انفارمیشن کمیشن کے بابو

دلیپ چیرین
آر ٹی آئی کارکنوں کو ہمیشہ اس بات کی شکایت رہتی ہے کہ افسران کو ہی انفارمیشن کمشنر کیوں بنایا جاتا ہے۔2005 میں سینٹرل انفارمیشن کمیشن کی تشکیل ہوئی لیکن اس وقت سے دیکھا جائے تو کئی انفارمیشن آفیسر،یہاں تک کہ چیف انفارمیشن کمشنر بھی سول سروس کے افسر رہے ہیں۔مثال کے طور پر وجاہت حبیبب اللہ، اے این تیواری،امیتا پال، اوپی کیجروال اور ستیندر مشرا کا نام لیا جا سکتا ہے۔ لیکن اب حالات بدلنے والے ہیں۔ ابھی اس محکمے میں انفارمیشن کمشنر  کے دو عہدے خالی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈی او پی ٹی نے ان خالی عہدوں پر تقرری کے عمل کو پہلے سے زیادہ شفاف بنایا ہے۔ اس نے عہدے کے امیدواروں کے نام اپنی ویب سائٹ پر ڈال دیے ہیں تاکہ لوگ اسے دیکھ سکیں۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اب بابو کے علاوہ دیگر لوگ بھی اس عہدے کے لئے درخواست دے سکتے ہیں لگتا ہے اس کمیشن میں کچھ تبدیلی ہونے والی ہے۔
بابوئوں کی میٹنگ
ہر سال وزارت مالیات کے بابوئوں کی میٹنگ ہوتی ہے، جس میں معمول کے کاموں کے علاوہ دیگر موضوعات پر بات چیت ہوتی ہے تاکہ سدھار ہوسکے۔اس کی شروعات 2008 میں ہوئی تھی۔ اس وقت سبا رائو مالیاتی سکریٹری اور پی چدمبرم وزیر مالیات تھے۔ اس میٹنگ  میں  نائب سکریٹری یا اس سے اوپر کے درجہ سے تقریباً ستر با بو حصہ لیتے ہیں۔اس بار یہ میٹنگ  جنوری 2012   کی شروعات میں ہریانہ کے سوہنا میں منعقد کی جانی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس میٹنگ میں کام کی باتیں کم اور تفریح زیادہ ہوتی ہے۔ اس بار میٹنگ جنوری میں ہونا ہے۔ اگر ان بابوئوں نے اس میٹنگ کی اہمیت کو سمجھا اور صحیح ایشوز پر بات چیت کی تو امید کی جانی چاہئے کہ آنے والے بجٹ میں اس کا فائدہ دکھائی دے سکتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو یہ میٹنگ بیکار ثابت ہوگی۔
بابوئوں کی یکجہتی
کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (کیگ) کی معاونت کرنے کے لئے کئی رٹائرڈ بابو سامنے آگئے ہیں۔غور طلب ہے کہ کیگ نے ٹو جی اسپیکٹرم میں جو خسارہ دکھایا تھا، اس سے سرکار متفق نہیں ہے۔ سرکار نے  اسے چیلنج کیا تھا۔ ان کا ماننا ہے کہ ونود رائے کے ساتھ سرکار غلط کر رہی ہے اور اس ادارے کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔ وزارت مالیات کے سابق ایڈیشنل سکریٹری ایس کرشنا ، جنہوں نے 19 دیگر بابوئوں کے ساتھ ایک اسٹیٹمنٹ پر دستخط کئے ہیں، کے مطابق ونود رائے کو لے کر سرکار اور اپوزیشن پارٹیوں  کے درمیان چل رہا تنازع ناموزوں ہے۔ ایس کرشنا کے علاوہ سابق آبی وسائل سکریٹری راما سوامی آر ایر، لندن میں واقع ہندوستانی ہائی کمیشن کے سابق وزیر نیلا مبر سری واستو، سابق ایڈیشنل سکریٹری بی ایس راما سوامی اور سابق نائب سی اے جی لکشمی نارائن ، ڈاکٹر بی پی ماتھر، آرپرمیشور، دھرم ویر، آئی پی سنگھ، وجے کمار نے بھی ونود رائے کا ساتھ دیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *