منریگا پر سیاست

فردوس خان
ملک میں آج بد عنوانی سب سے بڑا مدعا بنا ہوا ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں عوامی مفاد کے بجائے پارٹی مفاد کے لیے اس کا استعمال کر رہی ہیں۔ کانگریس کے یوراج راہل گاندھی کے ذریعہ اتر پردیش میں مرکزی منصوبہ جات کو نافذ کرنے میں کوتاہی برتنے کا الزام لگاتے ہی اس پر سیاسی رنگ چڑھنا شروع ہو گیا ہے۔ مرکزی وزیر برائے دیہی ترقی، جے رام رمیش نے اترپردیش کی وزیر اعلیٰ مایاوتی کو خط لکھ کر مہاتما گاندھی راشٹریہ گرامین روزگار گارنٹی یوجنا (منریگا) میں گھوٹالے کا ذکر کرتے ہوئے اس کی سی بی آئی جانچ کرانے کی بات کہی۔ اس سے خفا مایاوتی نے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو خط لکھ کر جے رام رمیش پر سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے سی بی آئی جانچ سے صاف انکار کر دیا۔ راہل گاندھی نے اتر پردیش کے دورے میں دیہی علاقوں کے لوگوں سے بات چیت کرکے مرکزی منصوبہ جات کے بارے میں جانکاری حاصل کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ریاست میں مایاوتی سرکار جان بوجھ کر مرکزی منصوبوں کو نافذ کرنے میں کوتاہی برت رہی ہے، تاکہ اس سے مرکز کی شبیہ دھندلی ہو۔ ان کا یہ بیان آنے کے بعد مرکز نے اپنے منصوبوں کو لے کر سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے منریگا جانچ ٹیم بھیج دی۔ ٹیم نے اتر پردیش کے گونڈہ، کُشی نگر، مرزا پور، بلرام پور اور بہرائچ ضلعوں میں قریب پانچ ہزار کروڑ روپے کے سرکاری خزانے کے گھوٹالے کی بات کہی۔ حالانکہ اس منصوبے کی عمل آوری میں خامیوں اور دولت کے بے جا استعمال کی بات ریاستی سرکار نے بھی قبول کی ہے۔اگر پانچ ضلعوں میں یہ حالت ہے، تو باقی 67 ضلعوں کی صورتحال کیا ہوگی،اس کا آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
نیشنل رورل ہیلتھ مشن ( این آر ایچ ایم) گھوٹالے اور سی ایم او قتل سانحہ کے معاملے میں کُشی نگر سے بہوجن سماج پارٹی کے رکن اسمبلی رام پرساد جیسوال کا نام ایک بار پھر گھوٹالے سے جڑتا نظر آرہا ہے۔ ان کے بھتیجے پردیپ کمار جیسوال کی بیوی ساوتری کُشی نگر کی ضلع پنچایت صدر ہیں۔ساوتری نے قانون کو طاق پر رکھ کر 30 میٹر لمبے پُل کی تعمیر کرائی تھی، جو چھ مہینے کے بعد ہی ٹوٹ گیا۔ اس پر ساوتری کے خلاف معاملہ درج کرایا گیا۔ کارروائی سے بچنے کے لیے اس نے 30  لاکھ روپے جمع کراکر اپنی گردن بچا لی۔ ایسے کئی معاملے ہیں، جن میں بہو جن سماج پارٹی کے لیڈروں نے کروڑوں کے الٹ پھیر کیے ہیں۔ سرکاری افسر بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں ہیں۔ بارہ بنکی ضلع کے گائوں مجرا میرا پور میں تو ایک افسر نے اپنے فارم ہائوس میں پانی لے جانے کے لیے 17 کڑور روپے سے ایک مائینر کی ہی تعمیر کرالی۔ صوبائی وزیر برائے دیہی ترقی پردیپ جین آدتیہ نے علاقے کا دورہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ گائوں سے گزر رہی شاردا ذیلی ندی کی مائینر کا زیادہ تر پانی ایک افسر کے فارم ہائوس تک ہی آپاتا ہے، جبکہ ان کے کھیت پانی کو ترس رہے ہیں۔
منریگا کو سنجیدگی سے نہ لینے والی ریاستوں کی فہرست میں اتر پردیش اول نمبر پر ہے۔ منصوبہ کے بجٹ کو غیر ضروری چیزوں کے لیے خرچ کیا جا رہا ہے۔ ریاستی سرکار نے منریگا کی نگرانی کے نام پر ڈیجیٹل کیمروں پر لاکھوں روپے خرچ کر ڈالے، جبکہ اس کا استعمال ترقیات کے لیے ہونا تھا۔ اتنا ہی نہیں فرضی جاب کارڈ بنا کر بھی مزدوروں کے حصے کی رقم ہڑپی جا رہی ہے۔ ایسے کئی معاملے سامنے آئے ہیں، جن میں مزدور صرف کاغذوں میں ہی کام کر رہے ہیں یعنی رجسٹر میں تو مزدوروں کے نام درج ہیں، لیکن آدمی کی جگہ مشینوں سے کام لیا جا رہا ہے۔ منریگا کی ’’آدرش جلاشے یوجنا‘‘کے تحت بنے ریاست کے ہزاروں تالابوں میں مزدوروں کی جگہ جے سی بی اور ٹریکٹروں کا استعمال کر کے گول مال کیا گیا۔ مزدوروں کو ان کی مزدوری کی ادائیگی نہیں کیے جانے کے معاملے بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔کانگریس ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی کا کہنا ہے کہ منریگا کی رقم کا استعمال کھلونے ، ٹینٹ اور کیلنڈر خریدنے میں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مایاوتی غلط فیصلوں کی حمایت کرتی ہیں اور بد عنوانی کوپناہ دیتی ہیں۔
در اصل، یہ منصوبہ گائوں والوں کو روزگار دلانے کے بجائے لیڈروں اور افسروں کی جیبیں بھرنے کا ذریعہ بن کر رہ گیا ہے۔ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی کم وبیش یہی حالت ہے۔ بھاجپا کی حکومت والی ریاست مدھیہ پردیش میں بھی منریگا میں گھوٹالے کے معاملے سامنے آئے ہیں۔ ٹیکم گڑھ ضلع میں منریگا میں آٹھ کروڑ روپے سے زیادہ کا گھوٹالہ روشنی میں آیا ہے۔ فروری 2006 سے جون 2009 کے درمیان سب سے زیادہ گڑبڑیاں پائی گئیں۔ گرام پنچایتوں کے سکریٹریوں اور سرپنچوں نے بینک سے رقم تو نکال لی، لیکن کوئی کام نہیں ہوا۔ یہ ساری رقم ان لوگوں نے ہڑپ لی۔ اسی طرح دَتیا ضلع کے گائوں ہتھ لئی میں کنووں کی تعمیر صرف کاغذوں میں ہی کی گئی۔یہی نہیں، کسانوں کے نامکمل کنووں کو بھی منصوبے میں پورا دکھا دیا گیا۔ منریگا کے تحت پارک و شمشان گھاٹ کی تعمیر کا کام بھی نہیں کرایا گیا۔
اس معاملے میں کانگریس کی حکومت والی ریاست بھی پیچھے نہیں ہے۔ ہریانہ کے انبالہ ضلع میں 2006 سے 2009 تک منریگاکے کام کاج پر 44 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ محکمۂ جنگلات کے ذریعہ نارائن گڑھ سیکشن کے لالپور اور حمید پور، ساہا سیکشن کے سنبھالکھا، شہزاد پور سیکشن کے رتور، مانکپور اور ببیال وغیرہ گائوں میں کروائے گئے کاموں کی جانچ کی گئی تو وہ کام ادھورے پائے گئے، جنہیں کاغذوں میں پورا دکھایا گیا تھا۔ ریاستی سرکار ہریانہ وجیلنس بیورو سے اس کی جانچ کرا رہی ہے۔ قابل غور یہ ہے کہ منصوبے کے کام کے لیے انبالہ ضلع کو گزشتہ 2 فروری کو وزیر اعظم کا ایکسی لینس ایوارڈ ملا تھا۔ یہ اعزاز محکمۂ جنگلات اور ڈی آر ڈی او کے ذریعہ مقررہ وقت میں زیادہ سے زیادہ کام کرنے کے لیے دیا گیا تھا۔ راجستھان کے ڈونگرپور ضلع کی پنچایت کے عہدیداروں نے بنا کام کرائے اور بنا سامان کی سپلائی کے ہی 58 لاکھ روپے سے زیادہ کی ادائیگی کر دی۔ اس میں سے زیادہ تر رقم کا خرچ خودپر اور اپنے رشتہ داروں پر کیا گیا۔ معاملہ سیمل واڑہ پنچایت کمیٹی کے تحت آنے والی گرام پنچایت جھرنی کا ہے۔
دراصل، سیاستداں بد عنوانی کی بات تو کرتے ہیں، لیکن اپنی پارٹی کی حکومت والی ریاستوں کی بد عنوانی پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کو ہی لے لیجئے۔ رتھ یاترا نکالنے کے شوقین اڈوانی، بدعنوانی کو لے کر ملک میں رتھ یاترا پر نکلے ہیں، لیکن وہ بی جے پی حکومت والی ریاستوں کی بدعنوانی کے مدعے پر خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔ مثلاً کرناٹک میں زمین گھوٹالے میں شامل بی ایس یدورپا اور بی جے پی لیڈروں کے ملوث ہونے پر وہ ایک لفظ تک نہیں بولتے ۔ اگر راہل گاندھی خود کو مثالی لیڈر کے طور پر متعارف کرانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے انہیں کانگریس حکومت والی ریاستوں میں مرکزی منصوبہ جات کے کام پر دھیان دینا ہوگا۔ وہاں منصوبوں کی عمل آوری کے معاملے میں انہیں سختی برتنی ہوگی۔ ایسا کرنے سے جہاں ان ریاستوں میں عوام کا بھلا ہوگا، وہیں اس سے کانگریس کی عوامی مقبولیت بھی بڑھے گی۔اگر راہل ان ریاستوں میں مرکزی منصوبہ جات کو ٹھیک سے نافذ نہ کرا پائے تو عوام انہیں سنجیدگی سے نہیں لیں گے۔  g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *