سلمان خورشید جی! کب تک گمراہ ہوں مسلمان؟

سید اسحاق گورا
مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے کہ جب وزیر برائے اقلیتی امور جناب سلمان خورشید نے مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کا اعلان کیا تھا۔یہ سن کر مسلمان خوش ہو گئے، حالانکہ مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کا معاملہ برسوں سے چلا آ رہا ہے ،مگر اس پر ٹھوس کارروائی نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی ہونے کی کوئی امید ہے۔اس اعلان کے کچھ ماہ بعد مسلمانوں کو جو (لولی پوپ)دیا تھا جب ختم ہو گیا ،تو جناب سلمان خورشید نے دوبارہ اپنا اعلان کچھ اس طرح سے کیا کہ ’حکومت مسلمانوں کے ریزرویشن پر غور کر رہی ہے‘۔ یہ سن کر مسلمان پھر بیٹھ گئے کہ مرکز میں مسلمانوں پر کام چل رہا ہے۔ اور جب کافی ٹائم ہو گیا، مسلمانوں کا صبر ٹوٹ گیا، تو پھر سلمان خورشید نے اس طرح اعلان کیا کہ ’حکومت مسلم ریزرویشن پر آج بھی سنجیدہ ہے‘۔ اور اب حال ہی میں بھی یہی بات دہرا کر خیالی پلائو بنائے جا رہے ہیںاور بناتے ہی جا رہے ہیں۔ہم سلمان خورشید صاحب سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا مسلمانوں کو ریزرویشن تب ملے گا جب حکومت کے دن پورے ہو جائیں گئے؟ اور مسلمان یہ سوچتے رہیں گے کہ مرکز مسلمانوں پر سنجیدہ ہے؟ واضح کرتے ہیں کہ اس قسم کے بے ضرورت اعلانات وقتاََ فوقتاََ ہوتے ہی رہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں وزارت برائے اقلیتی امور نے ایک رپوٹ شائع کی تھی ،جس میں لکھا تھا کہ اتنے سو کروڑ روپے مسلمانوں کی فلاح پر خرچ کر دیے گئے۔راقم کو تو آج تک ایک بھی ایسا مسلمان نہیں ملا جس نے یہ کہا ہو کہ اسے وزارت اقلیتی امور یا اس کے زیر نگرانی چل رہے کسی ادارہ کی جانب سے دس روپے موصول ہوئے ہوں۔
بقول وزیر، رنگ ناتھ مشرا کمیشن رپورٹ کے مطابق اب سے تقریباََایک برس کے اندر اندر مسلمانوں کو ریزرویشن دے دیں گے، مگر یہ کام اتنا آسان نہیں کیونکہ آئین ہند میں مذہبی بنیاد پر ریزرویشن غیر قانونی قرار دیا گیا ہے ۔جب پسماندہ طبقات کے نام پر مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کی بات کی جاتی ہے تو عدالت میں کوئی نہ کوئی مقدمہ دائر کر دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اسلام میں ذات برادری کا توکوئی ذکر ہی نہیں ہے۔دیگر بات یہ ہے، جیسے مسلمانوں کے ایک بڑے پچھڑے طبقات کا خدشہ ہے، کہ اس طرح کی باتیں وقتاََ فوقتاََ ووٹ بینک سیاست کے تحت ان کے ووٹ بٹورنے کے لیے کی جاتی ہیں ،صحیح معلوم ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کو بھی عملی جامہ نہیں پہنایا گیا ہے۔ وقتاََ فوقتاََ مختلف مرکزی سرکاریںمسلمانوں کے ہاتھوں میں کبھی تو ادارہ، کبھی سچر کمیٹی کا تو کبھی ریزرویشن کا جھنجھنا تھماتی چلی آ رہی ہیں۔ان کو محض اب تک بہلایا ہی جا تا رہا ہے۔ آزاد ہندوستان کی 6 دہائیوں سے زیادہ حکومتوں میں، مسلمانوں کے ساتھ کس سرکار نے کس طرح کی زیادتیاں کی ہیں ،کس طرح کا ظلم و تشدد کیا ہے ،ان کے حقوق کی ان دیکھی کی ہے ،یہ سب کو معلوم ہے اور اس کی تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں۔متعدد مسلمانوں پر ظلم ہو تے رہے، فرقہ وارانہ فسادات جو کہ پولس و فسادیوں کی جانب سے یک طرفہ نسل کشی کے نام پر ان کے ساتھ حیوانیت کا بربریت آمیز پہاڑ توڑاجاتا رہا، اس کی بھر پائی تو الگ، خبر بھی نہیں لی گئی۔ ہاں اتنا ضرور ہوا کہ وقتاََ فوقتاََ ، کمیشن و کمیٹیاں ضرور بنتی رہی ہیں جیسے کہ رنگ ناتھ مشرا کمیشن ،سچر کمیٹی ، اور نہ جانے اسی طرح اور کتنے کمیشن۔ آج کل رنگ ناتھ مشرا کمیشن کا ذکر ہے، کیونکہ تقریباََ پچھلے ڈھائی  سال سے اس کو پارلیمنٹ میں پیش ہی نہیں کیا جا رہا ہے۔ ویسے اس کمیشن کی داغ بیل 15 مارچ 2005 کو ’قومی کمیشن برائے لسانی و مذہبی اقلیت‘ کے نام سے ڈالی گئی تھی جو کہ بعد میں رنگ ناتھ مشرا کمیشن کے نام سے مشہور ہوئی۔ 21 مئی 2007 کو یہ رپورٹ وزیر اعظم جناب منموہن سنگھ کو پیش کر دی گئی تھی، مگر اسے اب تک ٹیبل نہیں کیا گیا۔رنگ ناتھ مشرا کمیشن کا چرچہ آج بھی ہے ۔اس میں مسلمانوں کے لیے ریزرویشن کا خلاصہ ہے ۔رنگ ناتھ مشرا کمیشن میں کہا گیا ہے کہ جس طرح سے دیگر غیر مسلم پسماندہ طبقات کو ریزرویشن دیا گیا ہے اسی طرح سے مسلمانوں کو بھی ریزرویشن دیا جائے۔ اس میں درج ہے کہ جس طرح سے غیر مسلم طبقات میں مختلف پچھڑ ی برادریاں ہوتی ہیں،اسی طرح مسلمانوں میں بھی پچھڑی برادریاں ہیںاور ان کی فلاح و بہبو د کے لیے انہیں بھی آئین کی اس دفعہ کے تحت تحفظ دیا جائے، جیسے شیڈ ولڈ کا سٹ، شیڈ ولڈ ٹرائب اور او بی سی کو تحفظ دیا گیا ہے۔ مشرا کمیشن کی رپورٹ میںصفائی سے یہ کہا گیا ہے کہ آئین ہند کے پیرا 3 (شیڈ ولڈکاسٹ) آرڈر1950کے مطابق ایس سی اور ایس ٹی طبقات کا دائرہ صرف ہندوئوں، سکھوںاور بود ھوں تک ہی محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اسے دیگر اقلیتوں جیسے مسلمانوں، عیسائیوں، پارسیوں اور جینیوں کے لیے بھی نافذ کیا جائے۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ ہندوستان میںذات برادری کا نیٹ ورک اتنا مضبوط ہے کہ چاہے ہندو ہوں، مسلمان ہوں یا عیسائی سبھی میں یہ موجود ہے۔ اسی طرح سے سکھوں میں بھی اس قسم کے پسماندہ طبقات ہیں۔ ذات برادری کے اس غیر منصفانہ سسٹم سے بچنے کے لیے بہت سے غیر مسلم پسماندہ طبقات نے تبدیلی مذہب کر کے اسلام قبول کیا،مگر افسوس کہ یہاں پر بھی اس کے ساتھ فرق کیا جاتا رہا، کیونکہ جب یہ لوگ غیر مسلم پسماندہ طبقات سے ہٹ کر مسلمان بنے، تب بھی ان کے ساتھ خود کو اونچی برادری مانے جانے والے مسلم طبقات کے ذریعہ تفریق برتی گئی اور انہیں ہیچ نگاہوں سے دیکھا گیا ۔افسوس کا مقام ہے کہ اسلام کے اندر ذات، برادری کا کوئی نظریہ ہی نہیں ہے اور سبھی مسلمان برادری کا درجہ رکھتے ہیں،مگر افسوس ہندوستان میں صدیوں قرنوں سے رہتے چلے آنے کی وجہ سے ان پر غیر مسلم طبقات کا رنگ چڑھ گیا اور ان میں بھی ہزارہا ذات،برادریاں چل نکلیں۔
اس کے بعد ہوتا یہ ہے کہ ہمارے لائق لیڈر حضرات ان تمام طبقات کی پیروی کرنے کے لیے ریزرویشن کی بھیک کے پیالے ہاتھ میں دینے کے لیے شور مچاتے ہیں،جیسا کہ حال ہی میں ایک ہندی نیوز چینل کے پر وگرام میں ہوا۔ اس میں دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین نے ریزرویشن کی پر زور وکالت بغیر اپنے گریبان میں جھانکتے ہوئے کی ۔انہوں نے اپنے گزشتہ تقریباََ چار سالہ دور میں پچھڑے مسلم طبقات کے لیے یا پچھڑے ہوئے مسلم تعلیمی اداروں کے لیے کیا کیا؟ اگر مسلمانان ہند چاہتے ہیں کہ صحیح معنی میں وہ ترقی کریں تو اس کے لیے صرف یہی طریقہ ہے کہ اپنے بچوں کی تعلیم کی جانب توجہ کریں،خواہ ان کے بچے سرکاری پرائمری اسکول میں پڑھ رہے ہوںاور انہیں اپنا پیٹ کاٹ کر ان کی تعلیم پر صرف کرنا پڑ رہا ہویا اس کے لیے انھیں دیگر کاوشیں اور بھاگ دوڑ کرنے کی ضرورت پڑے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آج ہندوستان میں غیر سرکاری اعداد کے مطابق تقریباََ30 کروڑ مسلم آبادی ہے ،جو اگر یہ فیصلہ کر لے کہ اپنی بات منوانے کے لیے سڑکوں پر اترنا ہے ،اس کے ہونہار لیڈرملت کے سرفروشوں کے آگے چل کر پولس اور فوج کی گولیاں کھا کرجام شہادت قبول کرنے کو تیارہوں تو مسلم طبقہ کی ہر جائز بات مانی جائے گی۔ آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ کچھ عرصہ قبل کس طرح گوجر طبقہ نے سڑکوں پر اتر کر پانچ فیصد ریزرویشن اپنے لیے لاگو کر والیا، یا حال میں ہی کس طرح جاٹوں نے ریلوے کو جام کر دیا تھااور مرکزی حکومت کو مجبور کر دیا تھا۔ موجودہ دور میں مسلمان بالکل کاہل اور غافل بن چکے ہیںاور آپس میں ہی ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچ رہے ہیں۔جو بھی آگے بڑھنے کی کوشش کرے اسے روکنا ثواب سمجھاجاتا ہے۔ مسلمان یاد رکھیں ! کہ آج کے دور میں حقوق خود نہیں ملتے ،بلکہ چھینے جاتے ہیں، جس کے لیے قربانی بھی دی جاتی ہے ۔آج تک مسلمان اپنے اردو میڈیم اسکولوں کی فلاح و بہبود کے لیے آگے بڑھنے کو خو د ہی تیار نہیںتو سرکار و برادران وطن کو مورد الزام ٹھہرانے سے کیا فائدہ۔
مسلمانوں کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کی رہنمائی ایسے لوگوں کے ذریعہ کی جارہی ہے کہ جن کا نصب العین صرف ایوان اقتدار تک پہنچنا ہے ،بطور ممبر پالیمنٹ یا ممبر اسمبلی اپنی گدی محفوظ کر الینا،پانچ سال تک سفید ایمبسڈرگاڑیوں میں پھرنا اور تمام سرکاری مراعات جیسے مفت کا سفر ،مفت کے ڈِنر وغیرہ،جیسے فائدہ اٹھانا ہے۔ آج ہمارے بیچ مختلف قربانیاں دینے وا لے مو لانا آزاد،مولانا حسین احمد، سر سید احمد خاں، اشفاق اللہ خاں، علی برادران، ڈاکٹر ذاکر حسین، حکیم عبدالحمید وغیرہ جیسے رہنما ناپید ہو چکے ہیں،جس کا خمیازہ امت کو بھگتنا پڑھ رہا ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ جو بھی تعلیم یافتہ مسلم نوجوان ہیں، وہ اٹھیں اور خود قوم کی باگ ڈور سنبھالیں اور ایک دوسرے کی مدد کریں، یہی وقت کا تقاضہ ہے۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *