عوامی مسائل کو حل کرنے میں ناکام مایاوتی کے پانچ سال

شاہد نعیم
اتر پردیش ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے۔ حالانکہ اس میں سے پہاڑی اضلاع الگ کرکے اتراکھنڈ کے نام سے ایک الگ ریاست بنائی جا چکی ہے، اس کے باوجود یہ اب بھی ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست ہے۔ قومی سیاست میں اس ریاست کو سب سے بڑا دخل حاصل ہے۔ پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ اراکین اسی ریاست سے منتخب ہو کر پہنچتے ہیں۔ ملک کو سب سے زیادہ وزیر اعظم دینے کا فخر بھی اسی ریاست کو حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ کے انتخاب ہوں یا اسمبلی کے انتخابات، اتر پردیش کو فتح کرنے کے لیے تمام سیاسی پارٹیاں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتی ہیں۔ لیکن حیرت ناک امر یہ ہے کہ سیاسی نقطہ نظر سے انتہائی اہمیت کا حامل ہونے کے باوجود اتر پردیش کے عوام زندگی کی بنیادی سہولتوں سے آج تک محروم ہیں۔ حالانکہ یہاں قومی سطح کی پارٹیوں کی حکومت بھی بنی، ریاستی سطح کی پارٹیوں کی حکومت بھی قائم ہوئی، مگر کسی بھی پارٹی کی حکومت نے یہاں کے عوام کے دکھ درد کو محسوس نہیں کیا۔ سب نے یہاں کے عوام کو چھلا، فریب دیا۔ ان کے مسائل کو حل کرنے میں کسی نے بھی دلچسپی نہیں دکھائی۔ ہر چند کہ یہاں کانگریس نے بھی حکومت کی اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی، سماجوادی پارٹی نے بھی سرکار چلائی اور بہوجن سماج پارٹی نے بھی۔ قومی پارٹیوں کو بھی آزمایا اور ریاستی پارٹیوں کو بھی، مگر اتر پردیش کے عوام ہمیشہ بے اعتنائی کے شکار رہے۔ تعلیم، روزگار، صحت، بجلی، پانی اور سڑک جیسی بنیادی سہولتیں آج بھی یہاں کے عوام کو میسر نہیں ہیں، جب کہ اس ریاست کے کئی عوامی نمائندے وزارتِ عظمیٰ کی کرسی کا لطف اٹھا چکے ہیں۔
ہندوستان کے جمہوریہ بننے کے بعد 1951 میں پہلی بار اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات ہوئے تھے، تو کانگریس نے 388 سیٹیں جیت کر حکومت بنائی تھی۔ اس وقت سماجوادی پارٹی (سوشلسٹ) کو 20 سیٹیں اور جن سنگھ (موجودہ بی جے پی) کے حصے میں محض دو سیٹیں آئی تھیں۔ وقت گزرتا گیا اور 2007 تک آتے آتے سیاسی جماعتوں کے مبینہ اعداد و شمار پوری طرح پلٹ گئے۔ 2007 کے اسمبلی انتخابات میں اول نمبر کی قومی پارٹی کانگریس محض 22 سیٹوں پر سمٹ کر چوتھے درجے کی جماعت بن گئی اور ایک نئی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی، جس نے 1989 کے اسمبلی انتخابات میں غیر تسلیم شدہ رجسٹرڈ پارٹی کی حیثیت سے حصہ لیا تھا، وہ 206 سیٹیں جیٹ کر اول نمبر کی پارٹی بن کر پوری اکثریت کے ساتھ اتر پردیش کے تخت و تاج پر قابض ہو گئی۔ 1951 سے 2007 تک اتر پردیش کے عوام نے کانگریس کے علاوہ جنتا پارٹی، سماجوادی پارٹی، بھارتیہ جنتا پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کو ریاست کی باگ ڈور سونپی، مگر کسی پارٹی اور حکومت نے ان کی فلاح و بہود کے لیے نہیں سوچا۔ ان کی بدحالی، بھکمری دور کرنے کے لیے لیڈران نے وعدے تو خوب کیے، اتر پردیش کو اُتّم پردیش کے اشتہار دکھاکر سبز باغ بھی دکھائے، لیکن عملی طور پر سب کے سب نکمّے ہی ثابت ہوئے۔
اس وقت اتر پردیش میں مایاوتی کی سرکار ہے۔ اس کی بھی مدت کار پوری ہونے والی ہے۔ مایاوتی جی نے بھی اتر پردیش کے لوگوں کو بڑے سہانے سپنے دکھائے تھے، پوری ریاست کے دلدر دور کرنے کے دعوےکیے تھے، لیکن عوام آج بھی تعلیم، بے روزگاری، بجلی، پانی اور سڑک جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ ریاست میں لوٹ مار، اغوا، قتل و غارت گری کی وارداتوں کی بھرمار ہے، خواتین عصمت دری کے واقعات سے دو چار ہیں۔ پانچ سال پورے ہونے کو ہیں اور عوامی مسائل جوں کے توں منھ پھاڑے کھڑے ہیں۔ ترقی کے نام پر انہوں نے اپنے انتخابی نشان، اپنے اور اپنے خاندان کی مورتیاں اور پارک تعمیر کرائے ہیں، جو ان کے سیاسی حریفوں کوایک آنکھ نہیں بھا رہے ہیں۔ عوام بھی ان کی بے توجہی سے نالاں ہیں۔ 19 مئی 2012 کو موجودہ اسمبلی کی معینہ مدت پوری ہو جائے گی اور دستور ہند کے مطابق معینہ تاریخ سے پہلے پہلے نئی اسمبلی کے انتخابات ناگزیر ہو جائیں گے۔ گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ مایاوتی نے اسمبلی میں عبوری بجٹ بھی پاس کرا لیا ہے۔ اب کسی بھی وقت انتخابات کا اعلان ہو سکتا ہے۔ سیاسی جماعتوں نے اپنی صفیں درست کرنا شروع کردی ہیں۔ لیڈران اپنے ایئر کنڈیشنڈ محل چھوڑ کر رتھ یاتراؤں پر نکل گئے ہیں۔ کچھ روڈ شو کرکے اور چوپال لگا کر انتخابی دستک سنا رہے ہیں، تو کچھ ریلیوں اور جلسے جلوسوں کے ذریعے اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
حالانکہ دلت سماج ہندوستان کے ہر کونے میں آباد ہے، لیکن کانگریس کے یوراج طویل عرصے سے اتر پردیش کے دلتوں کے گھروں میں کھانا کھا رہے ہیں۔ بنکروں کے مسائل بھی انہیں چین سے بیٹھنے نہیں دے رہے ہیں۔ کسانوں کی زمینوں کی بھی انہیں فکر ہے۔ اتر پردیش جاکر وہ سب کے مسائل سن رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ مرکزی سرکار نے اتر پردیش کے غریب عوام کی فلاح و بہود کے لیے ڈھیر ساری اسکیمیں چلائی ہوئی ہیں، لیکن ریاستی سرکار انہیں ان اسکیموں کا فائدہ نہیں پہنچا رہی ہے اور جو اُن کی مدد کے لیے مرکزی سرکار پیسہ بھیج رہی ہے، وہ پیسے مایاوتی سرکار کے ہاتھی، وزیروں اور افسروں کے پیٹ میں جا رہے ہیں۔ ان کے الزام میں کچھ صداقت بھی نظر آتی ہے، کیوں کہ مایاوتی سرکار کے کئی وزیر لوک آیُکت کے شکنجے میں کسے جا چکے ہیں اور مزید ایک درجن وزیر جانچ کے دائرے میں ہیں۔ راہل گاندھی اتر پردیش کے عوام کو صلاح دے رہے ہیں کہ ریاست میں کانگریس کی حکومت لاؤ، پانچ سال میں عوام کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے اور دس سال میں اتر پردیش اعلیٰ درجے کا پردیش بن جائے گا۔ اس کے جواب میں گزشتہ دنوں مایاوتی نے لکھنؤ میں دلتوں اور پس ماندہ طبقات کی ریلی کی اور 70 منٹ کی اپنی تقریر میں تقریباً 48 منٹ تک کانگریس پر جم کر برسیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ہاتھی راہل گاندھی کو خوابوں میں دوڑا رہا ہے، اس لیے ڈر کر وہ پارلیمنٹ چھوڑ کر اتر پردیش چلے آتے ہیں۔ تقریر کے دوران انہوں نے راہل کو للکارتے ہوئے کہا کہ جو کام کانگریس 40 سال میں نہیں کر سکی، وہ راہل گاندھی دس سال میں کیسے کر سکتے ہیں۔ مایاوتی نے طاقت کا مظاہرہ کرنے والی اس ریلی میں کچھ وقت اپنی تعریف اور سماجوادی و بھارتیہ جنتا پارٹی پر پھبتیاں کسنے میں لگایا۔ چونکہ موجودہ سرکار بدعنوانی کی دلدل میں دھنسی ہوئی ہے، حصولیابی اس کے پاس کچھ ہے نہیں، اس لیے مایاوتی مرکزی سرکار کے خلاف جارحانہ تیور اپنا کر اپنا دفاع کر رہی ہیں۔
دراصل، اتر پردیش کے عوام سبھی پارٹیوں سے عاجز آ چکے ہیں۔ وہ اپنے رہنماؤں کے وعدوں اور دعووں کی حقیقت کو بھی پہچانتے ہیں، لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ وہ ذات برادری کی زنجیر سے آزاد ہو کر ووٹنگ نہیں کرتے۔ ان کی اسی کمزوری کا فائدہ سیاسی پارٹیاں اٹھاتی ہیں۔ انتخابات کا موسم جب آتا ہے، تو بڑی پارٹیوں کے ساتھ کچھ ایسی چھوٹی موٹی پارٹیاں اپنے منصوبوں کے ساتھ انتخابی میدان میں اتر جاتی ہیں جن کی کوئی زمینی حقیقت نہیں ہوتی۔ وہ ذات برادری کے جال میں الجھا کر ووٹروں کو تقسیم کردیتی ہیں، جس کے نتیجے میں ایک ایسی پارٹی حکومت پر قابض ہو جاتی ہے، جس کا عوام نے تصور بھی نہیں کیا ہوتا ہے۔ اس لیے وقت کی ضرورت ہے کہ عوام آنے والے الیکشن میں ذات برادری سے اوپر اٹھ کر اپنے نمائندے منتخب کریں تاکہ ایک ایسی حکومت کی تشکیل ہو، جو ان کی زندگی کی جائز ضرورتوں اور سہولتوں کو مہیا کرانا اپنا فرض اولین سمجھے۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *