ٹوجی گھوٹالہ میں رابرٹ وڈیرا اگلا نشانہ : سبرامنیم سوامی

ڈاکٹر منیش کمار

ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے نے سرکاری مشینری پر عوام کے اعتماد کو ہی توڑ دیا۔ جب سابق مرکزی وزیر اور جنتا پارٹی کے صدر سبرامنیم سوامی نے اس گھوٹالے کو عدالت تک پہنچایا تو کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ کوئی وزیر کسی گھوٹالے میں جیل بھی جا سکتا ہے، لیکن ٹو جی گھوٹالے میں پہلے وزیر مواصلات اے راجا جیل گئے، پھر ڈی ایم کے چیف کروناندھی کی بیٹی کنی موئی بھی جیل گئیں۔ ان کے ساتھ ساتھ بڑی کمپنیوں کے مالک اور اہل کار تہاڑ جیل کی رونق بڑھا رہے ہیں۔ سبرامنیم سوامی نے ٹو جی گھوٹالے میں جن جن لوگوں پر الزام لگائے ان کے خلاف ثبوت بھی دیا۔ فی الحال، وزیر داخلہ پی چدمبرم کے خلاف معاملے میں عدالت کے حکم کا انتظار ہے۔ ٹو جی گھوٹالے میں سبرامنیم سوامی کا اگلا نشانہ گاندھی فیملی ہے۔ چوتھی دنیا نے جب سبرامنیم سوامی سے بات کی تو انہوں نے کئی ایسی باتیں بتائیں جو سنسنی خیز ہیں۔

بدعنوانی آج سب سے بڑا مدعا ہے۔ رام دیو بدعنوانی کو عوامی بیداری کے ذریعے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ انّا کہتے ہیں کہ بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے ایک مضبوط لوک پال کی ضرورت ہے۔ لوک پال کے بغیر بدعنوانی سے لڑا نہیں جاسکتا ہے۔ سبرامنیم سوامی ایک ایسے شخص ہیں جنہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ موجودہ قانون کی مدد سے بھی بدعنوانی سے لڑا جاسکتا ہے۔ بدعنوانی کے خلاف ملک میں جو ماحول بنا ہے اس میں ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کا بڑا رول ہے۔ وہ اس لیے، کیوں کہ جس سطح کا یہ گھوٹالہ ہے، وہ دماغ ہلا دینے والا ہے۔ ایک لاکھ 76 ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ۔ صرف پیسے کی بات نہیں ہے، اس گھوٹالے کو جس طرح انجام دیا گیا وہ بھی ایک انوکھا طریقہ تھا۔ کیا خریدا گیا، کیا بیچا گیا، قیمت کیسے طے کی گئی، یہ کسی کو پتہ نہیں ہے، لیکن صنعت کاروں کے ساتھ ساز باز کرکے وزیروں اور لیڈروں نے سرکاری خزانے کو 1.76 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان کرادیا۔ جب اس گھوٹالے کو لے کر سبرامنیم سوامی نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اس وقت کسی کو یہ یقین نہیں تھا کہ کسی گھوٹالے میں کوئی وزیر جیل بھی جاسکتا ہے۔ لوگوں کو سبرامنیم سوامی کی باتوں پر یقین نہیں ہوا۔ لیکن، جیسے جیسے دن گزرتے گئے، سبرامنیم سوامی کی بات سچ ثابت ہوتی گئی۔ انہوں نے سب سے پہلے ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں وزیر مواصلات اے راجا پر نشانہ لگایا۔ انہیں استعفیٰ دینا پڑا، وہ تہاڑ جیل پہنچ گئے۔ دوسرا نشانہ، ڈی ایم کے چیف کروناندھی کی بیٹی کنی موئی پر لگایا، وہ بھی تہاڑ جیل پہنچ گئیں۔ عدالت میں سوامی ثبوت فراہم کرتے گئے اور بڑی بڑی کمپنیوں کے مالک اور اس کے اہل کار بھی جیل پہنچنے لگے۔ اس کے بعد، سبرامنیم سوامی نے سیدھے وزیر داخلہ پی چدمبرم کو نشانہ بنایا۔ عدالت پہنچے اور ثبوتوں کو پیش کیا۔ چدمبرم پر کیا کارروائی ہو، یہ معاملہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ سبرامنیم سوامی دعوے کے ساتھ کہتے ہیں کہ وزیر داخلہ پی چدمبرم نے اپنی کرتوتوں کو چھپانے کی پوری کوشش کی اور سارا الزام اے راجا پر ڈال دیا، لیکن اصل میں سینئر پارٹنر بھی چدمبرم ہیں اور اے راجا جونیئر پارٹنر ہیں۔ ٹو جی اسپیکٹرم کا معاملہ ایسا ہے، جس کے فیصلہ کا انتظار پورے ملک کو ہے۔ سب کی نگاہیں سپریم کورٹ پر ٹکی ہوئی ہیں۔
ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کو ملک کا سب سے بڑا گھوٹالہ مانا جا رہا ہے۔ اس میں بڑے بڑے لیڈر اور وزیر شامل ہیں، صنعت کار شامل ہیں، اس میں بڑے اہل کار شامل ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے رخ کی وجہ سے سب کے اوپر شکنجہ کستا دکھائی دے رہا ہے۔ سبرامنیم سوامی اکیلے ہی اِس لڑائی کو لڑ رہے ہیں۔ انہی کی وجہ سے آج ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں کئی لوگ جیل کی ہوا کھا رہے ہیں۔ ٹو جی گھوٹالے میں ابھی اور بھی کئی بڑے مگرمچھ ہیں، جو قانون کے شکنجے سے باہر ہیں، جنہیں پکڑا جانا ہے۔ سبرامنیم سوامی کہتے ہیں کہ چدمبرم کے بعد اُن کے نشانے پر رابرٹ وڈیرا ہیں۔ وہ سونیا گاندھی کے داماد اور پرینکا گاندھی کے شوہر ہیں۔ ان کے علاوہ دو اور بڑی سیاسی شخصیتیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فی الحال اُن کے پاس دوسرے لوگوں کے خلاف ثبوت نہیں ہیں، لیکن ٹو جی گھوٹالے میں رابرٹ وڈیرا کے رول کا پردہ فاش کرنے کے لیے وہ پوری طرح تیار ہیں۔ انہوں نے ٹو جی گھوٹالے میں رابرٹ وڈیرا کے رول کی اپنی جانچ پڑتال پوری کر لی ہے۔ ان کے پاس وافر ثبوت ہیں جس سے رابرٹ وڈیرا کے خلاف عدالت میں معاملہ درج کر سکیں گے۔ مطلب یہ کہ سبرامنیم سوامی کو ٹو جی گھوٹالے میں وزیر داخلہ پی چدمبرم کے معاملے میں عدالت کے فیصلے کا انتظار ہے۔ عدالت کا فیصلہ آتے ہی وہ گاندھی فیملی پر حملہ کرنے کی تیاری میں ہیں۔ یہ ایک فیصلہ کن لڑائی ہوگی۔ ٹو جی اسپیکٹرم میں گاندھی فیملی کے لوگوں کا ہاتھ ہے، وہ اس بات کو ثابت کرنے میں مصروف ہو جائیں گے۔ سیاسی نقطہ نظر سے اگر دیکھیں تو سبرامنیم سوامی اپنی قانونی لڑائی سے کانگریس پارٹی کے لیے مشکلیں کھڑی کر سکتے ہیں۔ اگر عدالت چدمبرم کے خلاف جانچ کا حکم دیتی ہے تو انہیں استعفیٰ دینا پڑ سکتا ہے، سرکار گرنے کا امکان بڑھ جائے گا، وسط مدتی انتخاب ہو سکتے ہیں اور اگر چدمبرم کو عدالت سے راحت ملتی ہے، تو سبرامنیم سوامی رابرٹ وڈیرا کو ٹو جی گھوٹالے میں ملزم بناکر سیاسی ہنگامہ کھڑا کردیں گے۔ دونوں ہی صورت کانگریس کے لیے خطرناک ہے۔
سبرامنیم سوامی گاندھی فیملی کے مخالفین میں ہیں۔ سونیا گاندھی کے خلاف وہ اکثر بیان دیتے آتے ہیں۔ چوتھی دنیا سے بات چیت کے دوران سبرامنیم سوامی نے ایک تاریخی خلاصہ کیا ہے۔ کانگریس پارٹی اب تک یہی مانتی آئی ہے اور ملک کو یہ بتاتی آئی ہے کہ سونیا گاندھی نے اپنے ضمیر کی آواز سن کر وزیر اعظم کے عہدہ کو ٹھکرا دیا۔ سبرامنیم سوامی کہتے ہیں کہ ایسا کرکے سونیا گاندھی نے کوئی بڑی قربانی نہیں دی ہے۔ اُن کے مطابق سونیا گاندھی وزیر اعظم بننا چاہتی تھیں، لیکن صدر جمہوریہ نے منع کردیا۔ 17 مئی 2004 کو پانچ بجے صدر جمہوریہ سونیا گاندھی کو سرکار بنانے کی دعوت دینے والے تھے۔ اسی دن دوپہر ساڑھے بارہ بجے سبرامنیم سوامی صدر جمہوریہ سے ملے۔ انہوں نے صدر کو بتایا کہ ملک کا شہری بننے کے قانون کے مطابق کوئی بھی غیر ملکی جب ہندوستان کا شہری بنتا ہے تو اس پر وہی قانون لاگو ہوتا ہے جو اس کے پہلے والے ملک میں لاگو ہوتا ہے۔ اٹلی میں کوئی غیر ملکی وزیر اعظم نہیں بن سکتا ہے، اس لیے سونیا گاندھی وزیر اعظم نہیں بن سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے صدر جمہوریہ سے کہا کہ خفیہ ایجنسی راء سے صلاح و مشورہ کیجئے، کیوں کہ سونیا گاندھی کے پاس ہندوستان کے علاوہ اٹلی کے بھی پاسپورٹ ہیں۔ سوامی دعویٰ کرتے ہیں کہ آج بھی سونیا گاندھی کے پاس دو دو پاسپورٹ ہیں۔ سبرامنیم سوامی سے بات چیت کرنے کے بعد صدر جمہوریہ نے ساڑھے تین بجے سونیا گاندھی کو ایک خط لکھا، جس میں انہیں پانچ بجے آنے سے منع کیا گیا تھا۔ سبرامنیم سوامی کے مطابق صدر جمہوریہ کے ذریعے سونیا گاندھی کو لکھے گئے خط میں ان کی شکایت کا ذکر ہے۔ یہ خط آج تک منظر عام پر نہیں آیا ہے۔ سبرامنیم سوامی کانگریس کو یہ چنوتی دیتے ہیں کہ اُس خط کو منظر عام پر لانا چاہیے۔ انہوں نے اس دوران پیش آنے والے واقعات کا ذکر کیا۔ اُن کے مطابق، جب وہ صدر جمہوریہ سے ملنے پہنچے تو وہاں ممبران پارلیمنٹ کی حمایت والے خطوط کو دیکھا۔ 340 ممبران پارلیمنٹ کی حمایت والے خطوط تھے، جن میں سب نے یہ لکھا تھا کہ میں فلاں فلاں پارلیمانی حلقہ سے منتخب سونیا گاندھی کو وزیر اعظم کے عہدہ کے لیے اپنی حمایت پیش کرتا ہوں۔ وہاں ایک خط سونیا گاندھی کا بھی تھا، جس میں یہ لکھا تھا کہ میں سونیا گاندھی، رائے بریلی سے منتخب سونیا گاندھی کو وزیر اعظم کے عہدہ کے لیے پیش کرتی ہوں۔ سوامی کہتے ہیں کہ، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سونیا گاندھی کی یہ قربانی ایک جھوٹی کہانی ہے۔
سبرامنیم سوامی کا ماننا ہے کہ اپنی ماں کی طرح راہل گاندھی بھی کبھی وزیر اعظم نہیں بن سکتے۔ راہل گاندھی جس وقت پیدا ہوئے، اس وقت سونیا گاندھی اٹلی کی شہری تھیں، اور وہاں کے قانون کے مطابق راہل گاندھی بھی اٹلی کے شہری ہیں۔ سوامی کہتے ہیں کہ اٹلی کی شہریت کو چھوڑنے کی جو کارروائی ہے، اس میں راہل گاندھی نے کبھی حصہ نہیں لیا۔ انہوں نے ایک واقعہ کے بارے میں بتایا کہ بوسٹن میں وہ ایک بار ساٹھ ہزار ڈالر کے ساتھ پکڑے گئے تھے، اس وقت بھی راہل گاندھی کے پاس اٹلی کا پاسپورٹ تھا۔ مطلب یہ کہ راہل گاندھی کے پاس دو دو پاسپورٹ ہیں۔ سبرامنیم سوامی کا یہ الزام ایک سنگین الزام ہے۔ اس الزام کی سچائی عوام کے سامنے آنا ضروری ہے۔
سبرامنیم سوامی بدعنوانی کے خلاف بڑی بہادری سے لڑائی لڑ رہے ہیں، وہ بے خوف بھی ہیں۔ بات چیت کے دوران ہم نے اُن سے جب یہ پوچھا کہ وہ گاندھی فیملی اور سونیا گاندھی سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں، تو انہوں نے جواب میں کہا کہ سونیا گاندھی نے اپنا نام غلط بتایا، برتھ سرٹیفکٹ میں دوسرا نام ہے۔ ان کی تاریخ پیدائش کو لے کر تنازع ہے کہ وہ 1944 میں پیدا ہوئیں یا 1946 میں۔ ساتھ ہی سونیا گاندھی نے  اپنی تعلیمی لیاقت کے بارے میں ملک کو گمراہ کیا ہے۔ سبرامنیم سوامی صرف الزام ہی نہیں لگا رہے ہیں، وہ ان معاملوں کو لے کر عدالت بھی گئے۔ انہوں نے بتایا کہ قدیم مورتیوں کی اسمگلنگ کے معاملے اور روسی خفیہ ایجنسی کے جی بی سے پیسے لینے کے معاملے کو لے کر وہ عدالت گئے۔ عدالت نے سی بی آئی کو جانچ کا حکم دیا۔ سی بی آئی کے اہل کار بیرونِ ملک بھی گئے اور واپس آکر بتایا کہ اِن معاملوں میں ثبوت تو ہیں، لیکن دوسرے ملکوں کی حکومت اس وقت تک کوئی دستاویز نہیں دے گی، جب تک حکومتِ ہند سے لیٹر ریگوریٹری نہیں ملتا ہے۔ اس سرکاری خط کے جاری ہونے کے لیے ایک ایف آئی آر دائر کرنی ہوگی، پھر جاکر عدالت سے منظوری کی ضرورت پڑتی ہے۔ جس وقت سوامی نے اس معاملے کو اٹھایا تھا، اس وقت اٹل بہاری واجپئی کی سرکار تھی، جس نے سونیا گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے منع کردیا۔
سونیا گاندھی نے پہلے اپنے الیکشن کمیشن میں جمع کیے گئے حلف نامے میں یہ لکھا تھا کہ انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے انگریزی میں بی اے تک کی تعلیم حاصل کی ہے۔ سبرامنیم سوامی اس معاملے کو لے کر عدالت گئے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اُن کے پاس کیمبرج یونیورسٹی کا ایک خط ہے، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ اس نام کی کسی طالبہ نے یہاں سے تعلیم حاصل ہی نہیں کی ہے۔ سوامی نے بتایا کہ اس معاملے سے جڑے سارے حقائق کو انہوں نے جب سپریم کورٹ میں پیش کیا تو اس وقت کے چیف جسٹس بالا کرشنن نے ان الزامات کو ایک طرح سے سچ مانا، لیکن یہ کہا کہ سوامی جی، آپ تھوڑا بڑے دل والے بنو، چھوڑ دو، یہ پرانا معاملہ ہے، اب وہ ایسا کام نہیں کرے گی۔ سبرامنیم سوامی کہتے ہیں کہ اس معاملے میں اُن کی جیت ہوئی ہے، کیوں کہ سونیا گاندھی نے 2009 کے انتخاب میں جو حلف نامہ دیا، اس میں سے کیمبرج کا نام ہٹا دیا۔ اگر انہوں نے کیمبرج سے تعلیم حاصل کی ہے، تو اسے اپنے حلف نامہ سے ہٹانا نہیں چاہیے تھا۔
سبرامنیم سوامی بدعنوانی کے خلاف اپنی لڑائی لڑ رہے ہیں، وہ بھی تنہا۔ وہ ایک سیاسی لیڈر بھی ہیں، اس لیے قانونی لڑائی سے کیسے سیاسی چالیں چلی جاسکتی ہیں، یہ انہوں نے بخوبی ثابت کیا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے سپریم کورٹ میں ایک خط پیش کیا، جس سے منموہن حکومت میں ایک زلزلہ آگیا۔ خط وزارتِ خزانہ کے ذریعے لکھا گیا۔ ہنگامہ مچ گیا کہ پرنب مکھرجی نے اس خط کو لکھوایا ہے۔ اس خط کی وجہ سے ملک کے دو سب سے اہم وزیر یعنی وزیر داخلہ اور وزیر خزانہ کے درمیان زبردست رسہ کشی شروع ہوگئی۔ یہ تصادم کانگریس پارٹی کے لیے خطرناک ہوگیا، کیوں کہ اس خط میں لکھا تھا کہ اگر وزیر داخلہ پی چدمبرم چاہتے تو ٹو جی گھوٹالہ نہیں ہوتا۔ چدمبرم کے خلاف سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سبرامنیم سوامی نے اس خط کو بطور ثبوت پیش کیا۔ اس خط کو وزیر اعظم کے دفتر کے کہنے پر کئی وزارتوں کے اہل کاروں نے باہم صلاح و مشورہ کرکے مل جل کر تیار کیا۔ یہ خط وزیر اعظم کے دفتر کے پاس تھا۔ جولائی کے مہینہ میں کسی آر ٹی آئی کے جواب میں اس خط کو کسی نے حاصل کیا تھا۔ خبر یہ پھیلائی گئی کہ سبرامنیم سوامی کو اسی کی کاپی ملی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس خط کو سوامی نے عدالت میں پیش کیا، وہ آر ٹی آئی سے حاصل کیا گیا خط نہیں ہے۔ سبرامنیم سوامی نے تو یہ نہیں بتایا کہ خط کہاں سے ملا، بس مسکرا کر سوال کو ٹال گئے۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ خط اگر وزیر اعظم کے دفتر میں تھا، تو سبرامنیم سوامی کو یہ خط وزارتِ کھیل سے ملا ہی نہیں ہوگا۔ پرنب مکھرجی اور چدمبرم کی لڑائی سے یو پی اے سرکار کی قلعی کھل گئی۔
سبرامنیم سوامی نے جو کام اکیلے کیا ہے، وہ پورا حزب اختلاف نہیں کر سکا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی منموہن سنگھ سرکار کے خلاف ایک مضبوط اپوزیشن کا رول نہیں نبھا سکی ہے۔ بدعنوانی کے جتنے بھی معاملے سامنے آئے، اسے حزب اختلاف نے نہیں اٹھایا، بلکہ ان گھوٹالوں کا پردہ فاش میڈیا نے کیا۔ ملک میں ٹو جی گھوٹالہ، کامن ویلتھ گھوٹالہ، ستیم گھوٹالہ، آدرش گھوٹالہ جیسے کئی گھوٹالوں کے سامنے آنے کے بعد ہی حزبِ اختلاف نے اسے مدعا بنایا۔ حیرانی اِس بات کی ہے کہ اِن گھوٹالوں کو لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی صرف پارلیمنٹ کے اندر ہنگامہ کرتی رہی۔ حزبِ اختلاف نہ تو کسی وزیر کا استعفیٰ لے سکا اور نہ ہی کوئی ملک گیر مہم چھیڑ سکا۔
ملک میں آج بدعنوانی کے خلاف جو ماحول بنا ہے، اس میں بابا رام دیو، انّا ہزارے اور سبرامنیم سوامی کا ہاتھ ہے۔ سبرامنیم سوامی اگر عدالت کا دروازہ نہ کھٹکھٹاتے تو آج ٹو جی گھوٹالے کے سارے ملزم پہلے کی طرح آرام سے اپنے اپنے کام کر رہے ہوتے۔ سبرامنیم سوامی نے جو کام تنہا کیا وہ پوری بھارتیہ جنتا پارٹی نہیں کر سکی۔ سبرامنیم سوامی جنتا پارٹی کے صدر ہیں، لیکن پارٹی کی حالت کمزور ہے۔ وہ اپنی پارٹی کو بھارتیہ جنتا پارٹی میں ضم کرنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت اور دوسرے سینئر اہل کار بھی یہ چاہتے ہیں کہ سبرامنیم سوامی بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہو جائیں، لیکن بی جے پی کے کچھ لیڈر اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کی مخالفت ایسے لیڈر کر رہے ہیں، جو بڑے وکیل ہیں اور راجیہ سبھا میں ہیں، ویسے جو خود کو دانشور مانتے ہیں اور ویسے بھی جو عوامی اجلاس کرتے ہیں۔ سبرامنیم سوامی کے مطابق، ایسے لیڈروں کولگتا ہے کہ اگر وہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہوگئے، تو ان کے لیے مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔ ویسے بی جے پی کے لیڈروں کو یہ ڈر ہمیشہ لگا رہے گا کہ اگر سبرامنیم سوامی پارٹی میں شامل ہوگئے، تو پارٹی کے لیڈروں کی بھی بدعنوانی اجاگر کرنے میں وہ نہیں جھجکیں گے۔
سبرامنیم سوامی ایک ماہر سیاست داں ہیں، سابق مرکزی وزیر ہیں، وہ ایک دانشور ہیں، انہیں قانون اور سیاست کی سمجھ ہے۔ ان کے الزامات کو خارج کرنا آسان نہیں ہے۔ انہوں نے جب بھی الزام لگایا، اس کا ثبوت فراہم کیا۔ اگر سبرامنیم سوامی کے الزامات غلط ہیں، تو انہیں سزا ملنی چاہیے۔ ٹو جی گھوٹالے میں چدمبرم کے بعد ان کے نشانے پر گاندھی فیملی ہے۔ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی پر انہوں نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ کچھ الزام تو ایسے ہیں جس کی سچائی جاننا ملک کے عوام کا حق ہے، اور کچھ ایسے الزام ہیں جن کا جواب کانگریس پارٹی کو ضرور دینا چاہیے۔ ہمیں کانگریس پارٹی کے جواب کا انتظار ہے۔
(نوٹ: یہ رپورٹ سبرامنیم سوامی سے ہوئی بات چیت پر مبنی ہے۔ ایسے میں دوسرے فریق کی باتوں کو شامل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اپنے انٹرویو میں سبرامنیم سوامی نے اڈوانی کی رتھ یاترا، نریندر مودی ، بابا رام دیو، انّا ہزارے اور دیگر کئی سیاسی موضوعات پر بات چیت کی ہے، جسے آپ www.chauthiduniya.tv پر دیکھ سکتے ہیں۔)g

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *