این آئی اے کی حقیقت

روبی ارون

 

دہشت گردی سے لڑنے کے لیے ملک میں سب سے بڑی جانچ ایجنسی تو بنا دی گئی ہے، پر اسے بھی سیاست کے ایک موہرے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، تشکیل کے 33 ماہ بعد بھی این آئی اے کو ایک ٹھکانہ تک نہیں مل سکا ہے۔ وہ دہشت گردوں کا پتہ لگانے کی بجائے سیاسی حریفوں کی کھوج خبر لینے میں لگی ہوئی ہے۔ مطلب یہ کہ سرکار کے لیے نیشنل سیکورٹی کا مسئلہ حاشیے پر ہے۔

وزیر داخلہ پی چدمبرم نے نارتھ بلاک میں بیٹھے بابوؤں اور نوکر شاہوں کو ذریعہ بناکر ملک کی داخلہ سیکورٹی کو بھی سیاست کا کھیل بنا دیا ہے۔ آپ اس کی تازہ مثال دیکھنا چاہیں تو این آئی اے یعنی قومی تفتیشی ایجنسی پر نظر ڈالیں۔ ملک کی سیکورٹی، اتحاد و سالمیت کو دہشت گردوں سے بچائے بنائے رکھنے کے لیے تشکیل دی گئی قومی تفتیشی ایجنسی کا وجود وزیر داخلہ پی چدمبرم کے سیاسی داؤ پیچ اور ملک کی اندرونی سلامتی کے تئیں لاپرواہ نظریے کا شکار بن چکا ہے۔ تشکیل کے تین سالوں بعد بھی این آئی اے کے پاس نہ تو اپنی کوئی پختہ ٹیم ہے، نہ بیٹھنے اور کام کاج کرنے کا کوئی مستقل ٹھکانہ۔ لہٰذا، ممبئی پر ہوئے 26/11 کے حملے کے بعد ملک سے دہشت گردی کا صفایا کرنے کی نیت سے بنائی گئی قومی تفتیشی ایجنسی در بدر ہے اور سرکار اور اس کے طاقتور وزیر ہندوستان کی سالمیت کو بچانے کی کوشش کی بجائے انا ہزارے، بابا رام دیو اور اروِند کجریوال کو نپٹانے کے فراق میں ہیں۔ جس ایجنسی کی تشکیل امریکہ کی سب سے بااختیار جانچ ایجنسی ایف بی آئی کی طرز پر اس لیے کی گئی تھی، تاکہ وہ آزادانہ طریقے سے اپنے لامحدود اختیارات کے ساتھ ملک سے دہشت گردی کا پوری طرح خاتمہ کر سکے، اس کے ڈائریکٹر کو آج تک یہی نہیں معلوم کہ این آئی اے کا دائرۂ کار کیا ہے اور اسے کس سمت میں دہشت گردانہ معاملوں کی تفتیش کرنی ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ این آئی اے کی تشکیل کا مشورہ دینے والے اور اس کے پرزور حمایتی وزیر داخلہ پی چدمبرم آج تک یہ بھی طے نہیں کر پائے کہ دہشت گردانہ معاملوں کی جانچ میں این آئی اے کا رول کیا ہوگا؟
ہم ایسا بالکل نہیں کہہ رہے ہیں کہ جناب پی چدمبرم کچھ بھی نہیں کر رہے۔ انہوں نے ملک کی داخلہ سیکورٹی پختہ کرنے کے نام پر این آئی اے، آئی بی اور راء جیسی خفیہ ایجنسیوں کو اقتصادی جرائم سلجھانے میں لگا دیا ہے، تاکہ وہ وقت بے وقت وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کو یہ کہتے ہوئے کٹہرے میں کھڑا کر سکیں کہ اُن کی وزارت حوالہ اور منی لانڈرِنگ کے ذریعے ہندوستان آنے والے پیسوں کو نہیں روک پا رہی ہے۔ یہی پیسہ ہندوستان میں غدر مچانے والی دہشت گرد تنظیموں کو مضبوط کر رہا ہے۔ آئے دن وزیر داخلہ اور وزیر اعظم یہ بیان دیتے ہوئے سنے جاتے ہیں کہ اگر دہشت گردی کو ختم کرنا ہے تو سب سے پہلے اُن کے مالی ذرائع کی کمر توڑنی ہوگی۔ بہرحال، اِن لفاظیوں کے درمیان وزارتِ داخلہ خانہ پُری بھی کرتی رہی۔ ممبئی دھماکوں کے بعد سے آج تک یعنی تقریباً تین سالوں میں وزارتِ داخلہ کے اندر کل آٹھ بار اس مسئلے پر نوٹنگ ڈرافٹنگ ہوئی کہ ملک کی داخلہ سیکورٹی کو قائم رکھنے کے لیے این آئی اے کے پاس ایک ایسی خصوصی ٹیم ہونی چاہیے، جس میں کسی بھی اہل کار کا ٹرانسفر پوسٹنگ نہ ہو۔ جوبھی اہل کار، ملازم اس خصوصی ٹیم کا رکن ہو، وہ ملک کی داخلہ سیکورٹی کے مسائل سے سیدھا اور گہرا جڑا ہو، تاکہ ذمہ داری بھی اسی کی ہو اور قصوروار بھی وہی ہو۔ این آئی اے کا الگ آزاد فنڈ ہو، سب انسپکٹر سے اوپر کے سبھی اہل کاروں کے پاس جانچ کے لیے اسپیشل پاور ہو، تاکہ مخصوص حالات میں اسے اپنے اوپر کے اہل کاروں کے حکم کا انتظار نہ کرنا پڑے۔ دہشت گردانہ معاملوں کی جانچ میں وقت کی حد رکاوٹ نہ بنے، اس کے لیے این آئی اے کو 90 دنوں کی بجائے 180 دنوں تک ملزمین کو حراست میں رکھنے کا اختیار ہو۔ این آئی اے کے خود کے وکیل اور اپنی عدالتیں ہوں، تاکہ

ملک کی داخلہ سیکورٹی سے جڑے کسی بھی معاملے کی فوری سماعت اور فیصلہ ہو سکے۔ ان تمام معاملات میں سے کسی ایک پر بھی قاعدے سے کارروائی کرنے یا داخلہ سیکورٹی کے لیے خصوصی ٹیم بنانے کی زحمت تو وزیر داخلہ نے نہیں اٹھائی، پر ہاں … ممبئی بلاسٹ کے بعد نارتھ بلاک میں بیٹھنے والے اور داخلہ سیکورٹی کے مسئلوں سے جڑے تقریباً دو درجن سینئر اہل کاروں کے محکمے ضرور بدل دیے۔
لیکن، دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے تئیں چدمبرم اور وزیر اعظم کتنے سنجیدہ ہیں، اس کا اندازہ آپ محض اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ملک کی اس ٹاپ ایجنسی کے اہل کار، جو ممبئی بلاسٹ اور دہلی ہائی کورٹ بلاسٹ سمیت کئی دہشت گردانہ واقعات کی جانچ کر رہے ہیں، اُن کی جان خود ہی خطرے میں ہے۔ ملک کی سب سے خفیہ جانچ ایجنسی کو اس کی تشکیل کے 33 مہینوں بعد بھی وزارتِ داخلہ نے بیچ بازار میں بیٹھا رکھا ہے۔ دہلی کے جسولہ ڈسٹرکٹ کے اسپلینڈر مال کی چوتھی اور پانچویں منزل پر این آئی اے کا دفتر ہے، جہاں دو سو پچاس اہل کار – ملازم شیشے کی دیواروں کے درمیان بیٹھتے ہیں۔ پچاس لاکھ روپے ماہانہ اس کا کرایہ دیا جاتا ہے۔ دفتر کے نیچے فاسٹ فوڈ اور کیفے کافی ڈے کے آؤٹ لیٹس ہیں، ایچ ڈی ایف سی اور آئی سی آئی سی آئی بینک کی شاخیں ہیں، پورش کا آفس ہے۔ مطلب یہ کہ دن بھر وہاں ہر قسم کے لوگوں کا مجمع لگا رہتا ہے۔ رات آٹھ بجے کے بعد وہاں کا ایلی ویٹر کام نہیں کرتا۔ چوتھی پانچویں منزل کی دوری سیڑھیوں سے طے کرنی پڑتی ہے۔ رات کے آٹھ بجتے ہی تین چار گھنٹوں کے لیے بجلی چلی جاتی ہے۔ دفتر کا جنریٹر ضرورت کے مطابق لوڈ نہیں اٹھا پاتا۔ این آئی اے کا یہ دفتر ایسی جگہ پر ہے، جہاں ٹریفک کا بڑا مسئلہ ہے۔ حالت یہ ہے کہ نارتھ بلاک یا دہلی کے اہم مقام تک آنے کے نام سے ہی اہل کاروں کے ہاتھ پیر ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔ ریمانڈ پر لیے گئے ملزمین کی سیکورٹی کے انتظام کی بات بھی اِس دفتر میں سوچنا مضحکہ خیز ہے۔ یہاں کے اہل کار صاف طور پر کہتے ہیں کہ پورا محکمہ جان جوکھم میں ڈال کر کام کر رہا ہے۔ آخرکار، این آئی اے کے اہل کار جب چدمبرم سے گزارش کر کرکے تھک گئے تو انہوں نے خود ہی کوشش شروع کردی۔ این آئی اے کے اہل کار پچھلے سال بھر سے سی جی او کامپلیکس میں دفتر لینے کے لیے جوتے گھستے رہے، مگر انہیں کامیابی نہیں ملی۔ اب جنتر منتر کے پاس بنے این ڈی ایم سی ہیڈکوارٹر کے این ڈی سی سی فیز – دو کی چھٹی اور ساتویں منزل این آئی اے کو دینے کا فیصلہ کرکے این ڈی ایم سی نے الاٹمنٹ لیٹر تو دے دیا، لیکن وہاں پر بھی دشواریاں ہیں۔ کارپوریشن اب یہ کہہ رہا ہے کہ وزارتِ سیاحت نے اس کے لیے پہلے ہی درخواست دے دی تھی۔ جب تک وزارتِ سیاحت اپنی درخواست واپس نہیں لیتی، تب تک این آئی اے کو یہ دو منزلیں نہیں دی جاسکتیں۔
لیکن حقیقت میں ہوا کیا؟ دہشت گردی کو مٹانے کا راگ الاپنے اور کورا یقین دلانے والے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور ان کے لاڈلے وزیر داخلہ نے کیا کیا؟ سرکار کی کاہلی اور بدمزاجی کا یہ عالم تب ہے، جب کہ گزشتہ سات سالوں میں 27 دھماکوں میں سیکڑوں لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور ہزاروں زخمی۔ اُس پر طرہ یہ کہ منموہن سنگھ سرکار کے سینئر وزیر سبودھ کانت سہائے بڑی بیزاری سے یہ فرماتے ہیں کہ لوگ اب اِن دھماکوں کے عادی ہو چکے ہیں۔ وزیر داخلہ کی لال فیتہ شاہی نے ملک کی سیکورٹی سے کھلواڑ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے۔ مثال دیکھئے، ہندوستان کی داخلہ سیکورٹی کو دیکھ رہے سینئر آئی اے ایس افسر یو کے بنسل کے پاس اپنی کوئی مستقل ٹیم نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ وزیر داخلہ کے لیے ترجیح ملک کی داخلہ سیکورٹی نہیں ہے۔ چلئے، پی چدمبرم کی من مانی کی فہرست آگے بڑھاتے ہیں۔ کسی بھی جانچ ایجنسی کی ریڑھ کی ہڈی یا اس کی بنیاد اُس کا مضبوط خفیہ نیٹ ورک ہوتا ہے، لیکن این آئی اے کے پاس نہ تو اپنا کوئی ایکٹیو انٹیلی جنس ہے اور نہ اسے دیگر سرکاری خفیہ ایجنسیوں سے وقت پر اطلاعات ہی مل پاتی ہیں۔ جب کہ این آئی اے کی تشکیل کے وقت جب چدمبرم صاحب نے تجویز رکھی تھی اور پارلیمنٹ سے وہ تجویز پاس ہوئی تھی، تب صاف طور پر اس بات پر خاص زور دیا گیا تھا کہ اس ایجنسی میں ملک بھر کے سب سے عمدہ آئی پی ایس افسروں کی بحالی ہوگی اور انہیں ملک کے مختلف صوبوں سے منتخب کرکے لایا جائے گا، پر ہمارے وزیر داخلہ کو اپنی ہی تجویز کردہ اور پاس کی گئی رائے یاد نہیں رہی۔ انہوں نے یہاں بھی سیاسی گوٹیاں فٹ کردیں۔ اس میں الگ الگ صوبوں سے، خاص کر اپوزیشن پارٹیوں کے زیر اقتدار صوبوں سے ایسے ایسے اہل کاروں کو چن کر لایا گیا، جن سے یا تو وہاں کے وزیر اعلیٰ خفا تھے یا پھر جو حکومت مخالف کاموں میں مصروف تھے۔ مدعا محض اتنا بھی ہوتا تو زیادہ فکر کی بات نہیں تھی، پر بدقسمتی یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر ایسے اہل کار ہیں، جن کی پوسٹنگ کبھی بھی دہشت گردی سے متاثر علاقوں  میں نہیں رہی۔ این آئی اے میں آنے کے بعد بھی ان اہل کاروں کی نہ تو اسپیشل پروفیشنل ٹریننگ ہوئی اور نہ انہیں ’سپر کاپ‘ قسم کی کوئی ٹیم ہی مہیا کرائی گئی ہے۔ خفیہ معلومات جمع کرنے کے نام پر تو یہ ہیں ہی خالی ہاتھ۔
وزیر داخلہ کی بابو گیری یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اُن کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے کا اثر کس خوفناک طریقے سے ملک کو خطرے میں ڈال رہا ہے، یہ بھی دیکھئے ذرا۔ اعلان تو یہ کیا گیا کہ این آئی اے پوری طرح سے خود مختار ایجنسی ہوگی، اس کے دائرۂ کار میں کسی کا بھی دخل نہیں ہوگا، لیکن جب کوئی واردات ہوتی ہے اور این آئی اے کی ٹیم وہاں جانچ کے لیے پہنچتی ہے تو وہاں پہلے سے ہی مقامی پولس، این ایس جی کے اہل کار اپنے اپنے دائرۂ کار کا حوالہ دے کر معاملے کو حل کرنے میں اپنی قابلیت دکھا رہے ہوتے ہیں۔ جب دہلی ہائی کورٹ میں بم بلاسٹ ہوا، تب بھی یہی پس و پیش کے حالات تھے۔ حادثہ کے بعد جب این آئی اے کی ٹیم ڈائریکٹر ایس سی سنہا کی رہنمائی میں دہلی ہائی کورٹ پہنچی تو انہوں نے بیان بازی شروع کردی، لیکن انہوں نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا کہ جانچ جب مشترکہ ہے تو اس میں این آئی اے کا رول کیا ہوگا؟ دہلی پولس کی کرائم برانچ نے کہا کہ جانچ مشترکہ طور پر ہو رہی ہے۔ اب ایسے حالات میں این آئی اے، این ایس جی، دہلی پولس کی کرائم برانچ ، سی ایف ایس ایل ٹیم اور وزارتِ داخلہ جانچ میں برابر کی شریک ہوئی، تو پھر جب جانچ رپورٹ بنے گی تو وہ کس کے پاس جائے گی؟ ہر ایک کے جانچ کرنے، تحقیقات کرنے کا طریقہ الگ ہوگا تو پھر اُس پر آخری فیصلہ کس کا ہوگا؟ ظاہر ہے، یہاں ملک کے وزیر داخلہ ہونے کے ناطے پی چدمبرم کا رول بے حد اہم ہو جاتا ہے۔ یا تو وہ سب کی ذمہ داریاں طے کریں یا پھر خود اس شراکت داری میں شامل ہو کر فیصلے لیں، پر شاید وہ ایسا نہیں مانتے۔ تبھی تو وزیر داخلہ بننے کے بعد سے آج تک انہوں نے ایک بار بھی اِن سبھی محکموں کے ساتھ مل کر کوئی میٹنگ نہیں کی۔ نتیجتاً، دہلی پولس کے پاس 13 ستمبر، 2008 کے تین بم دھماکوں کی جانچ ابھی بھی ادھوری ہے۔ این آئی اے کی قیادت میں مالیگاؤں اور سمجھوتہ ایکسپریس بلاسٹ کا معاملہ آج بھی کئی سوالوں کے دائرے میں ہے۔حالانکہ تنازعات کے بعد اب ہائی کورٹ بلاسٹ کی تفتیش این آئی اے کر رہی ہے، لیکن اس سے دہلی پولس ناراض ہے۔ مطلب یہ کہ اپنے ہی ماتحت آنے والے محکموں میں بھی چدمبرم تال میل نہیں بیٹھا پا رہے ہیں۔
یہ اعداد و شمار چونکانے کے ساتھ تکلیف دہ بھی ہیں کہ گزشتہ چھ سالوں میں دہشت گردوں نے دہلی کو پانچ بار نشانہ بنایا، جب کہ ملک کی اقتصادی راجدھانی ممبئی کو 1993 کے بعد سے 14 بار نشانہ بنایا گیا۔ وزارتِ داخلہ کے ایک بڑے اہل کار، جو ملک کی داخلہ سیکورٹی کے مسئلوں سے جڑے ہیں، کہتے ہیں کہ دراصل، چدمبرم صاحب نے وزارتِ داخلہ کے اہل کاروں کی ساری توانائی اپنے سیاسی حریفوں کو نمٹانے میں لگا دی ہے۔ جہاں اسکیمیں بننی چاہیے تھیں، ان پر عمل ہونا چاہیے تھا، وہاں دوسری وزارتوں کو خط لکھنے میں وقت برباد کیا جا رہا ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کی شاخوں کا استعمال دہشت گردانہ اور ملک مخالف سرگرمیوں کا پتہ لگانے میں نہیں، بلکہ مخالف اور اپنی بھی پارٹی کے لیڈروں کی اندرونی جانکاری جٹانے میں کیا جا رہا ہے۔ این آئی اے بھی انہی کارگزاریوں کا شکار بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 26/11 کے بعد سے لے کر اب تک اِس نے کسی بھی کیس کو اس کے انجام تک نہیں پہنچایا ہے۔ ایسے میں ہم ملک کو بحفاظت رکھنے اور دہشت گردی کے خاتمہ کا خواب نہیں دیکھ سکتے۔g

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *