کرتی رہی ہے۔ پنجاب میں جب دہشت گردی عروج پر تھی اس وقت پنجاب کے پولیس کے ڈائرکٹر جنرل کے پی ایس گل نے لوگوں میں دہشت پیدا کرنے کیلئے سیکڑوں سکھ نوجوانوں کو درجنوں فرضی مڈبھیڑ میں مار اگرایا تھا۔ اس کے بعد یہ سلسلہ کشمیرمیں بھی شروع ہوا اور وہاں ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو فرضی مڈبھیڑ میں قتل کردیا گیا تھا۔ جتنی بھی فرضی مڈبھیڑ ہوتی ہیں اگر ان کا تعلق مسلمانوں سے ہے تو خاطیوں کو سزائیں نہیں ملتیں بلکہ میڈل ملتے ہیںاس لئے پولیس میں فرضی مڈبھیڑ کرنے کا رجحان بڑھا تھا۔1997 کے کناٹ پیلیس کی فرضی مڈبھیڑ میں جس میں دو تاجروں کو اے سی پی  ایس ایس راٹھی کی ٹیم نے قتل کردیا تھایہ معاملہ کافی طول پکڑلیا تھا کیوں کہ یہ معاملہ ہندو تاجر کا تھا اس لئے یہ معاملہ میڈیا میں بھی زور وشور سے اٹھا تھا اور اس معاملے میں کئی پولیس والوں کی پٹائی بھی ہوئی تھی اور آج اے سی پی راٹھی دس (10)  پولیس افسران و اہلکار سمیت عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ اے سی پی راٹھی انکائونٹر کے ماہر تھے ان کی ٹیم میں اے سی پی راجویر اور اجے شرما بھی تھے مئوخر الذکر جنہوں نے گزشتہ سال بٹلہ ہائوس انکائونٹر انجام دیا تھا۔ شرما خوش قسمت نکلے انہوں نے انکائونٹر میں مسلم نوجوانوں کو مارا اور انعام کے حقدار ہوئے اور اے سی پی راٹھی بدقسمت نکلے کہ انہوں نے ہندو تاجر کو مارا اور سلاخ کے پیچھے ہیں۔ اسی طرح کچھ دنوں قبل غازی آباد کے ایک نوجوان کو اتراکھنڈ پولیس نے فرضی انکائونٹر میں قتل کردیا تھا پولیس نے اس پر دہشت گرد ہونے کا الزام لگایا تھا لیکن حقیقت جلد بے نقاب ہوگئی کیوں کہ مرنے والا نوجوان مسلم نہیں تھا اس لئے پورا محکمہ حرکت میں آیا اور اس انکائونٹر کو فرضی قرار دیتے ہوئے اس کی سی بی ائی انکوائری کا حکم دیا یہ بھی ایک ہفتے کے اندر ہوا۔
عشرت جہاں انکائونٹر معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ میڈیا نے اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا ۔ پولیس کی اس وحشیانہ کارروائی کو دہشت گردوں کے خلاف عظیم الشان کارروائی سے تعبیر کیا تھا اور مسلمانوں کے زہر اگلنے کے لئے دور کی کوڑیاں لے کر آیا تھا۔ ایسا محسوس ہورہا تھاکہ میڈیا نے نئی چیز دریافت کرلی ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ مسلمانوں کے خلاف یہاںکے اکثریتی فرقہ میں زہر گھول دیا جائے اور مسلم مردوں کو ہی نہیں بلکہ مسلم خواتین کو بھی شک کی نظر سےدیکھا جائے اور ایسا ہوا بھی۔ پولیس مسلمانوں کی ٹوپی اور برقعے میں بم تلاش کرنے لگی تھی اور مسلمانوں کے خلاف ایک نیا محاذ کھول دیا گیا تھا۔ 19 سالہ عشرت جہاں کو ان کے چار ساتھیوں کے ساتھ ممبئی سے اغوا کرکے گجرات لایا گیا تھا۔کہا جاتا ہے کہ ونجارا اینڈ کمپنی نے پہلے ان کی عصمت دری کی اور پھر مار ڈالا اور اسے انکائونٹر کا جامہ پہنا دیا گیا وہ بھی ایسا انکائونٹر جس میں زبردست فائرنگ ہوئی تھی اور پولیس کو سخت مقابلہ کرنا پڑا تھا لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس انکائونٹر کی آواز وہاں رہنے والے یا کسی اورنے بھی نہیں سنی تھی ۔ ان لوگوں کے بارے میں کہا یہ گیا تھا کہ یہ لوگ لشکر طیبہ کے دہشت گرد تھے اور نریندر مودی کو قتل کرنے آئے تھے۔ ظاہر سی بات ہے کہ مودی اور ونجارا کا حکم تھا جسے ہندوستانی میڈیا نے من و عن تسلیم کرلیا اور کسی نے سچ جاننے یا سچ دکھانے کی ہمت نہیں کی۔ یہ ہندوستانی جمہوریت کے چوتھے ستون کی کہانی ہے جس پرہندوستان کی جمہوریت کھڑی ہے۔
یہاں کے میڈیا نے عشرت جہاں اور سہراب الدین انکائونٹر کو مذہبی رنگ دینے کی بھر پور کوشش تھی اور انٹرنیٹ پر مباحثے اور صحافیوں کے درمیان ای میل کے تبادلے میں مودی کو ایک ہیرو کی طرح پیش کیا جارہا تھا۔بعض حلقے نریندر مودی کو مبارک باد بھی پیش کر رہے ہیں۔ ایک ای میل میں کہا گیا ہے’ اس پر واویلا مچانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ نریندر مودی کو دہشت گردی کے خلاف سخت قدم اٹھانے پر مبارک باد پیش کی جانی چاہیے۔ ایک انگریزی اخبار ایشین ایج نے ایک ای میل کی نقل شائع کرتے ہوئے لکھا  تھا’میڈیا اور جدید تعلیم یافتہ نام نہاد سیکولر لوگوں کے بہکانے میں نہ آئیں، گجرات کی حفاظت کریں، نریندر کو دہشت گردی کے خلاف سخت کارروائی کرنے پر مبارک باد پیش کی جائے۔‘  اس موضوع پر ایک اور ای میل اس طرح تھا’ مودی نے صرف ایک ہزار کو ہی مارا ہے، مجھے افسوس ہے کہ انہوں نے اس سے زیادہ کیوں نہیں ہلاک کیے۔‘گجرات کے ایک سینئر صحافی آر کے مشرا نے اس طرح ای میلوں اور انٹرنیٹ مباحثوں کی بہتات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ گجرات حکومت نے اس کام کے لیے بہت سے لوگوں کو ذمہ داری دے رکھی تھی جو انٹرنیٹ اور موبائل پر مودی کے لیے مہم چلا رہے تھے۔ایس پی تمانگ کی رپورٹ کے بعد میڈیا نے اس مفروضہ کو بھی زور و شور سے ہوا دی کہ 2008 ممبئی حملہ کے ملزم ڈیوڈ ہیڈلی نے بھی قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کی پوچھ گچھ میں عشرت کا جہاں کانام لیا ہے کہ وہ لشکر طیبہ کی دہشت گرد تھی ۔ جب کہ این آئی اے کی طرف سے ایسی کوئی بات نہیں کہی گئی تھی۔جولائی 2010 میں کچھ ذرائع ابلاغ میں شائع اس رپورٹ پر اپنا موقف ظاہر کرتے ہوئے گجرات ہائی کورٹ کو لکھے ایک خط میں ، NIA  نے واضح کیا ہے کہ میڈیا کی یہ رپورٹیں غلط ہیں اور ڈیوڈ ہیڈلی نے عشرت جہاں کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔
عشرت جہاں کو 15جون 2004کو ایک فرضی مڈبھیڑ میں قتل کردیا گیا جس کی گونج پورے ملک میں سنائی دی تھی لیکن حکومت گجرات کسی طرح بھی اسے ماننے کیلئے تیار نہیں تھی۔ جوڈیشیل مجسٹریٹ ایس پی تمانگ کی رپورٹ کے مطابق عشرت جہاں ممبئی کالج کی ایک طالبہ تھی اور گھر کا خرچ چلانے کیلئے جزوی طورپر کام بھی کرتی تھی کو جاویدکے ساتھ 12 جون کو گجرات کے کرائم برانچ کے افسران نے ممبئی سے اغوا کیا گیا تھا اور 14جون 2004 کو قتل کردیا تھا اور ۱۵ جون کو اسے مڈبھیڑ کی شکل دے دی گئی تھی۔ پولیس نے اس میں وعوی کیا تھا کہ خفیہ اطلاع ملی تھی کہ لِشکرطیبہ کے خودکش حملہ آور وزیر اعلی نریندر مودی کو قتل کرنے کے لئے شہرمیں داخل ہوئے ہیں۔ پولیس نے یہ بھی دعوی کیا تھاکہ دہشت گرد شہر میںگھس رہے تھے کہ اسی وقت پولیس نے انہیں گھیر لیا اور فائرنگ شروع ہوگئی اور چاروں دہشت گرد مارے گئے۔ چار میں دو پاکستانی دہشت گرد تھے۔ اس ٹیم کی قیادت ڈی جی ونجارا کر رہے تھے۔  مجسٹریٹ نے واضح طور پر کہاتھا کہ گجرات پولیس نے قتل کیاہے اور عدالت نے اپنے سخت تبصرے میں کہا کہ اس قت میں ملوث گجرات پولیس کے افسران نے اپنے ذاتی فائدے حاصل کرنے کیلئے ایسا کیا تھا۔ یہ پولیس افسران مودی حکومت سے پرموشن اور شاباشی کے خواہاں تھے۔
اب جب کہ گجرات ہائی کورٹ کی تشکیل کردہ ایس آئی ٹی عدالت میں اپنی رپورٹ داخل کرکے عشرت جہاں تصادم کو فرضی قرار دے چکی ہے اور عدالت نے اس پر سخت رخ اختیار کرتے ہوئے اس میں شامل تمام 21 پولیس افسرا ن پر دفعہ 302 کے تحت ایف آئی آر درج کرنے او رمقدمہ چلانے کی ہدایت دے دی ہے ۔ اس کے بعد کیا ہندوستانی میڈیا، گجرات حکومت اور مرکزی حکومت اپنا محاسبہ کرے گی؟ اسے ایک شگون کہا جاسکتا ہے کہ ویب سائٹوں کی دنیا میں اس وقت عشرت جہاں انکائونٹر کا معاملہ موضوع کا بحث بنا ہوا ہے۔ میڈیا کا ایک طبقہ صدق دل سے اپنا جائزہ لینے کے لئے ذہنی طورپر تیار ہے لیکن میڈیا کا اکثریتی طبقہ آج بھی جان بوجھ کراس کو جعلی مڈبھیڑ ماننے کو تیار نہیں ہے کیوں کہ ان لوگوں کی اس ذہنیت سے تعلق ہے اس سے جس کی آبیاری مودی ذہنیت والے لوگوں نے کی ہے۔ جن لوگوں کا نظریہ ہے کہ ان لوگوں کو مار ڈالو، انہیںکھانا کھلاکر اپنا اناج بیکار کرنا ہے۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *