دہلی کے پبلک اسکولوں میں غریب بچوں کا داخلہ ٹیڑھی کھیر ہے، لیکن سرکاری اسکول بھی اس معاملہ میں کم نہیں ہیں۔ دہلی حکومت کی فلاحی اسکیموں کے تحت ملنے والے وظیفے بھی کئی بار ضرورتمند طلبا و طالبات تک نہیں پہنچ پاتے ہیں، لیکن انہیں سرکاری اسکولوں کی طالبات نے حق اطلاعات قانون کا استعمال کر کے بدعنوان تعلیمی نظا م کی گہری نیند توڑنے کا کام کیا ہے۔ اس شمارہ میں ہم کچھ ایسے ہی بچوں کی کہانی بتا رہے ہیں۔ دہلی کے کلیان پوری میں واقع گورنمنٹ اسکول کی انتظامیہ طالبات کے وظیفہ ہڑپنے کی فراق میں تھا، لیکن طالبہ سنیتا نے حق اطلاعات قانون کا سہارا لے کر اسکول انتظامیہ کے ارادوں پر پانی پھیر دیا۔ سنیتا نے نہ صرف اپنا وظیفہ حاصل کیا، بلکہ اسکول کے تمام طلبا و طالبات کا وظیفہ دلا کر ہی چین کی سانس لی۔دراصل معاملہ یہ تھا کہ اسکول کے طلبا و طالبات کے سرپرستوں سے دستخط کرا لینے کے چار ماہ بعد بھی وظیفہ تقسیم نہیں کیاگیا۔ سنیتا نے حق اطلاعات قانون کے ذریعہ افسران سے جواب طلب کیا۔ درخواست نے اثر دکھایا اور دودنوں بعد ہی افسران اس سلسلہ میں تفتیش کرنے اسکول آئے۔ اس درمیان پرنسپل نے طلبا و طالبات کو نام کاٹنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ افسران کے سامنے وظیفہ ملنے کی بات کہیں۔افسرانے جب طلبا و طالبات سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے پرنسپل کے کہے کے مطابق ہی جواب دیے، لیکن سنیتا نے ایسا نہیں کیا۔ اس نے بیباکی سے پرنسپل کی شکایت کی اور ان کا کالا چٹھا سامنے رکھ دیا۔ سنیتا کو اس طرح بولتے دیکھ کر باقی بچوںمیں بھی جوش آ گیا اور انھوں نے سب کچھ صاف صاف بتا دیا۔ اس کے کچھ دنوں بعد اسکول کی تمام طالبات کو وظیفہ تقسیم کر دیا گیا۔ پڑھائی کے خواب بنکر اعظم گڑھ سے دہلی آئیں آفریدہ بانو کے خواب اس وقت بکھرنے لگے ، جب کونڈلی اور دلوپورہ میں واقع تین اسکولوں نے اسے داخلہ دینے سے منع کر دیا۔ نویں کلاس میں داخلہ کے لیے اس نے اپنے والد حنیف احمد کے ساتھ کئی چکر کاٹے، لیکن اسکولوں نے تو جیسے داخلہ نہ دینے کی قسم کھا لی تھی۔ ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر کو داخلہ کے لیے درخواست بھیجی گئی، وہاں سے داخلہ کرنے کے احکامات ملے، لیکن اس بار یہ کہہ کرداخلہ دینے سے منع کر دیا گیا کہ کوئی سیٹ خالی نہیں ہے۔ تب جا کر آفریدہ نے حق اطلاعات قانون کا سہارا لیا۔ ڈپٹی ایجوکیشن ڈائریکٹر کے دفتر میں درخواست داخل کر کے اس نے کچھ سوال پوچھے۔ مثلاً، میری شکایت کی ڈیلی پروگریس رپورٹ بتائیں اور یہ کس آفیسر کے پاس ہے، اس کا نام عہدہ اور فون نمبر بتائیں، میرا ایڈمیشن کب تک ہو پائے گا تاریخ بتائیں، ایجوکیشن آفیسر کے پاس احکامات دیے جانے کے باوجود پرنسپل نے داخلہ دینے سے انکار کر دیا، کیا یہ تعلیمی حقوق سے متعلق قانون کی کھلی خلاف ورزی نہیں ہے،برائے مہربانی بتائیں کہ متعلقہ تینوں سرکاری اسکولوں میں نویں کلاس کے لیے کتنے سیکشن ہیں اور ہر سیکشن میں کتنے بچوں کو داخلہ دیا گیا ہے، برائے مہربانی داخلہ رجسٹر کی کاپی دیں۔ درخواست میں پوچھے گئے سوالوں کا اثر یہ ہوا کہ ڈپٹی ایجوکیشن ڈائریکٹر آفس حرکت میں آ گیا اور آفریدہ بانوکو اسکول میں داخلہ مل گیا۔g
درخواست کا نمونہ (بدعنوانی سے متعلق شکایات کی صورتحال)
بخدمت جناب
پبلک انفارمیشن آفیسر
(محکمہ کا نام)
موضوع: حق اطلاعات ایکٹ 2005کے تحت درخواست
جناب،
برائے مہربانی درج ذیل اطلاعات مہیا کرائیں:
(1) سینٹرل وجیلنس کمیشن کے ذریعہ مورخہ————————–سے——————————کے درمیان موصولہ شکایات کی مختصر تفصیل، کیا شکاکات گمنام تھیں، شکایات کی تاریخ، ان افسران یا اتھارٹیز کی مکمل تفصیل (نام، عہدہ اور رابطہ کا پتہ وغیرہ)، جن کے خلاف شکایات کی گئی ہیں۔
(2) مذکورہ شکایاتوں میں کون سی شکایتیں فوری خارج کر دی گئیں اور کون سی آگے کی تفتیش کے لیے تسلیم کی گئیں۔ معاملہ کے مطابق شروعاتی جانچ کی تاریخ یا خارج کرنے کی وجہ کی مختصر تفصیل بھی دیں۔
(3) آگے کی جانچ کے لیے تسلیم کی گئی شکایتوں میں سے کتنے معاملوں میں تفتیش بند ہو چکی ہے؟ سبھی کے بند ہونے کی مختصر تفصیل دیں۔
(4) مختلف قوانین، ضوابط، ہدایات، عمل، مینول وغیرہ کے مطابق مرکزی وجیلنس کمیشن میں شکایت درج کرانے کے کتنے وقت بعد تفتیش پوری ہو جاتی ہے۔ برائے مہربانی ایسی گائڈ لائنس کے تئیں مہیا کرائیں، جس میں شکایات کے حصول سے لے کر اس پر کارروائی اور سزا تک کے مختلف مراحل کے لیے مقررہ وقت کی تفصیل ہو۔
(5) مورخہ————————————سے اب تک کمیشن کو کل کتنی شکایتیں موصول ہوئیں؟ ان میں سے کتنی فوری خارج کر دی گئیں اور کون سی آگے کی جانچ کے لیے رکھی گئیں؟ ان میں سے کتنی شکایتوں کی چھان بین میں مذکورہ مقررہ وقت کی تعمیل کی گئی؟
میں درخواست فیس کی شکل میں—————————————————-روپے الگ سے جمع کر رہا ؍رہی ہوں۔ یا
میں بی پی ایل کارڈ ہولڈر ہوں، اس لیے تمام ادائیگیوں سے آزاد ہوں۔ میرا بی پی ایل کارڈ نمبر——————————————–ہے۔
اگر مطلوبہ اطلاعات آپ کے محکمہ؍ دفتر سے متعلق نہ ہو تو حق اطلاعات قانون 2005کی دفعہ 6(3)کے تحت میری درخواست متعلقہ پبلک انفارمیشن آفیسر کو پانچ دنوں کے اندر منتقل کریں۔ ساتھ ہی قانون کے ضوابط کے تحت اطلاع مہیا کراتے وقت فرسٹ اپیلیٹ آفیسر کا نام اور پتہ ضرور بتائیں۔
نام————————————————————————
پتہ——————————————————————————————————————————————————————–
فون نمبر———————————————————— منسلکہ————————————————————
(اگر کچھ ہو)






