رٹیل مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری: مسلمانوں پر اس کا سب سے برا اثر ہوگا

ڈاکٹر منیش کمار
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ رٹیل مارکیٹ یا خردہ بازار میںغیر ملکی سرمایہ کاری آنے سے مسلمانوں پر کیا اثر پڑے گا۔ یہ سوال اس لیے بھی ضروری ہے، کیوں کہ اس وقت کانگریس پارٹی مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کی بات کہہ رہی ہے۔ چوتھی دنیا نے دو سال قبل رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ شائع کرکے سرکار کو پارلیمنٹ میں اس رپورٹ کو پیش کرنے کے لیے مجبور کیا، ورنہ سالوں سے پڑی یہ رپورٹ اب تک سرکاری الماری میں ہی بند رہتی۔ کانگریس سرکار نے رپورٹ تو پیش کی، لیکن اسے نافذ کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں لیا۔ اچانک کانگریس پارٹی کو کیا ہوگیا کہ اسے مسلمانوں کی یاد آ گئی۔ اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، یہ ایک وجہ تو ہے ہی، لیکن رٹیل سیکٹر میں غیر ملکی سرمایہ کاری آنے سے سب سے بڑا نقصان مسلمانوں کو ہونے والا ہے، کیوں کہ سرکار خردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کی جو دلیل دے رہی ہے، وہی مسلمانوں کے خلاف ہے۔ سرکار کہتی ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری سے بچولیے یا مڈل مین ختم ہو جائیں گے۔

ملک کو ایک بار پھر خواب دکھایا جا رہا ہے۔ پھر سے سرکار ملک کو گمراہ کر رہی ہے۔ سرکار کہہ رہی ہے کہ رٹیل مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری آنے دو، اقتصادی حالت بہتر ہو جائے گی، کسان مالا مال ہو جائیں گے، بچولیے اور دلال ختم ہو جائیں گے، غذائی اجناس کی بربادی ختم ہو جائے گی، پیداوار بڑھے گی، لوگوں کو روزگار ملے گا، مہنگائی ختم ہو جائے گی۔ منموہن سنگھ نے بیس سال قبل ایسا ہی ایک خواب دکھایا تھا۔ 1991 میں انہوں نے لبرل ازم، پرائیویٹائزیشن اور گلوبلائزیشن کی اسکیم نافذ کی۔ یہ بھروسہ دلایا تھا کہ بیس سال بعد یعنی 2010 میں ہندوستان ترقی یافتہ ممالک کی قطار میں کھڑا ہو جائے گا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج کسان خود کشی کر رہے ہیں، مزدوروں کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ شہر اور گاؤں میں اتنا فرق پیدا ہوگیا ہے کہ ملک سرد خانہ جنگی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ لیکن ہندوستان میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے، جو سرکار کی نیو لبرل ازم پالیسیوں کی حمایت میں ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ ہر شہری کو کم قیمت پر اچھا اور برانڈیڈ مال خریدنے کا اختیار ہے۔ جس ملک میں 80 فیصد لوگوں کی روزانہ آمدنی دو ڈالر سے کم ہو، اس ملک میں ایسی دلیل دینا غیر انسانی ہے۔

ہندوستان میں جو خردہ بازار ہے، اس میں بچولیوں کا اہم رول ہے۔ کسان اناج پیدا کرتے ہیں، بچولیے کسانوں سے سامان خرید کر بازار تک پہنچاتے ہیں، وہ ہندوستان میں سپلائی لائن کا اہم حصہ ہیں۔ مسلمانوں پر اس کا اثر ایسے ہوگا کہ ہندوستان میں مسلم کامگاروں کا بڑا حصہ اس سیکٹر سے جڑا ہے۔ 2004-05 کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کل مسلم کامگاروں میں 16.8 فیصد لوگ ہول سیل اور رٹیل سے جڑے ہوئے ہیں، 6.4 فیصد مسلمان کامگار ٹرانسپورٹ اور اسٹوریج کے کام میں لگے ہوئے ہیں اور 20.5 فیصد مسلمان پروڈکشن کا کام کرتے ہیں۔ سب سے زیادہ 39.8 فیصد مسلمان سیدھے کاشت کاری سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان شعبوں پر غیر ملکی سرمایہ کاری کا منفی اثر ہوگا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ 83.5 فیصد مسلم کامگاروں پر غیر ملکی سرمایہ کاری کا سیدھا اثر پڑے گا۔
رٹیل مارکیٹ کا مطلب ہے کہ کوئی دکاندار کسی منڈی یا ہول سیلر کے توسط سے مال یا پروڈکٹ خریدتا ہے اور پھر آخری صارف کو چھوٹی مقدار میں فروخت کرتا ہے۔ خردہ کاروبار کا مطلب ہے کہ ویسے سامانوں کی خرید و فروخت، جنہیں ہم سیدھے استعمال کرتے ہیں۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء یا سامان کو ہم کرانے کی دکان، کپڑے کی دکان، ریہڑی اور پٹری والے وغیرہ سے خریدتے ہیں۔ یہ دکانیں گھر کے آس پاس ہوتی تھیں۔ پھر شہروں میں ایک نیا دور آیا، جب بڑے بڑے شاپنگ مال کھلنے لگے، جہاں بگ بازار، ریلائنس وغیرہ جیسے سپر مارکیٹ میں خردہ سامان فروخت ہونے لگا۔ ایک ہی چھت کے نیچے ان بڑی بڑی دکانوں میں روزمرہ استعمال کے سامان ملنے لگے۔ ہر شہر میں اس کا ٹرینڈ چل پڑا۔ گزشتہ چند سالوں میں اِن مالس کا زیادہ منفی اثر روایتی خردہ بازار پر تو کم پڑا، لیکن غیر ملکی سرمایہ کاری آنے سے خردہ بازار کی پوری شکل و صورت بدل جائے گی۔ اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جب بڑی بڑی کمپنیاں خردہ بازار میں آتی ہیں تو کیا ہوتا ہے۔ اب تک جو کمپنیاں ہندوستان میں کام کر رہی تھیں، ان کے مقابلے غیر ملکی کمپنیاں کافی بڑی ہیں۔ ان کے پاس بے شمار دولت ہے۔ سرکار جو یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ اس نے 10 کروڑ ڈالر سے کم کی سرمایہ کاری پر پابندی لگائی ہے تو وال مارٹ، کیری فور، ٹیسکو، اسٹار باکس، ویسٹ وائے اور میٹرو جیسی غیر ملکی کمپنیوں کے لیے یہ رقم کچھ بھی نہیں ہے۔ اس لیے اس میں شک نہیں ہے کہ ہندوستان کے خردہ بازار کی چال، کردار اور چہرہ بدلنے والا ہے۔ ان کمپنیوں کے آنے سے سب سے پہلا اثر سامانوں کی قیمت پر پڑتا ہے۔ اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اِن میگا اسٹورس میں فروخت ہونے والے سامانوں کی قیمت اتنی کم ہوتی ہے کہ ان کے مقابل یعنی چھوٹے دکاندار اُس قیمت پر وہ سامان کبھی فروخت نہیں کرسکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چھوٹی دکانوں پر سامانوں کی قیمت زیادہ ہوگی۔ الگ الگ برانڈ کے سامان اور کم قیمت کی وجہ سے لوگ پرانی دکانوں کو چھوڑ کر میگا اسٹورس سے سامان خریدنے لگ جائیں گے۔ مطلب یہ کہ کچھ وقت بعد چھوٹی چھوٹی دکانوں کا کاروبار کم ہوتا جائے گا اور کچھ عرصے بعد اُن پر تالا لگ جائے گا۔ ہندوستان پر اِن کمپنیوں کی نظر اس لیے ہے، کیوں کہ ہندوستان کا خردہ کاروبار دنیا میں سب سے تیزی سے بڑھ رہا ہے، لیکن یہ غیر منظم اور بکھرا ہوا ہے۔ اس لیے اس میں کم سرمایہ لگا کر بھی اربوں کھربوں کی کمائی ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر غیر ملکی کمپنیوں کی نظر ہے۔ وال مارٹ، کیری فور، ٹیسکو، اسٹار باکس، ویسٹ وائے اور میٹرو جیسی غیر ملکی کمپنیوں کے لیے ہندوستان ایک سونے کی چڑیا ہے۔
سرکار کہتی ہے کہ خردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری ہونے سے ملک کو فائدہ ہوگا۔ سرکار کے مطابق، کسانوں کو فائدہ ہوگا، انہیں اپنی پیداوار کی واجب قیمت ملے گی اور بچولیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اگلے تین سالوں میں روزگار کے ایک کروڑ نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ خردہ بازار کی سپلائی چین کی کارکردگی بہتر ہو جائے گی۔ سرکار یہ بھی دعویٰ کرتی ہے کہ دس کروڑ ڈالر سے کم کی سرمایہ کاری پر روک ہے اور ہر سرمایہ کار کو تقریباً 50 فیصد سرمایہ کاری خردہ بازار سے وابستہ بنیادی سہولیات پر کرنی ہوگی۔ غیر ملکی کمپنیوں کو یہ رقم کولڈ اسٹوریج، ریفریجریٹر، ٹرانسپورٹ، پیکنگ اور چھنٹائی وغیرہ میں خرچ کرنی ہوگی۔ سرکار کا ماننا ہے کہ اس سے خردہ سامانوں کی قیمت کم ہوگی اور وہ برباد نہیں ہوں گے۔ سرکار ایک اور بات کہہ کر اپنی پیٹھ تھپتھپا رہی ہے کہ اِن غیر ملکی کمپنیوں کو کم از کم 30 فیصد سامان ہندوستان کی چھوٹی اور گھریلو صنعتوں سے خریدنا ہوگا۔ اس سے ملک میں پیداوار بڑھے گی، لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور نئی تکنیک میں جدت آئے گی۔ سرکار چین، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کی مثال پیش کرکے یہ دلیل دیتی ہے کہ ان ملکوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری ہونے سے نہ صرف خردہ بازار کو فائدہ ہوا، بلکہ پہلے سے چل رہی کرانے کی دکانوں میں نہ تو کوئی کمی آئی، نہ انہیں نقصان ہوا۔ ان ملکوں میں بڑی بڑی دکانوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے دکاندار بھی پھل پھول رہے ہیں۔ خردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری آنے سے سرکار کو زیادہ سیل ٹیکس اور پراپرٹی ٹیکس ملے گا۔ سرکار کے دعووں میں کتنی سچائی ہے، یہ سمجھنا ضروری ہے۔
پبلک پالیسی انسٹی ٹیوٹ آف کیلی فورنیا نے 2005 میں وال مارٹ کے اثرات پر ایک ریسرچ کی۔ اس ریسرچ کے مطابق، وال مارٹ کے کھلنے سے رٹیل سیکٹر میں چار فیصد روز گار کم ہوئے اور اس شعبہ میں کام کرنے والوں کی آمدنی میں 5 فیصد گراوٹ آئی۔ سمجھنے والی بات یہ بھی ہے کہ یوروپ اور امریکہ کا خردہ بازار منظم ہے۔ ہندوستان میں 96 فیصد خردہ کاروبار غیر منظم اور بکھرے ہوئے شعبوں میں ہے، اس لیے بے روزگاری کا خطرہ اور بھی زیادہ ہے۔ ہندوستان میں تو اس کا اثر بڑے پیمانے پر ہونے والا ہے۔ وال مارٹ جیسی کمپنیاں سب سے پہلا کام یہ کرتی ہیں کہ سامانوں کی قیمت گھٹا دیتی ہیں، جس کی وجہ سے مقابل دکانوں اور خردہ سامان فروخت کرنے والی دکانوں کی بکری کم ہو جاتی ہے۔ دکاندار اپنی دکان میں کام کرنے والے لوگوں کو باہر کرنے لگتا ہے۔ پھر دھیرے دھیرے دکانیں بند ہونے لگتی ہیں۔ ایک بار ان کمپنیوں کا بازار پر قبضہ ہو جاتا ہے تو من مانے طریقے سے قیمتوں کو بڑھا دیتی ہیں، یہی پوری دنیا میں ہو رہا ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق، جہاں جہاں ملٹی نیشنل کمپنیاں خردہ بازار میں گئیں، وہاں دس سال کے اندر خردہ دکانوں کی تعداد آدھی رہ گئی۔ ہندوستان میں اس کا اثر پہلے سال سے ہی دکھائی دینے لگا۔ ایک اندازے کے مطابق، ایک کروڑ لوگوں کو روزگار سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ مطلب یہ کہ بڑے بڑے سپر مارکیٹ بننے سے نئے مواقع تو پیدا ہوں گے، لیکن اِن کمپنیوں کی وجہ سے بے روزگار ہونے والوں کی تعداد سے روزگار پانے والوں کی تعداد بہت ہی کم ہوگی۔
اس کے باوجود سرکار کہتی ہے کہ خردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے روزگار بڑھے گا۔ خردہ کاروبار روزگار اور گزر بسر کا ذریعہ فراہم کرنے کے معاملے میں کاشت کاری کے بعد دوسرے مقام پر ہے، لیکن اس میں غیر ملکی سرمایہ کاری آنے سے بے روزگاری بڑھے گی۔ اب تک جو لوگ خردہ بازار سے جڑے ہیں، انہیں اپنی دکانیں بند کرنی ہوں گی۔ اس کا اثر سپلائی چین پر پڑنے والا ہے۔ سپلائی چین کا مطلب کھیتوں سے بازار تک سامان پہنچانے کے طریقے اور سلسلے سے ہے۔ کسان کھیتوں میں اناج یا خام مال پیدا کرتے ہیں۔ یہ الگ الگ ہاتھوں سے گزرتا ہوا ضلعی سطح کی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ عام طور پر یہاں اس کی چھنٹائی اور پیکنگ ہوتی ہے، جسے پھر بڑی بڑی منڈیوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔ اِن منڈیوں سے ہی انڈسٹری اور ہول سیلر ان سامانوں کو خریدتے ہیں، جو پھر کئی ہاتھوں سے گزرتے ہوئے بازار اور چھوٹی چھوٹی دکانوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ بڑی بڑی منڈیوں سے جو سامان انڈسٹری میں جاتا ہے، وہ ایک الگ راستے سے بازار تک پہنچتا ہے۔ اس پورے عمل میں چھنٹائی سے لے کر بازار تک پہنچانے میں کروڑوں لوگ لگے ہوئے ہیں۔ بڑی بڑی کمپنیاں سیدھے کھیتوں یا پروڈیوسر سے سامان اٹھاتی ہیں، خود ان کی پروسیسنگ کرتی ہیں اور پھر بیچتی ہیں۔ اگر یہ کمپنیاں خود ہی مال اٹھائیں گی، خود ہی پروسیسنگ کریں گی، تو بڑی تعداد میں مسلمان بے روزگار ہوں گے، کیوں کہ 23.2 فیصد مسلم کامگار اسی کام سے جڑے ہوئے ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان کمپنیوں کی وجہ سے جو مسلمان بے روزگار ہوں گے، وہ کہاں جائیں گے۔ یہ سوال اس لیے ضروری ہے کہ اس شعبہ میں کام کرنے والے لوگ دوسرے کسی کام کو کرنا نہیں جانتے، یہ ان کا آبائی پیشہ ہے۔
سرکار کہتی ہے کہ خردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری آنے سے مقابلہ آرائی بڑھے گی۔ سچائی یہ ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں کے آنے سے مقابلہ آرائی ہی ختم ہو جائے گی۔ خردہ بازار پر ان کا قبضہ ہو جائے گا۔ اپنے سرمایہ کی طاقت پر یہ کمپنیاں پورے بازار پر کنٹرول کریں گی۔ بڑی بڑی غیر ملکی کمپنیوں کی پالیسی یہی ہے کہ صارفین کو کم قیمت پر اشیاء فراہم کرانا۔ یہ ایک ایسا فارمولہ ہے، جس سے کم سرمایہ والے مقابلہ جاتی بازار میں ٹک ہی نہیں پائیں گے۔ ان کا نظم و نسق اتنا چست درست ہوتا ہے کہ سرمایہ کے بل پر وہ بازار میں کچھ ضروری چیزوں کی مانگ پیدا کرتی رہتی ہیں اور رٹیل بازار میں عام صارفین کی جیبیں کٹتی ہیں۔ عام طور پر یہ کمپنیاں دنیا کے کونے کونے سے سستا مال خریدتی ہیں اور جہاں سب سے زیادہ منافع ملتا ہے، وہاں لے جاکر بیچتی ہیں۔ اب بھلا ایسے ماحول میں بازار میں کس طرح سے مقابلہ آرائی بچ پائے گی۔ دراصل، یہ کمپنیاں اتنی بڑی ہیں کہ ان سے کسی کی مقابلہ آرائی ہو ہی نہیں سکتی ہے۔ خردہ بازار میں غیر ملکی کمپنیوں کے داخلہ سے اس شعبہ میں تنہا حکمرانی کی ذہنیت تیزی سے بڑھے گی۔ دراصل، ہوتا یہ ہے کہ شروعاتی دور میں یہ کمپنیاں پرانے بازار اور سپلائی چین کو برباد کرنے کے لیے قیمتیں کم کرتی ہیں اور جب اس شعبہ پر کچھ مٹھی بھر کمپنیوں کا تنہا قبضہ ہو جاتا ہے، تب یہ سامانوں کی من مانی قیمت وصول کرتی ہیں۔ سرکار کہتی ہے کہ کسانوں کو فائدہ ہوگا، انہیں ان کی پیداوار کی زیادہ قیمتیں ملیں گی۔ کسانوں کے پیدا کیے ہوئے اناج سڑ جاتے ہیں، برباد ہو جاتے ہیں، اس سے نجات مل جائے گی۔ سوال ہے کہ اگر یہ سچائی ہے تو اس کا علاج کیا ہے؟
کیا سرکار کا یہ فرض نہیں بنتا ہے کہ وہ ملک میں کولڈ اسٹوریج کی چین بنائے، اناجوں کے رکھ رکھاؤ کے لیے گودام بنائے۔ یا پھر ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ ملک کی سرکار اتنی کمزور ہے کہ اناج کی ذخیرہ اندوزی کے لیے گودام بنانے کے لیے بھی غیر ملکی کمپنیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ جہاں تک بات کسانوں کو زیادہ قیمتیں ملنے کی ہے تو یہ بھی ایک غلط فہمی ہے۔ ان بڑی بڑی کمپنیوں کو چلانے والے نہایت چالاک ہوتے ہیں۔ وہ عام کسانوں سے سامان نہیں خریدتے، کنٹریکٹ فارمنگ کراتے ہیں۔ وہ پہلے کسانوں سے اپنا سیدھا رشتہ بناتے ہیں، انہی چیزوں کی پیداوار پر زیادہ زور دیتے ہیں، جن کی ان رٹیل کمپنیوں کے اسٹوروں میں کھپت ہوتی ہے۔ سپلائی چین برباد ہو جاتی ہے اور کسان ان کمپنیوں کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں۔ اس کی ایک مثال گجرات کے مہسانہ ضلع میں دکھائی دیتی ہے۔ یہاں میک ڈونلڈ کمپنی فرنچ فرائی کے لیے کسانوں سے خاص قسم کا آلو پیدا کراتی ہے۔ اس سال بارش کی وجہ سے فصل برباد ہو گئی۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ یہ کسان کہاں جائیں گے، ان کی بھرپائی کون کرے گا؟ ان کمپنیوں کے ساتھ جڑنے سے کسانوں کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، زیادہ سے زیادہ پیداوار کے لیے یہ کسانوں کو مصنوعی بیج، کھاد، جراثیم کش اور دیگر کیمیکلز کا استعمال کرنے پر مجبور کرتی ہیں، تاکہ پیداوار زیادہ دنوں تک ترو تازہ دکھائی دے۔ اس کا صحت پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی عوام کا ایک اچھا خاصا حصہ زیادہ قیمت ادا کرکے آرگینک غذائی اجناس اور پھل سبزی کی دکانوں سے خریداری کرنے لگا ہے۔ یہ کمپنیاں ہندوستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے دوسرے ملکوں میں اپنی رٹیل دکانیں بند کر رہی ہیں، کیوں کہ ہندوستان ایک بڑا بازار ہے۔ کیا ملک کی سرکار ان کمپنیوں کو آرگینک پروڈکٹ بیچنے کے لیے مجبور نہیں کرسکتی ہے۔ کئی ملکوں نے غذائی اجناس، پھل سبزیوں اور گوشت مچھلی کے خردہ بازار میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کو داخلہ کی اجازت نہیں دی ہے۔ جب کہ حکومت ہند سب سے پہلے پھلوں، سبزیوں اور غذائی اجناس کے کاروبار میں ہی غیر ملکی سرمایہ لگانے کے لیے بے قرار ہے۔ ملک میں 38.8 فیصد مسلم کامگار کاشت کاری سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں سے 80 فیصد مسلمان ایسے ہیں، جن کے پاس زمین نہیں ہے، اگر ہے بھی تو ایک ایکڑ زمین ہے۔ مطلب یہ کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے یہ طبقہ کسی کام کا نہیں ہے۔ یہ کمپنیاں کنٹریکٹ فارمنگ انہی کسانوں سے کرائیں گی، انہی سے مال خریدیں گی جو بڑے کسان ہوں گے۔ نئی صورت حال میں چھوٹے اور غریب کسان کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہوگی۔ سماج پر اس کا اثر یہ ہوگا، جس طرح شہروں میں امیر اور غریب میں فاصلہ ہے، وہ فاصلہ گاؤں میں بہت واضح طور پر دکھائی دے گا۔ مجبوراً مسلم کسان، جن کے پاس زمینیں ہیں، انہیں اپنی زمین سے رخصت ہونا ہوگا۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مسلم سماج میں تعلیم کی کمی ہے اور باصلاحیت مزدوروں کی کمی ہے، اس لیے اس نئی بازاری اقتصادیات کے اندر مسلم سماج دوسروں کو بڑھتا ہوا تو دیکھے گا، لیکن خود غریبی کی جال میں پھنستا چلا جائے گا۔
سرکار کے ایک بیان پر تعجب ہوا۔ سرکار کہتی ہے کہ ہر سرمایہ کار کو تقریباً 50 فیصد سرمایہ خردہ بازار سے وابستہ بنیادی سہولیات پر لگانا ہوگا۔ سرکار اسے ایسے بتا رہی ہے، جیسے کہ یہ کوئی پابندی ہے یا اُن پر دباؤ ہے۔ سچائی یہ ہے کہ وال مارٹ جیسی کمپنیوں کا یہ کام کرنے کا طریقہ ہے کہ وہ اپنی سپلائی چین بناتی ہیں۔ بنیادی سہولیات کا مطلب یہ نہیں کہ وہ گاؤں میں سڑک اور کسانوں کے لیے بجلی پانی مہیا کرائیں گی۔ جن جگہوں پر یہ کمپنیاں سامان بیچتی ہیں، وہاں ان کا اپنا کولڈ اسٹوریج ہوتا ہے، مال ڈھلائی کے لیے ٹرک اور ٹرانسپورٹ کے دوسرے وسائل ہوتے ہیں، اس میں شامل لوگ کمپنی کے اسٹاف ہوتے ہیں۔ ان سب پر بھاری خرچ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ کمپنیاں سستا سامان بیچ پاتی ہیں۔ غیر ملکی کمپنیاں اگر سیدھے کھیتوں سے سامان اٹھائیں گی تو سپلائی چین برباد ہو جائے گی۔ اس عمل میں شامل لوگ بے روز گار ہو جائیں گے۔ خردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا اثر صرف اقتصادی ہی نہیں ہے، بلکہ یہ سماج اور ثقافت پر بھی اثر کرتا ہے۔ کسی بھی ملک کے سماجی ڈھانچے پر اس کے اقتصادی نظام کا بھرپور اثر ہوتا ہے۔ گزشتہ 20 سالوں میں بازار کا اثر سماج پر کیا ہوا ہے، یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اب غیر ملکی سرمایہ کاری بھی آ رہی ہے تو لوگوں کے رہن سہن اور کھان پان پر بھی اس کا اثر ہوگا۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ خردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی آمد اقتصادی نظام کے نئے سرمایہ کاری عمل کو آگے بڑھائے گا اور ہندوستان کے اقتصادی، سماجی، سیاسی اورثقافتی نظام کو متاثر کرے گا۔ کچھ اثرات اچھے ہوں گے، لیکن منفی اثر زیادہ ہوگا۔ سرکار جلد بازی میں لگتی ہے۔ یو پی اے سرکار اور اس کے وزیر خردہ کاروبار کے بارے میں غلط حقائق کو پیش کرکے عام لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ملک کی اقتصادی حالت ایسی ہے کہ سرکار اس کے بارے میں جو کچھ کہتی ہے، اس سے ٹھیک الٹا ہوتا ہے۔ سرکار کہتی ہے کہ تین مہینے بعد مہنگائی میں کمی آئے گی، مہنگائی بڑھ جاتی ہے۔ سرکار کہتی ہے کہ شرح ترقی 9 فیصد ہوگی، رپورٹ آتی ہے کہ مہنگائی کی شرح 6.9 فیصد ہے۔ ملک کے عوام کا سرکاری نظام سے تو بھروسہ اٹھ ہی رہا ہے، اب تو سرکار میں بیٹھے ماہر اقتصادیات کے علم سے بھی اعتماد اٹھنے لگا ہے۔ مہنگائی اتنی ہے کہ ہندوستان دنیا کے سب سے پچھڑے ملکوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ دنیا کے 223 ممالک کی فہرست میں ہندوستان 202 ویں مقام پر ہے یعنی دنیا بھر میں محض 20 ایسے ملک ہیں، جہاں ہندوستان سے زیادہ مہنگائی ہے۔ یہ سب تب ہو رہا ہے، جب ملک کی سب سے اونچی کرسی پر ہندوستان میں لبرل ازم کے بانی اور ماہر اقتصادیات منموہن سنگھ فائز ہیں۔ ان مشکلوں سے نمٹنے کے لیے منموہن سرکار نے پھر ایک خواب دکھایا ہے، خردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا۔ پچھلی بار بھروسہ کرکے ملک نے بیس سال گنوا دیے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس خواب پر بھروسہ کرنے کی کس کی ہمت ہے۔
ملک کے اقتصادی نظام کے لیے خردہ بازار میں ایف ڈی آئی نقصان تو کرے گا ہی، لیکن مسلمانوں پر اس کا زیادہ منفی اثر ہوگا۔ اب سوال ہے کہ سرکار اس طرح کی پالیسی لا کر کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟ سب سے اہم سوال، جس کا جواب سرکار کو دینا چاہیے کہ اگر ملک میں امریکی کمپنیاں بازار کھولیں گی، تو اس میں مسلمانوں کا مقام کہاں ہو گا۔ مسلمانوں کے تئیں امریکہ کے موجودہ رویے کو دیکھتے ہوئے، کیا حکومت اس بات کی گارنٹی دے سکتی ہے کہ یہ کمپنیاں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کریں گی۔ ملک کا مسلمان پہلے سے ہی محرومی کا شکار ہے، مین اسٹریم سے باہر ہو چکا ہے، خردہ بازار میں ایف ڈی آئی آنے سے یہ اور بھی سائڈ لائن ہو جائے گا۔ اس کی جوابدہی کانگریس کی ہے۔ g

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *