اٹارنی جنرل کا اصلی چہرہ

روبی ارون

اٹارنی جنرل سرکار کا سب سے بڑا قانونی افسر ہوتا ہے، اسے  اٹارنی جنرل کہا جاتا ہے۔ وہ سرکار کی آنکھ، ناک اور کان مانا جاتا ہے۔ اس کا کام عوام کے مفاد میں  سرکار کو صلاح دینا ہے، لیکن موجودہ اٹارنی جنرل غلام ای واہن وتی کے کارناموں اور ان کے پس منظؔر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے اٹارنی جنرل کے عہدے کے وقار کا خیال نہیں رکھا۔ سرکار نے اس  ادارے  کے ساتھ بھی  سیاست کردی۔معاملہ چاہے ملائم سنگھ کے خلاف سی بی آئی کے مقدمے کا ہو یا پھر  بری فوجی سربراہ   وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش کا تنازع  یا پھر  2 جی گھوٹالا، اٹارنی جنرل  وہی صلاح دیتے ہیں، جو سرکار کے کچھ لوگوں کے مفاد میں ہو، کئی بار تو انہوں نے کورٹ میں ایسی ایسی دلیلیں دیں ، جنہیں سن کر سپریم کورٹ کے ججوں کا دماغ چکرا گیا۔ ڈر لگتا ہے کہ کہیں سرکار آئینی اداروں کو چوپٹ کرنے پر آمادہ تو نہیں ہے۔ ایک طرف پی اے سی اور سی اے جی پر سوال کھڑا کیا گیا اور اب ملک کے اٹارنی جنرل کو سرکار کی غلطیوں کوچھپانے والا مہرا بنا دیا گیا۔

اڈوانی ہندوستان کے اٹارنی جنرل غلام ای واہن وتی سوالوں کے گھیرے میں ہیں۔ ان کے قانونی مشوروں کو شک و شبہات کی نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔ملک کے اعلیٰ قانونی عہدے پر فائز واہن وتی کے مشکوک کردار سے حکومت کی ساکھ اور عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان کے اٹارنی جنرل غلام ای واہن وَتی اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کا ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں واقعی کوئی رول ہے؟ کیا اس معاملہ کے اہم ملزم سابق وزیر مواصلات اے راجا، سابق ٹیلی کام سکریٹری سدھارتھ بیہورا اور ڈی بی ریئلٹی کے پارٹنر شاہد بلوا کے ذریعے اِن دونوں پر لگائے گئے الزام سچ ہیں؟ کیا وزیر خزانہ پرنب مکھرجی ابھی تک وزیر اعظم منموہن سنگھ اور وزیر داخلہ پی چدمبرم سے ناراض ہیں، کیوں کہ انہیں اس گھوٹالے اور اسے انجام دینے والوں کی حقیقت کا علم ہے؟ حالانکہ غلام ای واہن وَتی او رپی چدمبرم اپنے اوپر لگے الزامات کو سرے سے خارج کر چکے ہیں، لیکن ملک کے قانون کے سرکردہ افسر غلام ای واہن وَتی اور وزیر داخلہ پی چدمبرم سے جڑے جو پختہ حقائق ہمارے پاس ہیں، وہ اِن دونوں کو شک کے دائرے میں کھڑا کر تے ہیں۔ یہ بعض ایسی سچائیاں ہیں جو پورے ملک کے قانونی نظام اور اس کے کام کاج پر سنگین سوال کھڑا کرتی ہیں۔
اٹارنی جنرل آف انڈیا کے کردار سے ان کے معاونین تک خائف ہیں۔ ایڈوکیٹ جنرل گوپال سبرامنیم کا استعفیٰ بھی اسی کی ایک کڑی ہے۔ سبرامنیم ملک کے دوسرے سب سے اہم قانون افسر کے عہدے پر فائز تھے۔وہ غلام ای واہن وتی  کے کام کاج کے طور طریقوں سے خفا تھے۔ لہٰذا غلام ای واہن وتی نے وزیر مواصلات کپل سبل سے کہہ کر سپریم کورٹ میں حکومت کی پیروی کے لئے سینئر ایڈوکیٹ روہنگٹن نریمن کی تقرری کرالی۔چونکہ کپل سبل پر بھی یہ الزام عائد ہے کہ انھوں نے ریلائنس ٹیلی کام کو فائدہ پہنچایا ہے۔اس لئے انہیں بھی ایک ایسے قانونی نمائندوں کی ضرورت تھی، جو ان کا فریق ان کے مطابق ہی عدالت میں رکھے۔ ظاہر ہے کہ یہ صورتحال بھی غلام ای واہن وتی کی شبیہ کو داغدار کرتی ہے۔
ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں سی بی آئی نے چارج شیٹ بھی داخل کر دی ہے۔ پوچھ گچھ کی کارروائی اب بھی جاری ہے۔ اے راجا، سدھارتھ بیہورا اور شاہد بلوا نے ہندوستان کے اٹارنی جنرل غلام ای واہن وَتی کا نام اپنے بیان میں بطور ملزم لیا، لیکن سی بی آئی نے انہیں اپنا گواہ نمبر 32 بنا لیا۔ وزیر داخلہ پی چدمبرم سے سوال جواب کرنے کی ہمت تو سی بی آئی جٹا ہی نہیں پائی۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک خط کے لیک ہونے اور پرنب مکھرجی کے مضطرب ہونے کی وجہ سے تناؤ پیدا ہوا اور سرکاریکبارگی سکتے میں آگئی، پر پھر سب کچھ اپنی راہ چل پڑا۔ لیکن وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کی پیشانی پر ابھی بھی بل پڑے ہوئے ہیں، کیوں کہ انہیں وزیر داخلہ پی چدمبرم اور اٹارنی جنرل غلام ای واہن وَتی کے اصلی رول کا علم ہے۔
آئیے ہم بتاتے ہیں کہ کیا ہیں وہ راز، جو وزیر داخلہ اور اٹارنی جنرل آف انڈیا کو مشکوک بناتے ہیں۔ غلام ای واہن وَتی کے بیٹے ہیں ایسّا جی واہن وَتی۔ یہ بھی اپنے والد کی طرح وکالت کے پیشے میں ہیں۔ ایسّا جی واہن وَتی اس ویدانتا کمپنی کے قانونی صلاح کار ہیں، جس میں وزیر داخلہ پی چدمبرم بورڈ آف ڈائریکٹرس میں تھے۔ ایسّا جی واہن وَتی ممبئی میں واقع ایک لاء فرم اے زیڈ بی میں پارٹنر ہیں، جس میں اُن کے ساتھ ہیں ملک کی نامی گرامی کمرشیل ٹیکس وکیل جیا مودی۔ جیا مودی سابق اٹارنی جنرل سولی جہانگیر سوراب جی کی اکلوتی بیٹی ہیں۔ سولی جہانگیر سوراب جی اور غلام ای واہن وَتی دونوں ہی لاء فرم اے زیڈ بی کے بانی رکن ہیں۔ ایسّا جی واہن وَتی اور جیا مودی کے علاوہ اِس لاء فرم کے بورڈ آف ڈائریکٹرس میں بہرام وکیل، اجے بہل، اریہنت پٹنی اور اپوروَا پٹنی بھی شامل ہیں۔ اس لاء فرم کی ٹرسٹی ہیں سولی جہانگیر سوراب جی کی بیوی اور اس کے اہم کلائنٹس ہیں انل امبانی، مکیش امبانی، رتن ٹاٹا، سنیل متّل، ایم ٹی این ویدانتا، ووڈافون، ایسّارجیسے لوگ اور کمپنیاں۔ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں اِن سبھی کمپنیوں کے نام درج ہیں۔ ڈی بی ریئلٹی کے پارٹنر شاہد بلوا اور ریلائنس ٹیلی کام کے مالک انل امبانی دونوں سوان ٹیلی کام میں شیئر ہولڈر ہیں۔ سوان ٹیلی کام پر ریلائنس ٹیلی کام کی فرنٹ کمپنی ہونے کا الزام ہے۔ سوان ٹیلی کام کے 9.9 فیصد حصے کو ڈیلفی کو بیچے جانے کو لے کر انل امبانی سمیت کئی لوگوں کی سی بی آئی جانچ چل رہی ہے۔ حالانکہ کورٹ میں پیش اسٹیٹس رپورٹ میں سی بی آئی نے کہا ہے کہ اسے ایسا کوئی زبانی یا تحریری ثبوت نہیں ملا ہے، جس سے یہ ثابت ہو کہ انل امبانی کا اس گھوٹالے میں کوئی مشکوک رول ہے۔ لیکن اسی معاملے میں شاہد عثمان بلوا تہاڑ جیل میں ہے۔
اس کے علاوہ سوان ٹیلی کام کا نام خاص طور پر اجاگر ہے۔ وزارتِ مواصلات میں سکریٹری سطح کے ایک افسر اور ہندوستان کے ریٹائرڈ وائرلیس ایڈوائزر آر پی اگروال نے عدالت میں دیے بیان میں یہ کہا ہے کہ ملک کے اس وقت کے سالسٹر جنرل غلام ای واہن وَتی نے ٹیلی کام ڈسپیوٹ سیٹلمنٹ ایپیلیٹ ٹربیونل یعنی ٹی ڈی سیٹ کو دیے حلف نامے میں سوان ٹیلی کام کو بنیادی ترجیح پر دکھایا تھا۔ ملک کے ایک بڑے ماہر قانون کہتے ہیں کہ جب یہ بیان عدالت میں درج ہے تو پھر سی بی آئی نے غلام ای واہن وَتی کے گھوٹالے میں رول کی جانچ کیوں نہیں کی، انہیں سی بی آئی نے اپنا گواہ کیسے بنا لیا؟
دوسری بات یہ کہ جس سوان ٹیلی کام کی اٹارنی جنرل نے پیروی کی، بعد میں اسی کے خلاف بیان دیا۔ سوان کا ایم ڈی شاہد عثمان بلوا جیل میں ہے، جس کے قریبی رشتے مہاراشٹر کے سرکردہ لیڈر شرد پوار کی رکن پارلیمنٹ بیٹی سپریا سُلے سے ہیں۔جس کا ثبوت ہم پچھلے شمارہ میںشائع کر چکے ہیں۔ غلام ای واہن وَتی بھی مہاراشٹر کے ایڈووکیٹ جنرل رہ چکے ہیں۔ تو کیا اُس وقت وہ وزیر زراعت شرد پوار یا سپریا سُلے کے دباؤ میں تھے یا پھر چونکہ گھوٹالے کا پس منظر تیار ہو رہا تھا، تب کانگریس اور این سی پی کے درمیان رشتے اچھے تھے، اس لیے غلام ای واہن وَتی نے ایسا کیا۔ اور اب چونکہ کانگریس کی اپنی معاون پارٹی سے کڑواہٹ بڑھ رہی ہے اور مہاراشٹر میں اسمبلی انتخاب بھی ہونے ہیں، اس لیے شاہد بلوا کو مہرا بناکر شرد پوار کو توڑنے کا منصوبہ ہے۔ سی بی آئی کو غلام ای واہن وَتی کی شراکت داری کی جانچ کرتے ہوئے اِن سبھی مدعوں پر غور کرنا ہوگا۔
غلام ای واہن وَتی نے ملک کے قانون کے سرکردہ افسر کے طور پر دسمبر 2010 میں عدالت میں دیے گئے اپنے حلف نامے میں اے راجا کی سبھی کارروائیوں کو جائز ٹھہرایا ہے اور اب وہ اِن سبھی باتوں سے مکر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سابق وزیر مواصلات اے راجا کے ذریعے وزیر اعظم کو 26 دسمبر، 2007 کو لکھے خط میں اس بات کا صاف طور پر ذکر ہے کہ انہوں نے ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ پر سالسٹر جنرل غلام ای واہن وَتی اور وزراء کے گروپ کے صدر پرنب مکھرجی سے تفصیلی بات کی۔ این ڈی اے سرکار کے ذریعے 2001 میں طے کی گئی پالیسی ’پہلے آؤ پہلے پاؤ‘ کی بنیاد پر اپنی منظوری کی مہر لگائی۔ غلام ای واہن وَتی نے ہی یہ صلاح دی کہ جو لوگ شام کے ساڑھے چار بجے تک لیٹر آف اِنٹینٹ پیش کریں گے، انہیں لائسنس جاری کر دیا جائے گا۔ اس وقت کے سالسٹر جنرل غلام ای واہن وَتی نے کٹ آف ڈیٹ اور دیگر شرائط کو دیکھنے کے بعد ہی اپنی منظوری دی تھی۔
وزیر اعظم نے اس سلسلہ میں جب تفصیلی بیورا مانگا تو پرنب مکھرجی نے انہیں خط تو لکھا، پر حیران کن بات یہ رہی کہ انہوں نے اس خط میں اے راجا کے ساتھ ہوئی اپنی میٹنگ کا ذکر تک نہیں کیا۔ یہ خط 26 دسمبر، 2007 کو لکھا گیا، لیکن پرنب مکھرجی کو اس کی رسیونگ 3 جنوری، 2008 کو ملی۔ 10 جنوری، 2008 کو 15 کمپنیوں کو 121 لائسنسوں کے لیے آفر لیٹر جاری کر دیے گئے اور 15 جنوری، 2008 کو چدمبرم نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو لکھا کہ راجا نے جو کیا، وہ باب بند ہے۔ 30 جنوری، 2008 کو راجا نے چدمبرم کے ساتھ . آپریٹروں کی تعداد اور اسپکٹرم ٹریڈنگ کو  محفوظ کرنے کی ضرورت کے بارے میں بات کی۔ 4 جولائی، 2008 کو وزیر اعظم، چدمبرم اور راجا نے اسپیکٹرم فیس اور 6.2 میگا ہرٹز کے پرے قیمت پر بات چیت کے لیے میٹنگ کی۔ 23 ستمبر، 2008 کو سوان نے ایتسلات کے ساتھ سودا کیا اور ایک مہینہ بعد ہی یونٹیک نے ٹیلی نار کے ساتھ سودا کر لیا۔ مطلب یہ کہ سوان ٹیلی کام کی یہ بے دھڑک سودے بازی غلام ای واہن وَتی کی سفارشوں کی وجہ سے ہی ممکن ہو سکی۔
تاریخی خط بتاتے ہیں کہ ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ معاملے سے جڑی سبھی جانکاریاں غلام ای واہن وَتی، پی چدمبرم اور وزیر اعظم کو تھیں۔ پرنب مکھرجی کو بھی اِن فیصلوں سے واقف کرایا گیا، پھر بھی گڑبڑیاں ہوتی رہیں۔ آخر وجہ کیا رہی؟ وجہ رہے غلام ای واہن وَتی۔ پہلے تو انہوں نے ’پہلے آؤ پہلے پاؤ‘ کے مسودے کو منظوری دی۔ پھر جب راجا ٹرائی ایکٹ کے سیکشن 11 کی پوری طرح خلاف ورزی کر رہے تھے، تب بھی ملک کے سرکردہ ماہر قانون داں ہونے کے ناطے انہوں نے وزارتِ قانون کو آگاہ نہیں کیا۔ اکتوبر 2007 میں راجا نے ٹرائی کے فیصلے کے خلاف جاکر سوان، یونٹیک اور ایس ٹیل کو اپنی اکیوٹی بیچنے کی اجازت دی، تب کمپنی افیئرس وزارت کیا کر رہی تھی ۔کمپنی افیئرس منسٹر سلمان خورشید نے آنکھیں کیوں بند کر رکھی تھیں اور آج وزیر قانون کے طور پر پھر خاموش ہیں۔اور غلام ای واہن وَتی سبھی فیصلوں سے واقف ہوتے ہوئے بھی خاموش کیوں رہے؟
اب بات کرتے ہیں اس گھوٹالے کی وجہ سے ہوئے سرکاری خزانے کے نقصان کی۔ سی بی آئی نے جو چارج شیٹ داخل کی ہے، اس میں اس نے ایک ہی چارج شیٹ میں اے راجا، یونٹیک کے سنجے چندرا اور سوان کے شاہد بلوا سمیت 14 نام رکھے ہیں۔ حیرانی کی بات یہ بھی ہے کہ سنجے چندرا اور شاہد بلوا، جو بلڈر ہونے کے ناطے کاروباری حریف بھی ہیں، کے درمیان ساز باز دکھانے کی کوشش کی گئی ہے، جس کے ثبوت ابھی تک نہیں ملے ہیں۔ راجا پر الزام ہے کہ انہوں نے 12 کمپنیوں کو اونے پونے داموں پر اسپیکٹرم جاری کیا، پر اب صرف دو کمپنیوں کو ہی سرکاری خزانے کے نقصان کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ یہاں سرکاری خزانے کے نقصان کے جو اعداد و شمار پیش کیے جا رہے ہیں، ان میں بھی تضاد ہے۔
پچھلے سال نومبر میں جب کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے اس کا تجزیہ کیا تو اس کے لیے ٹرائی کو بنیاد بنایا۔ ٹرائی نے کہا کہ ٹو جی اصل میں 2.75 جی اسپیکٹرم یا جو 3- جی اسپیکٹرم سے بہت الگ نہیں تھا اور اس کے لیے پچھلے سال کی گئی 3- جی نیلامی کو بنیاد مانا جائے تو نقصان 1,76,645 کروڑ روپے تک کا ہو سکتا ہے۔ اگر ستیم، بوفورس اور دولت مشترکہ کھیل وغیرہ گھوٹالوں کو آپس میں جوڑ دیا جائے تو اُس کل رقم سے بھی یہ رقم کئی گنا زیادہ ہے، لیکن پیچ اس میں بھی ہے۔ 2008 میں سی بی آئی نے کہا تھا کہ اے راجا کی وجہ سے جو نقصان ہوا، وہ 20,000 کروڑ روپے کا ہی تھا۔ جب کہ اس سال کے آغاز میں سی بی آئی نے جو چارج شیٹ داخل کی، اس میں اسے بڑھا کر 30,984.55 کروڑ روپے کر دیا گیا۔ جب انفورسمینٹ ڈائریکٹریٹ (ای ڈی) نے اپنا اندازہ پیش کیا تو یہ رقم بڑھ کر 40,000 کروڑ روپے ہو گئی۔ اس پر طرہ یہ کہ جب وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں بیان دیا تو کہا کہ ٹو جی اسپیکٹرم کی فروخت سے سرکار کو نقصان نہیں ہوا ہے۔ وزیر داخلہ اور اسپیکٹرم فروخت کے وقت وزیر خزانہ رہے پی چدمبرم نے بھی یہی بات کہی۔ وزیر نشریات کپل سبل نے بھی اسی بات کو دہرایا۔
ملک کی عدالت عظمیٰ کے ایک قانون داں کہتے ہیں کہ اے راجا کو شروع سے ہی پتہ تھا کہ وہ جو کر رہے ہیں، وہ پوری طرح غلط ہے، لیکن وہ بے فکر ہیں، کیونکہ تمام واقعات پر نظر ڈالیں تو یہ لگتا ہے کہ ان کے پاس اس بات کے ثبوت ہیں کہ ہندوستان کے اٹارنی جنرل کا کردار بھی انہیں کی طرح ہے۔ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ لاپروائیاں غلام ای واہن وتی سے بھی ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ راجا عدالت میں اپنا فریق خود رکھنے کی تیاری میں ہیں، کیونکہ خود راجا کو ملک کے قانونی نظام اور عدالتی عمل پر یقین نہیں ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر کوئی دوسرا وکیل عدالت میں ان کا فریق رکھے گا تو وہ معاملہ بگڑ سکتا ہے۔ سچ سامنے آنے کے لئے یہ ضروری بھی ہے، کیونکہ ملک کے اعلیٰ قانونی عہدوں پر فائز لوگوں پر الزام عائد ہیں۔ یہ نہ صرف قانونی عمل کی عظمت، بلکہ ملک کے عام آدمی کے قانون اور عدالتی نظام پر عقیدہ کا بھی سوال ہے، جس کا جواب ملنا ہی چاہئے۔

تنازعات میں گھرے واہن وتی
ہندوستان کے اٹارنی جنرل غلام ای واہن وتی نے نہ صرف ٹو جی اسپیکٹرم معاملہ میں حکومت کی کرکری کرائی ہے، بلکہ وہ پہلے بھی اپنے فیصلوں پر حکومت کو مصیبت میں ڈالتے رہے ہیں۔ تازہ تنازعہ سماجوادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو کی آمدنی سے زیادہ اثاثہ کا سی بی آئی میں درج معاملہ ہے۔ سپریم کورٹ کے وکیل وشو ناتھ چترویدی نے دہلی کے تلک مارگ تھانہ میں اٹارنی جنرل آف انڈیا کے خلاف دفعہ 218اور 120Bآئی پی سی کے تحت شکایت درج کرائی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ غلام ای واہن وتی نے سی بی آئی پر اس بات کے لئے دبائو ڈالا تھا کہ وہ ملائم سنگھ کے خلاف سپریم کورٹ میں چل رہے آمدنی سے زیادہ اثاثہ کے معاملہ کو رفعہ دفعہ کرے۔ وشو ناتھ چترویدی نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ غلام ای واہن وتی اپنے عہدہ کا بیجا استعمال کر رہے ہیں اور حکومت کو ناجائز طریقہ سے فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ واہن وتی نے بھوپال گیس سانحہ کے مسئلہ پر بھی حکومت کی بخیا ادھیڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ بے بنیادی اور گمراہ کن حقائق کی بنا پر غلام ای واہن وتی نے حکومت کو سپریم کورٹ میں کیوریٹو اپیل دائر کرنے کا مشورہ دے دیا، جسے سپریم کورٹ نے خارج کر دیا۔ بری فوجی سربراہ کے عمر کے تنازعہ پر بھی ان کا کردار نے ان کے عہدہ کی عظمت کو شک و شبہات کے گھیرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ ملک کے اس اعلیٰ قانونی افسر پر یہ الزام بھی ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے ایساجی واہن وتی کو بیجا فائدہ پہنچانے کی غرض سے سرکاری ہدایات کی خلاف ورزی کی۔ معاملہ ویدانتا نامی کمپنی سے جڑا ہے۔ وزیر داخلہ پی چدمبرم اس کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرس میں تھے۔ غلام ای واہن وتی کے بیٹے ایساجی واہن وتی ویدانتاکے قانونی صلاح کار ہیں۔ اگست 2010میں ویدانتا نے اعلان کیا کہ وہ کیرن انڈیا لمیٹڈکی 60فیصد حصہ داری خریدنا چاہتا ہے۔ یہ فائل اس وقت کے سالسٹر جنرل واہن وتی کے پاس سیدھے پہنچ گئی۔ معاملہ گیس اور پیٹرولیم کا تھا۔ جس کا ضابطہ یہ ہے کہ کسی  بھی ریاست میں واقع گیس پیٹرولیم کے ذخیرہ پر پہلے او این جی سی کی ملکیت ہوتی ہے، لیکن یہاں غلام ای واہن وتی کے بیٹے کی وجہ سے ویدانتا کی فائل سیدھی مرکز تک پہنچ گئی۔ حالانکہ اس مسئلہ پر بعد میں کافی تنازعہ ہوا اور واہن وتی اور وزارت قانون کو اس بات پر صفائی بھی پیش کرنی پڑی۔

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *