لندن نامہ

حیدر طبا طبائی
برطانیہ میں قومی قیادت کے دعویداروں اور سچائی کا دم بھرنے والوں یعنی ٹوری پارٹی کے رہنمائوں کے حقیقی خد وخال اب کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ وہ جو اپنی آستینوں میں انقلاب لیے پھرتے ہیں، اب ان کی فکری تجوریاں خالی ہو چکی ہیں۔ گزشتہ دنوں مانچسٹر میں ٹوری پارٹی کی سالانہ کانفرنس میں ٹوری حکومت کے عوامی فنڈ میں کٹوتیوں کے خلاف 35 ہزار سے زیادہ افراد نے مظاہرہ کیا۔

برطانیہ میں غیر قانونی طور پر قیام کرنے والے یہ کرتے ہیں کہ چھپ چھپا کر کئی سال گزار دیتے ہیں اور کم رقم لے کر کام کرتے ہیں، پھر تین یا پانچ سال بعد قیام کے لیے درخواست دیتے ہیں۔ جب سرکار ملک بدر کرنے کی بات کرتی ہے تو حقوق انسانی کے قانون کا سہارا لیا جاتاہے۔ اب وزیر داخلہ مس تھریسامے نے کہا ہے کہ برطانیہ اس حق کو ختم کرنا چاہتا ہے، کیونکہ برطانوی آبادی حد سے تجاوز کر چکی ہے، لیکن حکومت کی اشتراکی جماعت لب ڈیم غالباً وزیر داخلہ کے اس اقدام کی مخالفت کرے۔

مظاہرین کی جانب سے ٹوریز آئوٹ کے نعرے، ہارن اور سیٹیاں بجانے کے ساتھ ساتھ جھنڈے اور بینر لہرائے گئے، جن پر ڈیوڈ کیمرون کی موجودہ ٹوری حکومت کے خلاف نعرے درج تھے۔ چند مظاہرین تشدد پر اتر آئے اور زبردستی  برج وائر ہال میں آنے کی کوشش کی۔
بینر پر لکھا ہوا تھا، ڈیوڈ کیمرون کو شہر میں خوش آمدید نہیں کہا جائے گا۔ مزاحمت کے لیے مکمل یکجہتی کا مظاہرہ ہوا۔ مظاہرین سٹی سینٹر تک در آئے تھے، پولس سے ہاتھا پائی ہوتی ر ہی اور ٹوری گو بیک کے نعرے لگتے رہے۔گزشتہ روز ٹوری پارٹی کی شریک چیئر پرسن سعیدہ وارثی نے پارٹی کے اجلاس میں اپنی تقریر میں کہا کہ اب ٹوری پارٹی کو اکثریتی فتح کے لیے نئے ووٹروں سے رابطے کرنا ہوں گے، لیکن ہمارا سخت مقابلہ اپنے ہی اتحاد ی لب ڈیم سے ہونا ہے جبکہ سعیدہ وارثی نے لیبر کو مقابلے سے خارج کر دیا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ لیبر کے پھر آنے کے آثار نمایاں ہیں۔
برطانیہ بھر میں ایک تحریک یہ چلی ہے کہ اب برطانیہ کو یوروپی یونین کی ممبر شپ چھوڑ دینی چاہیے۔ چونکہ برطانیہ خود ایک طاقت ہے، جو یوروپی یونین کے ہر ملک سے طاقت ور ہے، الگ ہو کر اور نمایاں ملک بن جائے گا۔ لیکن کل کے اجلاس میں ڈیوڈ کیمرون نے اس تحریک کی مخالفت کی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اگر ایسی کوئی تحریک آئی تو وہ حمایت نہیںکریں گے، نہ ہی ٹوری پارٹی ایسی کسی حمایت کا ارادہ رکھتی ہے۔ ابھی تو مصدقہ خبر یہ ہے کہ ممبران پارلیمنٹ آئندہ چند ماہ میں یوروپی یونین کی برطانیہ سے علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کے انعقاد کا فیصلہ کریں گے، لیکن کیمرون نے کہا ہے کہ برطانوی حکومت کی اصل ترجیح یوروپی ژون کو درپیش بحران کو حل کرنا اور معیشت کو نئی زندگی بخشنا ہے۔ یوروپی یونین کی کشتی ڈانواڈول ہے۔
برطانیہ کے ہر شہر میں سرکار کی جانب سے دونوں وقت کا کھانا مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ کھانا ان لوگوں کے لیے ہوتا ہے جو بوڑھے ہوں، کھانا پکانے سے معذور ہوں۔ ان کھانوں کے ہر علاقے میں کئی کئی سینٹر ہوتے ہیں۔ اس میں ہٹے کٹے آدمی بھی جا کر کھاناکھا لیتے ہیں۔ اب فیئر شیئر چیریٹی رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ گزشتہ سال 29ہزار لوگ لندن میں مفت کھاناکھاتے تھے۔ اب ان کی تعداد 35ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے ہرپبلک فنڈ میں کمی کر دی گئی ہے۔ گرافی بہت بڑھ چکی ہے۔ اب حکومت کا ارادہ ہے کہ 65فیصد چیریٹی کھانوں میں بھی بجٹ کم کر دیا جائے۔ یہ سب نتیجہ ہے عراق اور افغانستان کے بے گناہ معصوم اور نہتے عوام کے سروں پر بم باری۔
برطانیہ میں غیر قانونی طور پر قیام کرنے والے یہ کرتے ہیں کہ چھپ چھپا کر کئی سال گزار دیتے ہیں اور کم رقم لے کر کام کرتے ہیں، پھر تین یا پانچ سال بعد قیام کے لیے درخواست دیتے ہیں۔ جب سرکار ملک بدر کرنے کی بات کرتی ہے تو حقوق انسانی کے قانون کا سہارا لیا جاتاہے۔ اب وزیر داخلہ مس تھریسامے نے کہا ہے کہ برطانیہ اس حق کو ختم کرنا چاہتا ہے، کیونکہ برطانوی آبادی حد سے تجاوز کر چکی ہے، لیکن حکومت کی اشتراکی جماعت لب ڈیم غالباً وزیر داخلہ کے اس اقدام کی مخالفت کرے۔
برطانوی پارلیمنٹ میں یہ بل پیش ہو رہا ہے کہ ریٹائرمنٹ کی عمر 65سال تک کر دی جائے ۔ پہلے 55سال تھی پھر 58سال ہوئی اور اب65برس تک کام کرنے کی اجازت ہوگی۔ برطانیہ کے لوگوںکا عام خیال یہ ہے کہ زیادہ عمر تک کام سے ملکی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ ایک یہ بھی بل آ رہاہے کہ آپ جب تک چاہیں سرکاری نوکری کرتے رہیں۔
لیبر لیڈر ایڈملی بینڈ سے پوچھا گیا کہ آپ ویران ریگستان میں پھنس جائیں تو اپنا خوف اور بوریت مٹانے کے لیے کیا کریں گے؟ اس کے جواب میں ملی بینڈ نے کہا کہ اگر میری بیوی اور بچوں کی تصویریں میرے ساتھ ہوں تو میں خوش رہوں گا، کوئی بوریت نہ ہوگی۔
امریکی پولس نے اعلان کیا ہے کہ 19افراد کا قاتل جیمز ویٹنی جو امریکی شہری ہے اور برطانیہ میں(غالباً) برطانوی شہری بن کر رہ رہا ہے، اس کی گرفتاری کروانے والے کو22ملین ڈالرکا اعلان کیا ہے۔ یہ انعام کی سب سے بڑی رقم ہے۔ ویٹنی اپنی کسی برٹش دوست لڑکی کے ساتھ رہتا ہے۔ اس کی تلاش کے لیے برابر پولس چھاپے مار رہی ہے۔ ہیتھرو ایئرپورٹ لندن میں برف باری کے دنوں میں رنوے کو صاف کرنے کے لیے نئی قسم کی مشینیں بنائی جا رہی ہیں تاکہ پروازوں کے عمل میں رخنہ نہ پڑے۔  g

Share Article

حیدر طباطبائی

haidertabatabai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *