کوئلہ گھوٹالہ: حکومت اور اپوزیشن خاموش کیوں ہے

ششی شیکھر
ابھی حال ہی میں وزیر کوئلہ شری پرکاش جیسوال نے کہا کہ ان کی تمام کوششوں کے بعد بھی کوئلہ کے کاروبار میں50فیصد بدعنوانی ہے۔ انھوں نے اس شعبہ میں ہو رہی بدعنوانی کو تاریخی بتایا۔ وہ کہتے ہیں کہ ملک میں بجلی کی کمی کی سب سے بڑی وجہ کوئلے کی ڈیمانڈ، سپلائی اور کوالٹی سے جڑی ہے۔ وہ یہ بھی مان رہے ہیں کہ کوئلہ کے شعبہ میں پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کی بجلی کمپنیوں کے درمیان ٹکرائو ہے اور اس ٹکرائو میں پرائیویٹ کمپنیاں پبلک سیکٹر کی کمپنیوں پر بھاری پڑ رہی ہیں۔ دوسری جانب سی اے جی نے وزارت کوئلہ کو ریلائنس پاور لمیٹڈ کو 1لاکھ 20ہزار کروڑ روپے کے کوئلہ کا فائدہ پہنچانے کا قصوروار پایا ہے۔ سی اے جی کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے کوئلہ لائسنس کے ضوابط میں تبدیلی کر کے ریلائنس کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ اپنے سرپلس کوئلہ کو دیگر پروجیکٹس کے لیے استعمال کر لے۔ بہر حال، وزیرموصوف یہ سب کچھ مانتے اور جانتے ہوئے بھی کارروائی کے نام پرریاستوں سے اپنی سوچ بدلنے کی بات کہتے ہیں۔ کوئلے جیسے اہم وسیلے کی لوٹ جس طرح اس ملک میں ہوئی ہے اور جس کی وجہ سے لاکھوں کروڑ روپے کا گھوٹالہ اس ملک میں ہوا ہے، اس کے آگے 2جی اسپیکٹر م جیسا گھوٹالہ بھی بونا ثابت ہوگا، لیکن وزیر کوئلہ جانچ کرانے کی بجائے صرف بیان بازی کر رہے ہیں۔ چوتھی دنیا نے سب سے پہلے امسال اپریل میں (حکومت نے ملک کو بیچ ڈالا-26لاکھ کروڑ کا گھوٹالہ ) ہندوستان کے سب سے بڑے گھوٹالہ کا پردہ فاش کیا تھا۔ اس گھوٹالہ میں کول بلاک الاٹمنٹ کے نام پر تقریباً26لاکھ کروڑ روپے کی لوٹ ہوئی۔ مزیدار بات یہ ہے کہ یہ الاٹمنٹ وزیر اعظم منموہن سنگھ کی مدت کار میں اور اس وقت ہوا، جب وہ وزارت کوئلہ بھی دیکھ رہے تھے یعنی وزارت کوئلہ کا چارج انہی کے پاس تھا۔ کوئلہ کو کالا سونا کہا جاتا ہے، لیکن حکومت نے اس کالے سونے کو خرد برد کر ڈالا اور اپنے چہیتے سرمایہ کاروں اور دلالوں کو مفت میں ہی دے دیا ۔ نتیجتاً ملک کو 26لاکھ کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔
جب 2جی معاملہ میں پھنسی حکومت کو یہ لگا کہ کوئلہ مہا گھوٹالہ اس کے لیے ایک اور پریشانی کا سبب بن سکتا ہے، تب وزارت کوئلہ نے دکھاوے کے لیے کچھ کمپنیوں کے خلاف کارروائی شروع کی۔ وزیر کوئلہ شری پرکاش جیسوال نے کہا تھا کہ گزشتہ ایک دہائی میں تقریباً208کول بلاک پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر کو الاٹ کیے گئے تھے، جن میں سے کئی کمپنیوں کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ کارروائی کے تحت ان کی لیز خارج کرنے کی بات بھی تھی، لیکن کارروائی محض کچھ کمپنیوں کے خلاف ہوئی۔ این ٹی پی سی کو الاٹ کیے گئے 5کول بلاک خارج کر دیے گئے ، لیکن پرائیویٹ سیکٹر کی ڈیفالٹر کمپنیوں کے خلاف کارروائی سے حکومت بچتی رہی۔ دوسری طرف آج ملک میں جس مقدار میں کوئلہ کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے، اس مقدار میں پیداوار نہیں ہو رہی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ وہ کمپنیاں ہیں، جنہیں کول بلاک الاٹ کیے گئے تھے، لیکن جنھوں نے وہاں پیداوار شروع نہیں کی، حکومت نے ان کے خلاف کارروائی بھی نہیں کی۔
دراصل ،کوئلہ کے بلاک الاٹمنٹ میں کچھ شرائط بھی ہوتی ہیں۔ مثلاً، جن کانوں میں کوئلہ کی کان کنی سطح کے نیچے ہونی ہے، ان میں الاٹمنٹ کے 36ماہ بعد (اور اگر کان جنگل میں ہے تو یہ میعاد چھ مہینے بڑھا دی جاتی ہے) کان کنی کا عمل شروع ہو جانا چاہیے۔ اگر کان اوپن کاسٹ قسم کی ہے تو یہ میعاد 48ماہ کی ہوتی ہے۔ (جس میں جنگلی علاقہ ہو تو پہلے کی طرح ہی چھ ماہ کی چھو ٹ ملتی ہے) اگر اس میعاد میں کام شروع نہیں ہوتا تو کان مالکوں کا لائسنس خارج کر دیا جاتا ہے۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ اس ضابطہ کو اس لیے بنایا گیا ہے، تاکہ کان اور کوئلہ کی کان کنی بچولیوں کے ہاتھ نہ لگے، لیکن حکومت نے ایسی کئی کانوں کا لائسنس خارج نہیں کیا، جو اس میعاد کے اندر پیداوار شروع نہیں کر پائیں۔ایسا اس لیے کیونکہ الاٹمنٹ کے وقت بچولیوں کو بہت بڑی تعداد میں کانیں الاٹ کی گئی تھیں، تاکہ وہ انہیں آگے چل کر سرمایہ کاروں کو اونچی قیمتوں میں فروخت کر سکیں۔ علاوہ ازیں جب کوئلہ کی قیمتیں بڑھ جائیں، تب پیدوار شروع ہو اور من مانی قیمتوں پر کوئلہ کی فروخت کی جا سکے۔ ظاہر ہے، یہ سب گورکھ دھندہ حکومت کے علم میں ہوا اور ہو رہا ہے، پھر بھی اگر کارروائی نہیںہو رہی ہے تو اسے کیا کہیں گے؟
دراصل، مرکزی حکومت نے مائنس اور منرل (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن ) ایکٹ 1957میں ترمیم کرنے کی بات کہی تھی اور اس درمیان کوئی بھی کوئلہ کان الاٹ نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ 2006میں یہ بل راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا اور مانا گیا کہ جب تک دونوں ایوان اسے منظوری نہیں دیتے اور یہ بل پاس نہیں ہو جاتا، تب تک کوئی بھی کوئلہ کان الاٹ نہیں کی جائے گی، لیکن یہ بل چار سالوں تک لوک سبھا میں جان بوجھ کر زیر التوا رکھا گیا اور 2010میں جاکر یہ قانون میں تبدیل ہو پایا۔ اس درمیان پارلیمنٹ میں کیے گئے وعدے سے حکومت مکر گئی اور کوئلہ کے بلاک تقسیم کرنے کا گورکھ دھندہ چلتا رہا۔2006-07کی بات ہے، جب شبو سورین جیل میں تھے اور وزیراعظم کے پاس وزارت کوئلہ کاچارج تھا۔ وزیراعظم کی قیادت میں کوئلہ کے ترمیم شدہ علاقوں کو پبلک سیکٹر میں سب سے زیادہ تیزی سے تقسیم کیا گیا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کوئلہ کانیں صرف 100روپے فی ٹن کی معدنیاتی رائلٹی کے عوض میں تقسیم کر دی گئیں۔ ایسا تب کیا گیا، جب کوئلہ کی بازاری قیمت 1800سے2000روپے فی ٹن سے اوپر تھی۔اصل میں اس بل کو زیر التوا رکھنے کی سیاست بہت گہری تھی۔ اس بل میں واضح طور پر لکھاتھا کہ کوئلہ یا کسی بھی معدن کی کانوں کے لیے پبلک نیلامی کا عمل اپنایا جائے گا۔ اگر یہ بل زیر التوا نہ رہتا تو حکومت اپنے چہیتوں کو مفت کوئلہ کیسے تقسیم کر پاتی۔ اس مدت میںتقریباً21.69بلین ٹن کوئلہ کی پیداوار والی کانیں پبلک سیکٹر کے دلالوں اور سرمایہ کاروں کو مفت میں دے دی گئیں۔ اس درمیان وزیراعظم بھی وزیر کوئلہ رہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ انہیں کے نیچے کوئلہ کے سب سے زیادہ بلاک تقسیم کیے گئے۔ ایسا کیوں ہوا؟ ان چار سالوں میں تقریباً175بلاک عجلت میں سرمایہ کاروں کو دے دیے گئے۔ چوتھی دنیا نے ہی سب سے پہلے اس گھوٹالہ کو سامنے لانے کا کام کیا تھا اور بتایا تھا کہ کیپٹیو بلاک (کوئلہ کا ترمیم شدہ علاقہ) کے نام پر کوئلہ کو پبلک سیکٹر کے لیے کھولنے کی پالیسی سے کس طرح اس ملک کے وسائل اور خزانے کو لوٹنے کی چھوٹ دے دی گئی ۔ g

سی اے جی خاموش کیوں ہے؟
1993سے لے کر 2010تک کوئلہ کے 208بلاک تقسیم کیے گئے، یہ 49.07 بلین ٹن کوئلہ تھا۔ ان میں سے 113بلاک پرائیویٹ سیکٹر اور 184بلاک پرائیویٹ کمپنیوں کو دیے گئے اور یہ 21.69بلین ٹن کوئلہ تھا۔ اگر بازاری قیمت پر اس کا تخمینہ کیا جائے تو 2500روپے فی ٹن کے حساب سے اس کوئلہ کی قیمت 5,382,83050کروڑ روپے نکلتی ہے۔ اگر اس میں سے 1250روپے فی ٹن گھٹا دیا جائے، یہ مان کر کہ 850روپے پیداوارکی لاگت ہے اور 400روپے منافع، تب بھی ملک کو تقریباً26لاکھ کروڑ روپے کا مالی خسارہ ہوا۔ ملک کے معدنیاتی ذخائر، جن پر 120کروڑ ہندوستانیوں کامساوی حق ہے، کو اس حکومت نے تقریباً مفت میں تقسیم کر دیا۔ اگر اسے عام نیلامی کر کے تقسیم کیا جاتا تو ملک کو گھوٹالہ سے ہوئے 26لاکھ کروڑ روپے کے مالی خسارے سے بچایا جا سکتا تھا اور یہ پیسہ ہندوستانی عوام کے مفاد میں خرچ کیا جا سکتا تھا۔ یہ آج تک کی تاریخ کا سب سے بڑا گھوٹالہ ہے اور شاید دنیا کا سب سے بڑا گھوٹالہ ہونے کا امتیاز بھی اسے ہی ملے گا۔ تحقیقات کے دوران چوتھی دنیا کو کچھ ایسی دستاویز ہاتھ لگیں، جو حیرت انگیز انکشاف کر رہی تھیں۔ ان دستاویزوں سے پتہ چلتاہے کہ اس گھوٹالہ کی جانکاری سی اے جی کو بھی ہے۔ تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ اب تک اس گھوٹالہ پر سی اے جی خاموش کیوں ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *