لندن نامہ

حیدر طبا طبائی
لیبیا میں معمر قذافی کا خاتمہ بخیر ہوچکا۔ اگر امریکہ و یوروپ نہ ہوتے تو آج قذافی ہوتے۔ اب ان کے خاندان کا ایک اہم رکن سیف الاسلام زندہ ہے۔ابھی لیبیا کے نئے رہبران یہ ہی نہیں جانتے کہ جمہوریت کے راستے کشادہ رکھنے کے لیے، عوام کے جذبہ و احساس کو پذیرائی بخشنے کے لیے تمام سیاسی و سماجی معاملات کو منتخب نمائندوںکی اجتماعی فکر کے ذریعے سلجھایا جاتاہے۔یہ لیبیائی اب بھی امریکی و یوروپی استبداد کی گرفت میں ہیں ۔ لندن سے ان نوگرفتاران سیاست کے لیے ہر روز فرمان جاری ہوتے ہیں۔ اب یہ حالت ہے کہ سر زمین لیبیا کرائے پر یا پٹے پر دی جانے والی مملکت بن چکی ہے۔ ابھی حالات اور بھی خراب ہوں گے۔ قذافی کی اولادیں ، بیویاں الجزائر میں ہیں۔اب ان کو واپس لاکر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب یہ خبر گرم ہے کہ قذافی خاندان سے ورلڈ ہیومن رائٹس کے لوگ مل کر نیٹو کے خلاف جنگی جرائم کی شکایت درج کرائیں اور عالمی عدالت انصاف ہیگ میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

اسلامی سال کا بارہواں اور آخری مہینہ ذی الحجہ ہے۔ لندن میں قربانی کے لیے مسلمان قصائی کو آرڈر دے کر آنا پڑتا ہے تاکہ وہ آپ کے نام کی قربانی سلاٹر ہائوس میں کرا دے اور کھال کسی خیراتی انجمن کو دے کر گوشت ان کو پہنچا دے ۔ قربانی کا وقت فجر کی نماز کے بعد ہے، جبکہ قصائی صاحب ایک دن قبل ہی آپ کا گوشت لاکر دے دیں گے اور کہیں گے صاحب کھال دے دی گئی ہے۔ اس لیے ہم لوگ رقم اپنے عزیزوں کو روانہ کر دیتے ہیں تاکہ کھال اور گوشت یتیم خانے کو دے دیے جائیں، تب بقر عید ہوگی۔

ان کا کہنا ہے کہ قذافی کے قافلے پر نیٹو کا حملہ، قذافی کا سیمنٹ ٹیوب میں روپوش ہونا براہ راست موت کی طرف لے گیا۔ اب لندن والوں نے گِیر بدل لیا ہے اور قذافی اور اس کے حامیوں کا قتلِ عام کرنے پر لیبیا کی نئی حکومت پر تنقید شروع کردی ہے۔ کہا گیا ہے کہ کسی کو وحشیانہ اقدام نہ کرنے دیا جائے ۔
برطانوی پارلیمنٹ میں ایک اسکیم پر غور ہورہا ہے کہ اگر شوہر کے ارادے یا گرل فرینڈ کے ساتھ بوائے فرینڈ کا تشدد کا ارادہ بھی ہے تو وہ پولس کو بتادے تو ان لوگوں کو سخت الفاظ میں بیوی یا گرل فرینڈ کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کی ہدایت کی جائے گی اور دوسری اسکیم کے تحت ایک مرد کسی عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت کے ساتھ تعلق قائم کیے ہوئے ہو یا اس کا ماضی کیا ہے سب کچھ پولس عورتوں کو بتا دیا کرے گی۔
برطانوی ماہرین نے آواز سے پانچ گنا تیز طیارہ بنانے کا عندیہ دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان طیاروں کی رفتار چار ہزارکلو میٹر فی گھنٹہ ہوگی۔ اس کے علاوہ ہر طیارے کو ہوا میں ہی تیل فراہم کرنے کے لیے فیول اسٹیشن تیار کیے جارہے ہیں۔لندن میں مرغ سپلائی کرنے والی کمپنی کے ایک ملازم کا کام کے دوران ہاتھ کٹ کر جدا ہوگیا، جس کے سبب کمپنی نے ملازم کو تین لاکھ پونڈ بطور ہرجانہ ادا کردیا ہے۔ لندن یونیورسٹی نے بتایا کہ مچھلی کے تیل کے استعمال سے پروسٹیٹ کینسر کو روکا جا سکتا ہے۔ ویسے مچھلی کھانے سے ہی دل کی بیماری اور پروسٹیٹ کی بیماریوں میں بڑا فائدہ ہوتا ہے۔
لندن کی ایک مسجد میں نماز جمعہ کے بعد جب وہاں کے ایم پی جو ٹوری پارٹی سے ہیں، مسلمان ووٹروں سے مصافحہ کرنے گئے تو  ’’ مسلم اگینسٹ کروسیڈ‘‘ پارٹی کے ورکروں نے ان کے خلاف نعرے بلند کیے اور’ گو بیک ‘کہا۔ ایم پی کا کہنا ہے کہ یہ موت کی دھمکی کے مترادف ہے اور وہ پولس میں رپورٹ درج کرائیں گے تاکہ یہ انجمن بند کردی جائے۔
برطانیہ میں نئی اسکریننگ مشین ایجاد ہوئی ہے، جس کے ذریعہ اب ہر آنے جانے والے کی پوری معلومات اس کی شکل دیکھ کر اسکرین پر آجائے گی۔ بتایا گیا ہے کہ اس مشین کے ذریعہ 2005 سے اب تک دس ہزار مجرموں اور غیر قانونی تارکین وطن کو پکڑا جا چکا ہے۔ ابھی یہ مشین صرف فرانس کے بارڈر کو فراہم کی گئی ہے، لیکن 2013 تک یہ مشین دوسرے ملکوں کو بھی فروخت کردی جائے گی۔ انٹرنیٹ پر برطانوی فیس بُک کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ 10 فیصد برطانوی لڑکے لڑکیاں اپنے سابقہ دوستوں کو تلاش کرتے ہیں، چار فیصد گمشدہ والدین کو تلاش کرتے ہیں۔ اس وقت برطانیہ کی سب سے زیادہ عمر کی خاتون گلن میڈک ہیں جو اسکاٹ لینڈ کے ایک خوبصورت گائوں میں رہتی ہیں ۔ گزشتہ دنوں انہوں نے اپنی 110ویں سالگرہ کا کیک 111 موم بتیوں کے ساتھ کاٹا ۔وہ دن میں دو بار چہل قدمی کے لیے باہر جاتی ہیں اور پھر وہ اپنے سارے کام خود کرتی ہیں۔
اسلامی سال کا بارہواں اور آخری مہینہ ذی الحجہ ہے۔ لندن میں قربانی کے لیے مسلمان قصائی کو آرڈر دے کر آنا پڑتا ہے تاکہ وہ آپ کے نام کی قربانی سلاٹر ہائوس میں کرا دے اور کھال کسی خیراتی انجمن کو دے کر گوشت ان کو پہنچا دے ۔ قربانی کا وقت فجر کی نماز کے بعد ہے، جبکہ قصائی صاحب ایک دن قبل ہی آپ کا گوشت لاکر دے دیں گے اور کہیں گے صاحب کھال دے دی گئی ہے۔ اس لیے ہم لوگ رقم اپنے عزیزوں کو روانہ کر دیتے ہیں تاکہ کھال اور گوشت یتیم خانے کو دے دیے جائیں، تب بقر عید ہوگی۔ g

Share Article

حیدر طباطبائی

haidertabatabai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *