سرمایہ دارانہ نظام دم توڑ رہا ہے

رضوان عابد
سترہ ستمبر 2011 کو وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو تحریک کا آغاز ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ تحریک امریکہ، برطانیہ، جرمنی ، یونان ، اسپین ، پُرتگال، آئرلینڈ ، اٹلی ، جاپان ، جنوبی کوریا، ہانگ کانگ ، ملیشیا ، تائیوان، نیوزی لینڈ آسٹریلیا اور کینڈا سمیت 82 ملکوں کے 951 شہروں تک پھیل گئی۔ لاکھوں لوگوں نے معاشی نظام کی تبدیلی کے لیے نعرے لگائے۔ یہ لوگ عدم مساوات ،جنگ وجدال، آمدنیوں میں زمین و آسمان کے فرق جو سرمایہ دارانہ نظام کی دین ہے، غربت و افلاس وغیرہ جیسے انسانیت پر مظالم کے خلاف سڑکوں پر آئے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پوری دنیا اس وقت صہیونیت ، بینکروں، ملٹی نیشنل کمپنیوں اور بے کردار حکمرانوں کے گٹھ بندھن  کے جال میں پھنسی ہوئی ہے۔ مولانا مودودی نے کہا تھا کہ’’ وہ دن قریب ہے جب اشتراکیت کو ماسکو اور سامراجیت کو لندن اور واشنگٹن میں جگہ نہیں ملے گی‘‘۔اشتراکیت کی شکل میں کچھ امید کی کرن نظر آئی تھی، لیکن اشتراکیت تو اس سرمایہ دارانہ نظام سے بھی پہلے دم توڑ چکی ہے۔ دنیا کو اس وقت ایک انسان دوست معاشی نظام کی ضرورت ہے جو انصاف پر مبنی ہو۔یہ نظام صرف اور صرف اسلام کے پاس ہے۔ دنیا کو آخر تھک ہار کر اسلامی معاشی نظام ہی کو اپنانا پڑے گا۔

عیسائیت میں سود حرام تھا ۔پھر ایک پروٹسٹنٹ  فرقہ بنایا گیا اس کے نتیجے میں چرچ آٖ انگلینڈ قائم ہوا پھر بینک آف انگلینڈ کی بنیاد رکھی گئی۔ عیسائیویں کے پروٹسٹنٹ علماء سے سود کو حلا ل قرار دلوایا گیا اور سودی کاروبار کو قانونی پراو دلوایا۔ سود کی لعنت یوروپ  میں اتنی بڑھ گئی کہ یہ لوگ حکمرانوں کو سودپرپیسہ دینے لگے۔

یہ وہ نظام ہے جو انسان دوست ہے اور انصاف پر مبنی ہے۔ سودی نظام میں ایسی کیا بھیانک بات تھی کہ قرآن نے اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف سے سود کے لین دین کرنے والوں کے لیے اعلانِ جنگ کردیا؟یہ بات آج سے چودہ سو سال پہلے انسان کی سمجھ میں نہیں آئی۔ آج جب سودی نظام نے پوری انسانیت کو نگل لیا ہے اب اس سودی نظام کی صحیح شکل سامنے آرہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ انسانیت کو جو بھی آج کی دنیا میں تکلیفیں اور پریشانیاں ہیں وہ سب اسی سودی نظام کی مرہونِ  منت ہیں۔
سود کھانے کی عادت تو یہودیوں کو حضرت موسیٰ کے زمانے سے ہے لیکن وقتاً فوقتاً  نبیوں کے ذریعہ اور آسمانی ہدایات کے ذریعے اس کا سد باب ہوتا رہا ۔ قرآن نے اسلام قبول کرنے والوں کو بڑے سے بڑے گناہ پر  یاد دہانی کروائی کہ جو کچھ تم کفر کے دور میں کرچکے سب معاف۔ جب شراب کی ممانعت آئی تو صحابہ کرام کو تشویش ہوتی تھی کہ ہم تو زندگی بھر شرب پیتے رہے، شراب ہماری نس نس  میں بسی ہوئی ہے۔ اس پر قرآن نے یقین دہانی کرائی کہ جو کچھ تم کھا چکے ، وہ سب معاف، اب نئے سرے سے زندگی شروع کرو،کفر معاف، شراب معاف اور دوسرے گناہ معاف۔ جب سود کی باری آئی تو کہا گیا کہ اصل واپس لے لو اور سود چھوڑ دو اور جو تم کر چکے ہو وہ اللہ کے ہاتھ ہے ۔ اب وہ چاہے تو پکڑ کرے اور جو چاہے تو معاف کرے۔ زمانہ جاہلیت میں سود کھانے پر کوئی معافی کی یاد دہانی نہیں ہے۔موجودہ سود اور سٹّہ پر منحصر معاشی دجالی نظام کی تشکیل کی بنیاد تو 400 سال پہلے ہی یوروپ میں رکھی جا چکی تھی۔ 71 عیسوی میں  جب رومن ٹائیسٹس  نے یہودیوں کو فلسطین سے مار مار کر نکالا ایک دن میں ایک لاکھ 34 ہزار یہودی قتل کئے اور باقی کو وہاں سے نکال دیا۔ اب یہ لوگ پوری دنیا میں پھیل گئے۔زیادہ تر یوروپ میں جاکر آباد ہوئے باقی  یہودی  پوری دنیا میں پھیل گئے ۔تقریباً 710 عیسوی میں صہیونی جو کہ بنیادی طور سے یہودی نہیں تھے نے یہودیت اختیار کی۔Caucasion mountains  کے شمال  میں ایک بڑی سلطنت خزرایمپائر کے نام سے تھی۔یہ ایک مضبوط ریاست تھی۔ انہوں نے سازش کے طور پر یہودیت اور عیسائیت قبول کی اور دونوں آسمانی مذاہب میں اندر گھس کر خرابیاں پیدا کرنا شروع کیں۔ یہ دراصل شیطان کے پجاری تھے۔ آج بھی یہ فرعونوں اور نمرودوں کے خدائوں کی پرستش کرتے ہیں۔یہ صہیونی یہودیوں کی کتاب توریت کو نہیں  مانتے بلکہ یہ تلمود کو مانتے ہیں جو کہ آسمانی کتاب نہیں ہے ۔  آہستہ آہستہ کرکے ان لوگوں نے یوروپ میں سودی لین دین شروع کیا۔ دسویں صدی کے بعد سے یوروپ کے مختلف ممالک سے یہ مار مار کر نکالے جاتے تھے اور پھر بے حیائوں کی طرح اسی ملک میں جاکر آباد ہوجاتے۔ اب ان صہیونیوں نے سوچا کہ ہم تو مار مار کر نکال دیے جاتے ہیں۔سود کے ساتھ اصل بھی جاتی ہے تو اس کا علاج کیا ہو؟ پھر ان صہیونیوں نے حکمرانوں کو رشوتیں کھلا کے اپنے مطلب کے قوانین بنوانے شروع کئے اور پھر سودی کاروبار شروع کیا۔ عیسائیت کے دو ٹکڑے کروائے ۔ عیسائیت میں سود حرام تھا ۔پھر ایک پروٹسٹنٹ  فرقہ بنایا گیا اس کے نتیجے میں چرچ آٖ انگلینڈ قائم ہوا پھر بینک آف انگلینڈ کی بنیاد رکھی گئی۔ عیسائیویں کے پروٹسٹنٹ علماء سے سود کو حلا ل قرار دلوایا گیا اور سودی کاروبار کو قانونی پراو دلوایا۔ سود کی لعنت یوروپ  میں اتنی بڑھ گئی کہ یہ لوگ حکمرانوں کو سودپرپیسہ دینے لگے۔ بڑی بڑی جنگیں  finance کرتے تھے۔ انگلینڈ اور فرانس کے بیچ بہت  خونی جنگیں ہوئیں ۔ یہ ساری جنگیں انہی صہیونی گروہ نے فائنانس کیں ۔ رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کے بیچ بہت سی خونریز جنگیں ہوئیں ۔ ان ساری جنگوں کو انہی صہیونیوں نے فائنانس کیا۔ حد یہ کہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم بھی انہی یہودی بینکروں نے فائنانس کی اور ان دونوں عالمی جنگوں کے نتیجے میں یوروپ کی ساری دولت نوچ نوچ کر امریکہ لے گئے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یوروپ از سر نو تعمیر کرنے کے لیے سارا فائنانس بھی امریکہ سے ڈالر کی شکل میں آیا۔ دوسری جنگ عظیم کو جب فائنانس کیا تو پوروپ کا سارا سونا چاندی لوٹ کر لے گئے اور جب از سر نو تعمیر کے لیے فائنانس کیا تو ڈالر پیپر کرنسی کی شکل میں آیا پورے  پورے پانی کے جہاز  پیپر کرنسی کی شکل میں یوروپ آئے۔ اصلی دولت جو سونے  چاندی کی شکل میں تھی وہ فیڈرل ریزرو کے پاس رہی، جو کہ ایک پرائیویٹ ادارہ ہے اور حکومت امریکہ کا اس پر کوئی کنٹرول نہیں ہے  اور نہ ہی اس کا آڈٹ ہوتا ہے نہ ہی اس کے کھاتے بنائے جاتے ہیں ۔ الغرض فیڈرل ریزرو پر امریکہ کا کوئی کنٹرول نہیں ۔ یہ  پیپر کرنسی کی کہانی بیسویں صدی میں شروع ہوئی اور اس کے نتیجے میں پوری دنیا سے سونے چاندی کی کرنسی کو ختم کردیا گیا ۔ اب صرف پیپر کرنسی ہوا کرتی تھی Fractional reserve banking   اسی پیپر کرنسی کی دین ہے جس کے تحت ایک بینک اپنے ڈپازٹ سے دس گنا زیادہ ادھار دے سکتا ہے۔ یہی بنیاد بنی اس جدید دجالی معاشی نظام کی جب یہ لوگ اس بینکاری نظام اور جمہوریتوں کو قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے تو اب جمہوریت کوپوری دنیا میں نافذ کیا  جانے لگا گویا کہ جمہوری نظام کے علاوہ پوری دنیا میں کوئی نظام ہی نہیں ہے۔
آج کی دنیا کے معاشیات کے طالب علم سے پوچھا جائے کہ کوئی اور معاشی نظام ہوسکتا ہے تو اس کا جواب ہوگا کہ دنیا میں ماڈرن معاشی نظام کے علاوہ کوئی اور معاشی نظام ہوہی نہیں سکتا ، کیونکہ زندگی کے ہر شعبے میں ان کا قبضہ ہے۔ عصری تعلیم کے ہر شعبہ پر ان لوگوں کا قبضہ ہے۔ طالب علموں کو صرف وہی پڑھایا جاتا ہے جویہ صہیونی  چاہتے ہیں۔
اس معاشی نظام کو قائم رکھنے میں جو چیز بھی رکاوٹ ڈالتی ہے اسے جڑ سے ختم کردیا جاتا ہے۔ اگر کسی جمہوریت میں اس معا شی نظام کو خطرہ لاحق  ہوجاتا ہے تو جمہوریت ختم کرکے آمریت لائی جاتی ہے اگر کسی آمریت میں اس معاشی نظام کو کوئی خطرہ ہوتا ہے تو آمریت ختم کرکے جمہوریت لائی جاتی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال لیبیا سے آمریت ختم کرکے جمہوریت کو رائج کرناہے۔ سعودی عرب کی بادشاہت پر اور دوسرے  عرب ممالک کی بادشاہتوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے جب تک یہ لوگ صہیونیوں کے ایجنڈے پر کام کرتے رہیں ۔ یہی کھیل پاکستان میں بھی ہوتا رہتا ہے ۔ جب تک جمہوری لوگ ان کے ایجنڈے پر کام کرتے رہیں جمہوریت قائم رہتی ہے ورنہ آمریت کا دور آجاتا ہے۔ جب فوجی آمر ان کے کہنے سے باہر ہوجاتا ہے تو جمہوریت لائی جاتی ہے۔ اس طرح سے سیاسی نظام بھی معاشی نظام پر منحصر ہے ۔Modern Capitalistic Economic system  کو ہر حال میں قائم رکھنا ہے ۔ وہ چاہے جمہوری نظام کے تحت فروغ پائے یا پھر فوجی آمریت کے تحت، سارے سیاسی نظام کا انحصار اس جدید معاشی  نظام  پروان چڑھنے پر ہے  جس سیاسی نظام میں موجودہ معاشی نظام فروغ پائے وہی سیاسی نظام قائم کیا جاتا ہے۔
یہ تو ہوا بینکاری کا نظام۔ اب یہ بینکر افراد جماعتوں اور حکومتوں کو قرض دیتے ہیں۔ اور یہی بینکر ہیں جوخود ہی ملٹی نیشنلز بھی ہیں اور ملٹی نیشنلز کو قرض بھی دیتے ہیں ۔ آج کل جو دنیا میں غم و غصہ ہے وہ انہی بینکرز اور ملٹی نیشنلز کے خلاف ہے۔ بڑے مزے کی بات یہ ہے کہ یہ ملٹی نیشنلز اور بینکرز جس ملک میں بھی جاتے ہیں اپنی مرضی  کے قانون رشوتیں دے کر  پہلے پاس کرواتے ہیں پھر کام شروع کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں کام کرنے کا  وقت آٹھ گھنٹے ہے لیکن یہ ملٹی نیشنلز پتہ نہیں کون سے قانون کے تحت بارہ سے چودہ گھنٹے کام لیتے ہیں اور ملازم کو غلام بنا لیتے ہیں۔بارہ سے چودہ گھنٹے آفس میں کام لیتے ہیں پھر آدمی گھر واپس آتا ہے اور اپنے لیپ ٹوپ پر دو سے تین گھنٹے کام کرتا ہے اس طرح سے انسان کو کام کے علاوہ کوئی سوچ ہی نہیں رہ جاتی۔ اب ذرا خود سوچئے جو آدمی پندرہ سولہ گھنٹے آفس میں کام میں ذہنی  اور  جسمانی طور سے لگا ہوا ہے اسے کوئی اور سوچ آسکتی ہے۔ ایسا آدمی فیملی اور سماج کو کیا وقت دے گا اور کیا کوئی سماجی سیاسی یا مذہبی سوچ ایسے انسان کے ذہن میں آسکتی ہے۔
ملٹی نیشنلز نے جو لوٹ کھسوٹ مچا رکھی ہے اور یہ لوٹ بھی قانونی طور سے جائز لوٹ ہے اس کے سامنے آدمی کیا کرسکتا ہے۔ عدالتوں میں بھی نہیں جا سکتا ، کیونکہ ملٹی نیشنلز کے من مطابق قانون پہلے ہی پاس کرائے جاچکے ہیں۔Wall mart امریکہ کی ایک ریٹیل چین ہے ۔ یہ وال مارٹ ہندوستان میں کیا کررہا ہے۔ کیا ہندوستانی اس قابل نہیں رہے کہ اپنے ملک میں ریٹیل کا کام کرسکیں؟سارے پرمٹ رشوت دے کر اور قانونی  اور غیر قانونی طریقوں سے لے لیے جاتے ہیں پھر ان لوگوں کی اجارہ داری ہوجاتی ہے۔ ہندوستان  کے ہی  مینوفیکچرر سے چھ مہینہ کے ادھار  پر مال لے کراپنے ریٹیل شو روم میں بیچتے ہیں۔
صہیونی بینکروں ، ملٹی نیشنلز اور بد کردار حکمرانوں کا یہ  nexus  ہے جو دنیا بھر کے عوام کو ہر طریقے سے لوٹ رہا ہے۔ امیر اور زیادہ امیر ہوتا جارہا ہے ۔ غریب کے حالات بد سے بد تر ہوتے جارہے ہیں ۔ دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہورہا ہے۔  ہر فرد کو قرض دے کر باندھ لیا جاتا ہے۔ مستقبل کے سنہرے  خواب دکھا کر نئی سے نئی چیز بیچ دی جاتی ہے اور پھر سود کا اور penalties  کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ جس سے انسان عاجز آجاتا ہے۔ مکان ، دکان گاڑی ٹی وی ،صوفہ، فریج حد یہ کہ اب  تو تعلیم اور گھومنے کے ٹرپ بھی فائنانس ہوتے ہیں۔ پھر قرض اتارے جائو، قرض دیتے وقت شرفا کی طرح بات چیت کرتے ہیں اور قسطیں لیتے وقت غنڈہ گردی کرتے ہیں۔ اگر ایک یا دو قسطیں دینے میں دیر ہوگئی تو پالے ہوئے غنڈے بد معاش گھر پر آجاتے ہیں ۔پہلے تو  محلہ والوں کے سامنے ذلیل کرتے ہیں اور پھر آدمی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں اور مار پیٹ کرتے ہیں ۔ کئی معاملات میں تو قرض لینے والوں کو جان سے مار بھی دیا جاتا ہے یا پھر لوگ ڈر کے مارے خود کشی کر لیتے ہیں ۔ ہندوستان میں لاکھوں کسان خود کشی کر چکے ہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ یہی بینک کا قرض ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اس دجالی معاشی نظام کے علاوہ کوئی اور نظام اس دنیا میں ہے نہیں؟ ہے ایک نظام،جو حق و انصاف پر  مبنی ہے ۔جہاں سود کھانے اور کھال نوچنے کے لیے بینک نہیں ہوتے۔ بلکہ بیت المال کا نظام ہے جو قرض حسنہ دیتا ہے۔ ایک نظام ہے جہاں پر ہر شہری کے روٹی کپڑے اور مکان کا انتظام حکومت وقت کے ذمہ ہے۔ ایک نظام ہے جہاں انصاف ملنے میں دسیوں ، بیسیوں سال نہیں  لگتے ،ایک نظام ہے جہاں آوارہ کتا بھی بھوکا نہیں سوتا ۔ ایک نظام ہے جہاں انصاف کی بات ہوتی ہے ایک نظام ہے جہاں خلیفہ کو بھی اپنی صفائی دینی ہوتی ہے۔ یہ وہ دین حق ہے جو انسانوں کو  برابر سمجھتا ہے۔ یہ وہ دین حق ہے جس میں ہر شہری کو برابر کے حقوق حاصل  ہیں۔ یہ وہ دین ہے جہاں ایک عام انسان خلیفہ سے سوال کرسکتاہے ۔ یہ وہ دین ہے جہاں خلیفہ خود کھانے پینے کا سامان اپنے کندھے پر لاد کر غربا کے گھر پر پہنچاتا ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ اسلامی معاش ِ نظام اَپ ڈیٹ کیا جائے۔ اسلامی معاش نظام کو وقت اور حالات اورضروریات کے مطابق اسی دین حق کی روشنی میں اپ ڈیٹ کیا جائے جس اسلامی ریاست نے دنیا کو سوشل  جسٹس کی تعلیم دی تھی جس خلافت کا سورج تیرہ  سو سال چمکتا  رہا۔ ضرورت  ہے قرآن و سنت کے ماہر اور معاشیات کے ماہر اور سماجیات کے ماہر سر جوڑ کر بیٹھیں اور دین حق یعنی اسلام کی روشنی میں اسلام کے معاشی نظام کی از سر نو تدوین کریں کیونکہ پوری دنیا میں صرف اسلام کا معاشی نظام ہے جو دنیا کو انصاف دے سکتا ہے ۔ ہمارا کام یہ نظام نافذ کرنا نہیں ہے ہم تو صرف دنیا کو بتادیں کہ یہ معاشی نظام ہے جو انصاف کرتا ہے۔ پوری انسانیت  انصاف پر  مبنی سماجی اور معاشی نظام کی تلاش میں ہے ہی۔ تھک ہار کر انسانیت کو یہی سماجی سیاسی اور معاشی نظام اپنانا پڑے گا جو رسول کائنات کا تشکیل کیا ہوا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *