شرد اور سپریا کا شاہد سے رشتہ

مرکزی وزیر شرد پوار نے ہمیشہ انکار کیا ہے۔ باوجود اس کے حقیقت کچھ اور بیان کرتی ہے۔ چوتھی دنیا کے پاس ایسے پختہ ثبوت ہیں، جو سپریا سلے اور شاہد بلوا کے درمیان رشتوں کو ثابت کرتے ہیں۔ چوتھی دنیا کے پاس جو دستاویز موجود ہیں، اُن میں یہ بات صاف طور پر درج ہے کہ شرد پوار کے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے سرکاری زمین کی بندر بانٹ ہوئی اور اس میں شاہد بلوا اور سپریا سُلے نے ساتھ مل کر گھوٹالوں کا کھیل کھیلا اور آج بھی اس زمین پر ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں تہاڑ جیل میں قید شاہد بلوا اور سپریا سلے کی کمپنی عمارت کی تعمیر کرا رہی ہے۔

شاہدبلوا۔ ایک ایسا نام، جو اَنڈر ورلڈ سرغنہ داؤد ابراہیم کے غنڈے کے طور پر سی بی آئی کی فائلوں میں درج ہے، جس کا ذکر امریکی رسالہ فوربس میں ہندوستان کے 66 ویں سب سے امیر شخص کے طور پر ہے اور جو ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کے اہم ملزم کے طورپر تہاڑ جیل میں قید ہے۔ شاہد بلوا کے رشتے ملک کے قد آور سیاست دانوں سے ہیں۔ شاہد بلوا کا نام مراٹھا سردار کہے جانے والے ملک کے وزیر زراعت شرد پوار سے جوڑا جاتا ہے، لیکن شرد پوار نے ہمیشہ ہی شاہد بلوا سے اپنے کسی بھی طرح کے رشتے سے انکار کیا ہے۔ سی بی آئی کی تفتیش کے دوران ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کی محرک نیرا راڈیا نے یہ بیان دیا کہ شاہد بلوا کی کمپنی ڈی بی ریلٹی پر بالواسطہ بلا واسطہ طریقے سے شرد پوار کے خاندان کا ہی کنٹرول ہے۔ باوجود اس کے شرد پوار نے اس الزام سے پلہ جھاڑ لیا، لیکن اب شاید وہ ایسا نہیں کر پائیں گے، کیوں کہ چوتھی دنیا کے پاس جو دستاویز ہیں، وہ شرد پوار کی بیٹی سپریا سُلے اور شاہد بلوا کے گہرے رشتوں کو ثابت کرتے ہیں اور ان کے درمیان مضبوط تجارتی رشتوں کی تصدیق کرتے ہیں۔
یہ معاملہ پُنے کے یروَدا نامی علاقے سے شروع ہوتا ہے۔ یہاں پر ایک زمین گھوٹالہ ہوا ہے۔ زمین کا رقبہ 326 ایکڑ ہے۔ اس گھوٹالے میں مُکند بھون ٹرسٹ کا نام سامنے آیا ہے۔ اس زمین کو لے کر مکند بھون ٹرسٹ اور سرکار کے درمیان 1951 سے تنازعہ چل رہا ہے۔ 1950 میں مکند بھون ٹرسٹ کے ایم ایس لوہیا مُٹّھا مُڈا ندی سے ریت نکال کر بیچتے تھے۔ 1950 میں اُس وقت کے کلکٹر نے انہیں یہ کام روکنے کو کہا۔ 1951 میں لوہیا نے اس کے خلاف مقدمہ کیا۔ لوہیا نے کہا کہ وہ اس گاؤں کے انعام دار ہیں، کیوں کہ انہوں نے یہ زمین 1938 سے 1950 کے درمیان گوسابی نامی انعام دار سے خریدی تھی۔ یہ مقدمہ 1989 تک چلا۔ مکند بھون ٹرسٹ اس زمین کا مالکانہ حق چاہتا تھا، لیکن سرکار نے اس معاملے میں ہمیشہ یہی کہا کہ اس زمین کا مالکانہ حق مکند بھون ٹرسٹ کا نہیں ہے اور یہ زمین سرکار کی ہے۔ 1951 سے 1988 تک سرکار یہی دلیل دیتی آئی، لیکن 1988 میں مہاراشٹر کی سیاست میں بدلاؤ آیا۔ مہاراشٹر کے قد آور لیڈر شرد پوار وزیر اعلیٰ بن گئے۔ اُن کے وزیر اعلیٰ بنتے ہی اِس زمین کو لے کر سرکار کی پالیسی بدل گئی۔ اب تک جو سرکار اس زمین کو سرکاری قرار دے رہی تھی، اس نے یہ زمین مکند بھون ٹرسٹ کو دینے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ زمین بہت قیمتی ہے اور ایئرپورٹ کے پاس ہے۔ اس زمین پر ہی یروَدا جیل بھی ہے۔ یہ فیصلہ ایسا ہے، جس پر سرکار پر انگلیاں اٹھنے لگیں۔ سرکار کی نیت پر سوال اٹھنے لگے۔ سرکار کے رخ میں یہ تبدیلی کیوں آئی، سرکار نے یہ زمین مکند بھون ٹرسٹ کو دینے کا فیصلہ کیوں کیا، عدالت میں سرکار نے ایسا کیا کیا، جس کی وجہ سے یہ سرکاری زمین مکند بھون ٹرسٹ کو مل گئی۔
1988 میں یہاں کے کلکٹر شری نواس پاٹل تھے۔ اب وہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی یعنی شرد پوار کی پارٹی کے لیڈر ہیں۔ عدالت میں شری نواس پاٹل یہ کہتے آئے تھے کہ اس متنازع زمین پر مکند بھون ٹرسٹ کا کوئی حق نہیں ہے، کیوں کہ جو ثبوت عدالت میں دیے گئے ہیں، وہ جھوٹے ہیں، لیکن شرد پوار کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد 1989 میں کلکٹر کا رخ بدل گیا۔ انہوں نے عدالت میں 326 ایکڑ زمین مکند بھون ٹرسٹ کو دینے کی پیروی کی۔ یہ بدلاؤ کیوں آیا۔ پتہ چلا کہ شری نواس اور شرد پوار کالج کے دوست ہیں۔ شرد پوار وزیر اعلیٰ بن گئے اور اُس وقت پاٹل ڈسٹرکٹ کلکٹر تھے۔ سرکاری زمین کو کیسے اِن لوگوں نے مکند سیٹھ لوہیا کو دے دیا؟ اِدھر ایشور داس چورڈیا شرد پوار کے بھی دوست ہیں۔ ایشور داس اتل چورڈیا کے چھوٹے بھائی ہیں۔ اتل سپریا سُلے کے بزنس پارٹنر ہیں۔ ان کی حصہ داری پنچ شیل ٹیک پارک میں بھی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ شرد پوار کے دوستوں میں ایسے لوگ ہیں، جن میں کوئی بڑا افسر ہے تو کوئی بزنس مین۔ ان کے وزیر اعلیٰ بنتے ہی سارے دوست سرگرم ہو گئے۔ سرکار کے رخ میں تبدیلی کا سبب بھی یہی بتایا جاتا ہے۔
اس کہانی کے ایک کردار کا نام ہے ونود گوینکا۔ وہ کے ایم گوینکا کے بیٹے ہیں اور فی الحال ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ 15 مئی، 1989 کو ونود گوینکا نے مکند بھون ٹرسٹ کے ساتھ ایک مفاہمت نامہ (ایم او یو) لکھا۔ اس میں لکھا گیا کہ اگر سرکار سے ٹرسٹ کو زمین ملتی ہے تو زمین کا 33 فیصد حصہ انہیں مل جائے گا۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ونود گوینکا کو پہلے سے کوئی خواب آیا کہ زمین واپس مل جائے گی یا کوئی سازش یا حکمت عملی کے تحت یہ قدم اٹھایا گیا۔ عام طور پر تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ اِن دوستوں نے آپس میں فیصلہ کیا کہ زمین کو اس طرح سے بانٹا جاسکتا ہے اور عدالت سے اس زمین کو واپس لیا جاسکتا ہے۔ آر ٹی آئی کارکن روندر ایل برہاتے کا کہنا ہے کہ اس مفاہمت نامہ کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ ان لوگوں کو زمین واپس ملنے والی تھی۔ وہ اس لیے، کیوں کہ وزیر اعلیٰ شرد پوار تھے اور انہیں معلوم تھا کہ کلکٹر کو جو حکم ملے گا، اس پر وہ کاربند ہوگا۔ مطلب یہ کہ مفاہمت نامہ لکھنے سے پہلے ہی یہ طے ہو چکا تھا کہ زمین مکند بھون ٹرسٹ کو واپس ملنے والی ہے۔ کلکٹر بھی دوست ہی تھے، اس لیے اسے انجام دینے میں کوئی پریشانی نہیں آئی۔ اور ہوا بھی یہی۔ 1989 میں اُس وقت کے کلکٹر شری نواس پاٹل نے مکند سیٹھ لوہیا سے ساٹھ گانٹھ کرکے عدالت کو غلط اطلاع دے دی اور 326 ایکڑ زمین صرف سروے نمبر کا حوالہ دے کر مکند سیٹھ لوہیا کے حوالے کر دی۔ کلکٹر نے عدالت کو بتایا کہ سرکار یہ زمین مکند بھون ٹرسٹ کو دینے کے لیے تیار ہے۔ جب کہ یہ بات غلط ہے، کیوں کہ جن سروے نمبروں کا حوالہ کلکٹر نے عدالت کو دیا، وہ غلط اور گمراہ کن تھے۔ جیسے سروے نمبر 160۔ اس زمین پر یروَدا جیل ہے اور کلکٹر نے عدالت کو بتایا کہ یہ زمین خالی ہے اور سرکار اسے مکند بھون ٹرسٹ کو دینا چاہتی ہے۔
غور طلب ہے کہ اس جیل میں مہاتما گاندھی بھی  رہ چکے ہیں اور ابھی بھی یہ جیل اس زمین پر موجود ہے۔ اسی طرح سروے نمبر 144-45 پر مینٹل ہاسپٹل ہے۔ سروے نمبر 191 پر 1888 سے فوج کا قبضہ ہے، لیکن کلکٹر نے ساری باتیں عدالت کو نہیں بتائیں۔ کلکٹر نے یہ بھی عدالت کو بتایا کہ 326 میں سے 97 ایکڑ زمین مکند بھون ٹرسٹ کے حوالے کی جا چکی ہے۔ اس طرح ساٹھ گانٹھ کرکے، غلط اطلاع دے کر 326 ایکڑ زمین مکند بھون ٹرسٹ کو دے دی گئی اور اب اس زمین پر کروڑوں روپے کے آئی ٹی پارک، فائیو اسٹار ہوٹل اور کامرس ژون بننے شروع ہوگئے ہیں۔ اسی زمین پر سپریا سُلے کی ملکیت والی کمپنی کے پنچ شیل ٹیک پارک کا کام شروع ہوا۔ اس ٹیک پارک میں اتل چورڈیا کی بھی حصہ داری ہے۔ سروے نمبر 191- اے۔ اسی سروے نمبر کے پلاٹ پر شاہد بلوا کی کمپنی ڈی بی ریلٹی کا فائیو اسٹار ہوٹل بھی بننا شروع ہوا۔ پُنے کے آر ٹی آئی کارکن اور سماجی خدمت گار روندر ایل برہاتے کہتے ہیں کہ ان سبھی تعمیراتی کاموں کے لیے متعلقہ این او سی شاہد بلوا نے ہی حاصل کیے تھے اور پنچ شیل ٹیک پارک کے لیے سپریا سُلے نے ماریشس کی ٹیلی کام کمپنی میری لِنچ سے مالی امداد حاصل کی۔ برہاتے الزام لگاتے ہیں کہ سُلے نے میری لِنچ سے مالی تعاون حاصل کرنے کے لیے اپنی زمین 92,500 مربع میٹر دکھائی، جب کہ ان کے نام سے صرف 26 ہزار مربع میٹر زمین رجسٹرڈ ہے۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ باقی زمین کس کی ہے اور خود جواب بھی دیتے ہیں کہ سُلے کی زمین سے ملحق زمین ڈی بی ریلٹی کی ہے۔ ظاہر ہے کہ ان سبھی لوگوں کی ملی بھگت سے اس زمین پر قبضہ کرنے کا کام ہوا ہے۔ بہرحال، اس زمین سے جڑے دستاویز جب باہر آئے اور جب تمام گڑبڑیوں کی شکایت صوبائی حکومت سے کی گئی، تب اس زمین پر چل رہے تعمیراتی کام پر اسٹے آرڈر دے دیا گیا۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *