غیرت کے یہ بے غیرت تصور

عفاف اظہر
گزشتہ ایک دہائی سے کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو میں آئے روز غیرت کے نام پر مسلمان نوجوان لڑکیوں کا اپنے باپ  بھائیوں اور خونی رشتہ داروں کے ہاتھوں  بہیمانہ قتل و غارت گری کا یہ سلسلہ آج مرد و زن کے مساوی حقوق کے حامل کینیڈین معاشرے کے لئے ایک اذیت ناک حقیقت بن چکا ہے .  ،پاکیزگی و شرم و حیا کے علمبردار ان مسلم معاشروں سے آنے والی یہ انسانی حقوق سے محروم   ڈھکی چھپی با پردہ خواتین اور صنف نازک کی جانوں کی یہ ارزانی جہاں بیمار ذہنیت مسلمان معاشروں کی منہ بولتی تصویر ہے وہیں غیرت کے نام پر ایک  بد نما داغ ہے جوبڑی ڈھٹائی سے مسلمان ممالک میں قانون کی چھتر چھایا تلے پلا ہے اور آج اسکی یہ غلاظت اور بدبو  مغرب کو بھی  حیرت میں ڈالے ہوئے ہے
کنگسٹن کی عدالت میں اپنی تین نوجوان بیٹیوں اور بیوی کی جان لینے والے  محمد شفیع کا حقارت و نفرت سے بھر ااقبال جرم کہ ”  ہمیں اپنی غیرت سے بڑھ  کرکچھ بھی عزیز نہیں ہاں میں نے اپنی دوسری بیوی اور بیٹے کے ساتھ مل کر اپنی  تین نوجوان بیٹیوں اٹھارہ سالہ زینب ، سولہ سالہ سحر ، چودہ سالہ گیتی اور پہلی بیوی پچاس سالہ رونا عمیر کی جان لی ، کہ انہوں نے اسلام سے غداری کی، انہوں نے اسلامی معاشرے کی قدروں سے غداری کی وہ  غدار تھیں وہ میری غیرت کے نام پر دھبہ تھیں ان کی سزا یقینا  موت ہی تھی اور یقینا  شیطان بھی انکی قبروں پر تھوکتا ہو گا ،آج ہی کیا وہ اگر دوبارہ بھی زندہ ہو جائیں تو میں پھر انھیں مارنے کے لئے تیار ہوں ” اور ادھر بھری عدالت میں اپنی نوجوان بیٹیوں کے لئے غدار جیسے الفاظ سے پکارنے والے  محمد شفیح کی بڑی بیٹی اٹھارہ سالہ زینب جو موت سے قبل متعدد بار اپنے باپ اور بھائی سے خوفزدہ ہو کر ویمن شیلٹر  میں پناہ لے چکی تھی کے الفاظ کہ ” میرا باپ اور بھائی انتہائی ظالم ہیں باپ نے گھر میں ہم تینوں بہنوں کے لئے انتہائی سخت اور بے انصافی پر مبنی اصول بنا رکھے ہیں . کپڑے پہننے سے لے کر کھانا کھانے گھر سے باہر جانے دوستوں سے ملنے حتیٰ کہ ٹی وی پروگرامز دیکھنے تک میں باپ اور بھائی کے بنے قانون چلتے ہیں۔ میں ان ظالم بے انصاف گھریلو قوانین سے لڑنا چاہتی ہوں شاید کہ میری اس  قربانی سے میری چھوٹی بہنوں کی زندگیاں ہی آسان ہو جائیں ۔ زینب نے گھر سے فرار حاصل کرنے کے لئے کچھ ماہ قبل اپنے ایک پاکستانی کلاس فیلو سے نکاح کرنا چاہا جسے باپ اور بھائی نے نا منظور کرتے ہوئے بیٹی سے اپنے گزشتہ رویوں کی معافی مانگی  اوران بگڑے رشتوں کی از سر نو شروعات کرنے کا جھانسا   دیا۔ معصوم دل زینب اپنی خونی رشتوں کے پیار بھرے  جال میں ایسی پھنسی کہ ایک دن  بہنوں کی خاطر قربانی کی بکرا بنتی زینب بہنوں کے ساتھ موت سے جا ملی .بہت عجیب ہے روایت میرے بزرگوں کی۔پگڑیوں کو سروں سے عزیز تر رکھنا۔یہ کوئی ایسی انہونی نہیں کہ پہلی دفعہ ہوئی ہو۔ ہاں رپورٹ ہونا یا منظر عام پر آنا ایک الگ پہلو ہے ورنہ یہ ڈرامے تو بار ہا پہلے بھی ہو چکے ہیں اور ہوتے چلے آ رہے ہیں گھر سے بھاگی ویمن شیلٹر میں پناہ لینے والی متعدد لڑکیوں کی گمنام اموات ۔کئی منزلہ اوپر کی  بالکونیوں سے گر کر اچانک مرتی نوجوان لڑکیاں اور پھر سینکڑوں نوجوان لڑکیاں مختلف بہانوں سے واپس اپنے آبائی ممالک  پاکستان مصر افغانستان صومالیہ اس لئے بھیج دی جاتی ہیں کہ وہ  والدین کے قابو سے باہر ہیں ، یا پھر ادھر کسی لڑکی نے پسند کی شادی کی خواہش ظاہر کی تو جھٹ سے پی آئی آے کی ٹکٹ پکڑی اور اس کی شادی پاکستان جا کر کر دی گئی گویا کہ پاکستانی معاشرہ ہی تو ہے جو  صنف نازک کو قابو کرنے کے گر سے خوب  واقف ہے کہ جس معاشرے میں  ہر باپ اور بھائی کا یہ ایمان ہے کہ انکی بیٹی اور بہن کو کوئی اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق حاصل نہیں۔ عورت کی زندگی مرد کی محتاج ہے ۔ عورت کی سانسیں مرد کی مرہون منت ہیں کہ جہاں  ہر سال پانچ ہزار سے بھی زائد نوجوان لڑکیاں اسی غیرت کے نام پر قانون کی حفاظت میں قتل ہوجاتی ہیں .
یہ اسلامی معاشرہ کہ جس کا  کل اسلام ایک عورت کی ذات سے شر و ع ہو کر عورت پر ہی ختم ہو جاتا ہے . کہ کبھی با پردگی کے ڈرامے تو کبھی شرم و حیا کے تقاضے کبھی نقاب و حجاب کی چیخ و پکار  تو کبھی غیرت کے رونے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام صرف عورت کے لئے ہی نازل ہوا اسلام کا مقصد صرف عورت کو قید کرنا تھا اسلام کا کام تو  صرف عورت کی تصحیح ہی تو  تھی مرد مسلمان  تو گویا پیدائشی مومن ہیں  ان کا اسلام سے کیا لینا دینا .؟ ورنہ اس سے بڑی بے غیرتی اور کیا ہو گی کہ غیرت مرد کی جاگے اور مریں عورتیں ؟ اتنے ہی غیرتمند ہیں تو کہیں جا کر شرم سے ڈوب کیوں نہیں مرتے . اور پھر  خدا نے پیدائش کا حق دے کر اگر  باپ  کا درجہ دیا ہے تو  باپ  ہی رہو اولاد کی  زندگی موت کے فیصلے کر کے  خدائی کے تخت پر کیوں براجمان ہونا چاہتے ہو ؟  کیا  یہ کھلی کھلی  منافقت نہیں  کہ  ایک طرف وہ بلند و بالا دعوے کہ  ماں کے قدموں تلے جنت مگر حقیقت میں  اسی ماں کی زندگی جہنم ؟ . ایک طرف اسلام کے مرد و زن کے مساوی حقوق کی گردانیں تو دوسری طرف اولاد بطور خاص مسلمان  لڑکیوں کی زندگی کے فیصلے باپ اور بھائی ہی کریں ؟
ہمارے بزرگوں کا یہی المیہ ہے کہ خود کو انسان نہیں خدا سمجھتے چلے  آ رہے ہیں . اولاد کی تربیت میں اتنے اندھے ہو جاتے ہیں کہ اسی اولاد کی عزت نفس اور حقوق غصب تک کرنے  سے گریز نہیں کرتے . اور پھر  کیا یہ  ارینج میریجز  کے نام پر صدیوں سے لگتی  آسمانی جوڑوں کی  یہ قطاریں  جو گزشتہ کئی  نسلوں نے بھگتی  ہیں کہ  ان  ذہنی ہم آہنگی سے محروم  گھریلو تشدد سے بھر پور فضاؤں نے   نتیجتاً دہشت گردوں اور شدت پسندوں  کی یہ تیار فوجیں کیا یہ  بھی  ہمارے سبق سیکھنے کے لئے ابھی  کافی نہیں ؟  خدائی کے تخت پر براجمان ان غیرتمند معاشروں  سے تو انسانیت کی  امید  رکھنا ہی فضول ہے ہاں مگر اس غیرت کے بے غیرت تصور پر حیرت زدہ  مرد و زن کے مساوی حقوق کے علمبردار مغربی معاشروں کے قانون بنانے والے اداروں کا آج فرض ہے کہ اس  اندھی غیرت کے آگے  بند باندھنے کے لئے  سخت سزاؤں اور قوانین کے ساتھ ساتھ ایسے والدین اور انکے ہم خیال رشتہ داروں  کی تمام تر  جائیدادیں ضبط کر کے ان سے ایسے ٹرسٹ تشکیل  دے دیے جانے چاہئیں جو خونی رشتوں سے چھپتی اپنے گھروں سے بھاگی زینب اور اقصیٰ پرویز جیسی تمام مسلمان نوجوان لڑکیوں کو تحفظ فراہم کر سکیں ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *