بہار : سیاسی رسہ کشی میں پھنسا اسٹیل پلانٹ

سروج سنگھ
بہار میں مہنار کے سیہدیئی خورد، رامپور کمرکول اور کمرکول بزرگ کے کسانوں نے علاقہ کی ترقی کے لیے چار سال پہلے ایک خواب دیکھا تھا۔ خواب ایسا کہ ان کی کئی پشتیں ان پر ناز کرتیں اور ان کا مستقبل سنور جاتا، لیکن سیاست کی بساط پرپڑے کچھ قدموں نے ان کے خوابوں کو چکناچور کر دیا۔آج یہ کسان اس بات پر افسوس کر رہے ہیں کہ کیوں انھوں نے بوکارو اسٹیل پلانٹ سیل کو پلانٹ لگانے کے لیے زمین دی۔ کسانوں کا المیہ یہ ہے کہ انھوں نے بڑی امیدوں اور بھروسہ سے زمین دی ، لیکن سیل کا پلانٹ نہ جانے کہاں پھنس کررہ گیا۔ کسان اب اتنے مایوس ہو گئے ہیں کہ وہ اب اپنی زمین تک واپس لینے کی بات کرنے لگے ہیں۔ چندر شیکھر پرساد نارائن سنگھ جیسے کچھ کسانوں کا تو کہنا ہے کہ انہیں زمین کے پورے پیسے بھی نہیں ملے ہیں۔ حالانکہ اشوک کمار سنگھ عرف بھولا سنگھ ان الزامات کو خارج کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمام کسانوں کو پیسہ دے دیا گیا ہے اور اگرکوئی کسان اپنی زمین واپس چاہتا ہے تو رقم واپس کرکے اپنی زمین لے سکتا ہے۔ لیکن بہتر ہوتا کہ رام ولاس پاسوان اور سابق ممبر اسمبلی رما سنگھ نے حلقہ کی ترقی کے لیے پلانٹ لگوانے کا جو خواب دیکھا تھا، اسے سبھی لوگ مل کر پورا کرتے۔مہنار کے حق کی لڑائی سبھی لوگ مل کر لڑیں۔ سیل کا پلانٹ مہنار اور ویشالی کا حق ہے، اسے لینے کے لیے پٹنہ سے لے کر دہلی تک جدوجہد ہو۔ چندر شیکھر پرساد بھی کہتے ہیں کہ سیاست سے ہم لوگوں کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ہم سبھی کسان چاہتے ہیں کہ پلانٹ لگے اور علاقہ میں ترقی کی گنگا بہے، تاکہ ہماری آنے والی پشتوں کو روزگار کے لیے ادھر دھر بھٹکنا نہ پڑے۔
دراصل، آر ٹی آئی کی معرفت سیل نے جو اطلاع دی ، اس سے علاقہ کے کسانوں کا دل ہی ٹوٹ گیا۔سیل کی اطلاع کے مطابق پلانٹ لگانے کے لیے 208کسانوں نے 50.69ایکڑ زمین دی۔3.94لاکھ فی ایکڑ زمین کے حساب سے اس کی کل قیمت 199.72لاکھ روپے ہوئی۔پلانٹ لگانے کے سلسلہ میں سیل نے کہا کہ موجودہ صورتحال پر از سر نو غور کیا جا رہا ہے۔ مطلب سیل نے جو اطلاع دی ہے، اس کا واضح مطلب ہے کہ معاملہ لٹک گیا ہے۔ یہی وہ حالات ہیں جنھوں نے مہنار کے کسانوں کو بے چین کر دیا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ اب وہ نہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے۔ کہا جائے تو سیاست کی بدلتی تصویر میں مہنار میں اسٹیل پلانٹ کے مستقبل پر خطرے کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔اس پلانٹ کی بنیاد تب پڑی جب رام ولاس پاسوان اس محکمہ کے مرکزی وزیر تھے، رما سنگھ بہار اسمبلی کی زینت بڑھا رہے تھے، لیکن سیاست نے ایسا پلٹا کھایا کہ مہنار کے کسانوں کی قیمت ہی ان سے روٹھ گئی۔ اقتدار ختم ہوا تو سیل نے بھی قدم پیچھے کر لیے۔پلانٹ کی پوری زمین خالی پڑی ہے اور یہاں کے کسان اسے ٹکٹکی لگائے مسلسل دیکھ رہے ہیں۔ سب سے بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ سیل اور مرکزی حکومت پر دبائو بنانے کے لیے کوئی بھی جماعت تیار نہیں ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے رام ولاس پاسوان نے حاجی پور میں احتجاج کیا تھا، لیکن بات اس سے زیادہ آگے نہیں جا سکی۔ بار بار ترقی کی رٹ لگانے والی بہار حکومت کی طرف سے سیل پر دبائو بنانے کی کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔ بہار حکومت نے مرکزی حکومت پر بھی اس بابت کوئی دبائو نہیں بنایا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیل پلانٹ کا کریڈٹ دوسرے لیڈروں کو ملے گا، اس لیے بہار حکومت اس پروجیکٹ کو لے کر بہت سنجیدہ نہیں ہے۔ ہر طرف سے مایوس ہونے کے بعد کسانوں کی طرف سے چندریشور پرساد نارائن سنگھ نے اس بارے میں سیل اور اشوک کمار سنگھ کو اپنے وکیل کے ذریعہ لیگل نوٹس بھیجا ہے۔سیل کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ زمین لینے سے پہلے سیل نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ کمپنی یہاں پلانٹ لگائے گی جس سے علاقہ کی ترقی ہوگی اور زمین دینے والوں کے گھر کے ممبران کو صلاحیت کی بنیاد پر نوکری دی جائے گی، لیکن2جون 2008کو ہوئے قرار کی بنیاد پردی گئی زمین پر آج تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سیل کے ذریعہ طے شدہ قیمت اور ان کی دی گئی زمین کے رقبہ کے مطابق پیسہ نہیں ملا ہے اور کچھ کسان ایسے بھی ہیں جن کی زمین تو لے لی گئی ہے، لیکن انہیں ایک پیسہ بھی نہیں ملا ہے۔ زمین کمپنی کو دینے کا مقصد علاقہ کی ترقی اور بے روزگار وں کو روزگار مہیا کرانا تھا،جو آج تک پورا نہیں ہو سکا۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر سیل وہاں پلانٹ نہیں لگانا چاہتا ہے تو کسانوں کو ان کی زمین واپس کر دی جائے اور اس میں کوئی اور اسکیم ہو تو کسانوں کی شراکت اس میں یقینی بنائی جائے۔نوٹس میں پوچھا گیا ہے کہ سیل کا بوکارو میں پلانٹ لگانے کا کیا منصوبہ ہے اور ادائیگی کی صورت کیا ہے؟
دیکھا جائے تو یہ کسانوں کی مایوسی ہی ہے کہ انہیں لیگل نوٹس کا سہارا لینا پڑا، لیکن اگر یہ صورتحال پیدا ہوئی تو کہیں نہ کہیں اس کی جڑ میں جماعتی سیاست ہے۔ ایک دوسرے کو کریڈٹ نہ ملے، اسے لے کر پلانٹ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ بیتیا میں سب ہو گیا تو مہنار میں کسی کی نذر لگ گئی۔ مہنار کے سینئر لیڈر سہدیو سائو کہتے ہیں کہ پلانٹ تبھی لگے گا جب اس سے سیاست کو باہر کیا جائے گا، ذاتی مفاد سے اوپر اٹھنا ہوگا اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ مہنار میں پلانٹ لگانا اولین ترجیح ہوگی، خواہ اس کے لیے کوئی بھی قربانی کیوں نہ دینی پڑی۔ آخر سیل اپنی بات سے پیچھے کیسے جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نیت صاف ہوگی تو راستہ تو بن ہی جائے گا۔ اشوک سنگھ اور مہنار کے تمام کسانوں کو امید ہے کہ حکومت بیدار ہو اور پلانٹ لگانے کا عمل زور شور سے شروع ہو، تاکہ اس پورے علاقہ کی ترقی ہو سکے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اب وہ خاموش نہیں رہیں گے اور اسمبلی سے لے کر پارلیمنٹ تک اپنی بات رکھیں گے۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *