ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالہ:راجا آئیں گے باہر، مارن جائیں گے جیل!

روبی ارون
ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالہ معاملے میں منموہن – چدمبرم – سونیا نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور ملک کے وزیر قانون سلمان خورشید چہرے پر بڑی سی مسکان چسپاں کیے ملک کے عام عوام کو گمراہ کرنے کی خاطر کہتے پھر رہے ہیں –  آل اِز ویل۔ پر اس حقیقت سے وہ اور سرکار میں ان کے حلیف بھیسے بخوبی واقف ہیں کہ آل اِز ناٹ ویل۔

ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کا کلائمیکس اب شروع ہونے والا ہے۔ قانونی افسران کی غلطیوں ، سی بی آئی کی لاپروائیوں اور سیاسی وجوہات سے ہوئے گھوٹالے اور ضمانت کے کھیل کا تماشہ دنیا دیکھنے والی ہے۔ گھوٹالے کے ہیرو سابق وزیر اے راجا، منموہن سرکار کے سبھی قدآور وزیروں کو عدالت میں لیفٹ رائٹ کرانے والے ہیں۔ اپنے تمام ملزم ساتھیوں کے باہر آ جانے کے بعد راجا، اپنی ضمانت عرضی عدالت میں داخل کرنے کی تیاری میں ہیں، وہ اس کی پیروی بھی خود کریں گے۔ معاملے کی سماعت کررہے جج او پی سینی کو اگر ذرا بھی لگا کہ راجا کی دلیلوں اور پیش ثبوتوں میں دَم ہے تو اس میں شک کی بالکل گنجائش نہیں کہ گواہ کے طور پر پرنب مکھرجی، ہنس راج بھاردواج، مونٹیک سنگھ آہلووالیہ اور خاص طور پر وزیر داخلہ پی چدمبرم عدالت کے کٹہرے میں کھڑے نظر آئیں گے۔ حالانکہ راجا اس معاملے میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کو بھی بخشنے کے موڈ میں نہیں دکھائی دیتے۔

اس گھوٹالے کے طریق کار اور اس کے بعد جانچ کی کارروائی کے درمیان ایسے کئی قانونی پیچ ہیں، جن میں سرکار پھنستی نظر آ رہی ہے۔ خاص طور پر، سرکار کے سرکردہ قانونی افسران نے خوب گل کھلائے ہیں۔ ملک کے اٹارنی جنرل غلام ای واہن وَتی کی کارگزاریوں پر عدالت عظمیٰ تک سوال کھڑے کر چکی ہے۔ اسپیکٹرم گھوٹالے میں ان کا مبینہ کردار بھی کسی سے مخفی نہیں ہے۔ لیکن اب باری ایک اور بڑے قانونی اہل کار کی ہے، جن کا نام ہے عبدالعزیز۔ یہ صاحب سی بی آئی کے ڈائریکٹر پرازکیوشن ہیں۔ کہنے کو یہ عہدہ سی بی آئی سے وابستہ ہے، لیکن اصل میں سی بی آئی کا ڈائریکٹر پرازکیوشن کا عہدہ تکنیکی طور پر سیدھے وزارتِ قانون کے تحت ہوتا ہے۔ بہرحال، اس گھوٹالے کی جانچ کے سلسلے میں سی بی آئی نے عبدالعزیز صاحب سے متعدد نکات پر صلاح مانگی، جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ایسّار اور اس کی فرنٹ کمپنی لوپ ٹیلی کام کی اس گھوٹالے میں مجرمانہ شراکت داری پر اُن کی کیا رائے ہے۔ چونکہ اِس مسئلے پر تفتیشی اہل کاروں کے درمیان اختلاف رائے تھا، لہٰذا معقول قانون صلاح کی ضرورت تھی۔ عبدالعزیز صاحب نے تفتیشی اہل کاروں کی ساری محنت پر پانی پھیرتے ہوئے اپنے نوٹ میں یہ لکھ ڈالا کہ ایسّار – لوپ نے ٹیلی کام کے سیکشن کی خلاف ورزی نہیں کی ہے، اس لیے اِن دونوں کمپنیوں پر کوئی مجرمانہ معاملہ نہیں بنتا ہے۔ جب اس گھوٹالے کی جانچ کر رہے سی بی آئی اہل کاروں کے پاس یہ خبر پہنچی تو وہ حیران ہو گئے کہ آخرکار یہ ہوا کیسے، اور بھلا کیوں؟ تب کچھ لوگوں نے اس بات کی بھی چھان بین شروع کر دی۔ پتہ چلا کہ عبدالعزیز نے بیٹے کی محبت میں الٹی گنگا بہا دی ہے۔ دراصل، اُن کا بیٹا عدنان عبدالعزیز اکتوبر ماہ سے ایسّار – لوپ میں بطور افسر کام کر رہا تھا۔ عبدالعزیز یہ سوچ کر گھبرا گئے کہ کمپنی بند ہو جائے گی تو ان کا بیٹا بے روزگار ہو جائے گا، اس لیے انہوں نے بغیر یہ سوچے کہ ان کی غلط رائے سے معاملے کی تفتیش پر کتنا غلط اثر پڑے گا، انہوں نے گمراہ کرنے والی صلاح دے ڈالی۔ جب یہ بات سی بی آئی کے ڈائریکٹر اے پی سنگھ تک پہنچی، تو انہوں نے عبدالعزیز کو طلب کیا۔ سچائی معلوم ہوتے ہی بطور سی بی آئی ڈائریکٹر اے پی سنگھ نے عبدالعزیز کے تبصرہ کو اووَر رولڈ کر دیا۔ اس کی خبر باہر نہ جائے اور جگ ہنسائی کے ساتھ ساتھ بے ایمانی کا الزام نہ لگے، اس کی خاطر معاملے کو دباکر، دوبارہ اسی مسئلے پر قانونی رائے حاصل کرنے کے لیے پہلے سے ہی گھوٹالے میں شریک ہونے کی تہمت جھیل رہے اٹارنی جنرل غلام ای واہن وَتی کے پاس فائل بھیج دی گئی۔ اب واہن وَتی صاحب کا کرشمہ دیکھئے کہ اکتوبر میں ان کے پاس سی بی آئی نے فائل بھیجی۔ معاملے اور گھوٹالے کی سماجی و سیاسی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اٹارنی جنرل کو اس پر اپنی فوری رائے دے دینی چاہیے تھی، لیکن انہوں نے تب تک فائل دبائے رکھی، جب تک شاہد بلوا اور کنی موئی کی ضمانت کی راہ ہموار نہیں ہوگئی۔ تقریباً مہینے بھر بعد واہن وَتی صاحب کا قلم چلا اور انہوں نے لکھا کہ دونوں کمپنیاں، کمپنی ایکٹ کے مطابق قصوروار پائی گئی ہیں۔
سی بی آئی کے ایک بڑے عہدیدار بتاتے ہیں کہ ملزمین کی ضمانت کے مسئلے پر بھلے ہی یہ بہانے بازی کی جا رہی ہے کہ اُن پر قابل ضمانت دفعات لگی تھیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ سی بی آئی اور سرکار نے اس خوف سے کہ کہیں ان کی خامیاں بھی ظاہر نہ ہو جائیں، ملزمین کی ضمانت عرضی کی مخالفت نہیں کی۔ گھوٹالے کی گہرائی اور سنگینی کو دیکھتے ہوئے سی بی آئی کی اس حرکت پر عدالت بھی حیران ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عدالت نے ملزمین کو ضمانت دینے سے قبل کئی بار یہ سوال کیا کہ سی بی آئی اُن کی ضمانت عرضی کی مخالفت کیوں نہیں کر رہی ہے؟ اب ذرا اِس گھوٹالے کے ہیرو اور کلیدی ملزم سابق وزیر مواصلات اے راجا کی ’چوتھی دنیا‘ سے ہوئی تازہ ترین بات چیت پر غور کرتے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ کنی موئی کی ضمانت کے بعد نہایت فخریہ مسکراہٹ کے ساتھ اے راجا تقریباً اعلان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’آئی ایم دی کیپٹن آف دی شِپ اینڈ آئی وِل ویٹ فار ایوری وَن ایلس ٹو کم آؤٹ، بیفور آئی میک سمیلر اٹیمپٹس‘ (جہاز کا کپتان میں ہی ہوں اور تھوڑی بھی کوشش کرنے سے قبل میں اس بات کا انتظار کروں گا کہ دیگر تمام لوگ رہا ہو جائیں)۔ یقینی طور پر اے راجا کا یہ بیان سرکار اور خاص کر وزیر اعظم منموہن سنگھ اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کو ہلا کر رکھ دینے والا ہے۔
یہ دیگر بات ہے کہ گھوٹالے میں شامل ہونے کے الزام میں گرفتار سبھی کلیدی ملزم باری باری ضمانت پر باہر آ چکے ہیں۔ حالانکہ اے راجا سمیت تین لوگ ابھی بھی سلاخوں کے پیچھے ہیں، پر راجا کو اس بات کا کوئی ملال نہیں، کیوں کہ انہیں پورا یقین ہے کہ وہ اب زیادہ دن تہاڑ کی روٹیاں نہیں توڑنے والے، تبھی تو راجا، سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں پیشی کے لیے آئے راجا بڑے ہی یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ جب بھی وہ اپنی ضمانت عرضی لگائیں گے، انہیں ضمانت ملے گی ہی ملے گی، ضمانت عرضی خارج ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیوں کہ ان کے پاس خود کو جیل کی چہار دیواری کے باہر نکلنے کے لیے دلائل بھی ہیں اور ثبوت بھی۔ راجا لگاتار اپنے قانونی صلاح کاروں کے رابطے میں ہیں اور اپنے دفاع کی خود ہی تیاریاں بھی کر رہے ہیں۔ راجا کہتے ہیں کہ سی بی آئی نے زیادہ تر جانچ آناً فاناً میں کی ہے، جسے عدالت میں ثابت کرنا اس کے لیے دشوار ہوگا۔ ان کے اوپر آئی پی سی کی دفعہ بی کے تحت مجرمانہ سازش کا معاملہ درج ہے، اور اس کی چھان بین نیرا راڈیا کے بغیر ادھوری ہے۔ راجا کے وکیل سشیل کمار کہتے ہیں کہ راجا پر لگے الزامات کے مطابق، لائسنس اور راجا کے درمیان واضح طور پر نیرا راڈیا ہی ہیں، اور نیرا راڈیا کو سی بی آئی نے اپنا گواہ بنا رکھا ہے۔ اس کے علاوہ جو ہنگامہ ہونے والا ہے، وہ یہ کہ اے راجا ج عدالت میں اپنا دفاع کریں گے تو وہ عدالت سے بطور گواہ منموہن سنگھ اور پی چدمبرم کو بلانے کی مانگ کریں گے۔ اس کی خاطر راجا 11جنوری2008اور15جنوری 2008کو اسپیکٹرم کی تقسیم سے متعلق فائل پر وزیر اعظم کے ذریعے کی گئی نوٹنگ کا حوالہ دیں گے، ساتھ ہی اسپیکٹرم کی تقسیم پر ہو رہی گڑبڑیوں پر اس وقت کے فائنانس سکریٹری ڈی سبا راؤ کے اعتراض پر اس وقت وزیر خزانہ اور اسپیکٹرم کی تقسیم پر وزراء کی کمیٹی کے رکن رہ چکے پی چدمبرم کی خاموشی کو بھی ہتھیار بنائیں گے۔ راجا کے وکیل کہتے ہیں کہ جب اے راجا کی ضمانت عرضی پر سماعت ہوگی، تو کسی کو نہیں بخشا جائے گا۔ عدالت میں پرنب مکھرجی کو بھی آنا پڑ سکتا ہے، کیوں کہ جس وقت اسپیکٹرم کی قیمتوں میں ہیرا پھیری ہو رہی تھی، اس وقت اسپیکٹرم پر بنے وزراء کے گروپ کے صدر کے طور پر راجا کے ساتھ آخری میٹنگ پرنب مکھرجی نے ہی کی تھی۔ راجا کی دلیل سے تو یہی لگتا ہے کہ اس وقت کے وزیر قانون ہنس راج بھاردواج اور پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین مونٹیک سنگھ آہلووالیہ بھی بری نہیں ہو پائیں گے۔ جب گھوٹالہ سامنے آیا تھا، تو سب سے پہلے مونٹیک سنگھ نے ہی اسپیکٹرم سبسڈی کو غذائی اجناس کی سبسڈی کی طرح بتاکر راجا کا دفاع کیا تھا، تو ہنس راج بھاردواج نے درخواستوں کی پروسیسنگ کی کارروائی کو نظرانداز کر دیا تھا۔ کل ملا کر یہ کہ گھوٹالے کی سماعت کر رہے جج او پی سینی کو اگر ذرا بھی ایسا لگا کہ راجا کی دلیل اور ان کے پاس موجود ثبوتوں میں دَم ہے، تو حیرانی کی بات نہیں ہوگی کہ اِن تمام حضرات کو گواہ کے طور پر عدالت میں پیش ہونے کا فرمان بھیج دیا جائے گا۔
اُدھر سی بی آئی، سرکار کے احکام کے مطابق سال 2003 سے اس گھوٹالے سے جڑے ہوئے پہلوؤں کی جانچ کر رہی ہے، لہٰذا وہ بی جے پی کے آنجہانی لیڈر پرمود مہاجن اور سینئر لیڈر ارون شوری کے نام کی فہرست الگ سے بنائے بیٹھی ہے۔ سب سے بڑی مصیبت تو سابق ٹیکسٹائل وزیر دیاندھی مارن پر ٹوٹنے والی ہے۔ اُن کا نام تو پہلے سے ہی گھوٹالے بازوں کی فہرست میں درج ہے، لیکن اب وہ حوالا کے بھی ملزم بننے والے ہیں۔ ٹیلی کام کمپنی ایئر سیل کو لائسنس دینے کے معاملے میں پہلے سے ہی پھنسے سابق مرکزی وزیر مارن، ای ڈی یعنی انفورسمنٹ ڈائریکٹریٹ کو پیسہ کو خورد برد کرنے کے ثبوت ملے ہیں۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹریٹ جلد ہی منی لانڈرنگ کا کیس درج کرنے کے بعد مارن سے پوچھ گچھ کرنے والا ہے۔ جانچ ایجنسیوں کو اس بات کے پختہ ثبوت مل چکے ہیں کہ دیاندھی مارن کے خاندان کے مالکانہ حق والی کمپنی سن ڈائریکٹ ٹی وی پرائیویٹ لمیٹڈ میں جو پیسہ لگایا گیا، وہ دراصل ماریشس سے آیا تھا۔ ملیشیائی کمپنی میکسس کمیونی کیشنز کی معاون کمپنی ایسٹرو آل ایشیا نیٹ ورک نے یہ پیسہ سن ڈائریکٹ ٹی وی میں لگایا تھا۔ دیا ندھی مارن کے خلاف درج کی گئی سی بی آئی کی اس ایف آئی آر میں دہلی، چنئی اور ملیشیا کے ساتھ ماریشس کا نام بھی جائے وقوعہ کے طور پر درج ہے۔ یہ سرمایہ کاری تقریباً 629 کروڑ روپیوں کی ہے۔ یہ پوری سرمایہ کاری فروری 2005 سے ستمبر 2008 کے درمیان ٹکڑوں ٹکڑوں میں کی گئی ہے۔ یہ ساری رقم پہلے ماریشس سے ملیشیا بھیجی گئی اور پھر ملیشیا سے سن ٹی وی میں لگائی گئی۔ سن ٹی وی دیاندھی مارن کے بھائی کلا ندھی اور ان کی بیوی کاویری مارن چلاتی ہیں۔ جانچ ایجنسیوں کو پیسوں کی ہیرا پھیری کے ثبوت ملے ہیں۔ اس سوال کا جواب بھی تلاشا جا رہا ہے کہ آخرکار سن ٹی وی میں اِن پیسوں کو لگانے کا مقصد کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ جانچ ایجنسیاں اس سوال کا جواب دیاندھی مارن سے ہی لیں گی۔
جے پی سی کو سونپی گئی فائنانشیل انٹیلی جنس یونٹ کی رپورٹ میں بھی اس بات کا صاف طور پر ذکر ہے کہ ٹیلی کام گھوٹالے کے تار 75 سے بھی زیادہ ممالک سے جڑے ہوئے ہیں۔ ملک کی فائنانشیل انٹیلی جنس یونٹ نے ٹیلی کام گھوٹالے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے دنیا بھر کے اِن 75 ملکوں سے رابطہ بھی قائم کیا ہے۔ دراصل، فائنانشیل انٹیلی جنس یونٹ نے ای ڈی اور سی بی آئی سے ملی جانکاری کی بنیاد پر ٹیلی کام گھوٹالے میں شامل 21 لوگوں اور 33 کمپنیوں کی ایک فہرست تیار کی تھی۔ بعد میں سی بی آئی کے ذریعے پیش کیے گئے ثبوتوں کی بنیاد پر الگ سے مزید 20 لوگوں اور 8 کمپنیوں کی ایک اور فہرست تیار کی گئی۔ فائنانشیل انٹیلی جنس یونٹ نے تفتیش کے دوران شک کے دائرے میں آئے چھ ٹرانزیکشن کی رپورٹ اور 79 بینک اکاؤنٹ کی جانکاری بھی سی بی آئی اور ای ڈی کو سونپی۔ اِن میں سے 32 ویسے اکاؤنٹ ہیں جن میں ایک کروڑ سے زیادہ کا ٹرانزیکشن ہوا تھا۔ پر مشکل یہ ہے کہ اِن ممالک پر فائنانشیل انٹیلی جنس یونٹ کو شک بھی ہے اور کم و بیش ثبوت بھی ہیں، لیکن وہ اپنی رپورٹ میں ان کے ناموں کا خلاصہ نہیں کرسکتا، کیوں کہ ان ممالک کے ساتھ ہندوستان معاہدوں کی شرطوں سے بندھا ہوا ہے۔
اب کانگریس کی لاچاری دیکھئے۔ بدعنوانی کے مدعے پر وہ جس سی بی آئی اور ملک کے سرکردہ قانونی اہل کاروں کو ہتھیار بناکر، خود کو پاک صاف ثابت کرنا چاہتی تھی، الزامات سے گھرے وزیر داخلہ چدمبرم کی گردن بچانا چاہتی تھی، کسی بھی طرح جنوبی ریاستوں میں اپنی حالت مضبوط کرنا چاہتی تھی، اس کے اِن سبھی منصوبوں پر اب پانی پھر چکا ہے۔ روز ہو رہے نئے خلاصے اس کی شرمندگی بڑھا رہے ہیں وہ الگ۔ باوجود اس کے کانگریس کے حوصلے ٹوٹے نہیں ہیں۔ ’تو نہیں اور سہی‘‘ کی طرز پر گھوٹالے کا ٹھیکرا ایک کے بعد دوسرے کے سر پر پھوڑا جا رہا ہے۔ تسلی یہی ہے کہ یہ سبھی کہیں نہ کہیں قصورواروں کی جماعت میں شامل ہیں۔ پر آخر میں گھوم پھر کر بات وہیں پہنچ جا رہی ہے کہ بس کسی طرح وزیر داخلہ چدمبرم کا دامن پھنسنے سے بچ جائے اور سرکار بھی پاک صاف ثابت ہو سکے، لیکن ایسا ہوتا دکھائی بھی نہیں دے رہا ہے، کیوں کہ اس گھوٹالے کے ہیرو اور سابق وزیر مواصلات اے راجا نے کانگریس حکومت کے خلاف کمر کس لی ہے اور اپنے ثبوت کے طور پر تمام کاغذی دستاویزی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ اب یہ ضمانت کا کھیل کیا سیاسی رنگ دکھائے گا، یہ دیکھنا تو دلچسپ ہوگا ہی، لیکن ساتھ ہی یہ ملک کے لیے بے حد شرم ناک اور افسوس ناک بھی ہوگا۔

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *