بابوئوں کو ڈی او پی ٹی کافرمان

دلیپ چیرین
لیڈر تو خود اپنے حلقہ کے لوگوں کی شکایتیں سننے میں لاپروائی کرتے ہیں، لیکن جب بابو ان کے ساتھ صحیح سلوک نہیں کرتے یا عزت نہیں دیتے تو کافی دکھ ہوتا ہے۔ لیڈروں کی طرف سے بابوئوں کے خلاف ایسی کئی شکایتیں آنے کے بعد ڈی او پی ٹی نے سرکاری ملازمین کے لئے ایک معیاری ضابطہ بنایا ہے کہ عوامی  نمائندوں کے ساتھ کس طرح سے پیش آیاجائے۔ اسے تمام وزارتوں،محکموں کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔ ڈپارٹمنٹ آف پرسنل اینڈ ٹریننگ کے سکریٹری الکا سروہی نے بابوئوں کو صلاح دی ہے کہ عوامی نمائندوں کی باتوں کو توجہ دی جائے۔ کہا گیا ہے کہ عوامی نمائندوں کی شکایتوں یا عرضی پر 15دنوں کے اندر سماعت ہونی چاہئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بابوئوں کے ذریعہ ڈی او پی ٹی کے اس ضابطہ کی کتنی تعمیل ہوتی ہے۔
بابوئوں کی بے خبری
کسی سینئر وزیر اور اس کے چہیتے صلاح کار پر الزام عائد کر کے کوئی چین سے کیسے رہ سکتا ہے۔ کچھ ایسا ہی کیرل کیڈر کے افسر اور سیبی کے سابق ممبر کے ایم ابراہم کے ساتھ ہوا۔ کچھ ماہ پہلے انھوں نے وزیراعظم کو ایک خط لکھ کر بتایا کہ وزیر مالیات پرنب مکھر جی، ان کی صلاح کار اومیتا پال اور سیبی کے سربراہ یو کے سنہا کچھ کارپورٹیس کے تئیں نرم رخ اختیار کرتے ہیں۔ وزارت نے اس سینئر آئی اے ایس افسر کے الزامات کو کچرا بتایا۔ اس سے کچھ لوگوں کو حیرانی ہوئی۔ ذرائع کے مطابق، ابراہم کو ان کے ہوم کیڈر بھیجا جا رہا ہے، ساتھ ہی ان کی شکایت کیرل کے چیف سکریٹری پی پربھاکرن سے کی گئی ہے کہ اس افسر پر خدماتی قوانین کی خلاف ورزی کے لئے کوئی کارروائی کیوں نہیں کی جانی چاہئے۔ آگے دیکھتے ہیں کہ ابراہم کو اور کیا کیا برداشت کرنا پڑتا ہے۔
انیتا چودھری کی پریشانی
مرکزی سکریٹریٹ، وزارت داخلہ اور دفاع کے کئی اہم عہدوں کی ذمہ داری سنبھالنے والی ہریانہ کیڈر کی آئی اے ایس افسر انیتا چودھری ان دنوں کچھ پریشان ہیں۔1976کے بیچ کی اس افسر کو وزارت داخلہ میں اسپیشل سکریٹری مقرر کیا گیا تھا۔ اس وزارت میں خاتون افسر بہت کم مقرر کی جاتی ہیں، لیکن انیتا کو مقرر کیا گیا۔ گزشتہ سال انہیں وزارت دیہی ترقیات کے تحت محکمہ زمینی وسائل میں سکریٹری بنایا گیا، لیکن جب مرکزی سطح پر پھرل بدل ہوئی تو انیتا کو کسی اہم عہدہ پرنہیں رکھا گیا۔ایک سال کے اندر انہیں ان کے عہدہ سے بھی ہٹا دیا گیا۔ ان کی جگہ انہیں کے بیچ کے افسرسبرامنیم وجے کمار کو مقرر کر دیا گیا۔ حکومت کے اس فیصلہ پربابوحیران ہیں۔ سبھی جانتے ہیں کہ اس کے پیچھے کا راز کیا ہے، لیکن کوئی بتا نہیں رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *