لندن نامہ

حیدر طبا طبا ئی
ہمیشہ سے پوری دنیا میں لندن سیاست کا بڑا مرکز رہا ہے، جہاں جہاں انگریزوں کی حکومت رہی ہے ان ممالک اور ہر خطۂ زمین سے متعلق سیاسی سرگرمیوں کا مرکز لندن ہی رہا ہے۔ مسلم ممالک کے علاوہ ہندوستان کی اہم شخصیات کا تعلق بھی لندن ہی رہا ہے۔ محمد علی جناح ، پنڈت جواہر لال نہرو، مہاتما گاندھی ،جے پرکاش نرائن بھی لندن کے فارغ التحصیل تھے بلکہ یوں کہا جائے کہ ان لوگوں نے یہاں پڑھ کر یہاں کی رموز سیاست کا جواب دیا ۔ ہندوستان کے بطل جلیل مولانا محمد علی جوہر  کے یہ الفاظ آج بھی برطانیہ کی پارلیمنٹ میں گونج رہے ہیں کہ ’’ میں آپ سے ہندوستان کی آزادی لے کر ہی واپس جائوں گا نہیں تو آپ کو میری  قبر کے لئے لندن میں ہی دو گز زمین دینا ہوگی‘‘چند ہفتوں کے بعد مولانا کا انتقال ہوگیا۔

برطانوی ممبر پارلیمنٹ لارڈ ایریک نے کہا ہے کہ کرپشن کو کبھی کوئی قانون نہیں روک سکتاہے۔ اگر قانون جرائم کو نہیں روک سکتا تو کرپشن کو کیا روکے گا۔ کرپشن کی بنیادی وجہ دولت کا حصول ہوتا ہے جو غربت کے ماحول میں پیدا ہوتا ہے ۔ اس کے لئے ذہن بنائے جاتے ہیں ۔ گھروں کی تعلیم پھر اسکولوں کی تعلیم ہی واحد ذریعہ ہے۔ انہوں نے ہندوستان میں کرپشن کے مسائل کے لئے جو افرا تفری پھیلی ہے اس کے متعلق  بغیر نام لئے کہا کہ وہاں کے ایک صاحب جو گاندھی وادی بنتے ہیں وہ ٹی وی پر آنے کے لئے خبروں میں رہنے کے لئے چند ہ جمع کرکے ہوائی جہازوں پر گھومنے کے لئے ایک ہنگامہ مچائے ہوئے ہیں ۔

انگریز ان کو لندن میں ہی دفن کرنے پر آمادہ تھے،لیکن ملت اسلامیہ نے اپنے بطل جلیل کی آخری آرام گاہ بیت المقدس میں تجویز کی اور آج بھی اس سورما کی قبر پر دنیا کے مسلمان فاتحہ خوانی کرتے ہیں،لیکن افسوس کہ حکومت  ہند کو توفیق نہ ہوئی کہ اپنے محسن کا جنازہ آزادی کے بعد واپس لائے نہ ہی بہادر شاہ ظفر کی قبر منتقل ہوئی۔  بات لندن کی ہورہی ہے جہاں مہاتما گاندھی کو ہمیشہ ہیرو تسلیم کیا گیا۔اب امریکا  جب شکست سے دوچار ہے تو افغانستان سے بھاگتے وقت ہندوستان کو جھوکنا چاہتا ہے ۔ ٹائمز نے لکھا  ہے کہ ہندوستان کو یاد رکھنا چاہئے کہ راجیو گاندھی کے فیصلے پر جب ہندوستانی افواج سری لنکا بھیجی گئیں  توجنرلوں  اور بر گیڈوں اور دیگر اعلیٰ افسران کو قتل کردیا گیا۔ آخر کار ایک گستاخ سپاہی نے خود راجیو جی کی پشت پر اپنی بندوق کا بٹ مار دیا تھا۔ اس بھنور کی گرہ کشائی اس وقت تک نہ ہوگی جب تک کہ امریکہ افغانستان سے راہ فرار اختیار نہ کرلے۔ہندوستان کو چاہئے کہ بہت تحمل ،ہوشمندی کے ساتھ خارجہ پالیسی تشکیل دے۔
ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یورو زون میں بیروزگاری کی شرح ریکارڈ 10.3 فیصد ہوگئی ہے۔ 17 رکنی ممالک کا بلاک یوروپی یونین کساد بازادی اورعالمی مالیاتی بحران کا سامنا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ بے روزگاری کی موجودہ لہر یوروپ کے 27 ممالک تک پھیل چکی ہے پھر بھی ایران پر اقتصادی پابندی عائد  کی جارہی ہے ۔یہ امریکی حکم پر ہورہا ہے اس ے یوروپ کو ہی نقصان ہے۔ اب نوبت یہاں تک آچکی ہے کہ برطانیہ کی پرائیویٹ کمپنیوں کے ملازمین بطور خوشامد اپنے مالکان کو کرسمس کے تحائف دیں گے۔
اسکاٹ لینڈ میں  ’’ دی فورسڈ میرج ایکٹ‘‘ کا  اطلاق ہو چکاہے ۔پاکستانی اپنے بچوں کو زبردستی شادی کرنے پر دو سال کے لئے جیل بھیج دیے جائیں گے اور جرمانہ بھی ہوگا۔ اب برطانیہ میں بھی اس ایکٹ کا اجرا ہوگا۔
برطانوی ممبر پارلیمنٹ لارڈ ایریک نے کہا ہے کہ کرپشن کو کبھی کوئی قانون نہیں روک سکتاہے۔ اگر قانون جرائم کو نہیں روک سکتا تو کرپشن کو کیا روکے گا۔ کرپشن کی بنیادی وجہ دولت کا حصول ہوتا ہے جو غربت کے ماحول میں پیدا ہوتا ہے ۔ اس کے لئے ذہن بنائے جاتے ہیں ۔ گھروں کی تعلیم پھر اسکولوں کی تعلیم ہی واحد ذریعہ ہے۔ انہوں نے ہندوستان میں کرپشن کے مسائل کے لئے جو افرا تفری پھیلی ہے اس کے متعلق  بغیر نام لئے کہا کہ وہاں کے ایک صاحب جو گاندھی وادی بنتے ہیں وہ ٹی وی پر آنے کے لئے خبروں میں رہنے کے لئے چند ہ جمع کرکے ہوائی جہازوں پر گھومنے کے لئے ایک ہنگامہ مچائے ہوئے ہیں لیکن ان کو اسکولی بچوں کی تعلیم  کے متعلق کبھی بولتے نہ سنا گیا ہے ۔ یہ سب سیاست میں رہنے کا شوشہ ہے جو پوری دنیا میں جاری ہے۔عرب لیگ کے اہم ممبر  ابو موسیٰ القدیری نے لندن میں کہا ہے کہ عرب لیگ نے شام  کی جنگ کو دیکھتے ہوئے اقتصادی پابندیوں کی منظوری دے دی ہے۔ یہ سب امریکہ اور برطانیہ کے اشارے پر ہورہا ہے ۔   g

Latest posts by حیدر طباطبائی (see all)

Share Article

حیدر طباطبائی

haidertabatabai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *