مسلمانوں کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے یہ کارڈ

ڈاکٹر منیش کمار
یو آئی ڈی کارڈ کی کہانی اس طرح شروع ہوتی ہے۔ ملک میں ایک خاص شناخت کارڈ کے لئے وپرو نا م کی کمپنی نے ایک دستاویز تیار کی۔ اسے پلاننگ کمیشن کے پاس جمع کیا گیا۔ اس دستاویز کا نام ہے ’’اسٹریٹجک وژن آن دی یو آئی ڈی اے آئی پروجیکٹ‘‘۔ مطلب یہ کہ یو آئی ڈی کی تمام دلیلیں، منصوبے اس دستاویز میں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ دستاویز اب غائب ہو گئی ہے۔ وپرو نے یو آئی ڈی کی ضرورت کو لے کر 15صفحات کی ایک اور دستاویز تیار کی، جس کا عنوان ’’ڈز انڈیا نیڈ اے یونک آئڈنٹٹی نمبر‘‘۔ اس دستاویز میں یو آئی ڈی کی ضرورت کو سمجھانے کے لئے وپرو نے برطانیہ کی مثال دی۔ اس پروجیکٹ کو اسی دلیل پر ہری جھنڈی دکھادی گئی تھی۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ برطانوی حکومت نے اپنے منصوبہ کو بند کر دیا۔ اس نے یہ دلیل دی کہ یہ کارڈ خطرناک ہے، اس سے شہریوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی ہوگی اور عوام جاسوسی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ہم  سپر سونک دور میں جی رہے ہیں۔ اس کا اثر حکومت پر سب سے زیادہ نظر آتا ہے۔ بازار، سائنس، تکنیک، برانڈنگ کمپنیاں، سیاست ، شیئر اور غیر ملکی دوروں کی مصروفیات میں حکومت اتنی الجھ گئی ہے کہ اس کے پاس چند لمحے سکون سے بیٹھ کر اپنی پالیسیوں پر غور و خوض کرنے کا وقت نہیں رہا۔ اگر حکومت اپنے ہی ذریعہ لئے گئے فیصلوں پر تسلی سے از سر نو غور کرے تو وہ خود کئی فیصلوں کو بدلنے کی ضرورت محسوس کرے گی۔یو آئی ڈی ایک ایسی اسکیم ہے، جس پر از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ اس لئے، کیونکہ اس کارڈ کا استعمال تاریخ کے سب سے خطرناک نسل کشی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔کیونکہ یہ کارڈ حکومت میں کنفیوژن پیدا کر رہا ہے۔اس کارڈکو بنانے والی کمپنیوں کے تار غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں سے جڑے ہیں۔ اسے نافذ کرنے میں مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یو آئی ڈی اے آئی کے چیئر مین نندن نلیکنی نے ملک کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی گمراہ کیا ہے۔

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب اس منصوبہ کا پس منظر ہی بے بنیاد اور بے معنی ہو گیا تو پھر حکومت کی ایسی کیا مجبوری ہے کہ وہ اسے نافذ کرنے کے لئے تمام قاعدے قانونوں اور مخالفتوں کودرکنار کرنے پر آمادہ ہے۔ کیا اس کی وجہ نندن نلیکنی ہیں، جو یو آئی ڈی اے آئی کے چیئر مین ہونے کے ساتھ ساتھ حکومت چلانے والے با اثر لیڈروں کے قریبی ہیں۔ کیا یہ غیر ملکی طاقتوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اشارے پر کیا جا رہا ہے؟ ملک کے عوام کو ان تمام سوالوں کے جواب جاننے کا حق ہے، کیونکہ یہ کام عوام کے تقریباً60ہزار کروڑ روپے سے کیا جا رہا ہے، جسے حکومت کے ہی افسران غیر مصدقہ اور ناقابل اعتماد بتا رہے ہیں۔’’آدھار کارڈ‘‘ یعنی یونک آئڈنٹٹی کارڈ کا خواب چکناچور ہوتا نظر آ رہا ہے۔چاروں جانب سے اس پروجیکٹ کی مخالفت ہو رہی ہے۔ ریاستی حکومتیں، لیڈر، سماجی کارکن اور ماہرین اس پروجیکٹ پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ مرکزی حکومت خود اندرونی مخالفت کا شکار ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی وزارت داخلہ تو کبھی وزارت مالیات یو آئی ڈی اے آئی کے مطالبات کو خارج کر دیتی ہے۔خبر یہ بھی ہے کہ وزارت دیہی ترقیات نے الگ سے کارڈ بنانے کا فیصلہ لیا ہے۔ اتنا ہی نہیں، حکومت کے مختلف محکموں سے نا اتفاقی کی وجہ سے سینسز کمشنر یعنی مردم شماری کمشنر یو آئی ڈی کی طرح الگ سے ایک نیشنل کارڈ جاری کریں گے۔ اس بے اطمینانی کو ختم کرنے کے لئے پلاننگ کمیشن بھی دماغ لڑا رہی ہے۔سینسز کمشنر کے مطابق، یو آئی ڈی اتھارٹی جو کام کر رہی ہے، وہ دوہرائو ہے، یہ کام ان کے محکمہ کا ہے۔ شہریت قانون 1955کے مطابق، مردم شماری سے متعلق اطلاعات کو یکجا کرنے کا اختیار صرف ان کے محکموں کو ہے۔ اگر یہ کام یو آئی ڈی اے آئی کرتی ہے تو یہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ یو آئی ڈی کے لئے جمع کیا گیا ڈاٹا ناقابل اعتماد ہے ، کیونکہ یہ تصدیق شدہ نہیں ہے۔ شناختی کارڈ کو لے کر ایک بل پارلیمنٹ میں ہے۔ معاملہ اسٹینڈنگ کمیٹی گیا ،جس کے چیئر مین یشونت سنہا ہیں۔ اس کمیٹی کے ایک ممبر کے مطابق، اسٹینڈنگ کمیٹی کے بیشتر ممبران یو آئی ڈی کی دلائل سے ناخوش ہیں۔ حکومت اس کارڈ کو زبردستی لوگوں پر تھوپ رہی ہے۔ گیس کنکشن سے لے کر فون کا سم لینے کے لئے بھی اس کارڈ کو ضروری بنایا جا رہا ہے، جبکہ اس کارڈ کی حیثیت سٹیزن سرٹیفکٹ کی نہیں ہے۔ اب سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ جب پہلے سے ہی ملک کے عوام کے پاس راشن کارڈ، پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس ، پین کارڈ اور ووٹنگ کارڈ موجود ہیں تو پھر حکومت شہریوں کو الگ سے دو تین کارڈ دینے پرکیوں آمادہ ہے۔ یو آئی ڈی پہلے سے ہی تنازعات سے گھرا ہے۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، اس کی اصلیت سامنے آ رہی ہے۔
ہمارے ملک کی حکومت عجیب و غریب ہے۔ اسے خواب دکھانے میں مہارت حاصل ہے۔ یونک آئڈنٹٹی کارڈ یعنی یو آئی ڈی کو لے کر پتہ نہیں کتنے ہوائی قلعے بنائے گئے۔ اخباروں میں، ٹی وی پر، سیمناروں میں اور کئی مخصوص لوگوں کے ذریعہ سمجھایا گیا کہ یہ اب تک کا سب سے عمدہ شناختی کارڈ بنے گا۔ اس میں کوئی گڑبڑی کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ کارڈ بننے لگے ہیں۔ اب تک تقریباً6کروڑیو آئی ڈی کارڈ بن گئے ہیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان میں سے تقریباً ایک کروڑ کارڈ بیکار ہو گئے ہیں، کیونکہ ان پر پتہ غلط تھا۔جسے افسراور میڈیا اس ملک کے عوام کی ہی غلطی بتا رہے ہیں۔جس ملک میں48فیصد لوگ ناخواندہ ہیں، جو خود اپنا فارم نہیں بھر سکتے تو غلطیاں تو ہوں گی ہی۔ اس اسکیم کو بنانے والوں کو یہ پہلے سے معلوم ہونا چاہئے تھا کہ ملک کی تقریباً نصف آبادی اپنے دستخط نہیں کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یو آئی ڈی اے آئی کو مسلسل اس طرح کی شکایتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کہ یو آئی ڈی نمبر کے لئے غلط پتہ لکھا ہے۔ اس واقعہ سے دوسراسوال اٹھتا ہے۔ کیا کوئی غلط پتہ بھر کر یو آئی ڈی بنا سکتا ہے۔ اگر بنا سکتا ہے تو مستقبل میں بھی غلط پتہ پر یو آئی ڈی بنتے رہیں گے۔ یہ سوال کارڈ بنانے والے افسران اور یو آئی ڈی اے آئی کے چیئر مین نندن نلیکنی سے پوچھنا چاہئے کہ اتنی بڑی چوک کیسے ہو گئی اور اس کے لئے ذمہ دار کون ہے۔ مسئلہ صرف یہی نہیں ہے۔ دہلی کے گریٹر کیلاش میں کچھ بزرگ یو آئی ڈی بنوانے پہنچے۔ انھوں نے ہاتھوں کو جب مشین پر رکھا تو اس نے ان کے ہاتھوں کی لکیروں کو پڑھنے سے انکار کر دیا۔ معلوم ہوا کہ 65سال سے زیادہ عمر کے بزرگوں کے سوکھے ہاتھوں کی لکیروں کو مشین پڑھ ہی نہیں سکتی۔نندن نلیکنی صاحب اس کارڈ کی ٹیکنالوجی کے بارے میں کئی بار لیکچر دے چکے ہیں۔یہ کتنی عمدہ ٹیکنالوجی کے ذریعہ تیار کیا جا رہا ہے، اخباروں میں اس کے بارے میں قصیدے شائع ہو رہے ہیں۔ دراصل حقیقت یہ ہے کہ یو آئی ڈی بنوانے کی حسرت رکھنے والے بزرگ بڑی تعداد میں مایوس ہو کر لوٹ رہے ہیں۔
چوتھی دنیا نے پہلے بھی اس کارڈ کو لے کر ایک رپورٹ شائع کی تھی، جس سے یہ ثابت ہوا کہ کس طرح یو آئی ڈی اے آئی نے ملک کی سلامتی کے ساتھ سمجھوتہ کیا۔ یو آئی ڈی اے آئی نے کارڈ بنانے کے لئے تین کمپنیوں کو چنا، ایسنچر ، مہندرا ستیم ، مورفو اور ایل 1آئڈنٹٹی سولیوشن ۔ ان تینوں کمپنیوں پر ہی اس کارڈ سے جڑی تمام ذمہ داریاں ہیں۔ان تینوں کمپنیوں پر غور کرتے ہیں تو ڈر سا لگتا ہے ۔ ایل 1آئڈنٹٹی سولیوشن کی ہی مثال لیتے ہیں۔ اس کمپنی کے ٹاپ مینجمنٹ میں ایسے لوگ ہیں، جن کا امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور دوسری فوجی تنظیموں سے رشتہ رہا ہے۔ ایل 1آئڈنٹٹی سولیوشن امریکہ کی سب سے بڑی ڈیفنس کمپنیوں میں سے ایک ہے، جو 25ملکوں میں فیس ڈٹیکشن اور الیکٹرانک پاسپورٹ وغیرہ فروخت کرتی ہے۔ امریکہ کے ہوم لینڈ سیکورٹی ڈپارٹمنٹ اور یو ایس اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے تمام کام اسی کمپنی کے پاس ہیں۔ یہ پاسپورٹ سے لے کر ڈرائیونگ لائسنس تک بنا کر دیتی ہے۔ اس کمپنی کے ڈائریکٹروں کے بارے میں جاننا انتہائی ضروری ہے۔ اس کے سی ای او نے 2006میں کہا تھا کہ انھوں نے سی آئی اے کے جارج ٹینٹ کو کمپنی بورڈ میں شامل کیا ہے۔ جارج ٹینٹ سی آئی اے کے ڈائریکٹر رہ چکے ہیں اور انھوں نے عراق کے خلاف فرضی ثبوت جمع کئے تھے کہ اس کے پاس تباہ کن ہتھیار ہیں۔ اب کمپنی کی ویب سائٹ پر ان کا نام نہیں ہے، لیکن جن کا نام ہے، ان میںسے کسی کا رشتہ امریکہ کے آرمی ٹیکنالوجی سائنس بورڈ، آرمڈ فورس کمیونکیشن اینڈ الیکٹرانک ایسو سی ایشن ، آرمی نیشنل سائنس سینٹر ایڈوائزری بورڈ اور ٹرانسپورٹ سیکورٹی جیسی تنظیموں سے رہا ہے۔تفصیل میں جائیں تو یہ پتہ چلتا ہے کہ ان تمام اہلکاروں کے روابط یہودی تنظیموں کے ساتھ بھی رہے ہیں۔
اس سوال کا جواب نند ن  نلیکنی اور حکومت کو دینا چاہئے کہ یو آئی ڈی ورلڈ بینک کی ای ٹرانسفارم انیشیٹو (ای ٹی آئی) کا حصہ ہے۔ اس پروجیکٹ کو 23اپریل ، 2010کو واشنگٹن میں شروع کیا گیا۔ حکومت کویہ بتانا چاہئے کہ اس پروجیکٹ کامقصد کیا ہے، جسے دنیا کے کئی ممالک میں نافذ کیا جا رہاہے۔ ورلڈ بینک کے اس پروجیکٹ میں ایل 1آئڈنٹٹی سولیوشن ، آئی بی ایم، انٹیل اور مائکروسافٹ کی بھی حصہ داری ہے۔ ایل 1آئڈنٹٹی سولیوشن کی یہ حقیقت حکومت نے عوام سے کیوں پوشیدہ رکھی کہ اس کمپنی کے بورڈ میں امریکی خفیہ اور سیکورٹی ایجنسیوں کے افسران رہ چکے ہیں۔ یو آئی ڈی کی مخالفت حکومت کے اندر سے ہو رہی ہے۔ حکومت کے قریبی بھی اس پروجیکٹ پر سوال اٹھانے لگے ہیں۔ کئی سماجی کارکن ، رٹائرڈجج ، نوکر شاہ ، دانشوراور ماہرین اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اتنا سب کچھ ہو رہا ہے ، لیکن پارلیمنٹ میںاس پر بحث تک نہیں ہوئی اور نہ ہی اپوزیشن اس پر کوئی دبا ئو بنا رہی ہے۔g

یہ کارڈ نازیوں کی یاد دلاتا ہے
امریکہ کے واشنگٹن ڈی سی میں یو ایس ہولو کاسٹ میموریل میوزیم ہے۔ یہاں دوسری عالمی جنگ کے دوران یہودیوں کی نسل کشیسے جڑی چیزیں ہیں۔ اس میوزیم میں ایک مشین رکھی ہے، جس کام نام ہے ’’ہولے رِتھ ڈی 11‘‘اس مشین کو آئی بی ایم کمپنی نے دوسری عالمی جنگ سے پہلے بنایا تھا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس مشین کا ہولو کاسٹ میوزیم میں کیا کام؟ یہودیوں کی تباہی سے اس مشین کا گہرا رشتہ ہے۔ یہ ایک شناختی کارڈ کی چھنٹائی کرنے والی مشین ہے، جس کا استعمال ہٹلر نے 1933میں مردم شماری میں کیا تھا۔ یہی وہ مشین ہے، جس کے ذریعہ ہٹلر نے یہودیوں کی شناخت کی تھی۔ اگر یہ مشین نہ ہوتی تو نازیوں کو یہودیوں کے ناموں اور پتوں کی جانکاری نہ ملتی۔ نازیوں کو یہودیوں کی لسٹ آئی بی ایم کمپنی نے دی تھی۔ یہ کمپنی جرمنی میں مردم شماری کرنے کے کام میں تھی، جس نے نہ صرف ذات برادری کے تحت مردم شماری ، یہودیوں کی مردم شماری کی، بلکہ ان کی شناخت بھی کرائی۔ آئی بی ایم اور ہٹلر کی اس ساز باز نے تاریخ کی سب سے خطرناک نسل کشی کو انجام دیا۔ یہ منصوبہ ہٹلر، دوسری عالم جنگ اور اس کے بعد کے دور کی یاد دلاتا ہے۔
اس کارڈ کی مخالفت ہو رہی ہے۔ مخالفت کی وجوہات الگ الگ ہیں۔ سماجی کارکن گوپال کرشن نے ایک الگ سوال کھڑا کر دیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہندوستان میں اس بات پر کم دھیان دیا گیا ہے کہ کیسے اطلاعات کو جمع کرنے کا نظریہ سماجی کنٹرول، جنگی ہتھیار اور نسلی گروہ کو نشانہ بنانے اور زیادتی کرنے کے ہتھیار کی شکل میں فروغ پایا ہے۔جس طرح آئی بی ایم نے نازیوں کے ساتھ مل کر یہودیوں کے اثاثہ کو ہتھیانے ، ان کی بستیوں کو لوٹنے، انہیں ملک سے بھگانے اور ان کے صفائے کے لئے شناختی کارڈ کا استعمال کیا، وہ انسانی تباہ کاریوں کے میکانزم  کی پہلی مثال ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ لہٰذایہ بات اور ہے کہ ہندوستان نے تاریخ سے سبق نہ لینے کی قسم کھا رکھی ہے۔
حکومت نے خاص طور پر جرمنی اور عام طور پر یوروپ کے تجربات کو نظر انداز کر کے اس پروجیکٹ کو ہری جھنڈی دی ہے۔ جبکہ یہ دن کی روشنی کی طرح صاف ہے کہ نشاندہی کر کے یہی اوزار بدلے کے جذبہ سے کسی مخصوص مذہب، برادری، علاقہ یا اقتصادی طور پرپریشان  طبقوں کے خلاف بھی استعمال میں لائے جا سکتے ہیں۔ یہ ایک خطرناک صورتحال ہے۔ شک اس لئے بھی ہوتا ہے، کیونکہ جس طرح سے اخباروں میں خبریں شائع ہو رہی ہیں، وہ بالکل منصوبہ بند نظر آتی ہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ یہ یونک آئڈنٹٹی کارڈ کہیںبھی ہٹلر کی جرمنی جیسی صورتحال بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔جو حال جرمنی میں یہودیوں کا ہوا، ویسی صورتحال ہندوستان میں پیدا ہو سکتی ہے، ایسا خطرہ ہمیشہ لاحق رہے گا۔ ہم 1933میں نہیں، 2011میں جی رہے ہیں۔ حکومت جس طرح سے اس کارڈ کو نافذ کرنا چاہتی ہے، اس سے تو کسی بھی شخص کا چھپنا مشکل ہو جائے گا۔ اس کارڈ کے نافذ ہوتے ہی فون یا اے ٹی ایم کے استعمال سے ہی کسی کا بھی ٹھکانہ پتہ کیا جا سکتا ہے۔ کیا حکومت ہند اس بات کی گارنٹی دے سکتی ہے کہ جب کبھی نازی یا اس سے بھی خطرناک قسم کے لوگ اقتدار میں آ گئے تو اس کارڈ کا استعمال مسلمانوں کے خلاف نسل کشی ،فسادات ، تشدد اور قتل و غارت گری کے لئے نہیں کیا جائے گا۔ اس بات کی گارنٹی کوئی نہیں دے سکتا۔ کیا یو آئی ڈی یا نیشنل پوپولیشن رجسٹرار وہی کر رہے ہیں، جو جرمنی میں کیا گیا۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر ملک کے جانے مانے سماجی کارکن اور ماہرین اس طرح کے سنگین سوال اٹھا رہے ہیں تو اس کا جواب حکومت کیوں نہیں دیتی۔ اس کارڈ کو لے کر پارلیمنٹ میں بحث کیوں نہیں ہوئی۔اس کارڈ کو بنانے سے پہلے پارلیمنٹ کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔ اس کارڈ کو لے کر کئی ابہام ہیں، جن پر کھلی بحث کی ضرورت ہے۔g

نندن نلیکنی سپر مین ہیں
یو آئی ڈی کو لے کر جب بھی کوئی ذمہ دار شخص منھ کھولتا ہے ، تو الگ الگ دلیلیں دی جاتی ہیں۔ کبھی غریب کو روزگار ، کبھی منریگا ، کبھی سبسڈی تو کبھی اسکول میںبچوں کے ایڈمیشن ، کبھی کبھی پی ڈی ایس سسٹم اور پتہ نہیں کیا کیا۔ ایسا بھرم پھیلایا جا تاہے ، جیسے کہ یہ کوئی علاء الدین کا چراغ ہے۔ نندن نلیکنی یو آئی ڈی اے آئی کے چیئر مین ہیں۔ وہ بھی وقتاً فوقتاًمختلف بیان دیتے ہیں، لیکن انھوں نے یو آئی ڈی کی اصلیت نیلسن کمپنی کے کنزیومر 360کے پروگرام میں بتائی ۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان کے ایک تہائی صارفین بینکنگ اور سوشل سروس کی پہنچ سے باہر ہیں۔ یہ لوگ غریب ہیں، اس لئے خود بازار تک نہیں پہنچ سکتے۔ پہچاننمبر ملتے ہی موبائل فون کے ذریعہ ان تک پہنچا جا سکتا ہے۔ یو آئی ڈی سسٹم سے کمپنیوں کو فائدہ پہنچے گا۔ بازار کو ویسے ہی آزاد کر دیا گیا ہے۔ غیر ملکی کمپنیاں ہندوستان آ رہی ہیں، وہ بھی رٹیل مارکیٹ میں۔ نندن نلیکنی نے تو اصلیت بتا دی کہ ملک کا اتنا پیسہ صنعت کاروں اور بڑی بڑی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے خرچ کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان میں جدید لبرل ازم کے کرتا دھرتا منموہن سنگھ کی پشت پناہی کہیں یا پھر حکومت کے چہیتے لیڈروں کی نزدیکیاں ، نندن نلیکنی آج ملک کے سب سے ذمہ دار شخص ہیں۔ وہ پانچ سرکاری اتھارٹیز اور اسکیموں کے چیئر مین ہیں اور 6کے رکن ۔
ویسے کسی پر ذاتی طور پر سوال اٹھانا مناسب نہیں ہوتا ہے، لیکن حکومت سے یہ تو پوچھا ہی جا سکتا ہے کہ کیا ملک میں صلاحیت کی کمی ہے، کیا ان کمیٹیوں کا ممبر یا چیئر مین بننے کی قابلیت کسی میں نہیں یا پھر حکومت نندن نلیکنی کی قابلیت سے اتنی متاثر ہے کہ ان سے بہتر یا مدمقابل کوئی دوسرا شخص پورے ملک میں نہیں ملا؟
صدر
ٹیکنالوجی ایڈوائزری گروپ آن یونک پروجیکٹ  ٹی اے جی یو پی
n    یونک آئڈنٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا(یو آئی ڈی اے آئی)
کمیٹی آن الیکٹرانک ٹول کلیکشن (ای ٹی سی)
انٹر منسٹریل ٹاسک فورس ٹو اسٹریم لائن دی سبسڈی ڈسٹری بیوشن میکانزم
گورمنٹ آف انڈیا آئی ٹی ٹاسک فار پاور سیکٹر
ممبر
نیشنل نالج کمیشن
ریویو کمیٹی آف جواہر لعل نہرو نیشنل اربن رینیول مشن
ای گورننس کا قومی صلاح کار گروپ
سیبی کی ذیلی کمیٹی
انڈین ریزرو بینک کا کارپوریٹ گورننس صلاح کار گروپ
پرائم منسٹر نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کونسل

اردو چوتھی دنیا کی اسٹوری اپنے میل پر حاصل کرنے کے لئے اپنا ای میل درج کریں

Leave a Comment :
اپنی رائے دیں

:
رد عمل