ہندوستان کی حمایت سے فلسطین کو یونیسکو میں رکنیت ملی

وسیم احمد

گزشتہ23 ستمبر کو فلسطین کے صدرمحمود عباس نے اقوام متحدہ میں مستقل رکنیت کے لیے پندرہ رکنی سلامتی کونسل میں درخواست دائرکی تھی۔اگران کی یہ درخواست منظور کر لی جاتی تو فلسطین کو خطے میں ایک خود مختار ریاست کا درجہ مل جاتا اور اسے اسرائیل پر غیر قانونی آبادکاری سرگرمیوں کے خلاف عالمی عدالت میں قانونی چارہ جوئی کرنے کا حق بھی حاصل ہوتا، مگر امریکہ کی مخالفت نے محمود عباس کے لیے مشکلیں پیدا کردیں۔ امریکہ نے محمود عباس کی درخواست کے خلاف ویٹو پاور استعمال کرنے کی دھمکی دی ہے۔فی الوقت سلامتی کونسل میں ان کی درخواست زیر غور ہے۔اقوام متحدہ میں قرار داد پاس کرانے کے لیے محمود عباس کو سلامتی کونسل کے 15 ممبروں میں سے 9 کی حمایت حاصل کرنی ہوگی۔اگر وہ سلامتی کونسل کے دو تہائی ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو کسی حد تک ان کی رکنیت کی راہ میں حائل رکاوٹ دور ہوجائے گی، مگر ان پندرہ ملکوںمیں سے کچھ کے علاوہ بقیہ ممبر ملکوں کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ فلسطین کے حق میں ووٹ دیں گے یا نہیں،کیوں کہ ان میں سے کسی کا رویہ واضح نہیں ہے۔البتہ ہندوستان نے فلسطین کے حق میں اپنا موقف واضح کردیا ہے کہ وہ فلسطین کے حق میں ووٹنگ کرے گا۔ اگر اس موقع پر فلسطین دو تہائی ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتا ہے تب بھی مستقل رکنیت کی راہ میں اس کے لیے امریکہ کی طرف سے ویٹو کرنے کی دھمکی رکاوٹ بن کر کھڑی ہے، کیوںکہ 9 ممبروں کی حمایت ملنے کے بعد بھی اقوام متحدہ میں امریکہ اس درخواست پر ویٹو کرکے اپیل کو خارج کرواسکتا ہے۔
امریکہ نہ صرف سلامتی کونسل پر اپنا دبائو بنائے ہوئے ہے بلکہ وہ یونیسکو پر بھی مستقل دبائو ڈالتا رہا ہے کہ وہ فلسطین کو ایک مستقل رکن کی حیثیت سے قبول نہ کرے۔ یونیسکو میںفلسطین کو 1974 سے ہی ایک مبصر ملک کا درجہ حاصل تھا۔ یونیسکو درخواست پیش کرنے والے کو جنرل کانفرنس کی دو تہائی اکثریت سے مکمل رکنیت کی منظوری دے سکتی ہے اور یہاں سلامتی کونسل کی طرح کسی ملک کو ویٹو کا اختیار بھی نہیں ہے۔ یونیسکو نے اپنے انہی اختیارات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ کی مخالفت کے باوجود فلسطین کومکمل رکن کا درجہ دے دیا ہے۔یونیسکو کے اس فیصلے سے امریکہ کو زبردست جھٹکا لگا ہے اور فلسطینی صدر محمود عباس کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔ اب یونیسکو کی طرف سے مکمل رکنیت حاصل ہونے کے بعد سلامتی کونسل پر فلسطین کے تئیں دبائو بڑھ سکتا ہے۔
اگر فلسطین سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت حاصل کر لیتا ہے تو ایسی صورت میں غزہ کی پٹی، بیت المقدس کے اطراف اور دیگر خطوں میں اسرائیل کی من مانی آبادکاری پر روک لگ جائے گی۔اسے ممنوعہ خطے میں آبادکاری کی سرگرمیاں جاری رکھنے سے پہلے کئی بار یہ سوچنا ہوگا کہ اس کی غیر قانونی سرگرمیوں کو فلسطین عالمی کرمنل کورٹ میں لے کر جاسکتا ہے،لہٰذا اس کا فلسطین کی رکنیت کی مخالفت کرنا فطری تقاضہ ہے ،لیکن امریکہ کی مخالفت پُر اسرار معلوم ہوتی ہے۔امریکہ اب تک فلسطین کے تئیں اپنے چہرے پر دوستی کا جو نقاب لگائے ہوئے تھا ،اس کا یہ نقاب ویٹو پاور کے استعمال کرنے کی دھمکی کے بعد اتر چکا ہے۔امریکہ چاہتا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین پہلے باہمی بات چیت سے متنازع مسائل کا حل تلاش کریں اس کے بعد اقوام متحدہ میں درخواست پیش کی جائے۔ بین الاقوامی سطح پر امریکہ کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں سرگرم سیاسی گروپ ’کوارٹیٹ‘ (یعنی چار کیا گروپ) جس میں امریکہ ، روس اقوام متحدہ اور یوروپی یونین شامل ہے، نے بھی امن مذاکرات کے لیے نئی تجویز پیش کی ہے۔ کوارٹیٹ نے اسرائیل اور فلسطین کو ذمہ داری دی ہے کہ وہ مذاکرات بحال کرکے 2012 تک اپنے اختلافات ختم کریں، جبکہ یہ سب اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ دونوں کے درمیان ماضی میں کئی بار امن کی کوششیں ہو چکی ہیں اور بات چیت کا سلسلہ بھی چلا ہے، لیکن ہر مرتبہ اسرائیل غیر قانونی کالونی بسانے کی ضد کو لے کر اس بات چیت کو ناکام بناچکا ہے۔امریکہ اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ اسرائیل غز ہ کی پٹی میں آبادکاری کے عمل کو نہیں روکے گا اورنہ ہی فلسطین کے ساتھ اس کی بات چیت کسی حتمی نتیجے تک پہنچ سکتی ہے، اس کے باوجود ایک ایسے موقع پرجب فلسطین کو مستقل رکنیت ملنے کے امکانات بن رہے تھے، امریکہ نے اس کی مخالفت کیوں کی؟ اگر امریکہ کے سیاسی پس منظر پر نظر ڈالیں تو بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ امریکہ کی سیاست پر اسرائیلی لابی کی پکڑ مضبوط ہے۔ اوبامہ ہوں یا امریکہ کے کوئی بھی صدر، وہ اس لابی کی مخالفت کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے،لہٰذا جب بھی فلسطین کو خود مختاربنائے جانے کی بات آتی ہے تو امریکی صدر وہی کہتے ہیں جو اسرائیل چاہتا ہے۔ امریکہ کی طرف سے مخالفت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ فلسطین کے خود مختار ہونے کے بعد خطے میں امریکی کردار کی اہمیت کم ہوجائے گی اورفلسطینیوں کے نام پر عربوں کے ساتھ امریکہ جو سودے بازی کرتا ہے، اس میں کمی آجائے گی۔ اس کے پیچھے ایک نفسیاتی ضرب کاری بھی ہوسکتی ہے، وہ یہ کہ فلسطینی حق خود ارادیت کے حصول کی جنگ میں بار بار ناکام ہو نے کے بعد تھک ہار کر حق خود مختاری کے مطالبے کا راستہ چھوڑ کر،صرف انسانی حقوق کے لیے جد وجہد میں سمٹ کر رہ جائیں۔امریکی مخالفت کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اسرائیل ایک طاقتور ملک ہے جو اپنی مرضی سے فلسطینیوں کو جتنا چاہتا ہے دبا لیتا ہے،عالمی سطح پر فلسطینیوں کی آواز ایک خود مختار ریاست میں رہنے والوں کی طرح نہیں سنی جاتی، ہاں جب بھی ان پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں تو امداد اور ہمدردی کے چند الفاظ کے علاوہ ان کے لیے باضابطہ عملی اقدام نہیں کیا جاتا ہے، مگر جب فلسطین ایک خود مختار ریاست کے طور پر ابھرے گا تو خطے میں اسرائیل کی فلسطینیوں پر من مانی طریقے سے مظالم پر لگام کسی جا سکے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ یہ نہیں چاہتا کہ فلسطین ایک خود مختار ریاست کے طور پرابھرے۔
یہاں پر غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ محمود عباس اس نقطے کو سمجھ رہے ہیں۔ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ امریکہ کبھی بھی فلسطین کی حمایت کرکے اسرائیل سے دشمنی مول نہیں لے گا۔اس کے باوجود انہوں نے نہ صرف اقوام متحدہ میں اپنی درخواست پیش کی بلکہ یہ دعویٰ بھی کردیا تھا کہ وہ فلسطین کو ایک خود مختار ریاست کا درجہ دلا کر رہیں گے۔ اگر غور کریں تو ان کے اس دعوے کے پس پردہ، مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بدل رہے سیاسی حالات ہیں۔در اصل محمود عباس اس بات کو محسوس کررہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ، اور خاص طور پر عربوں میں سیاسی حالات کروٹ لے رہے ہیں۔ تیونس کے بعد مصر، لیبیا اور پھریمن اور شام کے عوام میں سیاسی بیداری نے خطے میں اسرائیل کو تنہا کردیا ہے۔خاص طور پر مصر میں حسنی مبارک کے زوال نے اسرائیل کو زبردست سیاسی زک پہنچائی ہے۔ایسے میں اگر محمود عباس فی الوقت خود مختاری حاصل کرنے میں کامیاب نہیں بھی ہوتے ہیں تو کم سے کم اس کی شروعات تو کرہی دی ہے۔اب اگر فلسطین اور اسرائیل کے مابین بات چیت کا سلسلہ کامیاب نہیں ہوتا ہے اور 2012 تک یہ بات چیت کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچتی ہے تو لازمی ہے کہ عرب یہ چاہیں گے کہ امریکہ اسرائیل کو نوآبادکاری کے عمل سے روکنے کے لیے فلسطین کو ایک خود مختار مملکت کا درجہ دیے جانے کی حمایت کرے۔اگر امریکہ ایسا نہیں کرتا ہے تو اس کا اثر یہ ہوگا کہ امریکہ کا عربوں میں برسوں سے قائم اثرو رسوخ ختم ہوجائے گا ،ساتھ ہی یہ بھی واضح ہوجائے گا کہ اوبامہ جو اب تک عرب دوستی کا دَم بھر تے رہے ہیں، یہ سب جھوٹے ہیں۔ ظاہر ہے یہ صورت حال امریکی مفاد کے خلاف ہوگی اوراس کا فائدہ یہ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں جب فلسطین کے خود مختار ریاست بنائے جانے کی بات چلے گی تو امریکہ مخالفت کرنے سے پہلے  بار بار سوچنے پر مجبور ہوگا۔
جنرل اسمبلی کے ممبر ملکوں میں ہندوستان نے فلسطین کی جو حمایت کی ہے اس سے محمود عباس کا حوصلہ بڑھا ہے ۔چونکہ فلسطین اور ہندوستان کا رشتہ قدیم اور مضبوط ہے، یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ میں درخواست پیش کرنے سے پہلے محمود عباس نے  اگست میں منموہن سنگھ کو خط لکھ کر بتایاتھاکہ وہ فلسطین کے لیے اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس کے جواب میں وزیر اعظم نے اپنے خط میںکہا تھاکہ فلسطین اور ہندوستان کے تعلقات تاریخی ہیں اور ہندوستان نے ہمیشہ ایک خود مختار، آزاد اور مستحکم فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو اور جو واضح طور پر تعین شدہ سرحدوں کے اندر اسرائیل کے ساتھ امن کے ساتھ رہ سکے۔  g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *