حضرت علاء الدین احمد صابر

ڈاکٹر ظہور الحسن شارب
حضرت علاء الدین احمد صابر ؒ سلطان الاصفیاء ہیں۔والد ماجد کی طرف سے آپ سید ہیں ،حضرت عبد القادر جیلانی کی اولاد میں سے ہیں۔والدہ ماجدہ کی طرف سے آپ کا سلسلہ نسب امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب سے ملتا ہے۔آپ کے والد کا نام عبد الرحیم اور والدہ کا نام ہاجرہ اور لقب جمیلہ خاتون ہے۔آپ کی ولادت 19 ربیع الاول 592 ھ کو ہرات میں ہوئی  ۔آپ کو مخدوم ؍صابر کے خطاب اور علاء الدین لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔کہا جاتا ہے کہ آپ شیر خوارگی کے پہلے سال میں  ایک دن دودھ پیتے تھے اور دوسرے دن دودھ نہیں پیتے تھے گویا اس دن روزہ رکھتے تھے۔جب دوسرا سال شروع ہوا تو تیسرے دن دودھ پیتے تھے اور دو روز نہیں پیتے تھے گویا دو دن روزہ رکھتے تھے  اور جب آپ دو سال کے ہوئے تو دودھ پینا چھوڑ دیا۔ جب چوتھا سال شروع ہوا اور آپ کی زبان کھلی تو سب سے پہلا کلمہ جو آپ کی زبان مبارک سے نکلا وہ یہ تھا ’’ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں‘‘۔ آپ جب چھ سال کے ہوئے کھانا پینا برائے نام رہ گیا۔ رات کا زیادہ حصہ عبادت میں گزارنے لگے۔ جب ساتواں سال شروع ہوا تو آپ نے تہجد پابندی سے پڑھنا شروع کیا۔جب آپ کی عمر پانچ سال کی تھی یعنی 597 ھ میں آپ کے والد ماجد کا سایہ آپ کے سر سے اٹھ گیا۔ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والد کے سائے میں ہوئی۔ والد کے انتقال کے بعد آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کی تعلیم و تربیت پر کافی توجہ دی۔ اجودھن میں آپ کی تعلیم و تربیت حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ کی نگرانی میں ہوئی۔ آپ اپنی والدہ کے ساتھ اجودھن آئے اور آپ اپنے ماموں حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ کے پاس رہنے لگے۔ حضرت بابا فرید الدین نے لنگر تقسیم کرنے کی خدمت آپ کے سپرد فرمائی۔ آپ نے 12 سال کے عرصہ میں کچھ نہیں کھایا۔ حضرت بابا صاحب کو جب یہ معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا ’’ علاء الدین احمد صابر ہیں‘‘اسی روز سے آپ کا خطاب صابر ہوگیا۔
حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ نے آپ کو بیعت سے مشرف فرمایا اور 14 ذی الحجہ 650 ھ کو خرقہ خلافت عطا فرمایا۔ دہلی کی ولایت آپ کے سپرد فرمائی کہ دہلی جانے سے قبل ہانسی جاکر حضرت جمال الدین سے خلافت نامہ پر مہر لگوائیں اور پھر دہلی چلے جائیں(۔حضرت شیخ جمال الدین  ہانسوی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بابا فرید صاحب آپ سے بہت محبت کرتے تھے۔ آپ کی خاطر بارہ سال ہانسی میں رہے۔حضرت بابا فرید الدین گنج شکر جب کسی کو خلافت نامہ عطا فرماتے، اس شخص کو تاکید فرماتے کہ ہانسی جاکر آپ شیخ جمال سے مہر لگوائو۔ اگر آپ مہر لگا دیتے تو اس کا خلافت نامہ مستند سمجھا جاتا اور اگر آپ مہر نہیں لگاتے تو حضرت بابا صاحب بھی قبول نہ فرماتے  اور جواب دیتے  ’’جمال کے پارہ کئے ہوئے کو ہم نہیں سی سکتے‘‘)۔ ہانسی پہنچ کر آپ حضرت جمال الدین  کی خانقاہ میں چنڈول ( ڈولی نما ایک سواری)پر سوار ہوکر داخل ہوئے۔ یہ بات جمال الدین ہانسوی کو نا گوار ہوئی۔نماز کے بعد آپ نے اپنے پیرو مرشد کا عطا کردہ خلافت نامہ نکالا اور حضرت جمال الدین ہانسوی سے اس پر مہر لگانے کو کہا ۔حضرت جمال  الدین ہانسوی نے چراغ منگوایا اور خلافت نامہ کو پڑھنا شروع کیا ۔ ہوا تیز چل رہی تھی ۔ چراغ یکایک گُل ہوگیا ۔حضرت جمال الدین ہانسوی نے آپ سے کہا کہ چونکہ چراغ گل ہوگیا ہے لہٰذا اب خلافت نامہ پر کل دستخط کردیے جائیں گے۔آپ نے جب یہ سنا تو پھونک ماری اور چراغ روشن ہوگیا۔حضرت  جمال الدین ہانسوی کو یہ بات ناگوار ہوئی اور انہوں نے آپ سے کہا ’’ دہلی والے کب آپ کو برداشت کر سکیںگے۔ آپ تو ذرا سی دیر میں دہلی کو جلا کر خاک کردیں گے‘‘۔یہ کہہ کر حضرت جمال الدین ہانسوی نے آپ کا خلافت نامہ پھاڑ دیا۔خلافت نامہ پر مہر نہیں لگائی۔حضرت علائو الدین کو جمال الدین ہانسوی کا یہ عمل ناپسند ہوا اور  آپ نے غصہ کی حالت میں حضرت جمال الدین ہانسوی سے فرمایا’’ چونکہ تم نے میرخلافت نامے کو چاک کر دیا ،میں نے تمہارے سلسلہ کو مٹادیا‘‘۔حضرت جمال الدین ہانسوی نے پوچھا ’’ از اول یا از آخر‘‘ ۔آپ نے جواب دیا ’  از اول‘  آپ اجودھن واپس آئے اور سارا ماجرا حضرت بابا صاحب کے گوش گزار کیا۔ یہ سن کر با با فرید صاحب نے فرمایا ’’ جمال کے پارہ کئے ہوئے کو فرید نہیں سی سکتا‘‘۔ اس کے بعد بابا فرید نے آپ کو کلیر کی ولایت سپرد فرمائی  لہٰذا آپ اپنے پیر و مرشد  کے حکم پر کلیرپہنچے۔ایک روز آپ جامع  مسجد کی پہلی صف میں بیٹھے تھے۔ اتنے میں رئیس کلیر اور قاضی شہر مسجد میں آئے۔ آپ کو پہلی صف میں بیٹھا دیکھ  آپ کو اور آپ کے معتقدین کو برا بھلا کہا اور پہلی صف سے ہٹا دیا۔آپ وہاں سے اٹھ کر مسجد سے باہر آکر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ آپ نے مسجد کی طرف دیکھا اور فرمایا ’’ تو نے ان لوگوں کو صحیح سلامت چھوڑ دیا‘‘ آپ کا یہ فرمانا تھا کہ مسجد ایک دم گری وہ سب لوگ  دب کر مر گئے۔اس کے کچھ عرصہ بعد آپ کی والدہ کے اصرار پر حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ نے اپنی لڑکی خدیجہ بیگم عرف شریفہ کا نکاح آپ سے کردیا تھا۔
آپ کی وفات  13 ربیع الاول 690 ھ کو ہوئی ۔ آپ کا مزار انوار کلیر میں فیوض و برکات کا سرچشمہ ہے۔آپ میں شان ِ جلالی درجہ اتم تھی۔ آپ کو نسبت فنا اعلیٰ درجہ کی حاصل تھی، ریاضت و عبادت  اور مجاہدہ میں ہمہ تن مشغول رہتے تھے ۔ آپ کے پیرو مرشد حضرت بابا فرید الدین گنج شکر ؒ آپ سے بہت محبت کرتے تھے۔
آپ اپنی زندگی میں روزے بکثرت رکھتے تھے۔ پانی میں ابلے ہوئے گولر بغیر نمک ملائے کھاتے تھے۔ آپ کا پہننا بہت مختصر تھا ،صرف تہہ بند باندھتے تھے اور رنگین خرقہ گل ارمنی کا پہنتے تھے۔ جوتا نہیں پہنتے تھے۔آپ کو بارگاہ ایزدی میں مقبولیت حاصل تھی۔ آپ کی دعا قبول ہوتی تھی۔آپ کو شعرو شاعری کا شوق تھا،فارسی میں آپ کا تخلص احمد ہے۔ ہندی میں آپ کا تخلص کہیں صابر ہے اور کہیں علائو الدین۔آپ نے جو اشعار کہے ہیں ان میں روحانیت اور نورانیت ہوتی تھی۔چنانچہ ایک جگہ فرمایا  :
اس طرح ڈوب اس میں اے صابر
کہ بجز ،ہو کے غیر ہو،نہ رہے
دوسری جگہ آپ نے اپنا تخلص علائو الدین  استعمال کیا ہے:
یہ تن ہروا ایکھ تھا تیس ببول کردیں
گنے میں گڑ پر کھ لو کہیں علائوالدین
آپ کی ایک غزل بہت مشہور ہوئی ہے:
امروز شاہ شاہاں مہماں شدست مارا
جبرئیل با ملائک درباں شدست مارا
در جلوہ گاہ وحدت کثرت کجا بگنجد
مژدہ ہزار عالم یکساں شدست مارا
ماخانہ جہاں را بسیار سیر کردیم
اے شیخ بت پرستی ایماں شدست مارا
درمحفل گدایاں مرسل کجا بگنجد
بے برگ و بے نوائی ساماں شدست مارا
احمد بہشت و دوزخ بر عاشقاں حرام است
ایں را رضائے جاناں رضواں شدست مارا
آپ نے ایک دفعہ بد دعا کی ۔ اس بد دعا کا اثر یہ ہوا کہ کلیر ویران ہوگیا، دور دور تک آبادی کا نشان نہیں رہا۔آپ نے ایک قوال جس کا نام حسن تھا کو گولر  دے کر رخصت فرمایا ۔ گولر لے کر وہ حضرت بابا صاحب کی خدمت میں اجودھن میں حاضر ہوا۔ بابا صاحب نے وہ گولر حاضرین کو تقسیم فرما دیا۔ جس نے بھی وہ گولر کھایا اس کی کثافت دور ہوئی،اس کو نور باطن حاصل ہوا۔ حضرت شمس الدین ترک پانی پتی جب آپ کی خدمت میں تھے تو دن میں کئی بار اندھے اور کئی بار لنگڑے ہوتے۔ جب آپ فرماتے ’’ شمس الدین!لنگڑا ہوگیا ہے جو چلا نہیں جاتا‘‘۔ وہ فوراً لنگڑے ہوجاتے۔جب آپ فرماتے ’’ شمس الدین کیا اندھا ہوگیا‘‘ وہ فوراً اندھے ہوجاتے۔آپ ہر مرتبہ ان کے لئے دعا فرماتے اور وہ آپ کی دعا سے پھر اچھے ہوجاتے۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *