لندن نامہ

حیدر طبا طبائی
پچھلے دنوں فلسطین کا مسئلہ بہت گرم خبر بن گیا اور دنیا بھر میں اخبارات، رسائل اور الیکٹرانک میڈیا میں اس بات پر تبصرے ہوتے رہے ۔ماہرین نے کھل کر تبصرہ کیا۔ وجہ یہ ہے کہ تقریباً گزشتہ چایس سالوں سے مغربی لیڈروں کے جھوٹے وعدے پر بھروسہ کرکے اب فلسطین کے موجودہ صدر جناب محمود عباس نے 23 ستمبر 2011 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آزادیٔ فلسطین کا مطالبہ کیا ، پھر دوسرے دن سکریٹری جنرل بان کی مون کو ایک درخواست پیش کردی ۔ بس ایک طوفان برپا ہوگیا۔ صرف ایران نے حمایت کی ، جبکہ امریکہ اور فرانس نے کھل کر مخالفت کی۔ ان کا تیسرا ساتھی برطانیہ ابھی خاموش تھا، لیکن ووٹنگ کے وقت برطانیہ نے تمام یوروپی ممالک سے فلسطینی تجویز کی مخالفت میں ووٹ ڈالنے کو کہا۔اب تھوڑا پیچھے جائیں، جب ڈھائی سال قبل امریکی صدر باراک حسین اوبامہ صاحب نے مصر میں واقع دنیا کی سب سے بڑی اسلامی یونیورسٹی جامعہ الازہر میں تقریر کی اور مسلمانوں کے لیے چند باتیں کیں۔شہر انقرہ میں ایسی تقریر کی کہ بعض مسلمان مکار امریکہ کی ان باتوں پر خوش بھی ہوئے، کیونکہ اوبامہ کو جو لکھی ہوئی تقریر اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے دی تھی اس میں سفید جھوٹ یہ بولا گیا تھا کہ امریکہ مسلمانوں کا دشمن نہیں ہے، لیکن اسرائیل سے بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام کرانا عراق، افغانستان میں خود قتل کا بازار گرم رکھنا یہ سب کیا ہے؟

برطانیہ میں پہلی بار ایک دانشور نے جو ماہر تعلیم بھی ہیں بتایا کہ آج کا لندن نیند کے عالم میں آہستہ چلنے والا ’’ اپار تھیڈ‘‘ کی مانند بڑھ رہا ہے ۔یہ شہر روز بروز اقلیتی علاقوں میں تقسیم ہورہا ہے۔ اگر اسکولوں کی حالت زار دیکھی جائے تو اقلیتی علاقوں میں کہیں کوئی انگریز بچہ آجاتا ہے تو اس کا پڑھنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ انگریزوں کے علاقوں میں ایشیائی دکاندار تک اب برداشت نہیں ہے۔ لندن کی حالت آہستہ آہستہ اب جنوبی افریقہ کی طرح ہورہی ہے، جہاں حکومت  نے رنگ و نسل کی بنیاد پر تمام افراد کو الگ الگ علاقوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔

اصل میں فلسطین پر ظلم کرنے والے اسرائیلی جرنیل امریکی ہیں ۔بغداد میں  سارے کے سارے یہودی جرنیل تعینات ہیں ۔ وہی افغانستان میں بھی۔ برطانوی عوام میں اس دوغلی سیاست پر  بہت غم ہے ، لیکن برطانیہ کی ہر سیاسی پارٹی اسرائیلی ظلم کی حمایتی ہے ۔ برطانوی وزارت خزانہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اب تک برطانیہ افغان جنگ پر 18 ارب پونڈ خرچ کر چکا ہے۔ ادھر وزارت دفاع نے فوراً اعلان کیا کہ 2014 کے بعد سب برطانوی فوجی افغانستان سے بلا لیے جائیں گے، پھر آئندہ  برطانوی فوجی کسی فوجی مشن کا حصہ نہیں بنیں گے۔فوراً ہی امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے اعلان کیا کہ لیبیا اور افغانستان و عراق میں جنگ کرنے کے لیے امریکہ مزید اخراجات کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا ہے۔
برطانیہ میں پہلی بار ایک دانشور نے جو ماہر تعلیم بھی ہیں بتایا کہ آج کا لندن نیند کے عالم میں آہستہ چلنے والا ’’ اپار تھیڈ‘‘ کی مانند بڑھ رہا ہے ۔یہ شہر روز بروز اقلیتی علاقوں میں تقسیم ہورہا ہے۔ اگر اسکولوں کی حالت زار دیکھی جائے تو اقلیتی علاقوں میں کہیں کوئی انگریز بچہ آجاتا ہے تو اس کا پڑھنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ انگریزوں کے علاقوں میں ایشیائی دکاندار تک اب برداشت نہیں ہے۔ لندن کی حالت آہستہ آہستہ اب جنوبی افریقہ کی طرح ہورہی ہے، جہاں حکومت  نے رنگ و نسل کی بنیاد پر تمام افراد کو الگ الگ علاقوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ لندن کے طلبا دوسری کمیونیٹیز کے طلبا کے ساتھ مِل کر نہیں رہتے جو بہت ہی مسائل پیدا کرنے والا فعل ہے۔
لندن کے ایک علاقے ویسٹ برامیچ میں ایک پاکستانی کے گھر ایک گورا چور آگیا، جہاں صرف ایک حاملہ خاتون موجود تھی ۔ لوٹ کے دوران انگریز غنڈے نے حاملہ خاتون کو لاتیں گھونسے مارے ۔ غریب آدمی کا گھر تھا، صرف موبائل چھین کر فرار ہوگیا۔
گزشتہ دنوں اسکاٹ لینڈ یارڈ نے لندن کے حالیہ فسادات میں لوٹ مار کے دوران ٹی وی کیمروں سے شناخت کیے گئے مزید 14 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اب تک گرفتار شدگان کی مجموعی تعداد 671 ہوچکی ہے جن میں زیادہ تر جوان لڑکے لڑکیاں ہیں۔ ابھی اور گرفتاریوں کا امکان ہے۔
برطانیہ و جرمنی میں سوئس خفیہ اکائونٹس کی معلومات فراہم کرنے کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ اگر سوئس لینڈ کے بینک خفیہ اکائونٹ کی معلومات اس ملک کی حکومت کو فراہم کردیں تو سوئس بینکوں سے فائدہ ہی کیا؟ اس بات  پر یوروپی یونین کی اقتصادی و مالیاتی امور کی کمیٹی جائزہ لے کر یوروپی پارلیمنٹ کو پیش کرے گی۔ دنیا بھر میں لڑکوں کی مائیں جو لڑکے کی شادی کرنے کے بعد ساس بن جاتی ہیں ان ساسوں پر ایک سروے رپورٹ پورے برطانیہ کی آئی ہے ۔ انگریز گھرانوں کی بہوئوں نے کہا ہے کہ ساس کنٹرولنگ اتھارٹی اور شادیاں ٹوٹنے کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔ بعض انگریز بہوئیں اپنی انگریز ساس کو عیار اور سخت گیر سمجھتی ہیں۔سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اکثر ساسیں لڑکوں کو بہوئوں کے ساتھ زیادہ اختلاط سے بعض رکھتی ہیں جبکہ 25 فیصد لڑکے مائوں کی بات نہیں سنتے۔

Share Article

حیدر طباطبائی

haidertabatabai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *