نظام تعلیم کو پتھر بنانے کے لئے : تعلیمی مافیائوں کا زور ختم کرنا ضروری

سلمان عبد الصمد
ملک وقوم کی ترقی کاانحصار علم پر ہی ہے۔ بدونِ تعلیم اقبال وعروج کا خواب سجانا انتہائی سطحی فکر ہے ۔ جس ملک و قوم میں علم دوست افراد ہوتے ہیں، وہاں ترقی کی شاہراہیںکھلتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فی زمانہ حصول ِتعلیم پر زور دیاگیا ، اس کے حصول کے نت نئے طریقے دریافت کیے گئے ، تعلیمی نظام کو صحتمندبنا نے کے لیے مؤثر طریقے اختیارکیے گئے ۔ اگر نظام تعلیم پر اضمحلالیت کے اثرات مرتب ہونے لگے تو ملک و قوم کی بد نصیبی ہی ہوگی ۔ ترقی کی کشتی بھنور میں چلی جائے گی۔ اقبال مندی اورظفر یابی کے خوابوںکاخون ہوجائے گا ۔ صرف یہیں تک ہی بس نہیں بلکہ اس کے غلط اثرات معاشرہ پر بھی مرتب ہونے لگتے ہیں ۔
آج پوری دنیا میں تعلیمی بیداری کی لہر ہے ۔ ایک ملک سے دوسرے ملک کثیر تعداد میں طلباء حصول ِ تعلیم کے لیے آجارہے ہیں ۔ ہندوستان میں بھی بیدار مغز، اصحاب فکر و دانش اور تعلیم دوست افراد بہت ہیں ۔ رہ رہ کے ان کے دلوں میں تعلیمی بیداری کا خیال آتا ہے اورتعلیم کے فروغ میں سرگرداں ہوتے ہیں ۔ مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل کپل سبل بھی تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے ہمہ دم کوشاں نظر آتے ہیں ۔ گاہے بگاہے تعلیم کے فروغ کے لیے ان کے دل میں نت نئے طریقہ آتے ہیں۔ چند دنوں قبل کی بات ہے کہ ایک پروگرام میں مذاکرہ کے دوران انہوں نے کہا کہ 2020تک ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح 30فیصد حاصل کرنا ہے تو مزید ایک ہزار یونیورسٹیوں اور 50 ہزار کالج ضروری ہیں۔ اسی طرح انہوں نے انتہائی کم قیمت پر طلباء کے لیے لیپ ٹاپ مہیاکرانے کا اعلان بھی کیا ہے ۔ تاکہ طلباء تکنیک سے جڑ جائیں ۔
سوال یہ ہوتا ہے کہ انتہائی کم قیمت پر لیپ ٹاپ فراہم کرنے سے تعلیمی نظام صحتمند ہوجائے گا؟ ملک کے طول و عرض میں نہ جانے کتنے خطے ایسے ہیں جہاں تعلیم نظام پراضمحلالیت کے اثرات ہیں۔ ناقص تعلیمی نظا م ہے۔ تعلیمی مافیا سرگرم ہیں۔ بہت سے مقاما ت پر تعلیمی سہولت دستیاب ہی نہیں۔ اساتذہ کا فقدان ہے۔ کتابوں کی کمیابی ہے۔ الغرض بدنظمی کے حصار میں اسکول وکالج ہیں تو ایسے میں صرف لیپ ٹا پ کا وعدہ کرناکیسی عقل مندی ہوگی ؟سچ پوچھئے تو ہندوستان میں تعلیمی مراکز کی کمی نہیں ہے۔ مگر ان سب میں جو چیز عنقاء ہے، وہ ہے شفافیت،جس کی بنیاد پرا چھے اہل علم کا فقدان ہے ۔ اس لیے اعلیٰ ومعیاری تعلیم کے لیے اعلیٰ مراکز کے قیام سے کہیں زیادہ بنیادی تعلیمی سہولت کی فراہمی پردھیان دیناضروری ہے ۔ موجودہ تعلیمی اداروں میں شفافیت پیداکی جائے، ان میں اخلاقیات پر زوردیا جائے ۔ مضمحل ہوتے تعلیمی نظام کو چست درست کرنے پر پوری توجہ دی جائے۔ ان مسائل سے قطع نظر صرف اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام کے تئیں آواز بلندکرنابے وقت کی راگنی ہی ہوگی۔ ایک ہزار یونیورسٹیز، 50ہزار کالجز اورسستے لیپ ٹاپ سے تعلیمی معیار بلند نہیں ہوگا ۔ موقع کے مدنظر اقدامات ہوں گے تو ترقی کی راہ ہموار ہوگی ورنہ نہیں ۔ فخرِملک وملت سرسید احمدخان نے کہاتھا ’’جو تعلیم حسبِ احتیاج وقت نہ ہو وہ غیرمفید ہوتی ہے ‘‘۔ اسی طرح ایک دانا کابھی قول ہے ’’اگرحسب احتیاج وقت لوگوں کی تعلیم وتربیت نہ ہوتواس کا نتیجہ ہوتا ہے کہ لوگ اول مفلس اورمحتاج ،پھر نالائق وکاہل، اس کے بعد ذلیل و خوار، پھر چور و بدمعاش ہوجاتے ہیں ‘‘۔ واقعی ان دنوں تعلیمی میدان کواحتیاج ہے شفافیت کی، اخلاقیات کی، یاپھر بنیادی تعلیم کی نہ کہ صرف اعلیٰ ومعیاری تعلیم کے لیے اقدامات کی، کیونکہ جب تعلیم کا بنیادی ڈھانچہ مضبوط نہیںہوگا تو معیاری اوراعلیٰ تعلیمی اداروں میں آکر طلباء خاطر خواہ فائدہ کیسے اٹھاپائیں گے ؟
وزیر اعظم کے اقتصادی مشیر رگھو را م راجن نے کا کہنا ہے کہ ہندوستانی رسمی تعلیمی نظام ناکا م ہورہاہے ۔ سرکاری اسکولی نظام نا کام ہورہا ہے ۔ سرکار بہتر کا م نہیں کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبہ میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ ہماری ضرورت ہے کہ سبھی بچے اسکول جائیں، ہندوستانی پرائمری اسکولوں میں آدھے طلبا کلاس میں نہیں ہوتے ہیں۔ اوسط اسکول امریکہ میں اچھے ہیں۔ ہندوستانی طلباء میں تعلیم کی خواہش ہوتی ہے، اس کے باوجود اسکو ل چھوڑجاتے ہیں ۔  فی الوقت ملک کے محکمہ تعلیم کی تمام تر توجہ اس پر مرکوز ہونی چاہیے تھی کہ ابتدائی درجات میں طلباء یکسوئی سے حصول علم کے لیے منہمک رہیں۔ انہیں اس کے لیے ہر سہولت بہم پہنچائی جائیں۔ یہ امر قابل توجہ ہونا چاہیے کہ تعلیم کی خواہش کے باوجود طلباء تعلیم کیوں ترک کردیتے ہیں؟ان بنیادی باتوں سے قطع نظر فقط اعلیٰ تعلیم کے لیے معیاری اداروں اورجدید آلات کی فراہمی چہ معنی دارد؟
دہلی کے پرائمری اسکولوں میں خالی اسامیوں کے لیے دہلی میونسپل کارپوریشن نے پہلی مرتبہ کنٹریکٹ کی بنیاد پر اساتذہ کی بحالی کے تئیں آن لائن عمل شروع کیا تھا۔ تقریباً 48ہزار درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے لگ بھگ 2500 امیدواروں کو میرٹ لسٹ میںشامل کیا گیا تھا ۔ جب میرٹ کی بنیاد پر منتخبہ امیدواروں کوسرٹیفکٹ چیک کرانے کے لیے بلایاگیا تو ہر تیسرے امیدوار کے سرٹیفکٹ میں خامیاں نظر آئیں ۔ جانچ میں حقیقت واشگاف ہوتی نظر آئی تو بہت سے امیدواروں نے کارپوریشن جانا ہی بند کردیا ۔ جن 1767امیدواروں کوجاناتھا ان میں سے 572 پہنچے ہی نہیں۔ خبر یہ ہے کہ نریلا ژون کے 57، شاہدرہ نارتھ ژون کے 204میں سے 60، روہنی کے 200میںسے 70، شاہدرہ  ساؤتھ کے 200میں سے 67امیدوار میرٹ لسٹ میں آنے کے باوجود جانچ کے لیے نہیں گئے۔
نظام تعلیم مضمحل ہے، اس لیے تو تعلیمی میدانوں کے شہ سواروں میں ایسی ایسی خامیاں نظر آئیں؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرٹیفکٹ میں ایسی خامیاں کیوں نظر آئیں؟ تعلیمی نظام میں کہا ںجھول ہے کہ ایسے افراد کوڈگریاں مل گئیں ؟اسناد میں خامیاں کس کی کوتاہی کا نتیجہ ہیں؟ ایسے افراد ، جن کی ڈگریوں میں خامیاں ہیں یا جنہوں نے غلط معلومات فراہم کیں، مسندِدرس پر متمکن ہوکر کیسے طلباء کی کردار سازی کریںگے؟ کیسے وہ اخلاقیات پر توجہ دیں گے ؟ کیسے وہ مسند درس پر براجمان ہو نے کے بعد شفافیت کے لیے کچھ کریں گے ؟ کیوں کر ایسوں کے دل میں نظام تعلیم کی صحتمندی کا خیال آئے گا ؟لب لبا ب یہ ہے کہ ایسے افراد سے ملک و قوم کی ترقی قطعی متصور نہیں۔ خداکا کرم ہے کہ ایسے افراد پر ایم سی ڈی افسران کی نگاہ پڑی ، اور وہ مسنددرس پر متمکن نہ ہوسکے ۔ لیکن ان کی ڈگریوں کو کالعدم قرارنہیں دیا گیا ہے ،جو کہ ضروری ہے تاکہ یہ تعلیمی مافیا ان ڈگریوں کی بنیاد پر دوسری جگہ کسی مقام پر فائز نہ ہوسکیں۔ ایم سی ڈی افسران نے ایسے خاطیوں کے خلاف رپورٹ درج کروانے کا عندیہ ظاہر کیا ہے ، بس اب دیکھنا ہے کہ کب تک ان کے خلاف کارروائی ہوتی ہے ۔
ملک میں اعلیٰ تعلیمی اداروں اورتکنیکی تعلیم کے لیے نہ جانے کیسی کیسی کوششیں ہورہی ہیں، مگر تعلیمی مافیا ؤں کا زور ختم کرنے کی طرف فوری توجہ نہیں ہورہی ہے۔ لکھنؤ علی گنج چرچ روڈ پر واقع شری گنیش ایجو کیشن اینڈ ویلفیئرسوسائٹی کے افراد بھی تعلیمی فروغ کے نام پر گل کھلارہے ہیں۔ وہ اس طورپر کہ اس سوسائٹی کے افراد ڈھنڈورہ پیٹ رہے ہیں کہ کوئی بے روزگار تین ممبر کو ہماری سوسائٹی سے جوڑ کر استاذ بن سکتاہے ۔ تین ہزارروپے مہینہ کما سکتاہے ۔ اس سوسائٹی کے جال میں تقریباً 350افراد جڑ چکے ہیں، جس سے اس سوسائٹی کو ساڑھے دس لاکھ روپے کی کمائی ہوئی ہے۔ اس کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ یہ فروغ انسانی وسائل سے رجسٹرڈ ہے ،جب کہ چٹس اینڈ فنڈ میں رجسٹرڈ ہے ۔ان کاکہنا ہے کہ جب ہمارے تین ہزار ممبران ہوجائیں گے تو حکومت سے گرانٹ ملے گا ،جس سے تنخواہ بڑھائی جائی گے۔جڑنے والے ہر ممبر سے کہاجاتاہے کہ 10سے 15 بچوں کو فی الحال گھر پر ہی تعلیم دیں، گرانٹ ملنے کے بعد تعلیمی اداروں کے تئیں اقدامات کیے جائیں گے ۔ ساڑھے تین سو ممبران میں سے چند کو یہ سوسائٹی تنخواہ بھی دے رہی ہے ، جو کہ ممبران سے ہی کسی نہ کسی صور ت میں یہ رقم جمع کروائی جاتی ہے ۔
سوال یہ ہے کہ مرکزی وزرات برائے فروغ انسانی سے اپنے کو متعلق کرنے والے تعلیمی مافیا پر تعلیم بیدار اوربرائے فروغ انسانی وسائل کے وزیر کی توجہ کیوں نہیں؟ کیاواقعی یہ سوسائٹی اس سے متعلق ہے ؟ اگراس سے رجسٹرڈ ہے تو اشتہار کیوں نہیں دیا گیا؟ سوسائٹی کے افراد کا اعلان کہ ہربے روزگار اس سے جڑ کر تین ہزار روپے کما سکتاہے ، اس پر یہ کہا جائے گا کہ وزرات فروغ انسانی نے ان شرائط اسے رجسٹر کیوں کیا؟ کیاغیر تعلیم یافتہ بھی بے روزگار ی کے نام پر ٹیچر بن سکتاہے ؟ کیا اب بے روزگاری ایسی قوت ہے جو غیر تعلیم یا فتہ کو بھی مسند در س پر متمکن کردے ؟پہلے یہ سنا کرتا تھا کہ بہت سی ملٹی نیشنل کمپنیاں اس طرح عوام کو دھوکہ دیا کرتی ہیں ، مگر آج تعلیمی کے نام پر یہ کھیل ہورہا ہے، بہت ہی افسوس کی بات ہے یہ۔ وقت کی ضرورت ہے کہ ایسے تعلیمی مافیاؤں کے زور کو ختم کیا جائے۔ تعلیم کامذاق بنانے والوں کے پنجوں کو مروڑاجائے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *