آپ کے سوال، مسائل اور حل

چوتھی دنیا  کی آر ٹی آئی مہم عوام تک پہنچ رہی ہے۔ اس کا ثبوت ہے قارئین کے خط۔ ہمارے قارئین اور عام آدمی اپنے مسائل اب ہم سے بانٹنے لگے ہیں۔یہ اچھی بات ہے کہ ملک کا عام شہری اب بیدار ہو رہا ہے، محتاط ہے اور سوال پوچھ رہا ہے۔ یہ ایک اچھا اشارہ ہے، ایک صحت مند جمہوریت کے لیے۔ ہم اپنے قارئین کو مبارکباد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ اسی طرح اپنا رد عمل اور مسائل سے ہمیں آگاہ کراتے رہیں گے۔اس شمارے میںہم اپنے کچھ قارئین کے خط شامل کر رہے ہیں، جن میں الگ الگ طرح کے مسائل کا ذکر ہے اور جن کے بارے میں جاننا دیگر لوگوں کے لیے بھی فائدہ مند رہے گا۔ اس کے علاوہ ہم اس شمارہ میں اسٹریٹ لائٹ کے متعلق ایک درخواست شائع کررہے ہیں، جس کا استعمال آپ اپنی گلی، محلے میں خراب پڑی اسٹریٹ لائٹ ٹھیک کرانے کے لیے کر سکتے ہیں۔ آئندہ شمارے میں بھی ہم آپ کے مسائل کا اسی طرح حل بتائیں گے۔ آپ آر ٹی آئی قانون کا جم کر استعمال کرتے رہیے۔
قارئین کے خط
آر ٹی آئی کارکن بننا چاہتا ہوں
میں ’چوتھی دنیا‘ کا باقاعدہ قاری ہوں۔ یہ اخبار حق اطلاع قانون کی تمام جانکاری عام لوگوں کے درمیان پہنچانے کا کام کر رہا ہے۔اس کے لیے شکریہ۔میں آر ٹی آئی کارکن بننا چاہتا ہوں، برائے مہربانی مناسب مشورہ اور رہنمائی فراہم کریں۔
جتیندر گوتم، فیروز آباد، اتر پردیش
یہ اچھی بات ہے کہ آپ آر ٹی آئی قانون کا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ آپ ’چوتھی دنیا‘ میں باقاعدہ شائع ہونے والے آر ٹی آئی کالم کو پڑھتے رہیں۔ اس میں حق اطلاع قانون سے جڑی سبھی جانکاریاں دینے کی کوشش کی جاتی ہے، جو آپ کے لیے مفید ثابت ہوں گی۔
غلط کتاب پڑھائی جا رہی ہے
راجستھان سکنڈری ایجوکیشن بورڈ کے ذریعہ بارہویں درجہ میں گزشتہ پانچ سالوں سے کمپیوٹر کی جو کتابیں پڑھائی جا رہی ہیں، ان میں سینکڑوں غلطیاں ہیں۔ اس کے بارے میں بورڈ اور متعلقہ محکمے کو پچیس سے زیادہ خط، ای میل اور فیکس بھیجے جاچکے ہیں، لیکن بُک سلیکشن کمیٹی، مصنفین، افسروں اور ریاست میں ٹھیکے پر پڑھا رہی نجی کمپنیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔ کیا آپ اس معاملے میں مدد کر سکتے ہیں؟
منوج نروان (ای میل سے)
آپ نے اس سلسلے میں جو بھی کوشش متعلقہ محکمے یا افسروں کے ساتھ کی ہے، اس پر ایک آر ٹی آئی درخواست دے کر صرف یہ پوچھیں کہ آپ کے خطوں یا شکایتوں پر اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے۔
فائل کی فوٹو کاپی چاہیے
میں نے ایک درخواست  ڈائریکٹوریٹ فار پبلک رلیشن، رائے پور میں دیا تھا۔ جواب دینے کے بجائے دستاویز سپروژن کے لیے پیسہ جمع کرانے کی بات کہی جا رہی ہے۔کیا میں مذکورہ فائل کی فوٹو کاپی نہیں مانگ سکتا، کیونکہ فائل کی زبان سمجھنا مشکل ہے۔
وِکاس شرما ، رائے پور، چھتیس گڑھ
آپ فیس جمع کرکے فائل کی فوٹو کاپی حاصل کر سکتے ہیں۔
درخواست کا نمونہ (بدعنوانی سے متعلق شکایات کی صورتحال)
بخدمت جناب
پبلک انفارمیشن آفیسر
(محکمہ کا نام)
موضوع: حق اطلاعات ایکٹ 2005کے تحت درخواست
جناب عالی،
مندرجہ ذیل اسٹریٹ لائٹیں کئی دنوں سے کام نہیں کر رہی ہیں:  ——————————————
اس کے لیے کئی شکایتیں کی جا چکی ہیں (فوٹو کاپی منسلک ہے)، لیکن ان شکایتوں پر اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل اطلاعات فراہم کرائیں:
(1 )    میونسپل کونسل نے اس علاقے کی اسٹریٹ لائٹوں کے رکھ رکھائو کا ٹھیکہ کسے دیا ہے؟ اس ٹھیکے سے متعلق کام کی فوٹو کاپی فراہم کریں۔
(2 )    شہریوں کے ذریعہ شکایت کیے جانے کے بعد کتنے دنوں کے اندر خراب لائٹوں کی مرمت ہو جانی چاہیے؟ اس سلسلے میں کوئی کنٹریکٹ یا کوئی آرڈر دیا گیا ہو تو اس کی کاپی دیں۔
(3 )    اگر لائٹوں کی مرمت مندرج مقررہ وقت کے اندر نہیں ہوتی ہے تو ٹھیکہ دار کے خلاف کیا کارروائی کی جاتی ہے؟ اس سے متعلق کنٹریکٹ یا کوئی آرڈر دیا گیا ہو تو اس کی کاپی دیں۔
(4 )    کن حالات میںٹھیکہ دار کی ادائیگی میں کٹوتی کی جاتی ہے؟ اس سلسلے میں کنٹریکٹ  یا کوئی آرڈر دیا گیا ہو تو اس کی کاپی دیں۔
(5 )    کیا میرے ذریعہ کی گئی شکایتوں کے کا حوالہ دے کر ٹھیکہ دار کی ادائیگی میں کٹوتی کی جائے گی،اگر نہیں تو کیوں؟
(6 )    اگر ہاں،تو کتنے دنوں کے اندر میونسپل کونسل یہ کٹوتی کر لے گی؟
(7 )    کن حالات میں کنٹریکٹ رد کیا جا سکتا ہے؟اس سلسلے میں کوئی کنٹریکٹ یا کوئی آرڈر دیا گیا ہو تو اس کی فوٹو کاپی دیں۔
(8 )    کیا میرے ذریعہ کی گئی شکایتوں کی بنیاد پر کنٹریکٹ رد کیا جا سکتا ہے؟
(9 )    اگر ہاں، تو کتنے دنوں کے اندر میونسپل کونسل کنٹریکٹ رد کر دے گا؟
(10)    اگر ٹھیکہ دار اپنا کام صحیح ڈھنگ سے نہیں کرتا ہے تو میونسپل کونسل کے پاس کون کون سے اختیارات ہیں،جن کا استعمال کر کے وہ ٹھیکہ دار کو صحیح ڈھنگ سے کام کرنے کے لیے مجبور کرسکتا ہے؟
میں درخواست فیس کی شکل میں ………..روپے الگ سے جمع کر رہا ؍رہی ہوں۔
یا
میں بی پی ایل کارڈ ہولڈر ہوں، اس لیے سبھی فیس سے آزاد ہوں۔ میرا بی پی ایل کارڈ نمبر……………….ہے۔
اگر مانگی گئی اطلاع آپ کے محکمے؍دفتر سے متعلق نہ ہو تو حق اطلاع قانون 2005  کے دفعہ 6(3) کا نوٹس لیتے ہوئے میری درخواست متعلقہ پبلک انفارمیشن آفیسر کو پانچ دنوں کے اندر منتقل کریں۔ ساتھ ہی قانون کی شقوں کے تحت اطلاع فراہم کراتے وقت فرسٹ اپیلیٹ آفیسر کا نام و پتہ ضرور بتائیں۔
نام———————————————————————–
پتہ   ———————————————————————
فون نمبر——————— ———–  منسلکہ ,اگرکچھ ہو  — —————————————————

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *