مایاوتی کی من مانی

 اتر پردیش کی وزیر اعلیٰ مایا وتی کو اس بات سے کوئی پریشانی نہیں ہے کہ ان کی ریاست میں پولس چیف کا عہدہ خالی ہے۔ گزشتہ اگست کے مہینے میں ڈی جی پی کرم ویر سنگھ کے ریٹائر ہونے کے بعد آر کے تیواری نے ذمہ داری سنبھالی ہے، لیکن ابھی تک کسی کو مستقل طور پر پولس چیف نہیں بنایا گیا ہے۔ اس کے پیچھے سبب کچھ اور بتایا جا رہا ہے۔ مایا وتی اس عہدے پر کسی ایسے افسرکو لانا چاہتی ہیں، جو ان  کا وفادار ہو۔ یہی سبب ہے کہ بہت سارے قابل افسروں کے باوجود وہ اس عہدے پر کسی کی تقرری نہیں کر رہی ہیں۔ جانکاروں کا کہنا ہے کہ مایا وتی اس عہدے پر ڈی جی پی ( ایڈیشنل) برج لال کی تقرری چاہتی ہیں، لیکن اس عہدے کے لیے جس سینئریٹی کی ضرورت ہے ، اس کے لیے برج لال کو کچھ دنوں تک انتظار کرنا پڑے گا۔g
پروموشن کا انتظار
پنجاب پولس کے افسروں کے لیے ایک بڑی خوش خبری ہے۔ وہاں کے ڈی جی پی، پی ایس گِل کے مطابق، پنجاب پولس کے تیس افسروں کو ’’انڈین  پولس سروس ‘‘ کا گریڈ مل سکتا ہے۔ ایسا تقریباً ایک دہائی کے بعد ہو رہا ہے کہ اتنے زیادہ صوبائی پولس افسروں کا پروموشن انڈین پولس سروس کی سطح پر کیا جائے گا، لیکن تاخیر اس وجہ سے ہو رہی ہے کہ جو لوگ سیدھے ڈی ایس پی بنے ہیں اور جو پروموشن کے ذریعہ ڈی ایس پی بنے ہیں، ان کے درمیان تھوڑا تنازع ہے۔ سرکار کا فیصلہ ہی اس تنازع کو ختم کر سکتا ہے۔ جن افسروں کا پروموشن ہونا ہے، ان میں بی ایس سدھو، منیش چائولہ، امر سنگھ چاہل، ایم ایس چینا کا نام شامل ہے۔ پنجاب پولس کے بابوئوں کو اس کا بے صبری سے انتظار ہے۔g
جیون بیمہ کو صدر کا انتظار
پی جے تھامس کی تقرری سے ہوئی کرکری سے سرکار ہوشیار ہوگئی ہے۔ اب وہ کسی بھی اہم عہدے پر تقرری سے پہلے اس بات کا دھیان رکھتی ہے کہ تھامس والا واقعہ پھر سے نہ ہو جائے۔ جیون بیمہ نگم کے صدر کا عہدہ خالی پڑا ہے، لیکن اس پر ابھی تک کسی کی تقرری نہیں ہوئی ہے۔ ٹی ایس وجین نے پانچ سال پورے کرنے کے بعد اس عہدے پر خدمات میں توسیع لینے سے منع کر دیا ہے۔ ابھی جیون بیمہ نگم میں دو عبوری صدر آر کے سنگھ اور ڈی کے مہروترا ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اس عہدے پر تقرری میں تاخیر ہونے کا سبب یہ ہے کہ جن لوگوں کو بحال کیا جا سکتا ہے، ان میں کچھ لوگوں کو وجیلنس سے کلیئرنس نہیں مل پائی ہے۔ اس کا اثر اس عہدے پر تقرری کے لیے ہونے والے انٹرویو پر پڑ رہا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ کب تک یہ عہدہ صدر کا انتظار کرتا ہے۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *