پروین مہاجن
یہ صحیح ہے کہ جو شخص آگے بڑھنا چاہتا ہے وہ روز نئے نئے خواب دیکھتا ہے۔ وہ صرف خواب ہی نہیں دیکھتا ہے بلکہ اس کو عملی جامہ بھی پہناتا چلا جاتا ہے۔ آگے بڑھنے کے لئے یہ بھی طے کرتا ہے کہ اسے کس راستہ پر آگے بڑھنا ہے۔ مذکورہ تمام باتیں سیاست میں بھی نافذ ہوتی ہیں۔ بنا امنگوں اور توقعات کے سیاست میں آگے بڑھا ہی نہیں جا سکتا۔ آج کی سیاست میں وہی شخص ٹکا رہ سکتا ہے جو اپنی چال چلنے میں ماہر ہو اور موقع کی نزاکت کو اچھی طرح سمجھتا ہو۔اس لئے تو دانشمند نوجوان لیڈر سیاست میں داخل ہوتے ہی ایم ایل اے، وزیر بننے کا خواب دیکھنے لگتے ہیں۔ وزیر بن گئے تو وزیر اعلیٰ بننے کا لالچ جاگ اٹھتا ہے۔جو ریاست کوچھوڑ کر دہلی کے پارلیمنٹ ہائوس پہنچ جاتا ہے تو اس کی وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھنے کی امنگ زور مارنے لگتی ہے۔ بھلے وہ اپنی ریاست کا وزیر اعلیٰ نہ بنا ہو۔ ویسے بھی ہندوستانی سیاست میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔یہاں ایک آزاد ممبر اسمبلی بن سکتاہے۔ دو چار ممبران پارلیمنٹ والی جماعت کا لیڈر وزیر اعظم بن سکتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ توڑ پھوڑ کے سیاسی ماحول میں امنگیں اور توقعات ہی ایک سیاستداں کو آگے بڑھنے کے لئے توانائی عطا کرتی ہیں۔
اب جب تمام سیاستداں خواب دیکھتے ہیں تو پھرایک قومی پارٹی کے لیڈر کو بھلا کیوں پیچھے رہنا چاہئے۔ اس لئے بی جے پی کے قومی صدر نتن گڈکری نے لوک سبھا انتخابات کے میدان میں اترنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انھوں نے لوک سبھا الیکشن ناگپور سے لڑنے کے اشارے دے دئے ہیں۔ اس سے سیاسی حلقوں میں ان کی مستقبل کی منصوبہ بندی ، حکمت عملیوں پر چہ میگوئیوں کا دور بھی شروع ہو گیا ہے۔ان کے ارادوں پر سوال اٹھائے جانے لگے ہیں۔ یہاں بتا دیں کہ نتن گڈکری جب قومی صدر بنے تھے تب انھوں نے کہا تھا کہ وہ تین سال تک لوک سبھا کا الیکشن نہیں لڑیں گے۔ یہ بھی دھیان دینے والی بات ہے کہ ان کا پارٹی کے صدارتی عہدہ کی مدت کار بھی تین سال کی ہی ہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ گڈکری بی جے پی کے قومی صدر کے عہدہ پر کس کی مہربانی سے فائز ہوئے ہیں، لیکن ریاستی صدر سے سیدھے قومی صدر بننے کی بات کو بی جے پی کے کئی سینئر لیڈر اب تک ہضم نہیں کر پائے ہیں۔ مہاراشٹر میں گوپی ناتھ منڈے کے دل میں اب بھی گڈکری کے آگے نکل جانے کی کسک باقی ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ لال کرشن اڈوانی کی عوامی بیداری یاترا کے ناگپور پہنچنے کے درمیان گڈکری، منڈے ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرتے دکھائی دئے، لیکن ماہرین سیاست کا کہنا ہے کہ دونوں بھلے ہی گلے ملے ہوں لیکن دونوں کے دل کا ملن نہیں ہو پایا ہے۔ دہلی میں بیٹھی چوکڑی بھی ان کو اب تک پوری طرح تسلیم نہیں کر پائی ہے۔ اس لحاظ سے اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا نتن گڈکری کو دوبارہ پارٹی کا قومی صدر منتخب کیا جائے گا؟ اگر انہیں دوبارہ قومی صدر منتخب نہیں کیا جاتا ہے تو وہ پہلی مدت کار ختم ہونے پر کیا مہاراشٹر کی سیاست میں واپس لوٹیں گے یا پھر قومی سیاست میں سرگرم رہیں گے؟ ان سوالوں کے جواب میں ہی نتن گڈکری کے پارلیمانی انتخاب لڑنے کے اعلان کا راز پوشیدہ ہے۔
بی جے پی صدر نے بہت سوچ سمجھ کر پارلیمانی انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے یہ جوکھم سیاست میں اپنی ساکھ قائم رکھنے کے لئے اٹھایا ہے۔آخر انہیں خود کو اپنی صدارتی مدت کار ختم ہونے کے بعد قومی صدر کے طور پرخود کو معزز رکھنا ہے۔ بی جے پی میں رٹائرڈ صدور کی آج جو حالت ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی گڈکری نے اپنے عہدہ پر رہتے ہوئے اپنے مستقبل کی پلاننگ کرنا شروع کر دی ہے۔ اس پلاننگ کے تحت ہی انھوں نے پارلیمنٹ کی انتخابی جنگ میں اترنے کا اعلان کیا ہے۔ ابھی تو پارلیمانی انتخاب ہونے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ پھر بھی نتن گڈکری نے پارٹی لیڈران کو انتخابات میں اترنے کا اعلان کر کے اشارہ دے دیا ہے کہ وہ بی جے پی کی قومی سیاست میں اپنا دبدبا قائم رکھیں گے۔اتنا ہی نہیں، موقع ملا تو وزیر اعظم کی کرسی تک سنبھال سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بی جے پی میں وزیراعظم بننے کا ایک اور دعویدار بن گیا ہے۔گڈکری قومی سیاست میں خود کو معزز نہیں بنا پائے تو ان کے پاس مہاراشٹر کی سیاست میں لوٹنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں بچتا ہے۔ایک قومی پارٹی کا صدر ہونے کے بعد صوبہ کی سیاست میں لوٹنے کا مطلب ہوگا، ڈموشن۔کوئی بھی متوقع یا امنگی لیڈر یہ قبول نہیں کر سکتا کہ آگے بڑھنے کے بجائے اسے پیچھے ہونا پڑے۔اس کا درد وینکیا نائیڈو ، راج ناتھ سنگھ جیسے بی جے پی لیڈروں سے پوچھا جا سکتا ہے۔راج ناتھ سنگھ آج لال کرشن اڈوانی کے بعد خود کو وزیر اعظم کے عہدہ کا سب سے مضبوط دعویدار مان رہے ہیں اور وہ اسے پانے کے لئے کوشاں ہیں۔اس لئے وہ پوری طاقت سے اتر پردیش میں بی جے پی کو دوبارہ قائم کرنے کے لئے پوری ریاست کا اومابھارتی کے ساتھ دورہ کر رہے ہیں۔وہیں گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی امنگیں کسی سے چھپی نہیں ہیں۔اب گڈکری بھی وزیراعظم بننے کے دعویداروں میں شامل ہو گئے ہیں۔
دراصل نتن گڈکری کے بارے میں لوگوں کا کہنا ہے کہ جس طرح سے ان کو بی جے پی کا قومی صدرکا عہدہ اچانک ہی مل گیا تھا۔اسی طرح قسمت سے وزیراعظم کا عہدہ بھی مل سکتا ہے۔ آخر وہ ناگپور کے ہیں اور ناگپور میں راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کاصدر دفتر ہے۔ پھر بی جے پی میں تو سنگھ کے سفارش کئے بغیر کسی کی ترقی ہوتی ہی نہیں۔سنگھ کی نزدیکی کے سبب ہی تو انہیں کئی سینئر لیڈروں کو نظر انداز کر کے پارٹی کا قومی صدر بنایا گیا تھا، لیکن نتن گڈکری اب بھی یہ بتانے کی کوشش میں نہیں ہیں کہ ان کی صدارتی مدت کار میں پارٹی کو کون سی حصولیابی ملی ہے۔بہار الیکشن میں پارٹی کو جو کامیابی ملی اس کا پورا کریڈٹ تو وہاں کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو دیا گیا۔ نتن گڈکری کی قیادت کو نہیں۔ جھارکھنڈ میں پارٹی نے جو حکومت جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے ساتھ بنائی، وہ سیاست خودغرضی کے سبب قائم ہے۔ ساتھ ہی جھارکھنڈ کے عوام کی نظر میں بے میل اتحاد کی حکومت پوری طرح سے بدعنوان بتائی جا رہی ہے۔ دیگر ریاستوں کی بات چھوڑ دی جائے تو گڈکری کی آبائی ریاست مہاراشٹر میں ہی پارٹی کی حالت کچھ اچھی نظر نہیں آ رہی ہے۔ پارٹی میں پھیلی گروہ بندی اور معاون جماعتوں سے تلخیاں دور کرنے میں نتن گڈکری اپنی صدارتی مدت کار میں ناکام ہی ثابت ہوئے ہیں۔
راہ آسان نہیں
پارلیمانی انتخاب لڑنے کا اعلان تو نتن گڈکری نے کر ہی دیا ہے، لیکن ان کی راہ آسان نظر نہیں آ رہی ہے۔ اب تک کے ان کے سیاسی سفر کو دیکھا جائے تو وہ ہمیشہ ریاستی اسمبلی میں پیچھے کے دروازے سے داخل ہوئے ہیں۔انھوں نے اب تک کبھی اسمبلی الیکشن نہیں لڑا ہے۔وہ سال 1989میں ریاستی اسمبلی کے لئے منتخب ہوئے۔ 20سالوں تک وہ قانون ساز کونسل کی زینت میں اضافہ کرتے رہے۔ سال 1995میں مہاراشٹر کی بی جے پی، شیو سینا والی مخلوط حکومت میںوزیرتعمیر ات عامہ بنے۔ وزیر تعمیرات عامہ کے طور پر انھوں نے جو ترقیاتی کام کئے اس کی وجہ سے انہیں ریاست کا ’’وکاس پروش‘‘ کہا جانے لگا۔ اس کے بعد بھی انھوں نے کبھی براہ راست عوام کے درمیان جا کر اسمبلی الیکشن نہیں لڑا۔ وہ مسلسل قانون ساز کونسل کے لئے ہی منتخب ہوتے رہے ہیں۔ سال 2008میں آخری بار وہ قانون ساز کونسل کے لئے منتخب ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی وہ پارٹی کے ریاستی صدر بھی رہے۔ جب ان کی 52سال کی عمر میں قومی صدر کے عہدہ پر تاج پوشی کی گئی تب وہ ریاستی صدر ہی تھے،لیکن انھوں نے کبھی عوام کے درمیان جا کر اپنے لئے ووٹ نہیں مانگا۔ اسمبلی الیکشن نہیں لڑا۔ اس کا سبب خواہ جو بھی رہا ہو، لیکن مہاراشٹر میں ان کی شبیہ ایک عوامی لیڈر کی ہے۔ لیکن الیکشن میں شبیہ ہی سب کچھ نہیں ہوتی ہے۔ اس میں تو ہار جیت کا فیصلہ رائے دہندگان کی مرضی پر منحصر کرتا ہے۔
ریاست کے سیاسی ماہروں کا ماننا ہے کہ نتن گڈکری برادری کی اونچ نیچ کے سبب عوام کے درمیان جا کر الیکشن لڑنے کی جرأت کبھی نہیں دکھا سکے، لیکن اب خود گڈکری نے پارلیمانی انتخاب لڑنے کا اعلان کر کے سب کو حیران کر دیا ہے۔اس کے پیچھے ان کا کیا مقصد ہے۔ یہاں ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ نتن گڈکری ایک کامیاب صنعت کار ہیں۔وہ ’’پورتی ادھوگ سموہ‘‘ کے کرتا دھرتا ہیں۔ ایک بایو ، ڈیزل پمپ، ایک چینی مل، ایک لاکھ 20ہزار لیٹر کی صلاحیت والا اتھانال پلانٹ، 26میگاواٹ کی صلاحیت والا پاور پلانٹ ، سویا بین پلانٹ اور کو جنریشن توانائی پلانٹ آپریٹ کر رہے ہیں۔ یعنی انھوں نے اپنی شناخت زمین سے جڑے ایک کارکن کے طور پر بنائی ہے اور وہ ایک سیاستداں کے ساتھ ساتھ ایک کسان اور ایک صنعت کار بھی ہیں۔ اس لئے وہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اس سے ہونے والے نفع نقصان کے بارے میں غو رو خوض کرتے ہیں۔ اس لئے یہ تو نہیں کہا جا سکتا ہے کہ انھوں نے پارلیمانی انتخاب لڑنے کا جو اعلان کیا ہے، وہ یوں ہی کیا ہے۔ اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی حکمت عملی ضرور ہوگی۔
اگر ریاست کے موجودہ سیاسی تناظر کا مشاہدہ کیا جائے تو وہ بی جے پی کے لئے معقول نظر آتا ہے۔کانگریس کی قیادت والی ریاستی اور مرکزی حکومت گھوٹالوں میں گھری ہے۔ کانگریس کے تئیں عوام میں غم و غصہ ہے جسے بڑھتی مہنگائی اور بڑھا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انا ہزارے کا بدعنوانی کے لئے جن لوک پال بل بنانے کے مطابہ کو لے کر کی گئی تحریک نے کانگریس کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ تحریک کو جس طرح سے عوامی حمایت ملی ہے اس سے بی جے پی اوراس کی معاون (این ڈی اے ) کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔وہیں مہاراشٹر میں دلت، پسماندہ طبقہ کے رائے دہندگان کی قیادت کرنے والی ری پبلیکن پارٹی کے مختلف گروپ کانگریس سے ناراض ہیں۔ رام داس اٹھاولے کانگریس، نیشنلسٹ کانگریس کا ساتھ چھوڑ کر بی جے پی اور شیو سینا کے ساتھ شیو شیتی، بھیم شکتی کا اتحاد بنا کر انتخابی میدان میں اترنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو تمام صورتحال بی جے پی کے لئے معقول ہیں۔ ریپائی رام داس اٹھاولے کا ساتھ ملنے سے ناگپور میں گڈکری کے حق میں دلت ، پسماندہ رائے دہندگان ووٹ کر سکتے ہیں۔ ممکنہ طور پر اسی حساب کتاب کو ذہن میں رکھتے ہوئے گڈکری نے لوک سبھا الیکشن لڑنے کا ارادہ بنایا ہے۔چونکہ ناگپور میں ان کا گھر ہے تو فطری طور سے ان کی پہلی پسند ناگپور سیٹ ہی ہوگی۔اس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ سنگھ کا گھر ہونے کے بعد بھی ناگپور لوک سبھا سیٹ میں کانگریس کا قبضہ ہی رہا ہے۔ اگر اب ناگپور سے لوک سبھا الیکشن لڑ کر گڈکری جیتتے ہیں تو وہ تاریخ رقم کریں گے،ن سیاسی حلقوں میں یہ بھی چرچے ہیں کہ ناگپور میں اگر کوئی دقت ہوئی تو ہ وردھا سے بھی لوک سبھا کا الیکشن لڑ سکتے ہیں اور وردھا میں ان کے دوست دتا میگھے نے ان کی راہ آسان کر دی ہے۔ میگھے نے اب آگے الیکشن نہ لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بہر حال گڈکری کے سامنے ریاست میں ہونے والے عام مقامی ادارے اور اتر پردیش میں پارٹی کی کشتی کوپار لگانے کا چیلنج ہے۔g






