دجالیت کے مظاہر

رضوان عابد
اللہ تعالیٰ بلا شرکت غیر اس کائنات کا خالق مالک حاکم مطلق اورآمر مطلق بھی ہے۔ آمریت اچھے الفاظ میںا ستعمال نہیں ہوتا ہے جیسے کہ تکبر لیکن اللہ کے لیے آمر اور متکبر دونوں الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ اللہ کاصفاتی نام متکبر بھی ہے۔ عالم امر میں اللہ کا حکم فورطورپر نافذ ہوتا ہے اورعالم خلق میں وقت لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہوجا اور وہ ہوگیا اسی طرح سے قانون قدرت کےمطابق عالم خلق میں وقت لگتا ہے۔ نبوت کی شروعات حضرت آدم سے تدریجاً بڑھتے بڑھے انسانی علمی ذہنی اور تمدنی ارتقا کے ساتھ ساتھ ہدایت کامل یعنی قرآن کا حضور محمدؐ پر وحی کے ذریعے نازل ہونے تک بڑھتی رہی۔ حضورؐ پر پہنچ کر اتمام دین حق ہوگیا۔ حضورؐ کی آمد سے پہلے جو دنیا میں ہدایت کا نور تھا وہ چاند کے متشابہہ تھا وہ ایک طویل رات بھی جس میں چاند رفتہ رفتہ بڑھ رہا تھا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت و نور ہی آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی اور رات کے جاتے جاتے صبح طلوع ہورہی ہے اور یہ صبح کا سورج حضورؐ کی نبوت کی شکل میں نمودار ہوا اور انسانوں کو کامل ہدایت نصیب ہوئی اور حضور کی نبوت تمام انسانوں کے لیے ہے۔ اس طرح سے دین کامل ہوگیا اور اپنی کامل شکل میں تقریباً تیس سال رہا پھر تدریجاً زوال آنا شروع ہوا۔ اسلام کے آغاز کے وقت اسلام ایک اجنبی چیز تھی پھر یک کامل شکل میں ظہور پذیر ہوا اور اس کے بعد پھر بتدریج اجنبیت کی طرف بڑھنے لگا۔ لیکن پچھلی چودہ صدیوں میں تجدید کا عمل بھی جاری رہا ہر سو سال میں مجدد آتے رہے اوراب دنیا تجدید کامل کے دروازے پر کھڑی ہے۔ وہی دین جوحضورؐ نے کامل کیا تھااب پھر اسی شکل میںکامل ہوگیا۔
اگر کوئی جماعت آج کے دور میں تجدید دین کے لیے کھڑی ہو تواسے معلوم ہونا چاہئے کہ کیا ہورہاہے وہ کونسی قوتیں برسرکار اور برسرپیکار ہیں۔تصادم ہے تو کس کس کے مابین ہے ان کے مقاصد کیا ہیںایجنڈا کیا ہے۔ اقامت دین کی جدوجہد کرنے والوں کے لیے یہ شعور پیدا کرنا ضروری ہے۔ سورۃ روم آیت نمبر41 خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں مزہ چکھائے ان کے بعض اعمال کا شاید کہ یہ لوٹ آئیں۔
یہ ہے آفاقی سطح اس کی تین سطحیں ہیں یا یوں کہیے کہ دجالیت کی تین سطحیں ہیں۔ سب سے پہلی سطح ہے کہ سیاسی طورپر دنیا میں اللہ ، اللہ کے نظام اللہ کی بھیجی ہوئی شریعت کو بے دخل کردیا جائے۔ اللہ حاکم نہیں ہے اب عوام حاکم ہیں اب سیاست سے حکومت سے قانون سے اللہ کو بے دخل کردیاگیا۔ اب مذہب صرف ذاتی معاملات تک محدود ہوگیامجموعی سطح پر اب کا قانون چلے گا۔ سیکولرازم اورجمہوریت کااب دور دورہ ہوگا۔ عوامی حاکمیت، سیکولرازم، وطنی فوقیت یہ تین اجزا ہیں جن پر آج کانظام مبنی ہے۔ معاشی نظام سود جوا اور سٹہ بازاری پر مبنی ہےجوکہ بدترین گنا ہے ازروئے قرآن۔ سود کے لیے اللہ، اور اللہ کے رسول کااعلان جنگ ہے سود سے بڑا جرم کوئی نہیں پوری مارکیٹ انحصار کرتی ہے اسٹاک ایکسچینج پر اور sexذریعہ ہے ان معاشی وسیاسی کامیابیوں کے حصول کا۔ اقوام متحدہ کا فیصلہ ہے کہ اب انہیں سیکس ورکر کہو۔ اگر کوئی نام لیا تو قانونی جرم۔ سیکس ورکر ہونا بھی ایک باعزت پیشہ ہے۔ اسی طرح نشہ آور چیزیں بنانا اور بیچنا اب قانون کے دائرہ میں ہے۔ ہاں البتہ اگر ملٹی نیشنلسٹ کے علاوہ کوئی اور یہ جسارت کرے تو قانونی جرم۔ اگر کوئی ذاتی طورسے سٹہ بازاری کرے تو قانونی جرم اور یہ سٹہ بازاری اسٹاک ایکسچینج میں ہو تو قانونی طورسے جائز۔ سود جوا یا سٹہ فحاشی اورمنشیات تیسری سطح کی دجالیت ہے۔
شرم حیا عفت وعصمت کے conceptکو ختم کردو۔ پورے سماج میں free sexکو رائج کرو۔ عورت پر کوئی پابندی نہیں۔ اسلام کے خاندانی نظام کو مکمل طورسے ختم کرنااس دجالیت کا مقصد ہے۔ ہنٹگشن نے ایک کتاب لکھی تہذیبی تصادم جس میں یہ سب باتیں ظاہر کی ہیں۔ سیاسی معاشی اور سماجی تین سطح پر دجالیت کا بول بالا کیاجاتا ہے سماجی اور معاشی سطح پر تو دجالیت تقریباً مکمل طورسے کامیاب ہوچکی ہے لیکن سماجی سطح پر ابھی پوری کامیابی نہیں ہوئی ہے۔ عورتوں کی آزادی کے نعرے لگائے جارہے ہیں عورتوں کو بے پردہ کرکے سڑکوں پر لانے کے کوائف جاری ہیں۔ اب تقریباً پوری دنیا میں قانونی طور سے زنا جائز ہے۔ اب زنا ایک معمولی سی شئے رہ گئی ہے اسلامی لحاظ سے زنا ایک بہت بڑا جرم تھا لیکن اب قانونی طورپر زنا عورت اور مرد کی صوابدید پر ہے اور کوئی قانونی جرم نہیں ہے۔
اس کائنات میں شرکا سب سے بڑا ذریعہ ابلیس اور آج کی دنیا میں ابلیس کے سب سے بڑے ایجنٹ صہیونی ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی شیطانی قوت یہی صہیونی یہودی ہیں۔ یہودیوں نے ہی سیکولراز کے نافذ ہونے کے بعد یہ ایک طاقت بن گئے۔ آڈر آف الیومنائی1776میں بنایاگیا اور 1776ہی امریکہ کی آزادی کا سال ہے۔ اسی طرح ان صہیونی یہودیوں نے عیسائیت کو توڑ کر ایک نیا فرقہ بنایااور وٹسٹینٹ اور چرچ آف انگلینڈ قائم کیا اور پروٹیسٹینٹ عیسائیوں سے سودکو حلال قرار دلوایا اور بینک آف انگلینڈ قائم کیا۔ اس سے پہلے عیسائیت میں بھی سود حرام تھا یہودیت میں توسود آج بھی حرام ہے لیکن انہوںنے ایک عقیدہ گڑھ لیا کہ غیر یہودgoem & gentilesیعنی مویشی چوپائے ہیں اور ران کا استحصال یہودیوں پر جائز ہے۔ ورنہ یہودی یہودی یہودی آپس میں سود کا لین دین نہیں کرتے۔ اب انگلینڈ یہودیوں کا اسرائیل بن گیا۔ اس کو علامہ اقبال نے کہا ایں بنوک ایں فکرچالاک یہود، دراصل یہ بینکنگ کا سرا نظام ہی ان صہیونی یہودیوں کی سازش کا نتیجہ ہے۔ مزیکشنل ریزروبینکنگ پیپرکرنسی جس کے تحت اگر بینک کے پاس 100روپے کا ڈپازٹ ہے تو وہ ایک ہزار روپے تک قرض دے سکتا ہے اور پیپرکرنسی جس کے ذریعے یہ بینکنگ ممکن ہوئی اور بڑے مزے کی بات یہ ہے کہ دنیا میں بینکنگ سیکٹر میں ان صہیونی بینکروں کے علاوہ اس سیکٹر میں کوئی اور کامیاب بھی نہیں ہوسکتا۔ 1995تک BCCIنام کاایک بینک تھا جو مسلمان کاقائم کردہ تھا۔ اس پر منشیات کے پیسے کا الزام لگا کر بند کردیاگیا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا کوئی بڑا بینک ایسا نہیں جو منشیات اور غیرقانونی ہتھیاروں کے پیسے کا لین دین نہ کرتاہو۔
وثائق یہودیت1897میں وضع کئے گئے جو سوئیزرلینڈ کے شہر Brussels میں بیٹھ کر بنائے گئے۔ صہیونیوں کے بڑے بڑے مفکر جمع ہوئے اور انہوںنے وثائق یہودیت تشکیل دیئے۔ اس میں بہت سارے ٹارگٹس بنائے گئے۔ اس میں لکھا ہے کہ شرم حیا، عفت و عصمت کی تاریخ کو ختم کرو اور انسان کوجنسیاتی طورپر آزادی ملنی چاہئے اور انسانوں کو حیوان بنادو اور انسان کو اپنی شہوت اور خواہشات کا غلام بنادو اور انسانوں میں اتنی طرح طرح کی خواہشات جگادو کہ دس جنم تک بھی یہ خواہشات پوری نہ ہوپائیں ان انسان اور خواہشات کے غلام بنیں رہیں اور ہم ان پر حکومت کرتے رہیں اوران کو ان کی خواہشات کی تکمیل کے خواب دکھاتے رہیں۔ انسان کو اتنا حیوان بنادو کہ وہ ہماری غلامی میں آجائے ہم اس کو اس کی جنسی معاشی و سیاسی خواہشات کے خواب دکھا کر جس طرح چاہیں استحصال کرسکیں اور ان کی کمائیوں پر قبضہ کرسکیں۔ ہندوستان میں اس کی مثال ایسی ہے کہ جو ایک فلیٹ آج سے دس سال پہلے 2لاکھ کا تھا پانچ سال بعد20لاکھ کا ہوگیا اوراب وہی 2لاکھ کا فلیٹ دوکروڑ کا ہوگیا۔ اب اس فلیٹ کو بینک فائنانس کرے گا اور زندگی بھر اس کی کمائی کھاتا رہے گا اور اگر کوئی قسط جمع کرانے کے قابل نہیں رہا تو اس کا فلیٹ بھی ڈکار جائیں گے۔ بینک دراصل لوگوں کی املاک پر غیرشرعی غیراخلاقی اور غیرقانونی طور سے قبضہ کرنے کے لیے اورانسانوں کی کمائی کا بڑا حصہ کھا جانے کاایک ذریعہ ہیں۔ ان سب کا سرچشمہ صہیونی یہودی ہیں جو اس نظام کو چلارہے ہیں۔
اس وقت حالت یہ ہے کہ صہیونی یہودیت اس وقت امریکہ پر قابض ہے اور امریکہ کو اس وقت دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہونے کا شرف حاصل ہے، صہیونی دراصل امریکہ کے بھی دوست نہیں ہیں جب امریکہ سے مطلب نکل جائے گا تو اس کو بھی ختم کرکے کوئی دوسری طاقت پیدا کردیں گے جو آہستگی کے ساتھ اب ہونے لگا ہے اب چین کو معاشی اور سیاسی طاقت کے طورپر ابھارا جارہاہے۔ دوسری جنگ عظیم سے پہلے امریکہ کا دنیا کی سیاست میں کوئی خاص نتیجے میں امریکہ دوسری جنگ عظیم میں کود پڑا اور آخر کار جرمنی جو ایک فوجی طاقت تھی ختم ہوگئی۔ جرمنی کے دوٹکڑے کرکے اس پر ہر طرح کی پابندیاں لگادی گئیں۔ دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں اقوام متحدہ کاجنم ہوا اور اس کے مختلف ادارے وجود میں آئے جیسے کہ IMFاورWorld Bankوغیرہ۔ لیکن اس کے باوجود امریکہ کا مدمقابل U.S.S.R.تقریباً50سال تک امریکہ کے سامنے کھڑا رہا اور اس کو من مانی نہیں کرنے دی۔ جب U.S.S.R.ٹوٹ کر روس بن گیا تو اب تو امریکہ کی بن آئی۔ جو دل میں آیا وہ کیا گویا کہ اب امریکہ کی غنڈہ گردی پوری دنیا پر قائم ہوگئی۔1917میں روس میں بالشیوک انقلاب کے بعدU.S.S.R. بہت تیزی سے دنیا میں سوشلزم کی شکل میں پھیلا۔ لیکن یہ دور رس ثابت نہیں ہوا اور تقریباً70سال کے عرصے میں ہی اس نظرئے نے دم توڑ دیا۔ روس کے ٹوٹنے کے بعد جو ممالک روس کے مرہون منت تھےا ور امریکہ کے در پر سجدہ ریز ہوگئے۔ روس کے گھیرائو کے لیے CENTO, CEATO, NATOوغیرہ بنائی گئیں۔ ایک غلطی روس سے یہ ہوگئی کہ افغانستان پر چڑھ بیٹھا۔ اب امریکہ کو موقع مل گیا امریکہ نے افغانیوں کو ہر طرح سے مدد دی اور اس کا نتیجہ روس کے ٹوٹنے کی شکل میں سامنے آیا۔ جس کے بعد امریکہ کو دنیا کی واحد سپرپاور مان لیاگیا۔ جب امریکہ واحد سپرپاور ہوگیا تو اب امریکہ کو دنیا کی واحد سپرپاور مان لیا گیا۔ جب امریکہ واحد سپرپاور ہوگیا تو اب امریکہ کے تھنک ٹینکس کی سوچ کا محور ہوگیا کہ کس طرح اکیسویں صدی کو امریکہ کی صدی بنایاجائے۔ جب امریکہ سب سے بڑی واحد سپرپاور بن گیا تو اب دجالی تہذیب پوری دنیا پر نافذ کرنے کی کوشش ہونے لگے۔ اور یہودی اور عیسائی صہیونیوں کا جو پانچ نکاتی ایجنڈا ہے اس کو مکمل طورپر نافذ کرنا اب مقصد بن گیا دجالی طاقتوں کا یہ پانچ نکاتی پروگرام ہے آر مجدون Armegadonگریٹر اسرائیل کاقیام، مسجداقصیٰ کو منہدم کرکے ایک تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر، حضرت دائود کا تخت جو کہ ابھی تک انگلینڈ میں ہے (یہ وہ پتھر ہے جس پر حضرت دائود علیہ السلام کی تاجپوشی ہوئی تھی) اس تخت کو تھرڈ ٹیمپل میں نصب کرنا، عالم اسلام کے جو وسائل ہیں خاص طورپر تیل پر قبضہ کرنا، یہ وہ مقاصد ہیں جو یہودی اور عیسائی صہیونیوں کے مشتراک پروگرام میں شامل ہیں۔ مسلمانوں کے وسائل پر قبضے اور ان کو کچلنے کے لیے جنگجوئی ضروری ہے اورجنگ کے لیے فنڈز کی ضرورت ہے وہ فنڈز امریکن کانگریس پاس کرے گی۔ امریکی کانگریس کے پاس کرنے کے لیے رائے عامہ کی ضرورت ہوگی رائے عامہ ہموار کرنے کے 9/11کروایاگیا۔ 9/11کے واقعے سے پہلے ایک کتاب چھپی تھی جس کا عنوان تھاAmerica needs another pearl harbourاس طرح سے رائے عامہ ہموار کی گئی اور پھر پوری دنیا پر امریکہ چڑھ دوڑا۔ پھر القاعدہ اوراسامہ بن لادن کو دنیا کا عظیم ترین دہشت گرد قراردیاگیا اور افغانستان پر چڑھائی کردی گئی۔ افغانستان پر جنگ تھوپنے کے لیے اقوام متحدہ کی اجازت کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ بڑے مزے کی بات یہ ہے کہ القاعدہ دنیا میں کبھی موجود ہی نہیں ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں حملہ کرنا ہوالقاعدہ کانام لے کر چڑھائی کردو کیونکہ پوچھنے والا تو کوئی ہے نہیں اور مدمقابل بھی کوئی نہیں ہے چنانچہ جو مرضی آئے کرو۔
مسلمانوں کی تہذیب کو برباد کرنا۔ اسلام کے خاندانی نظام کو ختم کرکے بے راہ روی کا دور دورہ کرنا بھی ان کے مقاصد میں ایک بہت بڑا مقصد ہے۔ اسلام کے پیچھے اس لیے پڑے ہیں کیونکہ اس دنیا میں نظام صرف اسلام کے پاس ہی ہے اور جو حق پر مبنی ہے۔ دہشت گردی کی آڑ لے کر مسلمانوں کے وسائل پر قبضہ اور ان کی تہذیب کو ختم کرنا بھی ایک بڑا مقصد ہے۔ اگر کسی جگہ امن ہے تو وہاں پر دہشت گردی بڑے بڑے ذخائر مسلمانوں کے قبضے میں ہیں ان تیل کے ذخائر پر قبضہ کرناان کا پہلا مقصد ہے۔ دجالیت کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ اسلام کا خاندانی نظام ہے۔ باقی دنیا تو تہذیب سے عاری ہوچکی ہے پوری دنیا میں خاندانی نظام صرف مسلمانوں کے پاس رہ گیا ہے۔ اس اسلامی معاشرے کو برباد کرنا بنیادی مقصد ہے۔
اب خطرہ اس بات کا ہے کہ یہ دجالیت کے پیروکار مسجد اقصیٰ کو مہندم کریں گے جس کےنتیجے میں مسلمان کا خون کھول جائے گا پہلے تو اسلامی ممالک کی فوجیں ہی اپنے عوام کا قتل عام کریں گی اس کے بعد NATOاورامریکہ کی فوجیں قتل و غارت گری کا بازار گرم کریں گی۔ جب کہ NATOتو روس کو بڑھنے سے روکنے کے لیے بنایاگیا تھااب وہ مسلمانوں کی بیخ کنی کے لیے ازسرنو تشکیل دی گئی ہے۔ جیسا کہ حضورؐ کی پیشن گوئی ہے کہ رومن اسی جھنڈے تلے آئیں گےاور ہر کالم میں بارہ ہزار فوج ہوگی اورمسلمانوں کا قتل عام کریںگے۔
امریکہ کی پالیسی طویل المدت پالیسی ہوتی ہے۔ ایک توDomesticاور دوسری Globalڈومیسٹک پالیسی کو تو آنے والی حکومت بدل سکتی ہے لیکن بین الاقوامی پالیسی کو کوئی بھی حکومت بدل نہیں سکتی۔ اس پالیسی کو بنانے میں امریکہ کے چارسب سے بڑے ادارے معاون ہوتے ہیں۔ ایک توState Dept.دوسرا CIAتیسرا  Pantagonاور چوتھاAIPACیہ چاروں ادارے اپنے اپنے تھنک ٹینکس کے ذریعے بین الاقوامی طویل المیعاد پالیسی بناتے ہیں چاہے جو بھی حکومت آئے وہ اس پالیسی کو بدل نہیں سکتے۔
چنانچہ صدر اوباما نے آتے ہی اپنے اردگرد سارے کٹریہودی جمع کرلیے جتنا زیادہ صدربش نے صہیونیت کو فروغ دیااس سے کہیں زیادہ صدر اوباما صہیونی لابی کو فروغ دے رہے ہیں۔
صہیونیوںکاپروگرام ہے مسلمانوں اوراسلام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا مسجد اقصیٰ کو ڈھادینا تھرڈ ٹیمپل تعمیرکرنا، گریٹر اسرائیل کاقیام اور مسلمانوں کے وسائل پر قبضہ لیکن اللہ کا پروگرام کیا ہے یہ اللہ جانے۔ ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ عالم اسلام کو ان کے کئے کی سزا دینا چاہتاہو اورہوسکتا ہے کہ یہ عالم اسلام کا امتحان ہو۔   g

اردو چوتھی دنیا کی اسٹوری اپنے میل پر حاصل کرنے کے لئے اپنا ای میل درج کریں

Leave a Comment :
اپنی رائے دیں

:
رد عمل