ہندوستانی آئین نے ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی دے رکھی ہے، لیکن ملک میں چند ایسے شر پسند عناصر اب بھی موجود ہیں جو خود
تو ہر موضوع پر بولنا چاہتے ہیں، لیکن نہیں چاہتے کہ کوئی دوسرا اُس موضوع پر بولے، خاص کر وہ ہر اُس آواز کو طاقت کے بل پر دبا دینا چاہتے ہیں، جو اُن کی شرپسندی کے خلاف اٹھتی ہو۔ حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ملک کے آئین کے ذریعے اپنے شہریوں کو عطا کیے جانے والے بنیادی اختیارات کی حفاظت کرے، لیکن نئی دہلی کی شاہی مسجد فتح پوری کے امام کے معاملے میں دہلی اور مرکز میں برسر اقتدار کانگریس حکومت ایسا نہیں کر رہی ہے۔ مفتی مکرم صاحب کو جان سے مارنے کی دھمکیاں لگاتار موصول ہو رہی ہیں، لیکن ان کے ذریعے یو پی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی اور خود وزیر داخلہ پی چدمبرم سے بار بار درخواست کرنے کے باوجود انہیں اب تک سیکورٹی فراہم نہیں کی گئی ہے، کیا کانگریس حکومت خاموشی اختیار کرکے شرپسندوں کی حوصلہ افزائی نہیں کر رہی ہے؟ کیا وہ دہلی میں ایک بار پھر فرقہ وارانہ فساد کرانا چاہتی ہے؟ چوتھی دنیا کے خصوصی نامہ نگار ڈاکٹر قمر تبریز نے اس سلسلے میں خود جناب مفتی مکرم صاحب سے ملاقات کرکے اس معاملہ کی سنگینی کو جاننے کی کوشش کی۔ گفتگو کے دوران ملک کی سیاسی صورت حال اور علماء و مدارس کے کردار پر بھی بات ہوئی۔ انٹرویو کے اقتباسات قارئین کی خدمت میں پیش کیے جاتے ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ آپ نے ملک کے اندر ہمیشہ مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے، آپ نے آج تک ایسا کوئی بھی بیان نہیں دیا جو متنازع ہو، پھر بھلا کچھ لوگ آپ کی جان کی پیچھے کیوں پڑے ہوئے ہیں، کیوں آپ کو بار بار دھمکی بھرے خطوط بھیجے جاتے ہیں؟
جہاں تک مجھ سے کسی کی دشمنی کرنے کی بات ہے تو شرارتی لوگ کہیں بھی کچھ بھی کر سکتے ہیں،ورنہ علاقے میں ہندو ،مسلم سب ہی مجھ سے محبت کرتے ہیں۔میرے دفتر میں جاکر دیکھئے تو ہندو طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد ملے گی۔لیکن کچھ ایسی تنظیمیں ہیں، جو فرقہ واریت کو بڑھاوا دے رہی ہیں۔ان میں سنگھ پریوار شامل ہے۔زعفرانی دہشت گردی کی وجہ سے فرقہ واریت فروغ پارہی ہے، جس کا اعتراف وزیر داخلہ پی چدمبرم اور دگ وجے سنگھ بھی کرچکے ہیں۔اسی تنظیم نے مالیگائوں میں فرقہ وارانہ فساد کو ہوا دی اور مکہ مسجد،اجمیر یا جہاں بھی فرقہ واریت ہوتی ہے ،اس کا ہاتھ ہوتا ہے، میںتو کہتا ہوں کہ گودھرا حادثے میں بھی اسی تنظیم کی سازش شامل تھی۔انہوں نے عیسائیوںپر حملہ کیا۔غرض جہاں بھی فرقہ واریت کی آگ پھیلتی ہے اس میں زعفرانی دہشت گردی کا ہاتھ ہوتا ہے۔
ظاہر ہے زعفرانی دہشت گردی کے بارے میں جو بیانات آرہے ہیں ،اس کے بارے میں سرکاری مشینری نے ہی پتہ لگایا ہے، اس سے وابستہ لوگ تو جھوٹ نہیں بول رہے ہیں۔
کوئی جھوٹ کیوں بولے گا؟ میں نے تو ہمیشہ یہ کہا ہے کہ جب بھی کہیں کوئی حادثہ ہوتا ہے تو ایک ہی ڈائرکشن میں تفتیش کیوں کی جاتی ہے۔صرف مسلم تنظیموں پر شک کیا جاتا ہے،کبھی لشکر طیبہ کا نام لیا جاتا ہے۔ کسی بھی حادثے کی تفتیش ہمیشہ کھلے ذہن سے کی جانی چاہیے۔ہم نے ہمیشہ یہ مطالبہ کیا کہ تفتیشی ٹیم مسلمانوں میں جائیں، ہندوئوں میں جائیں،اور بھی دوسری کمیونٹی میں جائیں، پھر کھلے ذہن کے ساتھ تفتیش کریں تاکہ حقیقت سامنے آسکے۔لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے ۔آپ دیکھئے جب کسی حادثے کے بعد، جیسے دہلی ہائی کورٹ میں بم دھماکہ ہوا ، اس کے بعد جو اسکیچ بنائی جاتی ہے، وہ اسکیچ اس طرح بنائی جاتی ہے کہ اس کی شکل مسلمانوں کی شکل سے ملتی جلتی ہوتی ہے، جبکہ عرصہ تک پولس یہ بیان دیتی رہتی ہے کہ ابھی مجرم کا پتہ نہیں چلا ہے۔ میرا کہنا ہے کہ جب مجرم کا پتہ نہیں تو پھر ایسی اسکیچ کیوں بنائی جاتی ہے، جس میں مسلم شباہت ضرور ہوتی ہے۔دراصل یہ سب مسلمانوں کو پریشان ، بدنام کرنے کے لیے، نوجوانوں کے حوصلے پست کرنے کے لیے ایک منظم سازش کے تحت ہوتا ہے۔یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ جب سے ملک کا بٹوارہ ہوا ،اس وقت سے ہی یہ طاقتیں اپنا کام کر رہی ہیں۔
یہ طاقتیں آپ کو کیوں دھمکا رہی ہیں۔ یہ ملک آزاد ہے، پھر کیا یہاںکوئی سچ کو سچ نہ بولے،جھوٹ کو جھوٹ نہ کہے؟
دیکھئے! ہندو مہا سبھا کے ایک لیڈر کا ایک اسٹیٹمنٹ غالباً12 اکتوبر کودینک جاگرن میں چھپا تھا۔ان کا یہ اسٹیٹمنٹ 30 ستمبر کو الہٰ آباد ہائی کورٹ کی بنچ کی طرف سے بابری مسجد کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد آیا تھا۔ میرے پاس اس کی کاپی موجود ہے۔ اس میں انہوں نے کہا کہ جب ہم نے فتح پوری مسجد مسلمانوں کو دے دی تو پھر بدلے میں وہ ہمیں بابری مسجد کیوں نہیں دے دیتے ہیں۔اب ذرا غور کیجئے، فتح پوری مسجد کا کمپریزن بابری مسجد سے کیا جا رہا ہے۔جب ہندو مہا سبھا کا صدر ایسی بات کہتا ہے اور دینک جاگرن جیسے اخبار میں ان کا بیان چھپتا ہے، تو عام آدمی کا ذہن تو متاثر ہوگا ہی۔ دوسری بات یہ کہ میں جس جگہ پر رہتا ہوں، دور دور تک ہندو آبادی ہے،میرے گھر سے لاہوری گیٹ تک تمام مکانات ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ جب کبھی پاکستان ہارتا ہے تو ہمارے گھر کے سامنے پٹاخے پھوڑے جاتے ہیں،اگر جیتتا ہے تو بھی ہمارے ہی گھر کے سامنے پٹاخے پھوڑے جاتے ہیں۔اگر دیوالی ہو تو بھی اور کوئی اور موقع ہو تب بھی ہمارے گھر کے آگے خوب ہنگامے کیے جاتے ہیں۔ ابھی دو تین ماہ پہلے کی بات ہے کہ رام نومی کے موقع پر جب ان کی جھانکیاں نکل رہی تھیں، تو عین اذان کے وقت تقریباً پانچ، سوا پانچ بجے لائوڈاسپیکر پر انائونسر نے اعلان کیا کہ ’اب ہمارے کاریہ کرتا کلا پردرشن کریں گے‘۔ اس کے بعد بجرنگ دَل کے کسی فرد یا کسی اور کارکن نے فتح پوری مسجد کے دروازے کے سامنے ننگی تلوار سے پٹا کھیلی تھی۔ میں وہاں پر موجود نہیں تھا، لیکن نمازیوں نے مجھ سے اس کی شکایت کی۔ ننگی تلوار سے یہ پٹا جھانکی کے اندر ہی کھیلی گئی تھی، لیکن یہ وقت نماز کا تھا۔میرا یہ کہنا ہے کہ اگر آپ کو پٹا کھیلنی ہی تھی تو آپ دس قدم آگے چلے جاتے، ٹاؤن ہال پر پٹا کھیل لیتے، مسجد کے سامنے ہی کیوں اور وہ بھی نماز کے وقت؟ میں علاقے کے لوگوں کو برا نہیںکہہ رہا ہوں، مگر پانچ دس فیصد لوگ برے ہیں، جن سے خطرہ لگا رہتا ہے۔ دیکھئے، میں ہر جمعہ کومنبر سے نمازیوں کوخطاب کرتا ہوں،میری تقریر کی آوازباہر جاتی ہے جس کو وہ لوگ بھی سنتے ہیں۔ستیہ نارائن بنسل جو آر ایس ایس کے صدر تھے، پابندی سے میری تقریر سنا کرتے تھے۔ وہ میرے دوست تھے اور کہتے تھے کہ میں جمعہ کے دن خصوصی طور سے آپ کی تقریر سننے کے لیے وقت نکالتا ہوں۔ اب اگر ہم اس تقریر میں مسلمانوں کے حق کے لیے کچھ بولتے ہیں، ان پر ڈھائے جارہے مظالم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ،حق کے لیے حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں یا کسی پر بھی ظلم کے خلاف بولتے ہیں تو اس میں کوئی جلنے والی بات تو ہے نہیں۔ اب فتح پوری مسجد ہندو مہا سبھاکی زبان پر ہے،اور یہ علاقہ غیر مسلموں کا ہے تو وہ جب چاہیں گے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ مجھے جو خط موصول ہوا اس میں لکھا ہوا تھا کہ اگر ہم چاہیں گے تو ان کو اگلے صبح کا سورج بھی نہیں دیکھنے دیں گے۔
دھمکی آمیز خط آپ کو کب ملا؟
یکم اپریل کو یہ خط ملا۔ دو خط ستمبر میں، ایک اکتوبر میں۔ اس سے پہلے 2005 میں، 2006 میں اور 2007 میں بھی ملا۔ اس کی کاپیاں ہوم منسٹری کو دے دی گئی ہیں۔ میرے پاس بھی ان کا ریکارڈ موجود ہے۔
ہوم منسٹری سے کوئی جواب آیا؟
نہیں ،کوئی کارروائی سامنے نظر نہیں آرہی ہے۔ اگر مرکز میں حکومت بی جے پی کی ہوتی تو کہا جاسکتا تھا کہ فرقہ پرست ذہنیت کی وجہ سے کارروائی نہیں ہورہی ہے، مگر کانگریس تو سیکولر حکومت کہلاتی ہے۔راہل گاندھی دو ہزار بارہ کے الیکشن کے لیے یوپی میں پاگلوں کی طرح گھوم رہے ہیں،میں نے صاف طور پر کہا ہے کہ وہ چاہے جتنا گھوم لیں، جب تک مسجد کے اماموں کا اعتماد حاصل نہیں کرلیتے، اس وقت تک انہیں کچھ بھی کامیابی ملنے والی نہیں۔ بہر کیف، سیکولر کہلانے والی کانگریس حکومت بھی اس سیکورٹی کے مسئلے کو نظر انداز کر رہی ہے۔ میں نے تو وزیر داخلہ کے علاوہ سونیا کو بھی خط لکھا، مگر نہ تو کارروائی ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی جواب آتا ہے۔اس سے تو یہی لگتا ہے کہ حکومت نے مسلمانوں کے مسائل پر توجہ نہ دینے کی قسم کھا رکھی ہے۔
آپ کی رہائش کے ایک طرف ہندوؤں کی بڑی آبادی ہے تو دوسری طرف مسلمانوں کی۔ایسے میں آپ کو تحفظ دینے میں مسلسل کوتاہی سے تو یہی اشارہ ملتا ہے کہ حکومت دونوں فرقوں کے مابین خونی کھیل کا تماشہ دیکھنا چاہتی ہے؟
ہو سکتا ہے۔ شاید حکومت یہ چاہتی ہو کہ یہ آدمی بہت بولتا ہے لہٰذا اس کی آواز دبا دی جائے۔
جامع مسجد ہو یا فتح پوری مسجد یا پھر ملک کی کوئی بھی جامع مسجد، جمعہ کے دن امام جو تقریر کرتے ہیں اور جو باتیں کہتے ہیں، ان باتوں کو انٹیلی جنس ایجنسی کے اہل کاروں کے ذریعے حکومت تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی ہندو مسلم سب لوگ اس خطاب کو سنتے ہیں۔ایسے میں اگر یہاں سے کوئی ملک مخالف یا فتنہ پرور باتیں ہوتیں تو حکومت کی طرف سے فوری طور پر کارروائی کی جاتی،لیکن آج تک کسی بھی منبر سے اس طرح کی باتیں نہیں کی گئیں، حکومت کے پاس ایسا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔
ہم کسی کے مذہب کے بارے میں کبھی کچھ نہیں کہتے ،نہ ہی منافرت کی کوئی باتیں کرتے ہیں،پھر ہمارے مذہب کے بارے میں کوئی کیوں اشتعال انگیز باتیں کرتاہے۔ہمیں جب بھی کچھ مطالبہ کرنا ہوتا ہے تو حکومت سے کرتے ہیں۔کسی کے مذہب کو نشانہ نہیں بناتے ۔پھر بھی یہ لوگ ہم سے چھیڑ خوانی کرتے ہیں۔
شدت پسند ہندوؤں کی طرف سے یہ جو کہا جاتا ہے کہ ہم نے فتح پوری مسجد مسلمانوں کودے دی۔اس کی حقیقت کیا ہے؟
جیسا کہ میں نے سنا ہے، تاریخ میں کہیں پر یہ درج ہے کہ 1857 میں جب انگریزوں نے دہلی پر قبضہ کیا، تو اس مسجد میں اپنے گھوڑے باندھنے لگے، مسجد کی بے حرمتی ہوتی رہی۔جب وہ یہاں سے جانے لگے تو یہاں سے کچھ فاصلے پر کٹرہ نیل میں ایک سیٹھ چُھنّا مَل رہتے تھے۔ ان کے انگریزوں کے ساتھ تعلقات تھے۔ جب انگریز جانے لگے تو اس مسجد کو ان کے حوالے کرگئے۔ چُھنا مل نے بعد میں مسلمانوں کو یہ مسجد دے دی اور اس کے بدلے میں انہوں نے ہریانہ میں ایک گائوں لے لیا۔ اب یہ ہندو یوں سوچتے ہوں گے کہ اگر چھنا مل مسلمانوں کو مسجد حوالے کرنے کے بجائے مندر بنالیتے تو پوری مسجد ہی مندر میں تبدیل ہوجاتی اور فتح پوری مسجد کے بالکل بیک میں جو ایک مندر ہے اس کی توسیع کرکے پوری مسجد کو اسی میں ضم کردیا جاتا۔
مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی تاریخی شواہد نہیں ہیں۔ اگر شواہد ہوتے تو یہ لوگ عدالت میں جاتے؟
جی ہاں! اس کے باوجود فتح پوری مسجد کے بیک سائڈ کا پورا پُشتہ غیر مسلموں نے دبا رکھا ہے۔اب ان میں ان کے مکانات بنے ہوئے ہیں، جن کی کھڑکیاں مسجد کے احاطے میں کھلتی ہیں۔ مسجد کو نقصان پہنچانے کے لیے 1950-60 کے دوران کئی بم گرائے گئے تھے۔ اڈوانی کی رتھ یاترا کے دوران 1990 میں ہمارے نائب امام مولانا معظم کو پکڑ کر ترشول مارا گیا۔ اس وقت وی پی سنگھ کی حکومت تھی، تو پھر راجیو گاندھی کی طرف سے ایچ کے ایل بھگت، رومیش بھنڈاری، جگدیش ٹائٹلر، مہندر سنگھ ساتھی، جے پرکاش اگروال، شمیم احمد صدیقی وغیرہ ہمارے پاس ہمدردی کا پیغام لے کر آئے تھے۔
کوئی ایسی کمیٹی بنی ہوئی نہیں ہے جو اس بات کی خبر لے، اور مسجد کے ارد گرد کے ناجائز قبضہ کو رکوا سکے؟
دہلی وقف بورڈ ہے مگر دھیان نہیں دیتی۔
مسلمانوں نے تو کئی تاریخی عمارتیں بنوائی ہیں، جیسے تاج محل، لال قلعہ وغیرہ، پھر کیا وجہ ہے کہ صرف تاریخی مسجدوں کو ہی نشانہ بنایا جاتا ہے؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ تاریخی عمارتوں سے حکومت کو آمدنی ہورہی ہے ،جبکہ مسجد سے ایسی کوئی آمدنی نہیں ہوتی۔
مسلمانوں کی بہت سی پراپرٹی حکومت نے دبا رکھی ہے۔ وقف کی جائدادوںپر سرکاری عمارتیں کھڑی ہیں،یہاںتک کہ راشٹرپتی بھون بھی وقف کی زمین پر ہی ہے۔اگر ان تمام اوقاف کی زمینیں مسلمانوں کو واپس کر دی جائیں تو پھر انہیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں رہے گی اور نہ ہی ان کا شمار پس ماندگان میںہوگا۔وہ اوقاف کی آمدنیوں سے ہی اپنی معیشت کو بہتر بناسکتے ہیں۔
بالکل صحیح۔بھئی آپ کسی مسلمان کے سارے کپڑے اتار لو اور کہو کہ غریب ہے، غریب ہے۔ہم یہاں کے باشندے ہیں اور ہمارے اسلاف نے ملک کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں اور دے بھی رہے ہیں ایسے میں ایک قوم کے حق کو دبانا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔
مسلمانوں کو ریزرویشن دیے جانے کے سلسلے میں آپ کی کیارائے ہے ۔ حکومت میںبیٹھا ایک مسلم طبقہ ایسا بھی ہے جو یہ کہتا ہے کہ مسلمانوں کو ریزرویشن نہیں دیا جا سکتا؟
ریزرویشن دیا جا سکتا ہے۔ مذہب کی بنیاد پر نہیں، لیکن غریبی کے نام پر، پس ماندگی کے نام پر تو ریزرویشن دے سکتے ہیں۔ سچر کمیٹی، رنگناتھ مشرا رپورٹ میں مسلمانوں کو پچھڑی ذات سے بھی بد تر حالت میں دکھایا گیا ہے ،لہٰذا انہیں غریبی، پس ماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن دیا جانا چاہیے۔ میں ایک بات اور کہتاہوںکہ دفعہ 341 میں لکھا ہوا ہے کہ ریزرویشن پس ماندگان کو دیا جائے گا، لیکن مسلمانوں کو نہیں دیا جائے گا۔ اس دفعہ سے مسلمان کا لفظ ہٹا دیجئے، اس کے بعد جو بھی غریب ،پچھڑا ہوا ہے اسے ریزرویشن ملنا چاہیے ، چاہے وہ مسلمان ہو یا کوئی اور۔ اگر کوئی دھوبی ہندو ہے، سکھ ہے ، بودھ ہے تو اسے ریزرویشن ملے گا اور اگر وہی دھوبی مسلم غریب ہے تو اسے نہیں ملے گا۔یہ فرق مذہب کی بنیاد پر کیوںکیا جارہاہے۔
جو مسلم لیڈر ہیں وہ مسلمانوں کے ووٹ سے ہی آتے ہیں پھر وہ مسلمانوں کے ریزرویشن کے حق میں کیوں نہیں بولتے ہیں؟
مسلم ووٹ تقسیم ہو جاتے ہیں۔ اگر سمجھداری سے ووٹ دیں تو کم سے کم 100 مسلم نمائندے یاجو سیکولر ذہنیت والے مسلمانوں کے ہمدرد ہیں، وہ منتخب ہوسکتے ہیں، لیکن افسوس یہ ہے کہ جب یہ مسلمانوں کے ووٹ سے جیت کر آتے ہیں تو اپنی پارٹی کی وہپ سے باہر نہیں نکل پاتے ہیں۔ وہ وہی بولتے ہیں جو ان کی پارٹی کی پالیسی ہوتی ہے، چاہے وہ پالیسی مسلمانوں کے حق میں نہ ہو۔ایسے لوگ گنہگار ہیں، کیونکہ مسلمان ہوکر مسلمان کے حق میں نہیں بولتے ہیں۔اللہ کے یہاں انہیں جواب دینا ہوگا، کیونکہ ملی مفاد پارٹی مفاد سے زیادہ اہم ہے۔
علماء کرام جو اس زمین کے اصلی وارث ہیں، انہیں قوم کو بیدار کرنے میں پیش پیش رہنا چاہیے، لیکن وہ اپنی ذمہ داریاں کما حقہ نبھا نہیں رہے ہیں۔ انہیں قوم کو یہ احساس دلانا چاہیے کہ وہ سیاسی لیڈروں سے مطالبہ کریں کہ وہ ان کے لیے سہولیات فراہم کریں، تبھی وہ ان کو ووٹ دیں گے۔ ہم نے تو یہاں تک دیکھا ہے کہ بعض مدارس میں اخبارات پڑھنے تک پر پابندی ہے یعنی بچوںکو سیاست سے دور رکھا جاتا ہے جبکہ زمین پر ایک اچھی معاشرت کے لیے سیاست سے انسلاک لازمی ہے۔
یہ کمی تو ہے۔ علماء ہوں، سجادہ نشیں یا خانقاہ کے ذمہ دار، کام میں کوتاہی تو ہوئی ہے، پھر بھی یہ لوگ کچھ نہ کچھ تو کر ہی رہے ہیں۔آپ بالکل صحیح کہہ رہے ہیں کہ ہمیں مذہب کو سیاست سے الگ نہیں کرنا چاہیے۔میں ہمیشہ اپنے خطاب میں مذہبی امور کے ساتھ آخر میں سیاست پر بھی کچھ دیر بولتا ہوں۔ صرف مذہب میں سمٹ کر رہ جانا ٹھیک نہیں ہے بلکہ دنیوی معلومات بھی ضروری ہے۔ ان معلومات کے ذریعہ ہی ہم دوسروں کو فائدے پہنچا سکتے ہیں۔ مجھ سے جہاں تک ہوتا ہے اس سلسلے میں تقریروں ، تحریروں کے ذریعہ عوام کو بیدار کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ g






