ڈی وائی پاٹل گروپ کی حقیقت: مہاراشٹر میں تعلیم کا مافیا راج

آلوک مشرا
ہندوستانی تہذیب میں گرو کو ’گووِند‘ یعنی بھگوان سے بھی اونچا درجہ حاصل ہے اور تعلیمی درس گاہوں کی اہمیت کسی مندر سے زیادہ ہے، لیکن بازار واد کے دور میں جب تعلیم کے اسی مندر کو دکان بنا کر گرو خود دکاندار بن جائے اور پھر اخلاقیات کی بات کرے، تو اسے کیا کہیں گے؟ کچھ ایسا ہی معاملہ مہاراشٹر کے ڈی وائی پاٹل گروپ اور اس کے ذریعہ چلائے جا رہے متعدد پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا ہے، جو ہزاروں بچوں اور ان کے ماں باپ کو تابناک مستقبل کا خواب دکھاتے ہیں، جب کہ خوابوں کے اِن سوداگروں کے دامن پر خود کئی داغ ہیں اور یہ سب جاننا ملک کا مستقبل کہلانے والے بچوں اور ان کے والدین کے لیے بے حد ضروری ہے۔ چوتھی دنیا کے پاس ایسی کئی دستاویز ہیں، جن سے ان تعلیمی اداروں اور انہیں چلانے والوں کی اصلیت کا خلاصہ ہوتا ہے۔
مہاراشٹر کی سیاست اور تعلیم کے میدان میں ڈی وائی پاٹل کا نام کسی پہچان کا محتاج نہیں ہے۔ صوبہ کے باہر بھی ان کی شخصیت سیاسی حلقوں میں جانی پہچانی ہے۔ انہیں مہاراشٹر میں ’شکشا مہرشی‘ بھی کہا جاتا ہے۔ فی الوقت ڈی وائی پاٹل ملک کی شمال مشرقی ریاست تریپورہ کے آئینی مکھیا یعنی گورنر کے عہدہ پر فائز ہیں۔ ان کا بیٹا بھی ریاستی کابینہ کا ایک رکن ہے۔ اتنے اونچے عہدہ کی شان بڑھانے والا شخص اگر کوئی بیہودہ حرکت کرے تو فوری یقین نہیں ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ مہاراشٹر کے اس مشہور شخص نے تعلیمی ادارہ کے نام پر ایسی گھناؤنی حرکت کی ہے کہ انہیں میدانِ تعلیم کی عظیم شخصیت کہنا اس شعبہ کی بے حرمتی لگتی ہے۔ اس معاملہ سے ان کے ’شکشا مہرشی‘ ہونے کی بجائے تعلیمی مافیا کا روپ اجاگر ہوا ہے، جس نے تعلیم کو تجارت بنا ڈالا ہے۔ ایسے شخص کا کسی آئینی عہدہ پر فائز ہونا اس عہدہ کے عز و وقار کو داغ لگانا ہے، لیکن اس ملک میں لیڈروں کی ڈکشنری میں اخلاقیات جیسے لفظ کے لیے جگہ نہیں ہوتی۔
دراصل، میدانِ تعلیم کی اس عظیم شخصیت اور سیاست داں کے کارناموں کا پردہ فاش کچھ دنوں پہلے پُنے میں تعلیمی ادارہ کے نام پر سہولیات حاصل کرنے کے لیے صوبائی انتظامیہ کی آنکھ میں دھول جھونکنے کے سبب ہوا اور اس کی شروعات ہوئی سال 1991 سے۔ 30 جنوری، 1991 کو چیریٹی کمشنر کے دفتر میں ڈی وائی پاٹل ایجوکیشن اکیڈمی نام سے ایک پبلک ٹرسٹیڈ انسٹی ٹیوشن کا رجسٹریشن کرایا گیا۔ رجسٹریشن کے وقت پیش کی گئی دستاویزوں میں بتایا گیا کہ یہ تنظیم مہاراشٹر کے مختلف مقامات پر تعلیمی ادارے چلاتی ہے اور مکمل تعلیم کا انتظام کرتی ہے۔ اس کے بعد 30 جون، 1992 کو محکمہ محصول اور محکمہ جنگلات کی سرکاری زمین ڈگری کالجوں کے لیے بازار کی قیمت سے 50 فیصد کم قیمت پر دینے کا فیصلہ صوبائی حکومت کے ذریعے لیا گیا۔ سرکار کے اسی فیصلہ کا فائدہ اٹھانے کے لیے اِس گھوٹالے کو انجام دینے کا منصوبہ مذکورہ تنظیم نے بنایا۔ تنظیم کے ذریعے فراہم کردہ دستاویزوں سے پتہ چلتا ہے کہ 25 جون، 2002 کو ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل ایجوکیشنل انٹرپرائزز پرائیویٹ لمیٹڈ کا رجسٹریشن کمپنی ایکٹ کے تحت کیا گیا۔ اس کے تقریباً ایک سال بعد 11 جون، 2003 کو ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل ایجوکیشنل انٹرپرائزز پرائیویٹ لمیٹڈ نے 41 لاکھ 90 ہزار 191 اسکوائر فٹ زمین گاؤں موضع چاہولی بُدرُک، پُنے میں خریدی۔ اس کے بعد 30 اکتوبر، 2004 کو اَربن ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ (Urban Land Ceiling Act) نے ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل ایجوکیشنل انٹرپرائزز کے ذریعہ خریدی گئی زمین کو دفعہ (6) (1) 19 کے مطابق درست قرار دیتے ہوئے تنظیم کو رعایت دینے کی سفارش کی۔ غور طلب ہے کہ ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل ایجوکیشنل انٹرپرائزز ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی ہے نہ کہ ممبئی پبلک ٹرسٹ ایکٹ 1949 اور اسی طرح سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ 1860 کے تحت رجسٹرڈ ہے۔
پِمپری- پِنچوَڈ میونسپل کارپوریشن نے 21 اپریل، 2004 کو پاٹل ایجوکیشنل انٹرپرائزز کو مذکورہ زمین پر تعمیراتی کام کی منظوری دے دی۔ ساتھ ہی میونسپل کارپوریشن نے 19 جون، 2004 کو ژون داخلہ دیتے وقت یہ واضح کیا تھا کہ پاٹل ایجوکیشنل انٹرپرائزز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعے خریدی گئی زمین کے ہر ایک سروے نمبر میں کم از کم 18 سے 30 میٹر راستے کے انتظام کا ذکر ہے۔ اس کے بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ آفیسر اور متعلقہ اہل کار، پُنے میونسپل کمیٹی نے 25 اکتوبر کو اَربن ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کو خط لکھ کر بتایا کہ بنیادی طور پر کاشت کاری کرنے والے خاندان سے متعلق زمینی قانون کے وجود میں آنے کے بعد دفعہ (1) 6 کے مطابق دو وضاحتی کاغذات دیے گئے ہیں، جن میں کیس نمبر 1120- پی اور 1121- پی کا ذکر کیا گیا ہے، مگر اِن میں زمین کے حقیقی مالک مہسکے، چودھری اور گایکواڑ کے ذریعے

یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ جگہ کھیتی کی ہے۔ حقیقی مالک مہسکے، چودھری اور گایکواڑ سے پاٹل ایجوکیشنل انٹرپرائزز پرائیویٹ لمیٹڈ نے زمین خریدی اور دفعہ (1) 6 کے مطابق تفصیل پیش کی ہے۔ اس پر بھی پاٹل ایجوکیشنل انٹرپرائزز ایک تعلیمی اور پرائیویٹ ادارہ ہے، میونسپل کارپوریشن نے لے آؤٹ کو دیکھ کر منظوری دی ہے۔ اس میں اَربن لینڈ سیلنگ ایکٹ (6) (1) 19 کے ضابطوں کے مطابق تنظیم نے رعایت دینے کی درخواست انتظامیہ سے کی۔ اس پر اَربن ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ نے تحریری طور پر کہا کہ حقیقت میں ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل ایجوکیشنل انٹرپرائزز پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہے۔ ایسے میں اس کے چیریٹی کمشنر کے پاس رجسٹرڈ ہونے کا سوال ہی نہیں اٹھتا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل ایجوکیشنل انٹرپرائزز پرائیویٹ لمیٹڈ کا مذکورہ تاریخ یعنی 22 جولائی، 1997 تک کوئی وجود نہیں تھا، وہ 25 جون، 2002 کو وجود میں آئی۔ اس کے باوجود 5 جنوری، 2005 کو پاٹل ایجوکیشنل انٹرپرائزز نے اُس وقت کے وزیر اعلیٰ وِلاس راؤ دیش مکھ کو خط بھیج کر درخواست کی کہ مذکورہ زمین 22 جولائی، 1997 کو خریدی گئی ہے، جس کی رقم کی ادائیگی چیک کے ذریعے کی گئی ہے اور 11 مارچ، 2000 کو اُس کے نام پر زمین کی گئی ہے۔ اس لیے کوئی جرمانہ نہ لگاتے ہوئے مدد کی جائے۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ پاٹل ایجوکیشنل انٹرپرائزز جھوٹ پر جھوٹ بول کر حکومت سے فائدہ حاصل کرنے کی لگاتار کوشش کرتی رہی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ اس کے بعد بھی اس کی سرگرمیاں نہیں رکیں۔ ڈی وائی پاٹل کے بیٹے ایم ایل اے ستیج ڈی پاٹل عرف بنٹی نے یکم فروری، 2005 کو خط لکھ کر وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ ان کی تنظیم پاٹل ایجوکیشنل انٹر پرائزز پرائیویٹ لمیٹڈ کو زمین کی خریداری کی رقم میں چھوٹ دیں۔ اس پر اَربن ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ (اَربن لینڈ سیلنگ ایکٹ) نے اپنی رپورٹ میں سوال اٹھایا کہ ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل ایجوکیشنل انٹرپرائزز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ایک تعلیمی ادارہ ہونے کے باوجود، اَربن لینڈ سیلنگ ایکٹ کے پروویزن کے تحت چھوٹ کے لیے ادارہ کے ذریعے شروع میں بتائی گئی 1997 کی ڈیلنگ کو سرمایہ کی منتقلی کے قانون کے تحت صحیح ٹھہرایا جاسکتا ہے؟ پھر بھی، سیاسی دباؤ کی وجہ سے 23 مئی، 2005 کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ آفیسر شنکر راؤ ساونت نے حکومت سے بغیر کوئی اجازت لیے مذکورہ تنظیم کو پبلک ٹرسٹ انسٹی ٹیوشن ہونے کی منظوری دیتے ہوئے 13 ہیکٹیئر 57 آر زمین کو لے کر ہونے والی ڈیلنگ کو ریگولر کر دیا۔ وہیں 23 ستمبر، 2005 کو پاٹل ایجوکیشنل انٹرپرائزز کے ذریعے 23 ہیکٹیئر 74 آر زمین کو لے کر کی گئی ڈیلنگ کو اَربن لینڈ سیلنگ ایکٹ کے پروویزن کے تحت غلط ٹھہرایا گیا۔
اس سلسلے میں سماجی و آر ٹی آئی کارکن رویندر ایل برہاتے نے بتایا کہ ڈی وائی پاٹل اور ان کے ایم ایل اے بیٹے ستیج ڈی پاٹل کی جوڑی نے ڈی وائی پاٹل ایجوکیشنل انٹرپرائزز پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام پر جو کیا، اسے جائز ٹھہرانے کے لیے انہوں نے ہر طرح کے ہتھکنڈے اپنائے۔ اپنی سیاسی طاقت کا بھی بھرپور استعمال کیا۔ انہوں نے کانگریس پارٹی کے صوبائی خزانچی موتی لال وورا سے وزیر اعلیٰ کے نام پر خط لکھوایا۔ موتی لال وورا نے 27 جون، 2006 کو لکھے اپنے خط میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ وِلاس راؤ دیش مکھ سے اپیل کی کہ ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل ایجوکیشنل انٹر پرائزز پرائیویٹ لمیٹڈ نے 2 کروڑ 76 لاکھ 10 ہزار 400 روپے بھرے تھے، یہ رقم اسے تعلیمی ادارہ ہونے کے سبب سہولت دے کر واپس کرائیں۔ اس خط سے یہ بھی خلاصہ ہو جاتا ہے کہ کانگریس کے ذریعے اپنے لیڈروں کی بدعنوانیوں پر پردہ ڈال کر کیسے انہیں فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ موتی لال وورا کے خط کا اثر نہ ہوتا دیکھ کر پاٹل ایجوکیشنل انٹرپرائزز نے ایک بار پھر جھوٹ کا سہارا لیا۔ ادارہ کی انتظامیہ نے وزیر اعلیٰ کو دوبارہ 13 اکتوبر، 2006 کو خط لکھ کر کہا کہ اس کے ذریعے چاہولی بُدرُک گاؤں میں خریدی گئی زمین کے پاس سے کوئی راستہ نہیں ہے۔ ساتھ ہی اس نے پرانے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے چھوٹ دینے اور 2 کروڑ 75 لاکھ روپے واپس کرنے کی مانگ کی۔ جب کہ پمپری- چنچوڈ میونسپل کارپوریشن نے اپنے ژون کی دستاویزوں میں واضح کیا ہے کہ ہر ایک سروے نمبر میں 18 سے 30 میٹر راستے کے لیے زمین ریزرو ہے۔ میونسپل کمپوزیشن اسیسمنٹ مہاراشٹر صوبہ کے کو آر ڈی نیٹر نے 23 اپریل، 2007 کو اپنی رپورٹ میں زمین کی قیمت 9,06,55,600 روپے بتائی ہے۔ وہیں اَربن ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ (اَربن لینڈ سیلنگ ایکٹ) نے اپنی رپورٹ میں زمین کی قیمت 14,45,08,094 روپے بتائی ہے۔ اس سے یہ سوال کھڑا ہوگیا کہ زمین کی اسٹامپ ڈیوٹی کس قیمت پر طے کی جائے، میونسپل کمپوزیشن ڈپارٹمنٹ کے ذریعے کیے گئے تجزیہ پر یا اَربن ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ (اَربن لینڈ سیلنگ ایکٹ) کے ذریعے لگائی گئی قیمت پر۔ لیکن زمین کی صحیح معنوں میں بازار قیمت کیا تھی، اس کا اندازہ نہیں لگایا گیا۔ پاٹل ایجوکیشنل انٹرپرائزز لگاتار سرکار سے مہاڈا، سڈکو اور ایم آئی ڈی سی کی طرح خود کو سہولت اور چھوٹ دینے کے ساتھ پیسہ واپس کرنے کی اپیل کرتی رہی اور وہ بھی حکومت و انتظامیہ کو جھوٹی اطلاع فراہم کرکے۔ اس پورے گول مال میں جن افسروں نے اپنا تعاون دیا ہے، اُن پر بھی کارروائی ہونی چاہیے۔

کون ہیں ڈی وائی پاٹل
مہاراشٹر کا ایک بڑا نام ہے ڈی وائی پاٹل۔ ابھی یہ تریپورہ کے گورنر ہیں، سیاست سے ان کا پرانا رشتہ ہے، لیکن یہ سب ایک طرف۔ جب آپ اِن کا بایوڈاٹا دیکھتے ہیں تو اس میں اِن کے پیشہ کے طور پر لکھا ہے، کاشت کار اور ماہر تعلیم۔ کاشت کاری کا تو پتہ نہیں، لیکن مہاراشٹر کی تعلیمی دنیا میں اِن کا نام بہت بڑا ہے۔ ناگپور، پُنے اور کولہا پور سے لے کر ممبئی تک پھیلے کئی تعلیمی ادارے ایک ہی نام سے چلتے ہیں۔ میڈیکل، انجینئرنگ، آیوروید، فزیوتھیراپی، بزنس اسکول، کالج، یونیورسٹی اور بھی بہت کچھ۔ ان سبھی اداروں کے نام سے پہلے صرف ایک ہی نام جڑا ہوا ہے اور وہ نام ہے ڈی وائی پاٹل کا۔ آج تعلیم تجارت ہے تو اس تجارت کے سب سے بڑے تاجر ہیں پاٹل صاحب۔ ظاہر ہے، اتنے بڑے سامراج کو کھڑا کرنے میں تھوڑا بہت ادھر ادھر کا کھیل بھی کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا، اس سامراج کو بنانے میں بھی کھیل خوب ہوا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *