ٹاٹا اسٹیل اور جھارکھنڈ سرکار کی لوٹ

ششی شیکھر
سرکاری بابو رشوت لیتے پکڑا جائے تو نوکری جائے گی، عام آدمی قانون توڑے تو جیل جائے گا، بڑے آفیسر کبھی کبھار قانون کے ہتھے چڑھ جائیں تو شاید انہیں بھی  سزا مل جائے، لیکن اَرب پتی صنعت کاروں کا ہر گناہ معاف! کیا فرق پڑتا ہے، وہ کھلے عام قانون کا مذاق اڑائیں، سرکاری قاعدہ قانون توڑیں۔ کیا مجال کہ کوئی اُن پر ہاتھ ڈال دے، کیوں کہ سرکار اُن کی جیب میں ہوتی ہے۔ اب ٹاٹا کو ہی دیکھئے کہ انہوں نے جھارکھنڈ کے معدنیاتی ذخائر کو ہڑپنے اور اُس سے اربوں کھربوں کمانے کے چکّر میں کس قدر ضابطوں کی اَندیکھی کی ہے۔ باوجود اس کے ٹاٹا کو جھارکھنڈ سرکار کی پشت پناہی حاصل ہے۔ کیا ہے یہ سارا کھیل، پڑھیے چوتھی دنیا کی اِس خاص رپورٹ میں۔

جھارکھنڈ معدنیات سے بھرا پڑا ہے۔ پھر بھی وہاں غریبی ہے، نکسل ازم ہے، بے روزگاری ہے اور بھکمری بھی۔ باوجود اِس کے کہ اس صوبہ میں ٹاٹا سے لے کر مِتّل گروپ تک کا اَربوں کا تجارتی سامراج قائم ہے۔ خوش حالی کی کون کہے، زیادہ تر باشندوں کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں۔ وجہ یہ کہ اَرب پتی صنعتی گھرانے اِن کا حق مارنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اپنی جیبیں بھرنے کی خاطر اِن غریبوں کے پیٹ پر لات مار رہے ہیں۔ چوتھی دنیا کی خاص پڑتال اِس صوبہ کی بدحالی کے پیچھے کی ایک بڑی وجہ کو اجاگر کرتی ہے۔ صاف ہے کہ کیسے ضابطوں کی اَندیکھی کرتے ہوئے بڑے بڑے صنعتی گروپ یہاں کے معدنیاتی ذخائر کو لوٹ رہے ہیں، بلکہ مالی اعتبار سے اُن کا استحصال بھی کر رہے ہیں۔ معاملہ جھارکھنڈ کے مغربی سنگھ بھوم ضلع کے تحت آنے والے نوا مُنڈی میں خام لوہے کی کان کنی کے پٹّے سے جڑا ہوا ہے، جہاں ٹاٹا کو کان کنی کا پٹّہ ملا ہوا ہے۔ 1980 میں، جب متحدہ بہار ہوا کرتا تھا، ٹاٹا (ٹِسکو) نے نوامُنڈی میں واقع خام لوہے کی کان کی تجدید (رنیول) کے لیے فارم جے کے تحت بہار سرکار کے ساتھ معاہدہ کیا۔ یہ پٹّہ اگلے 32 سال کے لیے ٹاٹا کو مل گیا۔ اس معاہدہ میں واضح طور پر لکھا تھا کہ اس کان کا استعمال کیپٹیو مائننگ کے لیے ہوگا اور یہاں سے نکالے گئے خام لوہے کا استعمال جمشید پور میں واقع ٹاٹا اسٹیل کمپنی کے لیے ہی کیا جائے گا۔ ضابطوں کے مطابق، خام لوہے کو فروخت بھی نہیں کیا جاسکتا تھا اور نہ ہی کسی دوسری کمپنی کو کان کنی کے کام میں شامل کیا جاسکتا تھا، خاص کر صوبائی حکومت کی پیشگی منظوری کے بنا۔ اس قسم کے معاہدے کا مقصد صوبہ کے وسائل کا استعمال صوبہ میں ہی کیا جانا ہوتا ہے، تاکہ اس سے مقامی سطح پر ترقی ہو سکے اور مقامی لوگوں کو روزگار مل سکے۔
لیکن اِن قواعد و ضوابط سے ٹاٹا کو کیا لینا دینا۔ لہٰذا، ٹاٹا نے کھلے عام معاہدے کے ضابطوں کی خلاف ورزی کی۔ اس بات کی تصدیق صوبائی حکومت (جھارکھنڈ) کے ڈسٹرکٹ مائننگ آفیسر، چائی باسا دفتر کے ذریعہ 28 جولائی، 2005 کو ٹاٹا آئرن اینڈ اسٹیل کمپنی کو جاری قانونی وجہ بتاؤ نوٹس (لیگل شو کاز نوٹس) کرتی ہے، جس میں صاف لکھا ہے کہ نوامُنڈی میں ٹاٹا کے 4479 مربع میل میں پھیلے خام لوہے کے علاقہ کا معائنہ دستخط کنندہ کے ذریعے 8 اور 9 جولائی کو کیا گیا اور ٹاٹا کے ذریعہ مِنرل کنسیشن رولس 1960 اور کان کنی پٹّہ کی شرطوں کی سنگین خلاف ورزی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کان کنی پٹّہ علاقہ کے بلاک 6 کے 22 ہیکٹیئر رقبے پر صوبائی حکومت کی پیشگی منظوری حاصل کیے بغیر ٹاٹا نے صرف سیل – پرچیز ایگریمنٹ کرکے فیوچرسٹک اسٹیل پرائیویٹ لمیٹڈ اور آدھونک اسٹیل لمیٹڈ کو آپسی رضامندی سے کان کنی کے لیے دے دیا۔ ڈسٹرکٹ مائننگ آفیسر چائی باسا نے ٹاٹا اسٹیل کو صاف طور پر آگاہ کیا ہے کہ آپ نے صوبائی حکومت سے اجازت لیے بغیر بڑی مقدار میں خام لوہے کی فروخت باہری تنصیبات کو کی ہے، جب کہ ایسا کرنا Mineral Concession Rules Act 1960 کے ضابطہ 37 اور مائننگ لیز کنٹریکٹ کے حصہ 7/17، 9/2,3  کی خلاف ورزی ہے اور یہ عمل قابل سزا ہے۔ ٹاٹا اسٹیل کو اس نوٹس کا جواب 60 دنوں کے اندر ذاتی طور پر حاضر ہو کر دینے کو کہا گیا۔
اس نوٹس کا جواب ٹاٹا کی طرف سے 28 اکتوبر، 2005 کو دیا گیا، جس میں ٹاٹا اسٹیل کی چوری اور سینہ زوری صاف نظر آئی۔ ٹاٹا نے ضابطہ 37 کی خلاف ورزی کے الزام سے ہی انکار کر دیا۔ حالانکہ 3 دسمبر کو دیے گئے جواب میں ٹاٹا نے خام لوہے کی فروخت باہری کمپنیوں سے کرنے کی بات قبول کر لی۔ ٹاٹا کا کہنا تھا کہ زیادہ پیداوار کی وجہ سے ایسا کرنا پڑا۔ ٹاٹا نے اپنے جواب میں جو کچھ لکھ کر دیا، اس کے مطابق (25 اکتوبر، 2005 کا خط – پوائنٹ نمبر – ای) مائننگ لیز میں خام لوہے کی فروخت پر پابندی نہیں ہے، جب کہ رِنیول (1980) فارم جے میں صاف صاف لکھا ہے کہ خام لوہے کا استعمال صرف جمشید پور میں واقع کارخانہ کے لیے کیا جانا ہے۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ مائننگ لیز صحیح ہے یا 1980 میں رِنیول فارم جے میں ٹاٹا کے ذریعہ درج کرائے حقائق۔ بہرحال، اب یہ پورا کھیل بغیر کسی سرکاری کارروائی کے بلا روک ٹوک آگے بڑھ رہا تھا۔ ایک بار پھر ڈسٹرکٹ  ئننگ آفیسر، چائی باسا نے ایک خط 22 فروری، 2008 کو جھارکھنڈ سرکار کے مائننگ اینڈ جیولوجی ڈپارٹمنٹ کے سکریٹری کو لکھا کہ ٹاٹا اسٹیل کے ذریعے صوبائی حکومت کے منرل کنسیشن رولس 1960 کے لیگل ایپلی کیشن فارم اور رِنیول فارم جے میں کیپٹیو استعمال کے لیے ملے پٹّے سے خام لوہے کی فروخت اور ایکسپورٹ کیے جانے کی اطلاع پہلے ہی صوبائی حکومت کو دی جا چکی ہے، لیکن اِس پر کسی طرح کے حکم کا انتظار ہے۔ اس خط میں وارننگ دی گئی تھی کہ اگر ٹا ٹا اسٹیل کے کارناموں کے خلاف سخت فیصلہ نہیں لیا گیا تو آنے والے وقت میں جھارکھنڈ سرکار کے ذریعے سفارش شدہ سبھی 21 معاملوں کے درخواست گزار اس معاملے کی مثال لے کر معدنیات فروخت کریں گے اور قواعد و ضوابط کو توڑیں گے۔
اس پورے معاملے میں ایک جو مزیدار بات ہے، وہ یہ کہ ایک ضلعی سطح کا آفیسر گڑبڑیوں کو پکڑتا ہے، سرکار کو بار بار اطلاع دیتا ہے، گھپلوں سے متعلق آگاہ کرتا ہے، لیکن اوپر بیٹھے افسر شاہوں اور سرکار کی پیشانی پر بل نہیں پڑتے۔ وہ صنعت کاروں کے زر خرید غلاموں کی طرح ٹاٹا اسٹیل کی کارگزاریوں کو خاموش رہ کر منظوری دیتے رہے۔ ہوتا یہ ہے کہ جھارکھنڈ سرکار کے مائننگ اینڈ جیولوجی ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر- مائننگ بی بی سنگھ اِس پورے معاملہ سے جڑی ایک رپورٹ مارچ 2009 کو بناتے ہیں۔ اس رپورٹ کے پوائنٹ نمبر 4 میں ڈسٹرکٹ مائننگ آفیسر چائی باسا کے اُس خط کا ذکر تو کرتے ہیں، جس میں ٹاٹا کے ذریعے تحریر کردہ اقرار نامہ کے تحت فیوچرسٹک اور آدھونک اسٹیل کو نوامُنڈی کان کے بلاک 6 میں کان کنی کی اجازت دینے اور خام لوہے کی فروخت باہر کرنے کی بات ہے، لیکن کوئی کارروائی نہیں کرتے، بلکہ ٹاٹا اسٹیل کا پوری طرح دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔ ذرا آپ بھی غور کریں کہ اس رپورٹ کے حصہ الف میں  سنگھ نے کیا لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں، اس طرح عصر حاضر میں کسی باہری تنصیبات کے ذریعے ٹاٹا اسٹیل کے نوامُنڈی خام لوہا پٹّہ علاقہ کے بلاک 6 میں معدنیات کی کان کنی کا کوئی کام نہیں کرایا جا رہا ہے۔ مستقبل میں اگر اس قسم کے کان کنی کے کام بغیر سرکار کی منظوری حاصل کیے کرائے جانے کی اطلاع ملتی ہے تو اس کے لیے منرل کنسیشن رولس 1960 کے ضابطہ نمبر 37 کی خلاف ورزی کیے جانے کے لیے ٹاٹا اسٹیل لمیٹڈ پر مناسب قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس سے متعلق وارننگ دیتے ہوئے اس معاملہ کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ براہِ کرم درج بالا نکتہ پر سرکاری فرمان حاصل کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔
اس خط کی زبان حیرت انگیز ہے۔ یقین نہیں ہوتا کہ یہ رپورٹ کسی سینئر آفیسر نے تیار کی ہے۔ بی بی سنگھ کے ذریعے ٹاٹا اسٹیل کو دی گئی جھڑکی کچھ ایسی ہے، جیسے کسی بچے نے کوئی چھوٹی موٹی لاپروائی کردی ہو اور اسکول ٹیچر نے اسے وارننگ دے کر چھوڑ دیا ہو۔ بہرحال، بدلے ہوئے حالات کے بعد بی بی سنگھ 20 مئی، 2009 کو ٹاٹا اسٹیل کو بھی خط لکھ کر مطّلع کرتے ہیں کہ تحریر شدہ اقرارنامہ کے تحت فیوچرسٹک اور آدھونک اسٹیل کو کان کنی کے کام کرنے دینے کے ٹاٹا کے فیصلہ کو صوبائی حکومت نے سنجیدگی سے لیا ہے اور مستقبل میں اگر پھر ایسا ہوا تو مناسب قانونی کارروائی کی جائے گی یعنی ٹاٹا اسٹیل کو اور غلطیاں کرنے کی سرکاری اجازت مل گئی۔ کیا یہ کچھ ویسا ہی نہیں ہوا کہ قتل کے کسی ملزم کو یہ کہہ کر رہا کر دیا جارہا ہو کہ چلو تمہارا ایک خون تو معاف ہے، لیکن اگر دوبارہ تم نے کسی کی جان لی تو تمہیں سزا دی جائے گی۔ یہ صحیح ہے کہ قتل جیسے سنگین معاملہ سے اس واقعہ کا موازنہ صحیح نہیں ہے، لیکن جھارکھنڈ جیسے صوبہ میں جہاں کروڑوں غریبوں کے جینے کا سہارا اُن کی معدنیاتی دولت ہے، ایسے میں اُس کی لوٹ اُن کی زندگیوں سے کھیلنے کے برابر ہے۔ یہ بات واقعی حیران کر دینے والی ہے کہ جب سرکاری دستاویز میں بڑے بڑے افسر یہ قبول کر رہے ہوں کہ ٹاٹا اسٹیل نے غلطی کی، تو پھر غلطی کی سزا دینے کی بجائے معافی کیوں؟g

کیا مرکزی حکومت کو جانکاری تھی؟
اپریل 2009 میں فیڈریشن آف انڈین منرل انڈسٹریز دہلی نے حکومت ہند کی منسٹری آف مائنس کو خط لکھ کر ٹسکو کے ذریعے خام لوہے کی فروخت کے بارے میں مطلع کیا اور اس پر اپنا اعتراض جتایا۔ حکومت ہند کی منسٹری آف مائنس نے یہ خط اپنے ماتحت کام کرنے والے ادارہ انڈین بیورو آف مائنس کو بھیجا۔ پھر انڈین بیورو آف مائنس کے چیف مِنرل اِکانومسٹ نے جون 2009 میں جھارکھنڈ سرکار کے مائننگ ڈائریکٹر کو خط لکھ کر اس سلسلے میں ساری جانکاری مانگی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *