قذافی کی ہلاکت نفسیاتی جنگ کا حصہ

محمد احمد کاظمی
جدید دور میں تکنیکی ترقیوں کی وجہ سے دنیا بھر کے ہر میدان میں ترقی ہوئی ہے۔ مختلف ممالک نے دفاعی اور فوجی ساز و سامان اس حد تک تیار کر لیا ہے کہ کسی بھی ملک میں زمینی افواج بھیجے بغیر بڑے پیمانے پر تباہی کی جا سکتی ہے۔ امریکہ کی عراق اور افغانستان میں ناکامی اور 2006 میں حزب اللہ اور 2008 میںحماس کے ذریعہ  اسرائیل کو ملی شکست حالیہ تاریخ میں جدید ہتھیاروں کی ناکامی کی بہترین مثالیں ہیں۔ان ناکامیوں اور جنگوں میں افواج پر آنے والے غیر معمولی خرچ کو دیکھتے ہوئے بھی مسلم دشمن طاقتوں نے نفسیاتی جنگیں کرنے کو گزشتہ چند دہائیوں میں  ترجیح دی ہے۔ ان جنگوں کا مقصد دنیا بھر میں مسلمانوں کو نفسیاتی طور پر کمزور کرکے ذلیل کرنا ہے تاکہ پوری قوم احساس کمتری میں مبتلا رہے۔
دنیا بھر میں مسلمانوں کی ابھرتی ہوئی طاقت کو کمزور کرنے کے لئے مسلم دشمن  طاقتوں  خاص طور سے اسرائیل ،امریکہ اور ان کے اتحادی ممالک نے نہایت سازشی طریقوں سے اقدام کئے ہیں۔ ان سازشوں پر عمل کرنے میں ان طاقتوں نے مسلم ممالک میں ہی اپنے زر خرید بادشاہ نما غلاموں کا بھی بھر پور استعمال کیا۔ ان تمام سازشوں کا مقصد مشرقی وسطیٰ میں اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنا اور مسلم ممالک کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا تھا۔ بادشاہ نما غلاموں کے ذریعہ آمرانہ حکومتیں قائم کرکے عوام کو قابو میں رکھا گیا، انہیں حکومت کے انتخاب کے حق سے محروم کیا گیا اور اکثر مسلم ممالک کو تعلیم و ترقی میں نہایت کمزور کردیا گیا۔میں اس مضمون کے ذریعہ اس وسیع موضوع کے کچھ ہی نکات پر بحث کرپائوں گا۔  اگر ہم صرف گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہونے والے چند واقعات کا جائزہ لیں تو یہ واضح ہوجائے گا کہ اس نفسیاتی جنگ میں کن سازشانہ طریقوں سے مسلمانوں کو پھنسائے رکھا گیا ہے۔ قارئین کو معلوم ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے مسلم ممالک میں اکثر جابر اور غیر جمہوری حکومتیں رہیں جو اب ایک ایک کرکے سرنگوں ہورہی ہیں۔ ایک زمانے میں یاسر عرفات کو فلسطین کے سرکردہ رہنما کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ہندوستانی قارئین کو یاد ہوگا کہ جواہر لعل نہرو اور اندرا گاندھی کے دور حکومت میں یاسر عرفات کو فلسطینی مجاہد رہنما کے طور پر پیش کیا جاتا تھا،1979 میں ان کے ذریعہ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کے تحت اسرائیل کو تسلیم کرایا گیا۔ اسی دوران مصر اور اردن کے ساتھ اسرائیل کے امن معاہدے کرائے  گئے۔ بعد میں یاسر عرفات کو ایک استعمال شئے کے طور پر ناکارہ بنادیا گیا۔ جب انہوں نے اسرائیل اورامریکہ کی پالیسیوں  کے خلاف زبان کھولی تو انہیں مرض کی حالت میں بے یارو مددگار چھوڑ کر مرنے پر مجبور کردیا گیا۔
1979 میں ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے فوراً بعد عراق میں صدام حسین کو حکومت میں لایا گیا۔ اسے مغربی میڈیا کے ذریعہ مسلمانوں  کے بے خوف رہنما کے طور پر پیش کیا گیا ۔ اس کے لئے صدام  کے ذریعہ اسرائیل کے خلاف چند علامتی  بیانات جاری کرائے گئے۔ 1980 میں صدام کے ذریعہ ایران پر جنگ تھوپی گئی۔ اس طرح سے اس جنگ کو کبھی سنی عراق اور شیعہ ایران کے درمیان  جنگ کا عنوان دیا گیا اور کبھی اسے عرب اور عجم کے درمیان  جنگ کہا گیا۔ اس دوران صدام کے اسرائیلمخالف بیانات جاری رکھے گئے تاکہ دنیا بھر کے مسلمان اسے اپنا رہنما تسلیم کر لیں۔  8 سال تک جاری رہی جنگ سے ایران ، عراق اور صدام حکومت کو مدد کر رہے اکثر عرب ممالک کو  کمزور کیا گیا۔ بعد میں صدام کے ذریعہ کویت پر قبضہ کرادیا گیا اور اس کے بہانے عراق پرغیر معمولی بمباری کی گئی۔ کویت کو آزاد کرانے کے بعد عراق پر اقتصادی پابندی کے دور میں صدام حسین کے ذریعہ اسرائیل اور دیگر مغربی حکومتوں کو غیر قانونی طریقوں سے سستی قیمت پر تیل  فروخت کرایا گیا۔لیکن اس  تجارت پر صدام کے خلاف 12 سال تک اقوام متحدہ میں کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی۔2000 سے 2002 کے درمیان میں  نے خود عراق کے تین سفر  کئے ہیں ۔ اس وقت بغداد  سے عمان (اردن) اور بغداد سے دمشق (شام) کے درمیان غیر قانونی تجارت کے طور پر تیل کی بر آمد کے غیر معمولی مناظر میں نے دیکھے ہیں۔ اس کے لئے خاص سڑکیں بنائی گئی تھیں جن پر دن رات تیل ٹینکر چلتے رہتے تھے۔دوسری خلیجی جنگ کے دوران صدام حکومت کے ذریعہ  اسرائیل کے خلاف اسکڈ میزائیل  سے علامتی حملے کرائے گئے۔ ان واقعات سے دنیا بھر میں مغربی پروپیگنڈے کی بنیاد پر صدام کی ایک جذباتی مسلم شبیہ بنائی گئی۔ جب یہ محسوس کیا گیا کہ صدام حسین اب مغربی طاقتوں کی کوئی مزید خدمت انجام نہیں دے سکتا تب اس پر انتہائی تباہ کن ہتھیاروں کا حامل ہونے کا الزام لگا کر اپنے ہی سابق ایجنٹ کے خلاف جنگ شروع کردی گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عراق میں نہ صرف صدام کی حکومت کا خاتمہ ہوا بلکہ اسے امریکہ کی سر پرستی میں ہی کئے گئے  مظالم کی پاداش میں پھانسی لگا دی گئی۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ دوسری خلیجی جنگ جس کے دوران صدام سے اسرائیل کے خلاف علامتی حملے کرائے گئے تھے ہندوستان سمیت بہت سے ممالک میں مسلمانوں نے اپنے بچوں کے نام تک صدام حسین رکھے تھے ۔کچھ تاجر ذہنیت رکھنے والے اخبارات نے مسلمانوں کو جذبات  کے اندھیرے میں دھکیل کر مسلم دشمنوں کے ایجنڈے پر عمل کیا۔ اب حال یہ ہے کہ کسی بھی مسلم محلے میں اٹھارہ بیس سال کی عمر کے نوجوانوں کے نام  صدام حسین آسانی سے مل جاتے ہیں۔ اب جبکہ صدام حسین کے نہایت غیر انسانی مظالم سامنے آچکے ہیں کیا یہ نوجوان عمر بھر سر اٹھا کے زندگی گزار سکیں گے
کسی حد تک ایسی ہی کہانی اسامہ بن لادن کی ہے۔ 1980 کی دہائی میں افغانستان سے سوویت یونین کی فوج کو نکالنے کے لئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ذریعہ مجاہدین کی بھرپور مدد کی۔ بعد میں جب یہی مجاہد غیر ملکی حمایت سے قائم حکومت کے خلاف کھڑے ہوگئے تو وہی مجاہدین القاعدہ اور طالبان کے طور پر سامنے  آئے۔القاعدہ کے سعودی عرب نژاد تاجر رہنما اسامہ بن لادن کی  مغربی میڈیا کے ذریعہ شبیہ سازی کی گئی۔ ایک پاکستانی صحافی کے علاوہ اسامہ کے سبھی انٹرویو مغربی میڈیا نے لئے ہیں۔ ان تمام مرحلوں میں اسامہ بن لادن کی شبیہ امریکہ مخالف شدت پسند رہنما کی بنائی گئی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اسامہ کے بیانات کی ویڈیو ہمیشہ امریکی حمایت  یافتہ الجزیرہ چینل کو ہی موصول ہوتی تھیَ ۔ طالبان اور القاعدہ کو مسلکی اختلافات پھیلانے میں بھی استعمال کیا گیا۔ ان دونوں تنظیموں کا نظریاتی سر چشمہ سعودی عرب کا شدت پسند نظریہ ہے۔ بہر حال ان نشیب و فراز سے ناواقف کچھ مسلمانوں نے اپنے بچوں کے نام اسامہ بھی رکھ ڈالے۔آخر کار چند ماہ قبل اسامہ بن لادن کی کس طرح ذلت آمیز ہلاکت سامنے آئی  وہ سبھی جانتے ہیں ۔ اس واقعہ سے بھی مسلمانوں کا ایک طبقہ نفسیاتی طور پر مجروح ہوا اور اس طرح سے مغربی میڈیا کے ذریعہ مسلمانوں کو دہشت گرد کے طور پرشہرت دی گئی۔
ابھی حال ہی میں لیبیا کے سابق رہنما کرنل معمر قذافی کی ہلاکت اور اس کے بعد ان کی نعش کی بے حرمتی  کرکے بھی دنیا بھر میں پھیلے ان مسلمانوں  کو ذلیل کیا گیا جو اسے اپنا رہنما سمجھ بیٹھے تھے۔۔کرنل قذافی کے زمانے میں میں نے لیبیا اور ان کے شہرسرت کے کئی دورے کئے ہیں۔ میں نے قذافی کا ریگستانی صحرا میں قائم کیا گیا ٹینٹ بھی دیکھا ہے جس میں تمام عیش کے ساز و سامان مہیا کئے گئے تھے۔ 2001 سے 2002 کے درمیان میں نے لیبیا کے تین سفر کئے ہیں ۔ اس لئے وہاں کے اکثر حقائق میرے سامنے تھے۔ اس زمانے میں قذافی کا نام زبان پر لانا گناہ کبیرہ تھا۔  مجھے مقامی لوگوں نے اس زمانے میں بھی بتایا تھا کہ قذافی پورے افریقہ اور عرب خطے کے رہنما بننا چاہتے ہیں اور اپنے اس شوق پر وہ بڑی رقم بھی خرچ کر رہے ہیں۔لیکن  انہیں اپنے عوام کی فکر نہیں ہے جو اپنی ماہانہ تنخواہ میں مہینہ کا خرچ بھی پورا نہیں کرپاتے۔ کرنل قذافی کی حکومت کے مخالفین اب سے پہلے بھی مظالم کے واقعات بتاتے تھے لیکن اب تو بہت سے ایسے ثبوت سامنے آچکے ہیں جن میں سینکڑوں افراد کی مشترکہ قبریں بھی موجود ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں  میں سیاسی بصیرت اور بیداری پیدا ہوتاکہ دشمن کی سازشوں کو صحیح وقت پر سمجھا جا سکے۔ سماج میں ایسے عناصر پر بھی نظر رکھنے کی  ضرورت ہے کہ جو  ہمیشہ قوم کو جذباتی معاملات میں الجھائے رکھنا چاہتے ہیں۔  عوام کی حقیقی لیڈر شپ اور اپنے ملک کے مفادات میں قربانی دینے کی مثال ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد دیکھنے کو ملی ہے۔ 1979 سے اب تک مغربی میڈیا کے نشانے پر رہے ملک کے ایک رہنما  کے خلاف بھی کوئی سنجیدہ الزام نہیں لگایا جا سکا ہے۔   g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *