نفرت کی خلیج

عفاف اظہر
دیسی لوگ خواہ دنیا کے کسی بھی خطے میں رہیں مگر اپنی مخصوص حرکتوں سے پہچانے جاتے ہیں۔ ٹورانٹو میں علاقے کنگسٹن میں اسی غیرت نے ایک بار  پھر سے سر اٹھایا اور گزشتہ دنوں غیرت کے نام پر تین افغانی نوجوان لڑکیوں اورانکی  سوتیلی ماں کا قتل ان کے اپنے حقیقی ماں باپ اور بیس سالہ بھائی کے ہاتھوں ہوا ، لکھ پتی افغانی اپنی دو بیویوں تین بیٹیوں اور ایک بیٹے کے ساتھ گزشتہ دو دہائیوں سے کینیڈا میں مقیم تھا۔ کینڈا کے قانون کے مطابق دو شادیوں کی اجازت نہیں اس لئے پہلی بیوی کو ہمیشہ بہن ظاہر کیا جاتا رہا اور اس قتل کے بعد یہ راز کھلا کہ وہ بہن نہیں بلکہ بیوی ہی تھی۔ نوجوان پاکستانی اقصیٰ پرویز کی قبر کی مٹی  ابھی سوکھی بھی نہ تھی کہ ٹورانٹو کو ایک بار پھر اقصیٰ کی یاد آنے لگی .
ادھر بریمپٹن کے ایک نو بیاہتہ جوڑے کی کہانی جو اسی ہفتے اخباروں کی شہ سرخیوں میں تھی گزشتہ سال ارینج میرج کے بندھن میں بندھا ایک سکھ نوجوان کی بیوی نے کینڈا کی سر زمین پر قدم رکھنے کے ایک ہفتے بعد ہی شوہر کے ساتھ رہنے سے انکار کر دیا۔ دل برداشتہ شوہر نے پانی میں کود کر جان دے دی . وہی سسرال اور بہو کی پرانی گھسی پٹی معاشرتی کہانی کہ ایک طرف سسرال کے الزمات کی بھرمار کہ بہو نے صرف کینڈا آنیکے لئے شادی کی حامی بھری تھی تو دوسری طرف  بھرے سسرال میں ہفتہ بھر سے رہتی یہ انیس سالہ انڈین بہو جس کے جسم پر سسرال کے ذہنی و  جسمانی تشدد کے ساتھ شوہر کے جنسی و جسمانی تشدد کے نمایاں نشان کچھ اور ہی داستانیں  بیان کر رہے تھے ذہنی طور پر بیمار اور مرد زدہ اس معاشرے میں ایک عورت کا وجود کتنا غیر اہم ہے یہ تو مغرب کو نظر آ ہی رہا ہے کہ یہ کوئی انڈیا یا پاکستان تو ہے نہیں کہ بہویں چولہوں کے ساتھ پھٹیں تو حادثہ ، ذہنی تشدد کا شکار بہویں پاگل خانوں کی زینت بنیں تو بھی مرد پاک دامن ہی رہے ، بیوی اور بیٹیوں کی جان لینے والا مرد با غیرت کہلائے ، سسرالی خاندان جس خود سوزی کو یکطرفہ عشق قرار دے کر بہو کی  لعن طعن کرنے میں مصروف تھا  تو وہاں بہو کا تشدد بھرا  جسم سسرال کے  ہر الزام کی تردید کرتا شوہر کو ذہنی مریض ثابت کرتا اس  مغربی معاشرے میں  ایک مشرقی بہو کی اہمیت پر سوالیہ نشان لئے  تھا ۔
کیوں دل میں ایسی سختی ہے
کیوں نفرت اتنی سستی ہے
کینڈا کے قانون ساز ادارے سائوتھ ایشین کمیونٹی کے نمائندگان کے ساتھ سر جوڑے گتھیاں سلجھانے کی کوششوں میں سر گرم عمل ہیں تو رنگا رنگ بحث و مباحثوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ اور دیسی ٹی وی چینلز ریڈیو  پروگرامز میں بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو مل رہی ہیں گویا کہ ایسی انہونی ہمارے ہاں پہلی بار ہی ہوئی ہو جبکہ یہاں تو آئے روز .یہی داستانیں دہرائی جا رہی ہیں .شادیوں میں فراڈ کے سلسلے انتہا پر ہیں تو  جہیز کی طویل فہرستیں والدین کے لئے وبال جان ، اپنے بیٹوں کی شادیوں کے لئے معصوم لڑکیوں کو جانوروں  بھیڑوں بکریوں کی طرح ٹٹولنا۔ کسی کی آنکھیں چھوٹی ہیں تو کسی کے ہونٹ ٹیڑھے کسی کی ناک زیادہ لمبی ہے تو کسی کا رنگ ذرا سا گہرا اور خوبصورت  بال بڑی بڑی آنکھیں تیکھے نین نقش اور پر کشش قد و قامت والی  حوروں کی نہ ختم ہونے والی تلاش کا سلسلہ ارینج میریجز کے نام پر کالا دھبہ بن چکا ہے  ، پاکستان یا ہندوستان جا کر بچوں کی شادیاں صرف اسی مقصد سے کی جاتی ہیں کہ یہاں کے پلے بڑھے لڑکے اور لڑکیاں اپنے حقوق سے واقف ہیں اور زیادتی برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے اور ہم زیادتی کرنا کسی طور چھوڑ نہیں سکتے اس لئے پیچھے سے  ایسی  بھیڑ بکریاں لاؤ جن کے منہ میں زبان  ہی نہ ہو جن کے سر ان   مجازی خداؤں  کے سامنے سجدے کرتے نہ تھکیں تو پھر آخر انہونی کون سی ہے کیا یہاں سینکڑوں باغیرت ایسے نہیں ہیں جو اپنی  متعدد شادیاں قانون سے چھپانے کے لئے بیویوں کو بہنیں یا پھر بچوں کی آیا ظاہر کرتے چلے آ رہے  ہیں ؟ یا پھریہاں کون سا  ایسا خاندان ہے جو یہ  دعویٰ کرے کہ وہ گھریلو تشدد سے کلی طور پر محفوظ ہے ؟ کہ ہمارے غلیظ بدبو دار  بوسیدہ  مرد زدہ معاشرے میں عورت اور مرد کے درمیان نفرت کی ایک صدیوں پر محیط خلیج حائل ہے جو قانون سازی  سے کہیں  زیادہ تعلیم اور حقوق کی پاسداری کی محتاج ہے ۔  g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *