سونیا منموہن آمنے سامنے

سنتوش بھارتیہ

ملک کے دو اہم مراکز سات ریس کورس روڈ اور دس جن پتھ کے درمیان خلیج لگاتار بڑھتی جا رہی ہے۔ ایک دوسرے کے تئیں عدم اعتماد اور عدم موافقت ہمیشہ ہی دیکھنے کو مل جاتی ہے۔ منموہن سنگھ نہ صرف سونیا گاندھی کے مشوروں کو نظر انداز کر رہے ہیں، بلکہ وہ پرینکا گاندھی کو سرکار میں لانے کی بات کہہ کر راہل کا قد ہلکا کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔

سونیا گاندھی اور منموہن سنگھ اس وقت آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ پالیسیوں کے مسئلے میں، طریق کار کے مسئلے میں اور وِژن کے مسئلے میں بھی۔ منموہن سنگھ، چدمبرم اور پرنب مکھرجی، یہ ایک ٹیم ہے۔ اس ٹیم میں سلمان خورشید اور کپل سبل بھی شامل ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جنہیں راہل گاندھی یا سونیا گاندھی پسند نہیں کرتے ہیں، ایسے سارے لوگوں کو منموہن سنگھ نے اہم محکمے سونپ رکھے ہیں۔ اس کے باوجود منموہن سنگھ کبھی کبھی ایک ہوشیاری دکھا دیتے ہیں یعنی جس طرح پریشر کوکر میں سیفٹی والو ہوتا ہے، وہ کام منموہن سنگھ کبھی کبھی کر دیتے ہیں۔ لوک سبھا میں انا ہزارے کی تحریک کو لے کر بحث چل رہی تھی۔ راہل گاندھی جب تقریر کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، تب منموہن سنگھ لوک سبھا میں نہیں تھے۔ وہ تیزی سے دوڑتے ہوئے لوک سبھا آئے، انہوں نے راہل گاندھی کی تقریر سنی اور اپنے جواب میں اُن کی تقریر کی دھجیاں اڑا دیں اور یہ بتا دیا کہ یہ مشورہ غیر اخلاقی ہے، لیکن بعد میں سلمان خورشید کے ذریعے انہوں نے پریس میں یہ بیان دلوایا کہ لوک پال ادارہ بھی ایک آئینی ادارہ ہوگا اور اس کے اختیارات الیکشن کمیشن سے زیادہ ہوں گے۔ کیا ہوں گے، کچھ پتہ نہیں، لیکن ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ کہ منموہن سنگھ نے ایک قدم اپنا پیچھے ہٹایا، تاکہ آمنا سامنا فوراً نہ ہو۔ اس صورت حال کا مرکزی حکومت کے کام کاج کے اوپر زبردست اثر پڑا ہے۔ کوئی بھی سکریٹری فیصلہ نہیں لے رہا ہے۔ جنہیں ریٹائر ہونے میں چار پانچ سال باقی ہیں، وہ فیصلے نہیں لے رہے ہیں اور جو فوری طور پر ریٹائر ہونے والے ہیں، وہ تو فائلوں کے اوپر بیٹھ گئے ہیں اور فیصلے ہی نہیں لے رہے ہیں۔ نتیجے کے طور پر پورے ملک میں آئی اے ایس کی سطح پر، نوکر شاہی کی سطح پر ایک ڈیڈ لاک آ گیا ہے۔ اس ڈیڈ لاک کو توڑنے میں کسی کا انٹریسٹ نہیں ہے۔ خود وزیر اعظم کا بھی نہیں ہے۔ جو ہو رہا ہے، بھگوان بھروسے ہو رہا ہے۔ منموہن سنگھ وزیر اعظم ہیں، ان کی سرکار کے وزیر جیل میں ہیں۔ ٹو جی اسپیکٹرم کی آگ خود منموہن سنگھ کو جھلسانے کے لیے اُن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اتنا ہی نہیں، جس چیز سے گاندھی پریوار سہما ہوا ہے،وہ وجہ ہے، سونیا گاندھی کے داماد اور پرینکا گاندھی کے شوہر رابرٹ وڈیرا کو لے کر پریس میں لیک ہونے والی خبریں۔
خبریں اس طریقے سے نکالی جا رہی ہیں، تاکہ گاندھی پریوار ڈر جائے اور رابرٹ وڈیرا کو ایک خول میں چھپا لے کہ کہیں انہیں بھی ٹو جی اسپیکٹرم یا دولت مشترکہ کھیل گھوٹالے میں کسی جانچ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ خبریں یہ بتا رہی ہیں کہ پچھلے دو مہینے سے رابرٹ وڈیرا اِس ڈر سے کہ سرکار کی ایجنسیاں اُن کے خلاف کارروائی کر سکتی ہیں، ملک سے باہر ہیں۔ وہ دبئی میں ایک مکان لے کر رہ رہے ہیں۔ اگر خبریں صحیح ہیں تو رابرٹ وڈیرا، جو ملک میں تقریباً ہر جگہ پر گاندھی پریوار کے ساتھ لوگوں کو ہاتھ ہلاتے ہوئے نظر آتے تھے، اوبرائے ہوٹل کے کافی شاپ میں اکثر نظر آتے تھے، اب اِن سب جگہوں سے وہ غائب ہیں۔ کیا وزیر اعظم کے صلاح کار رابرٹ وڈیرا کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں؟ کانگریس کے لوگ یہی کہتے ہیں۔ کانگریس کے سب سے اہم لوگوں سے، جن سے میری بات ہوتی ہے، اُن کا کہنا ہے کہ رابرٹ وڈیرا کی وجہ سے گاندھی پریوار تھوڑا سکتے میں ہے۔ پر اگر مان لیجئے، پرینکا گاندھی نائب وزیر اعظم ہو جاتی ہیں، احمد پٹیل کی جگہ دِگ وجے سنگھ آ جاتے ہیں تو ملک کیسے چلے گا۔ جس طرح جناردن دویدی نے اٹکل بازیوں کو لے کر پریس کانفرنس کی، ہم اسی اٹکل بازی نما خیالی تصویر کو آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں اور ہماری جانکاری کہتی ہے کہ اس ملک کی سیاست میں اگلے کچھ مہینوں میں ایک زبردست تبدیلی آنے والی ہے۔ یہ تبدیلی اچھی ہوگی یا بری، آج نہیں کہا جاسکتا، لیکن کانگریس پارٹی خود کو ایک بار باؤنس بیک کرنے کے لیے تیار کر رہی ہے۔
ایک ایسی خیالی تصویر ہم آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں، جو ہو سکتا ہے کہ کچھ دنوں میں صحیح ثابت ہو جائے۔ یہ اس لیے رکھ رہے ہیں، کیوں کہ کانگریس کے جنرل سکریٹری جناردن دویدی سرکاری اور سوچی سمجھی پریس کانفرنس میں کہتے ہیں کہ راہل گاندھی بڑی ذمہ داری نبھانے کے لیے تیار ہیں، شاید وہ کانگریس کے کارگزار صدر بنائے جاسکتے ہیں، پر ساتھ ہی کہتے ہیں کہ جب تک ایسا نہ ہو جائے، تب تک اسے اٹکل بازی ہی سمجھئے۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی دقت نہیں ہے کہ ہم جو آپ کو بتانے جا رہے ہیں، وہ خیالی تصویر ہے۔ ایسی خیالی تصویر، جو کل صحیح ثابت ہو سکتی ہے، لیکن جناردن دویدی کی خیالی تصویر اور ہماری خیالی تصویر میں فرق ہے۔ دونوں میں کون صحیح ہوگی، یہ تو وقت بتائے گا یا آنے والے کچھ مہینے بتائیں گے، پر دونوں تصویروں سے یہ تو لگتا ہے کہ کانگریس میں بہت کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے۔ گڑ بڑ ایسی چل رہی ہے، جو پوری سرکار کے طریق کار پر اثر ڈال رہی ہے۔
پہلے جناردن دویدی کی خیالی تصویر۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ، کانگریس کی صدر سونیا گاندھی، لیکن سونیا گاندھی کی زیادہ تر ذمہ داری اپنے کندھوں پر لینے کے لیے تیار راہل گاندھی اور وہ کانگریس کے کارگزار صدر۔ کارگزار صدر کے ناطے راہل گاندھی کے سامنے سب سے پہلے الیکشن اتر پردیش کا آئے گا۔ اُس کے بعد اگلے سال دس اسمبلیوں کے انتخابات اور دیکھنے ہیں۔ اُن میں کانگریس جیتتی ہے، نہیں جیتتی ہے، اس کی حکمت عملی، پالیسی، پوری تیاری، کون لوگ کام کریں اور کون نہیں، اِن سب کا فیصلہ راہل گاندھی کو کرنا ہوگا۔ 2012 میں ہونے والے دس اسمبلیوں کے انتخابات کے بعد انتخابی سال شروع ہو جائے گا، کیوں کہ 2014 میں لوک سبھا کا انتخاب ہونا ہے۔ پر بہت سارے لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر اسمبلی کے انتخابات پہلے آگئے، جس طرح کی باہمی رسہ کشی جاری ہے اور اندرونی دباؤ بڑھ رہا ہے اور یہ سرکار کہیں نہ چل پائی تو وسط مدتی انتخاب کا سامنا بھی راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کرے گی۔ شاید یہ حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔
خیالی تصویر نمبر 2۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ، نائب وزیر اعظم پرینکا گاندھی، کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور صدر کے سیاسی سکریٹری کے طور پر احمد پٹیل کی جگہ دِگ وجے سنگھ کو لایا جانا۔
خیالی تصویر نمبر 3۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ، نائب وزیر اعظم پرینکا گاندھی، کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور کارگزار صدر راہل گاندھی۔ اس تصویر میں احمد پٹیل اور دِگ وجے سنگھ کے بارے میں ہم ابھی کچھ نہیں کہہ رہے، کیوں کہ اِس میں اِن دونوں کا رول بدل سکتا ہے۔ یہ منظر اور جناردن دویدی کی پریس کانفرنس، جس میں وہ کہتے ہیں کہ اٹکل بازی لگاتے رہنا چاہیے، ہمیں بتاتے ہیں کہ کانگریس میں سب ٹھیک ٹھاک نہیں ہے۔
منموہن سنگھ کے کام کرنے کے طریقے کو لے کر پارٹی میں فکرمندی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ منموہن سنگھ کی نظر ملک کے مسائل پر بہت کم ہے اور بین الاقوامی مسائل پر زیادہ ہے۔ شاید وہ خود کو جواہر لعل نہرو کے بعد دوسرا ایسا وزیر اعظم ثابت کرنا چاہتے ہیں، جس نے بین الاقوامی سطح پر اہمیت کے ساتھ اپنا رول ادا کیا۔ منموہن سنگھ خود کو تاریخ میں ایک ایسے وزیر اعظم کی شکل میں درج کرانا چاہتے ہیں، جو دنیا کے بڑے چھوٹے، تمام ممالک میں گیا اور وہاں جاکر اس نے ہندوستان کی تصویر کو نکھارا۔ اگر ہم منموہن سنگھ کے غیر ملکی دوروں کی فہرست دیکھیں تو 2010-11 میں انہوں نے ان گنت ممالک کا سفر کیا۔ اِن دوروں کی اہمیت کم از کم ملک کے لوگوں کو سمجھ میں نہیں آ رہی ہے۔ کیوں اتنے غیر ملکی سفر ہو رہے ہیں، کیا اُن ممالک کے ساتھ ہمارے اقتصادی رشتے ہیں، کیا اُن سے ملک کو کوئی فائدہ ہونے والا ہے، کیا ہندوستان کے لوگوں کی غریبی اور یہاں کے اقتصادی حالات پر کوئی اثر ہونے والا ہے، کیا ہندوستان کی تجارت بڑھنے والی ہے؟
جن بڑے ممالک میں منموہن سنگھ گئے، وہاں سے ہندوستان کے لیے کچھ نہیں لا پائے۔ جن چھوٹے ممالک میں گئے، وہاں بھی گنواکر ہی آئے، لائے کچھ نہیں۔ پھر اتنے دورے کیوں؟ یہ محض اتفاق نہیں ہوسکتا کہ ہندوستان میں اِن دنوں ایسے مسائل کی بھرمار ہے، جن کا اگر فوری حل نہیں نکلا تو یہاں بے اطمینانی، عدم توازن اور بغاوت جیسی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔ منموہن سنگھ جس ’سیون سسٹرس‘ کی نمائندگی کرتے ہیں (آسام اور اس کے ساتھ کی چھ دیگر ریاستوں کو ’سیون سسٹرس‘ کہا جاتا ہے)، وہاں منی پور میں تین مہینے سے زیادہ عرصے سے بند چل رہا ہے، لوگوں نے راستے بند کر رکھے ہیں، گیس سلنڈر 2000 روپے سے زیادہ میں اور پیٹرول 225-250 روپے فی لیٹر مل رہا ہے۔ وہاں کھانے کا سامان نہیں ہے، زندہ رہنے کے لیے ضروری دوائیں نہیں ہیں۔ ان چیزوں کا سامنا کرنے کی جگہ ہمارے وزیر اعظم غیر ملکی دورے کر رہے ہیں۔ کوئی بھی ملک ہو چھوٹا یا بڑا، نقشے میں بہت مشکل سے پایا جانے والا، لیکن وزیر اعظم وہاں گئے اور ابھی بھی وہاں جانے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ انہیں منی پور کی فکر نہیں ہے، پیٹرول کی لگاتار بڑھتی قیمتوں کی فکر نہیں ہے، کیوں کہ انہوں نے یہ کہہ دیا ہے کہ  اب پورا کا پورا تیل بازار، تیل کی قیمت بین الاقوامی بازار کے حوالے ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہمارے یہاں کی قیمتوں اور بین الاقوامی بازاروں میں کوئی توازن نہیں ہے، لیکن ہمارے وزیر اعظم اسی چیز کو بار بار کہہ رہے ہیں اور اُن کے ’بھونپو‘ وزیر بھی بار بار دہرا رہے ہیں کہ بین الاقوامی بازار میں تیل بہت مہنگا ہے اور اسی لیے ہمیں اپنے یہاں قیمتیں بڑھانی پڑ رہی ہیں۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ کی وجہ سے ملک آج ایسے موڑ پر کھڑا ہو گیا ہے، جہاں کیرالہ کے ہائی کورٹ کو یہ اپیل کرنی پڑ رہی ہے کہ لوگوں کو مہنگائی اور پیٹرول کی بڑھتی قیمت کے خلاف سڑکوں پر اترنا چاہیے۔ آج ایک ہائی کورٹ مہنگائی کو لے کر احتجاج کرنے کے لیے کہہ رہا ہے، کل کوئی دوسری عدالت بدانتظامی کو لے کر بغاوت کرنے کے لیے کہے تو کیا ہوگا، عوام اگر عدالتوں کی اپیل پر سڑکوں پر اتر آئے تو کیا ہوگا۔
وزیر اعظم اس سوال کے اوپر نہ عام بحث کو سننا چاہتے ہیں اور نہ اپنی مالی استعداد، اقتصادی علم کا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ شاید حکومتِ ہند نے یہ مان لیا ہے کہ سو بار کوئی جھوٹ کہے تو لوگ اسے سچ سمجھنے لگتے ہیں، لیکن وزیر اعظم یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک وزیر اعظم کوئی پانچ یا دس سال کے لیے نہیں ہوتا ہے، بلکہ اس کا نام تاریخ میں اچھے اور برے وزیر اعظم کے طور پر درج ہوتا ہے، وہ ملک کی قسمت کے اوپر اثر ڈالتا ہے۔ پیٹرول کی بڑھی ہوئی قیمتیں بتاتی ہیں اور سرکار کا اُن پر قابو نہ رکھنا یا دخل نہ دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہندوستان کے عوام کو غیر ملکی کمپنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اب ریل بجٹ آنے والا ہے، کرایوں میں اضافہ ہوگا، کیوں کہ اب تو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں۔ ہر چیز کی قیمت آسمان چھو رہی ہے اور اس کے نتیجے میں اگر نکسل ازم بڑھے گا تو ہمارے وزیر داخلہ انہیں توپوں، بندوقوں، ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر سے مار ڈالنے کا فرمان جاری کر دیں گے۔ جو ملک آئین کے تحت ایک مساوی سماج کی طرف بڑھنے کے لیے پابند عہد تھا، غریب طبقوں کو زندہ رہنے کی گارنٹی دینے کے لیے آئینی طور پر پابند تھا، ویلفیئر اسٹیٹ تھا، وہاں سے پورا یو ٹرن لے کر موجودہ سرکار نے اس ملک کو، یہاں کے غریبوں کو بازار کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ بازار بھی کون سا؟ وعدہ بازار، نقلی بازار، جس میں صرف لوٹ ہی ہوتی ہے۔
سونیا گاندھی کی قیادت والی کانگریس کے اندر سرکار کی اس چال اور چلن کو لے کر فکر مندی ہے۔ کوئی بھی کارکن، کوئی بھی رکن پارلیمنٹ سرکار کے اس رخ سے متفق نہیں ہے، فکر مند ہے، کیوں کہ کانگریس کے لوگ یہ دیکھ رہے ہیں کہ مختلف وزارتوں میں آپس میں کوئی ربط ہی نہیں ہے۔ وزارتِ داخلہ ہو، وزارتِ خزانہ ہو، وزارتِ دیہی ترقی ہو، وزارتِ زراعت ہو یا ماحولیات، یہ اہم وزارتیں ہیں، لیکن ان میں آپس میں کوئی تال میل نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ منموہن سنگھ کی سرکار میں ایک نہیں، کئی وزیر اعظم کام کر رہے ہیں۔ منموہن سنگھ کے پاس ان وزارتوں کے محاسبہ کے لیے وقت نہیں ہے۔ اگر وقت ہوتا تو ہر وزارت دوسری کے خلاف بیان بازی کرنے سے ہچکچاتی، اگر وقت ہوتا تو ٹو جی گھوٹالہ نہیں ہوتا، ملک ہزاروں لاکھوں کروڑ کے کوئلہ گھوٹالے سے بچ سکتا تھا، منموہن سرکار میں رہے کچھ وزیر جیل میں نہ ہوتے اور منموہن سنگھ کے سب سے بھروسے مند وزیر چدمبرم، جو پہلے وزیر خزانہ تھے اب وزیر داخلہ ہیں، کے خلاف عدالت یہ حکم نہیں دیتی کہ سارے کاغذات یا سارا خط و کتابت، جو اے راجا اور پی چدمبرم کے درمیان ہوا، اسے سبرامنیم سوامی کو دکھایا جائے۔ اگر وزیر اعظم کے پاس وقت ہوتا تو ملک میں نکسل ازم اتنا نہیں بڑھتا۔ لیکن وزیر اعظم کے پاس اپنی وزارتوں کا کام کاج دیکھنے کا وقت نہیں ہے، وزراء کو کنٹرول کرنے کا وقت نہیں ہے، ملک کے مسائل کا حل نکالنے والے طریقوں پر غور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ ایسے وزیر اعظم کو لے کر اگر کانگریس میں فکرمندی نہ ہو تو کیا ہو؟
کانگریس کے لوگوں کو لگتا ہے کہ اگر منموہن سنگھ وزیر اعظم رہے تو آنے والے انتخاب میں پارٹی کو کوئی سیٹ نہیں ملے گی۔ یہ بات مجھ سے کانگریس کے کئی سینئر وزیر، کئی سکریٹری اور زیادہ تر ممبرانِ پارلیمنٹ ذاتی طور پر کہہ چکے ہیں۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ سونیا گاندھی کی سب سے بڑی فکرمندی اس وقت یہی ہے کہ کہیں تاریخ انہیں کانگریس کے ایسے صدر کا درجہ نہ دے دے، جس کی صدارت میں واقعتا سوا سو سال سے زیادہ پرانی کانگریس اپنے آخری نتیجہ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ سونیا گاندھی اس سے فکرمند ہیں، کیوں کہ وہ چاہتی ہیں کہ ملک کے غریبوں کو تنہا نہ چھوڑا جائے، کوئی بھی فیصلہ ایسا نہ لیا جائے، جس سے ملک میں بے چینی اور بڑھے، لیکن کیا فیصلہ نہیں لیا جانا چاہیے، یہ تو سونیا گاندھی کے سامنے شاید صاف ہے، کیا لیا جائے، یہ صاف نہیں ہے۔ یہ میں اس لیے بتانا چاہتا ہوں، کیوں کہ سونیا گاندھی کی ٹیم میں ارونا رائے، ہرش مندر اور نیرجا چودھری جیسے لوگ ہیں، جن کی غریبوں کے تئیں وفاداری میں کوئی شک نہیں ہے۔ یہ لوگ جو صلاح دیتے ہیں، سونیا گاندھی اس کے اوپر ایک رائے بناکر وزیر اعظم کے سامنے پیش کرتی ہیں، لیکن وزیر اعظم ان مشوروں کو بیکار مانتے ہیں۔ ایک بھی ایسا مشورہ یاد نہیں آتا، جسے سونیا گاندھی اور ان کی ٹیم نے بھیجا ہو اور سرکار نے اسے مانا ہو۔ یہ بتاتا ہے کہ منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی کے سوچنے کے طریقے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ سونیا گاندھی کو کوئی بھی سوشل ریفارمر یا انقلابی نہیں مانتا، لیکن وہ اندرا گاندھی کے ذریعے شروع کی گئی اُس روایت پر چلتی ہیں، جس میں امیروں کو کیا ملتا ہے، اس کی فکر نہیں ہوتی، لیکن غریبوں کو کچھ ملے، اس کی فکر ہوتی ہے۔ جو کچھ ملے غریبوں کو، یہ لفظ بہت اہم ہے۔ یہ فکر سونیا گاندھی کو ہے۔ دوسری طرف منموہن سنگھ ہیں، جن کا ماننا ہے اور اُن کی گزشتہ سات سال کی مدتِ کار نے یہ بتایا ہے کہ وہ اس ملک میں چل رہے جواہر لعل نہرو جی کے وقت کے اٹھائے ہوئے قدموں سے متفق نہیں ہیں۔ وہ ویلفیئر اسٹیٹ، غریبوں کے لیے کچھ کرنا اور صنعت کاری وغیرہ کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے پورے ملک کو ایک اندھی دوڑ میں جھونک دیا ہے۔
وزیر خزانہ کے ناطے انہوں نے جو پالیسیاں بنائیں، لوگوں نے اُن پر بھروسہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیس سال کے اندر ملک بجلی کے معاملے میں خود مختار ہو جائے گا، نوکریاں بڑھ جائیں گی، غریبی کم ہو جائے گی، رہن سہن اونچا ہو جائے گا، لیکن بیس سال بعد آج ہم دیکھتے ہیں کہ اِن میں سے کچھ بھی نہیں ہوا، بلکہ ہمارے بہت سارے ایسے سمجھوتے ہوئے، جن سے مستقبل کو لے کر ڈر لگتا ہے۔ منموہن سنگھ کا ایمانداری سے یہ ماننا ہے کہ ہمیں اپنے ملک کو مغربی ممالک کی تجربہ گاہ کی شکل میں بدل دینا چاہیے، ان کے لیے فیکٹری کی شکل میں بدل دینا چاہیے۔ یہ وہی پالیسی ہے، جو انگریزوں نے آزادی کے وقت ہمارے یہاں اپنائی تھی۔ دوسری طرف منموہن سنگھ یہ خواب دکھاتے ہیں کہ ملک کے متوسط طبقہ کے لڑکوں کو امریکہ میں بڑی بڑی نوکریاں ملیں گی، اس لیے متوسط طبقہ نے گزشتہ بیس سالوں میں منموہن سنگھ کی پالیسیوں کی زبردست حمایت کی ہے۔ ان پالیسیوں کے نتیجہ میں ملک کے 271 اضلاع آج نکسل ازم کی چپیٹ میں ہیں۔ دہلی اور ممبئی جیسے شہروں میں انارکی بڑھ رہی ہے۔ کوئی بھی وہ آدمی جو بڑی گاڑی میں چلتا ہے، خود کو محفوظ کتنے دنوں تک رکھ پاتا ہے، اب یہ ڈر لوگوں کے من میں گھر کرنے لگا ہے اور یہ اس لیے ہو رہا ہے، کیوں کہ ہماری اقتصادی پالیسیاں ملک کے لوگوں کے من میں یہ اعتماد پیدا کرنے میں ناکام رہی ہیں کہ مستقبل میں اُن کا بھی کوئی اچھا مقام ہو سکتا ہے۔ ایک طرف وزیر اعظم ملک کے مسائل کو نظر انداز کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف انہوں نے آئینی اداروں سے بھی لڑائی شروع کر دی ہے۔ حال ہی میں آڈیٹر اور کمپٹرولر جنرل یعنی سی اے جی ونود رائے پر منموہن سنگھ نے یہ الزام لگا دیا کہ انہیں سرکار کی پالیسیوں پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اور تو اور، منموہن سنگھ کو ونود رائے کے ذریعے پریس کانفرنس کرنے پر بھی اعتراض ہے۔ دونوں میں تکرار ایسی ہوئی کہ ونود رائے نے ایک خط لکھ کر وزیر اعظم کو ٹکا سا جواب دیا۔ کہا کہ وہ صرف پارلیمنٹ سے ملے اپنے اختیارات کے تحت ہی کام کر رہے ہیں اور انہوں نے کبھی پالیسی سے متعلق معاملوں پر بیان بازی نہیں کی۔ ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعظم کے بیانوں پر بھی اعتراض جتا دیا۔ یہ واقعی افسوس کی بات ہے کہ ملک کے دو اعلیٰ آئینی ادارے اس طرح آپس میں لڑتی نظر آتی ہیں۔
لوگوں کی امیدیں ختم ہو رہی ہیں۔ جب سونیا گاندھی یا اُن کے صلاح کاروں کی طرف سے وزیر اعظم سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش ہوئی تو وزیر اعظم نے پہلے تو اُس پر بے دلی سے دلچسپی دکھائی اور پھر غور کرتے ہیں، کریں گے، نہیں کریں گے جیسے طریقے اپنائے۔ اتفاق سے اسی دوران سونیا گاندھی بیمار ہوگئیں اور انہیں تین چار مہینے ملک سے باہر رہنا پڑا، جہاں اُن کا آپریشن بھی ہوا، ایسا کانگریس پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے۔ سونیا گاندھی کے آپریشن نے ملک کے پورے سیاسی منظر نامے پر اثر ڈالا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نئے سرے سے اپنی حکمت عملی تیار کرنے لگی۔ کانگریس کے اندر بھی جو کمزور تھے، مضبوط ہوگئے۔ خود وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپنا طریقہ بدل لیا۔ اب وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ کانگریس میں ایسے بہت سارے لوگ ہیں، جو غیر اخلاقی مشورہ دیتے ہیں، جنہیں کبھی پورا کیا ہی نہیں جاسکتا۔ اسی لیے اب جو مشورہ کانگریسی صدر یا اُن کی صلاح کار کمیٹی کی طرف سے آتے ہیں، وزیر اعظم کا دفتر انہیں ایک طرف رکھ دیتا ہے اور اُن پر غور نہیں کرتا۔ اس وقت پوری سرکار منموہن سنگھ کی نگرانی میں چل رہی ہے۔ اس سرکار کے سامنے غریب ترجیحی مقام پر نہیں ہے، ملک کے مسائل کو ترجیحی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ منموہن سنگھ کی زیادہ تر میٹنگیں مونٹیک سنگھ آہلووالیہ کے ساتھ ہوتی ہیں اور مونٹیک سنگھ آہلووالیہ گزشتہ آٹھ مہینوں میں بہت زیادہ ہندوستانی لوگوں سے ملے ہی نہیں ہیں۔ ان کے دفتر کا وزیٹر رجسٹر بتاتا ہے کہ اُن سے ملنے والے لوگ زیادہ تر وہ ہیں، جن کا رشتہ بیرونِ ملک سے متعلق بازار کی پالیسیوں سے ہے۔ جب کانگریسی صدر کی طرف سے وزیر اعظم پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہوئی تو انہوں نے ایک تجویز کانگریسی صدر کے پاس بھجوائی کہ پرینکا گاندھی کو سرکار میں لایا جائے۔ اس تجویز کا سیدھا مطلب یہ کہ وہ راہل گاندھی میں کوئی صلاحیت نہیں دیکھتے۔ اُن کا کہنا ہے کہ پرینکا گاندھی اُن کی سرکار میں آئیں گی تو بھلے ہی وہ نائب وزیر اعظم کے ناطے آئیں تو دس جن پتھ، جہاں سونیا گاندھی رہتی ہیں، پر بھی سرکار کے کام کاج کی ذمہ داری آئے گی۔ ساتھ ہی جو چاہتے ہیں کہ کانگریسی صدر کا سیاسی سکریٹری بدلے، وہ احمد پٹیل کی جگہ دگ وجے سنگھ کو کانگریسی صدر کا سیاسی سکریٹری بنانا چاہتے ہیں۔
ہمارے جاننے والوں کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ اگر منموہن سنگھ کا بس چلتا تو وہ کیش فار ووٹ والے کیس میں امر سنگھ کے ساتھ احمد پٹیل کو بھی جیل بھجوا دیتے۔ احمد پٹیل کے اوپر سے تلوار ابھی ہٹی نہیں ہے۔ اس تجویز کو کانگریس کے اندر، خاص کر سونیا گاندھی کے یہاں بہت جوش سے نہیں لیا گیا۔ شاید اسی لیے جناردن دویدی نے کہا کہ راہل گاندھی کانگریس کے کارگزار صدر ہو سکتے ہیں۔ جب تک وہ ہو نہیں جاتے، تب تک اسے اٹکل ہی رہنے دیں۔ سونیا گاندھی کے ایک ساتھی ہیں۔ انہوں نے ایک تیسری رائے رکھی اور کہا کہ پرینکا گاندھی نائب وزیر اعظم ضرور بنیں اور راہل گاندھی کانگریس کے کارگزار صدر بنیں۔ یعنی ملک کو ایک سگنل مل جائے گا کہ ملک کا نائب وزیر اعظم اور پارٹی کا صدر ایک ہی خاندان کے دو رکن ہیں، مستقبل کے لیڈر تیار ہو رہے ہیں۔ اس صورتِ حال میں اتر پردیش اسمبلی انتخاب کانگریس جیت سکتی ہے، یہ بات بھی سونیا گاندھی کو صلاح دینے والے اِن محترم نے سمجھائی ہے۔g

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *