ہر افواہ میں کچھ نہ کچھ سچائی ضرور ہوتی ہے

اسد مفتی
آئی ایم ایف کے سابق سربراہ ڈومینک اسٹراس نے فرانس کے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی اخلاقی غلطی تھی، انہوںنے جنسی اسکینڈل کا کھلے دل سے اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے اپنی اس غلطی پر ساری عمر افسوس رہے گا۔
نیویارک کے ایک ہوٹل کی ملازمہ نے 14مئی کو آئی ایم ایف کے سابق سربراہ اور فرانس کے آئندہ ہونے والے قومی انتخابات میں حکمران پارٹی کے مضبوط امیدوار ڈومینک اسٹراک پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔

ایک امیر اور طاقتور شخص کے ہاتھوں جنسی زیادتی کی کوشش کا نشانہ بننے والی ’’نافی ساتو ڈیالو‘‘ نامی لڑکی کو پہلے دنیا بھر کے اخبارات وجرائد نے ایک انتہائی مظلوم اور پاکیزہ لڑکی کے طورپر پیش کیا تھا، پھر اسی لڑکی کو نیوریارک کے انڈر گرائونڈ مافیا کاحصہ قراردے دیاگیا۔ جنسی زیادتی کا الزام عائد کرنے والی نافی ساتوڈیالو کی کہانی پہلے پہل اس کے وکیل کے ذریعے بیان کی جاتی رہی۔ جب یہ بات پھیلتے پھیلتے دنیا بھر کے اخبارات کی سرخی بن گئی اور ذرائع ابلاغ کو اپنے سوالوں کے تسلی بخش جواب نہ مل سکے تواس خاتون نے بذات خود اے بی سی نیوز کو انٹریو دیا، جس میں اس افریقی نژاد خاتون کا کہنا تھا کہ اسٹراس کاہن کا رویہ ایک پاگل انسان جیسا تھا، وہ دیوانہ وار برہنہ میرے پیچھے بھاگ رہاتھا۔ مغربی افریقی ملک گنی سے ہجرت کرکے آنے والے خاندان کی اس لڑکی نے پہلی بار ذرائع ابلاغ کے سامنے اپنا بیان دیاتھا، جس پر اس مقدمہ کی صورت نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا۔ اس افریقی لڑکی نے الزام عائد کیا کہ اسٹراس برہنہ حالت میں غسل خانے سے باہر نکلا اوراسے جنسی تعلق پر مجبور کیا۔ اس بیان کے بعد آئی ایم ایف کے سربراہ کے وکیل دفاع کا کہناتھا کہ ہوٹل کی ملازمہ کی طرف سے الزامات مالی فوائد حاصل کرنے کے لیے لگائے گئے ہیں۔ اس کے جواب میں ڈیالو کے وکیل نے کہا کہ وہ لوگوں کو صرف یہ بتانا چاہتی ہے کہ وہ کوئی جسم فروش نہیں ہے، ایک مسلم امام کی ناخواندہ بیٹی ہے اورایک لگژری ہوٹل میں صفائی ستھرائی کاکام کرتی ہے،ا پنے ملک سے وہ محنت مزدوری کرنے کے لیے امریکہ آئی ہے، اس جیسے ہزاروں لوگ یہاں ملازمت کرتے ہیں، وہ گنہگار نہیں ہے۔ وکیل استغاثہ کا کہناتھا کہ اسٹراس کا ہن کو کم ازکم 25سال کی سزا سنائی جائے، لیکن اس افریقی ملازمہ ڈیالو کے ماضی کے واقعات اسٹراس کاہن کی سزا کی راہ میں رکاوٹ بن گئے، وہ یوں کہ کاہن کے وکیل کے ہاتھ بھی ایسا مواد لگ گیا جس سے یہ ظاہرہوتا تھا کہ یہ ملازمہ جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ امریکہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے ڈیالو نے کہاتھا کہ گنی میں اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی ہے، حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہواتھا۔اسی طرح اسٹراس کاہن کے بارے میں بھی اس نے اپنا بیان منٹوں میں تبدیل کرلیاتھا، اس پر اسٹراس کے وکلا نے اپنے موکل کے دفاع میں کہا کہ اس لڑکی کے بیانات پر اعتبار نہیں کیاجاسکتا، کاہن کے وکیل دفاع کاعدالت میں کہناتھا کہ انہیں ایک ریکارڈ شدہ فون کال ملی ہے، جس میں ڈیالو امریکہ ایریزوناجیل میں قید کسی آدمی سے بات کرتے ہوئے کہتی ہے effect the towards جس کا مطلب ہے کہ ’’اس آدمی کے پاس بہت مال ہے‘‘۔ وکیل دفاع کے مطابق اس فون کال میں یہ بھی کہاگیا تھا کہ ’’میں جانتی ہوں کہ میں کیاکررہی ہوں… میں بیوقوف نہیں ہوں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق جیل میں جس قیدی سے بات کی گئی تھی وہ منشیات کا کاروبار کرنے والا ایک مجرم تھا، جب کہ اس شخص کی طرف سے کئی مرتبہ ڈیالو کے بینک اکائونٹ میں ہزاروں ڈالر ٹرانسفر کیے گئے تھے، جس کا ریکارڈ اور ثبوت عدالت میں پیش کردیاگیا۔ اس بارے میں ڈیالو کا کہنا تھا کہ اس کے اکاؤنٹ میں پیسے ضرور منتقل کیے گئے تھے، لیکن اس نے کبھی بھی یہ رقم استعمال نہیں کی۔ اس واقعہ کے بعد جج نے آئی ایم ایف کے اس 62سالہ سربراہ کو اس کا پاسپورٹ واپس کردیا، جو کہ پہلے عدالت کی تحویل میں تھا، اسٹراس کاہن بہت کڑی شرائط کے تحت ضمانت پر تھے۔ کاہن کے خلاف مجرمانہ جنسی حملے، جنسی زیادتی کی کوشش اور حبس بے جا میں رکھنے کے الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی تھی، تاہم ان کے خلاف جنسی زیادتی کا مقدمہ ڈیالو کے بار بار بیانات بدلنے کی وجہ سے کمزور پڑگیاتھا۔ امریکی حکام کے مطابق 14مئی کو اس واقعے کے ہونے کے بعد سے ہی الزام لگانے والی خاتون ڈیالو مسلسل جھوٹ بولتی رہی ہے۔اسٹراس کاہن کا کہنا ہے کہ اس برے قت میں ان کی فیملی نے ان کا بے انتہاساتھ دیا، مسز کاہن کو مکمل یقین تھا کہ ان کا خاوند بے گناہ اور سازش کا شکار ہے لیکن فرانسیسی عوام کی رائے کاہن کے بارے میں بٹی ہوئی تھی۔
سوشلسٹ پارٹی نے کاہن کے مقدمے کو ذاتی مسئلہ قرار دیا، لیکن فرانسیسی عوام کی اکثریت نے اسٹراس کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کو مسترد کردیا اور انہیں اخلاق باختہ قراردیا، حالانکہ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ گنی سے تعلق رکھنے والی ہوٹل ملازمہ نے امریکہ میں پناہ حاصل کرنے کے لیے اپنی درخواست میں بھی دروغ گوئی سے کام لیا تھا۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ 62سالہ اسٹراس کاہن کو امریکہ کے جان ایف کنیڈی ایئرپورٹ پر ایئرفرانس کے طیارے سے اتار کر حراست میں لیا گیا تھا۔ فرانس کے اس سابق وزیرخزانہ اور ممتاز سوشلسٹ سیاستداں اسٹراس کاہن کو اس واقعہ سے قبل ملک کی صدارت کے لیے ایک ممکنہ امیدوار کے طورپر دیکھا جارہاتھا۔ آئی ایم ایف سے مستعفی ہونے کے بعد فرانس کی وزیرخزانہ کوسٹائن لگارڈے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کی نئی سربراہ بن گئی ہیں، لگارڈے آئی ایم ایف کی پہلی خاتون سربراہ ہیں، انہوں نے پانچ سال کے لیے اپنا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ اُدھر گنی سے تعلق رکھنے والی مذکورہ ملازمہ جو سات سال پہلے نقل مکانی کرکے امریکہ آئی تھی اور گزشتہ سات سال سے اپنی بہن کے ساتھ رہ رہی ہے، مقدمہ میں ہارنے کے باوجود اپنی کہانی پرقائم ہے۔
میں نے کہیں پڑھا ہے کہ اپنی خواہش کی تکمیل کی خاطر انسان نے ہمیشہ دوسروں کے لیے خطرات پیدا کیے ہیں، تاہم انسان مرتے دم تک اپنی خواہشات سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہوتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سزائے موت پانے والے مجرم سے بھی پوچھا جاتا ہے کہ اس کی آخری خواہش کیا ہے۔
میرا ضمیر بہت ہے مجھے سزا کے لیے
تو دوست ہے تو نصیحت نہ کر خدا کے لیے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *