اطلاع کی راہ کے روڑے

کئی  بار پبلک انفارمیشن آفیسر کسی آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں کہتا ہے کہ فلاں اطلاع تیسرے فریق سے جڑی ہے، اس لیے آپ کو نہیں دی جا سکتی یا معاملہ عدالت میں زیر غور ہے یا پھر فلاں اطلاع عام کرنے سے پارلیمنٹ کی ضابطہ شکنی ہوگی، اس لیے اطلاع نہیں دی جا سکتی۔اس شمارہ میں ہم آپ کو آر ٹی آئی قانون کی دفعہ 8اور 11، توہین عدالت، پارلیمانی خصوصی اختیارات اور تیسرے فریق کے بارے میں بتائیں گے، جو درخواست دہندہ کو اطلاع مہیا کرانے سے روکتے ہیں۔

پارلیمانی خصوصی اختیارات
آر ٹی آئی قانون کی دفعہ 8 (1) (سی) میں بتایا گیا ہے کہ ایسی اطلاع ، جسے عام کیے جانے سے پارلیمنٹ یا کسی ریاست کی قانون ساز کونسل کے خصوصی اختیارات کی خلاف ورزی ہوتی ہے، اسے حق اطلاعات کے تحت دیے جانے سے روکا جا سکتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ ہر بار پی آئی ا و اس قانون کا صحیح استعمال کرتے ہوں۔ راہل وبھوشن نے انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ اور تین ممبران پارلیمنٹ کے درمیان ہوئی خط و کتابت کی فوٹو کاپی مانگی تھی۔ دراصل ایک پیٹرول پمپ کو معاہدہ کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے کے سبب بند کر دیا گیا تھا۔ اس پیٹرول پمپ کو دوبارہ کھلوانے کے لیے تین ممبران پارلیمنٹ نے وزیر پیٹرول کو خط لکھا تھا۔ راہل نے اس خط کے جواب کی فوٹو کاپی مانگی تھی، جسے یہ کہہ کر دینے سے منع کر دیا گیا کہ اسے دیے جانے سے پارلیمنٹ کے خصوصی اختیارات کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ کمیشن میں سماعت کے دوران انفارمیشن کمشنر نے مانا کہ ممبرپارلیمنٹ کے ذریعہ لکھے گئے خط کا پارلیمنٹ یا پارلیمانی کارروائی سے کسی طرح کا کوئی تعلق نہیں ہے اور اس اطلاع کے عام کیے جانے سے پارلیمنٹ کے کسی خصوصی اختیار کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ کمشنر نے مانگی گئی اطلاع 15دنوں کے اندر درخواست دہندہ کو دیے جانے کا حکم دیا۔ کل ملا کر دیکھیں تو بیشتر معاملات میں پبلک انفارمیشن آفیسر پارلیمانی خصوصی اختیارات کی آڑ میں اطلاع دینے سے منع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں وہ معاملہ پارلیمانی خصوصی اختیارات سے جڑا نہیں ہوتا ہے۔
توہین عدالت
پبلک انفارمیشن آفیسر توہین عدالت کی بات کہہ کر کئی بار اطلاع دینے سے منع کر دیتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کئی بار یہ دلیل صحیح بھی ہو، لیکن بیشتر معاملوں میں دیکھا گیا ہے کہ پبلک انفارمیشن آفیسر اس دلیل کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ درخواست دہندہ کو توہین عدالت کی صحیح اصطلاح کے بارے میں جانکاری ہو۔ حق اطلاعات قانون 2005کی دفعہ 8(1)(B) میں ایسی اطلاعات، جن کی اشاعت پر کسی عدالت یا اتھارٹی کے ذریعہ ظاہری طور پر پابندی عائد ہو یا جس کے ظاہر ہونے سے توہین عدالت ہو، اس کے عام کیے جانے پر روک لگا ئی گئی ہے۔ اگر کوئی معاملہ کسی عدالت میں فیصلہ کے لیے زیر سماعت ہے تو اس کا یہ مطلب بالکل نہیں ہے کہ اس سے متعلق کوئی اطلاع نہیں مانگی جا سکتی ہے۔ زیر سماعت معاملوں میں کوئی اطلاع عام کیے جانے سے عدالت کی توہین ہو، یہ ضروری نہیں ہے۔ ہاں کوئی مخصوص اطلاع، جسے عدالت نے واضح طور پر عام کیے جانے پر روک لگا دی ہو، اگر اسے عام کیے جانے کی بات ہوگی تو عدالت کی توہین ضرور ہوگی۔ گودھرا تفتیش کے دوران سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلہ میں وزارت ریل کو خصوصی طور پر ہدایات دی تھیں کہ وہ گودھرا اجتماعی قتل عام پر تفتیشی رپورٹ پارلیمنٹ کے سامنے پیش نہ کرے۔ عدالت نے رپورٹ کو عام کیے جانے پر روک لگا دی ۔ اس اطلاع کو دیے جانے سے توہین عدالت ہو سکتی تھی اور دفعہ 8(1)(B)کی خلاف ورزی بھی ۔ایسے مدعوں پر فیصلہ دیتے وقت افسران کو صرف وہی اطلاع دینے سے منع کرنا چاہیے، جنہیں عدالت نے واضح طور پر عام کیے جانے پر پابندی عائد کی ہو۔کچھ معاملوں میں دیکھنے میں آیا ہے کہ سرکاری افسران اس دفعہ کا استعمال اطلاع نہ دینے کے بہانے کی شکل میں کر رہے ہیں۔
تیسرا فریق
حق اطلاعات قانون کے تحت جو شخص اطلاع مانگتا ہے، وہ پہلا فریق ہوتا ہے۔ جس محکمہ یا پبلک اتھارٹی سے اطلاع مانگی جاتی ہے، وہ دوسرا فریق ہوتا ہے۔ اس طرح کی اطلاعات میں عام طور پر کسی طرح کی پریشانی نہیں ہوتی۔ لیکن اگر درخواست دہندہ کے ذریعہ مانگی جا رہی اطلاع درخواست دہندہ سے براہ راست متعلق نہ ہو کر کسی دیگر شخص سے متعلق ہو تو وہ دیگر شخص ہی تیسرا فریق کہلاتا ہے۔ تیسرے فریق سے متعلق شخص کی اطلاع کو تیسرے فریق کی اطلاع کہا جاتا ہے۔حق اطلاعات قانون میں تیسرے فریق کی رازداری کو محفوظ کرنے کا قانون ہے۔ قانون کی دفعہ11کے مطابق، ایسی اطلاعات، جو کسی دوسرے شخص سے متعلق ہوتی ہیں، انہیں درخواست دہندہ کو دیے جانے سے قبل تیسرے فریق کی اجازت لینی پڑتی ہے۔ ایسے معاملوں میں پبلک انفارمیشن آفیسر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ درخواست موصول ہونے کے پانچ دنوں کے اندر تیسرے فریق کو اس کی مطلوبہ اطلاع دے گا اور اگلے 10دنوں کے اندر اطلاع جاری کرنے کا جواب ہاں یا نہ میں موصول کرے گا، لیکن قانون میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ایسی اطلاع، جس سے سماجی مفاد وابستہ ہو یا تیسرے فریق کی اطلاع کو جاری کرنے سے ہونے والا ممکنہ نقصان، مفاد عامہ سے زیادہ بڑا نہ ہو تو اس صورت میں مانگی گئی اطلاع دی جاسکتی ہے۔ قانون میں یہ ایک اہم ذمہ داری پبلک انفارمیشن آفیسر کی ہے کہ وہ مانگی گئی اطلاع تیسرے فریق اور مفاد عامہ کو اچھی طرح سمجھ کر جاری کرے۔کئی معاملوں میں دیکھنے میں آیا ہے کہ پبلک انفارمیشن آفیسر ذاتی مفاد یا محکماتی دبائو کے سبب تیسرے فریق سے متعلق اطلاعات کو جاری کرنے سے روکنے کے لیے دفعہ 11کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔g

اردو چوتھی دنیا کی اسٹوری اپنے میل پر حاصل کرنے کے لئے اپنا ای میل درج کریں

Leave a Comment :
اپنی رائے دیں

:
رد عمل