پاکستانی میں حقوق انسانی کی پامالی

عفاف اظہر
اقوام متحدہ نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے اغوا، ماورائے عدالت قتل اور لاپتہ افراد کی لاشیں ملنے کے سلسلے اور صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں اس طرح کے واقعات کا سلسلہ سال دو ہزار سے جاری ہے۔ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے دفتر کے ترجمان رپرٹ کولیو یل نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ انہوں نے حال ہی میں پاکستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مشتمل کئی رپورٹیں وصول کی ہیں، جن میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے اس ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے دفتر کے ترجمان کولیویل نے پاکستان میں تمام حکومتی اور سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ملک میں اغوا، ماورائے عدالت قتل اور لاپتہ افراد کی لاشیں ملنے کے سلسلے اور صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ روکنے کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں پاکستان صحافیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ملک ہے اور سال دو ہزار دس میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں سولہ صحافی ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے قائم کمیٹی (سی پی جے) کے مطابق اس سال کے دوران گیارہ صحافی ہلاک ہو چکے ہیں، لیکن ان واقعات میں نہ کوئی ملزم گرفتار ہوا ہے اور نہ ہی ملوث افراد کو سزا ہوئی ہے۔ بلوچستان کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جون میں جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب تک صوبے کے مختلف علاقوں سے لاپتہ افراد کی ایک سو سے زیادہ لاشیں مل چکی ہیں۔ جس طرح کسی بھی کھیل میں کھلاڑی ٹیم ورک کو پس پشت ڈال کر انفرادی طور پر کھیلنے لگیں تو یقینا نتیجہ ناکامی کی صورت میں نکلے گا، بالکل اسی طرح ہمارے ملک میں ہر طبقہ کے ناخداؤں نے اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے انفرادی کھیل کھیلنے کا سلسلہ اپنا رکھا ہے اور نتیجہ وہی یعنی کبھی ایک کا نقصان، کبھی دوسرے کا۔ سیاست دان ہوں یا پھر ملا حضرات، بیوروکریٹس ہوں یا پھر فوج یا کہ پھر جج صاحبان، ہر کوئی اپنا راگ الاپتا دکھائی دیتا ہے، جس کی وجہ سے ملک کو ہر کسی کی وجہ سے باری باری بدنامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لاشوں کے تحفے وصول کر رہے ہیں، نوجوان خون میں نہلا رہے ہیں، مسجدیں بارود کا ڈھیر بن چکی ہیں، امام بارگاہیں محفوظ نہیں، مزار اور مقدس مقامات دہشت کی لپیٹ میں ہیں۔ الغرض ہر کسی نے آج تک یہاں وہی تو بیچا ہے جس کی مانگ تھی۔ ملا اور ضیاء نے مومن بن کر اسلام بیچا، جرنیلوں نے پاکستان بیچا، پی پی پی اور نون لیگ نے جمہوریت بیچی، شریفوں نے شرافت بیچی، کسی نے زبان تو کسی نے قومیت کا بھاؤ لگایا اور کسی نے علاقائیت کی بولی لگائی، تو کسی نے اپنی ہی قیمت لگائی، مگر منزل سب کی مشترک تھی اور وہ تھی اقتدار اور پیسہ۔ یہاں اس کھیل میں کپتان سمیت نااہل سیاست کے کھلاڑیوں کو سمجھنے کی طاقت اگر کسی کے پاس تھی تو وہ فقط امریکہ ہی کے پاس تھی، لیکن اس ضمن میں امریکہ کی آج تک کی خاموشی کو کیا انسانی حقوق کی پاسبانی سمجھا جائے گا؟
ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی
حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان بننے سے پہلے، بعد اور آج تک انسانی حقوق کی پامالیوں کا بازار اسی طرح گرم رہا ہے گویا کہ پاکستان نے ہمیشہ ہی سے اس ضمن میں دنیا بھر کو پیچھے چھوڑ دینے کا تو گویا عہد کر رکھا ہے۔ ہر کسی نے دو دھاری تلوار ہاتھوں میں اٹھا رکھی ہے۔ الطاف حسین کی ایم کیو ایم کو دیکھیں، پہلے ’’جناح پور‘‘ اور پھر ’’پاکستان ہے تو ہم ہیں‘‘ کا نعرہ لگادیا۔ نواز شریف کی ن لیگ کو دیکھیں۔ پہلے سپریم کورٹ پر دن دہاڑے مسلح حملہ اور بعد میں اس کی تقدیس میں خشوع و خضوع سے آغاز۔ ضیاء الحق کو دیکھیں، ایک طرف افغانستان میں اللہ کی خوشنودی بذریعہ ’’جہاد‘‘ کا درس، جب کہ دوسری طرف پاکستان میں ’’فرقہ واریت‘‘ کی تن، من اور دھن سے سرپرستی۔ کس کا ذکر کریں اور کس کو چھوڑیں، یہاں تو ’’ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے، انجامِ گلستاں کیا ہوگا؟‘‘ مگر ’وِچوں وِچوں کھائی جاؤ، اُتوں رولا پائی جاؤ‘ کے مصداق انہی مغربی آقاؤں کی بے جا خاموشی، پشت پناہی اور ملی بھگت سے آج انسانی خوں کی یہ ارزانی نظر آ رہی ہے۔ مانا کہ جب گھر میں چور ہوں تو باہر سے کوتوال تو نہیں آئے گا، چور ہی آئے گا کہ اگر باہر کے چوروں کو روکنا ہے تو اس چور کو پکڑنا ہوگا جو گھر کے اندر رہ کر باہر کے چوروں کو دعوت دیتا ہے۔ قصوروار ہر حال میں گھر والے ہی ہیں۔ لیکن دوسری طرف جیسے سابق صدر مشرف صاحب نے اپنے انٹرویو میں فرمایا ہے کہ اگر ہم امریکہ کا ساتھ نہ دیتے تو وہ ہمیں تباہ کر دیتا۔ گویا ہم نے ڈر کر امریکہ کا ساتھ دیا، ورنہ دہشت گردوں کو تربیت دینا، انہیں پناہ دینا اور انہیں اپنی سرزمین کو استعمال کرنے دینا کوئی حماقت نہیں تھی۔ اور پھر ایک امریکی جریدہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ نے گزشتہ 56 سال کے دوران 63 لاکھ مسلمان شہید کیے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ نے ڈرون حملوں کے ذریعے 10 ہزار پاکستانی قبائلی شہید کیے ہیں۔ کیا وہ 63 لاکھ مسلمان بھی انسان نہیں تھے جو امریکہ نے مار دیے۔ یا پھر انسانی حقوق کی پاسداری کرنا امریکہ کی اخلاقی حدود میں شامل نہیں؟ اور پھر اگر اسامہ کی ہلاکت کے بعد انتقامی کارروائی کا ڈھنڈورا پیٹ کر نام نہاد اور خود ساختہ ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کو جاری رکھنے کی کوشش کی جاسکتی ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ افغانستان میں روس کی شکست کے بعد یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ ’’کے جی بی‘‘ یا ’’ایم سولہ‘‘ اپنی شکست کا بدلہ لینے کی بجائے ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جائے گی اور کوئی بھی انتقامی کارروائی نہیں کرے گی؟ حالانکہ سن اسّی کی دہائی میں امریکی صدر رونالڈ ریگن کے دورِ صدارت کے شروع سے ہی امریکی انتظامیہ نے الزام لگایا تھا کہ عالمی سطح پر دہشت گردی کے پس پشت روس کا ہاتھ ہے۔ اب کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ سوویت یونین ٹوٹ چکا ہے، لہٰذا اس میں سکت نہیں اٹھنے کی، تو یہ منطق بھی اس لیے قرین قیاس قرار نہیں دی جاسکتی کہ زخمی شیر، صحت مند شیر کی بہ نسبت زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ ایک وقت ہوتا تھا جب مٹھی بھر دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے لیے ایک فرض شناس پولس آفیسر ہی کافی ہوتا تھا، لیکن اب تین ڈویژن فوج بھی ان کے آگے بے بس نظر آتی ہے۔ اس کی مثالیں کشمیر کی وادیوں، افغانستان کے بیابانوں، اور پاکستان کے سبزہ زاروں میں دہشت گردوں کی کامیاب کارروائیوں سے عیاں ہیں، لیکن یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب دہشت گردوں کے خلاف ایک ایس ایچ او ہی کافی ہوتا تھا تب کسی ملک میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں دوسرے ممالک کا مفاد پوشیدہ نہیں ہوتا تھا، تب حکومتیں الٹنے کے لیے دہشت گردی کا سہارا نہیں لیا جاتا تھا، تب مذموم مقاصد حاصل کرنے کے لیے دہشت گردوں سے ہنگامے نہیں کروائے جاتے تھے، تاکہ ملک کو داخلی انتشار کا شکار ثابت کیا جاسکے، تب تشدد اور تباہی کے ذریعے سیاسی مقاصد کو حاصل کرنے کا رواج نہیں ہوتا تھا، تب ’’بوری بند کلچر‘‘ کی دہشت نہیں تھی، تب آتشیں اسلحہ سر عام نہیں بکتا تھا، تب پولس اور فوج میں کرپشن نہیں تھا۔ ان حالات و واقعات و حقائق و تبدیلیوں کے پیش نظر فوج، نیوی اور سیکورٹی اداروں پر دہشت گردانہ حملوں کو فوج کی کمزوری، نااہلیت سے مشروط کرنا حقائق و حالات پر پردہ پوشی اور عوام الناس کی آنکھوں میں دن دہاڑے دھول جھونکنے کی ایک منحنی سی کوشش کے سوا کچھ نہیں کہلا سکتا۔ اقوام متحدہ کا یہ ڈبل کردار بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ کیا اقوام متحدہ لاعلم ہے کہ پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک جو کچھ وہاں ہوتا چلا آرہا ہے، جو اس کے بعد ابھی انہیں وہاں سے انسانی حقوق کی پاسداریوں کی توقعات وابستہ ہیں؟ یا پھر اقوام متحدہ کا کام صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اس طرح رپورٹیں ہی پیش کرنا ہے اور وہ بھی ان ممالک، جن کے سر سے امریکہ کا دست شفقت اٹھ چکا ہو یا پھر اٹھنے کے ارادے باندھ رہا ہو؟ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں تو پاکستان میں ایک عرصہ دراز سے ہوتی چلی آرہی ہیں، مگر اقوام متحدہ کو یہ سب آج ہی کیوں دکھائی دینے لگی ہیں؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *