اتر پردیش کے بابو پریشان

دلیپ چیرین
اتر پردیش کی سیاست جرائم اور بد عنوانیوں کے لیے بد نام رہی ہے۔اس وجہ سے وہاں کام کرنے والے کئی بابوئوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حال ہی میں وہاں کئی کروڑ روپے کا طبی گھوٹالہ ہواہے۔ اس گھوٹالے کے سبب دو افسروں کو اپنی جان بھی گنوانی پڑی۔گھوٹالے کی لیپا پوتی کرنے میں جٹی سرکار نیشنل رورل ہیلتھ مشن ( این آر ایچ ایم) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر تقرری کے لیے ایسے بابو کی تلاش کر رہی ہے، جو اس کی مدد کرسکے۔ چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر بی پی سنگھ کی ہلاکت کے بعد یہ گھوٹالہ اجاگر ہوا۔ اس کے بعد اس عہدے پر کسی بھی افسر کو زیادہ دنوں تک نہیں رکھا گیا۔ اے کے گوئل کے بعد محمد مصطفی کی تقرری کی گئی۔ کچھ مہینوں کے اندر پانچ ڈائریکٹر متعین کیے گئے۔این آر ایچ ایم کے لیے مستقل ڈائریکٹر کی تقرری نہ ہونے کے سبب مرکزی وزیر صحت نے 2462 کروڑ روپے دینے سے منع کر دیا ہے۔ اب مایا وتی سرکارکی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ آگے کیا کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی اتر پردیش کے بابوئوں کی پریشانی بھی بڑھ گئی ہے۔
انتظار میں ڈی جی سی اے
ڈائریکٹریٹ جنرل آف سِوِل ایوی ایشن ( ڈی جی سی اے)کے سربراہ کے عہدے کے لیے کوئی اہل امیدوار نہیں مل رہا ہے۔ اس وجہ سے سرکار اس عہدے کے لیے مقررہ اہلیت میں کمی کرنے کی بات سوچ رہی ہے۔ یہی صورت حال نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا ( این ایچ اے آئی) میں ہے۔ حالانکہ وزارتِ سول ایوی ایشن  کے پاس 6 لوگوں نے درخواست دی، لیکن ان میں سے کوئی بھی اس عہدے کے معیار پر کھرا نہیں اتر سکا۔ اس عہدے کے لیے عمر کی حد بھی آڑے آ رہی ہے۔ گزشتہ دسمبر سے ڈی جی سی اے کو اضافی سکریٹری سطح کے افسر ای کے بھارت بوشن چلا رہے ہیں۔ پتہ نہیں، کب اس محکمے کو اس کا سربراہ ملے گا۔ کوئی بابو اس کے معیار کو پورا کر پائے گا یا سرکار کو ہی کچھ چھوٹ دینی پڑے گی، یہ تو تقرری کے بعد ہی پتہ چلے گا۔
بدعنوان بابوئوں کو خطرہ
بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار بات کے پکے ہیں۔ کچھ مہینے پہلے انہوں نے بابوئوں  کو وارننگ دی تھی کہ جو بابو بد عنوانی میں ملوث پائے جائیں گے، ان کی جائداد ضبط کر کے وہاں اسکول بنا دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات سچ کر کے دکھائی۔ بہار سرکار نے بد عنوانی کے ملزم تین آئی اے ایس افسروں ایس ایس ورما، رگھونش کنور اور گریش کمار کی جائدادیں ضبط کر لی ہیں۔ مدھیہ پردیش اور ہماچل پردیش کی سرکاروں نے بھی بابوئوں کی بد عنوانی پر لگام لگانے کے لیے اسی طرح کے قانون بنائے ہیں۔ امید ہے کہ دیگر ریاستیں بھی ایسے قانون بنائیں گی۔ اگر سبھی ریاستوں نے ایسے ہی قانون بنا دیے تو بابوئوں کو بد عنوانی کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنا پڑے گا۔ بہار سرکار کے اس قدم سے ان بابوئوں کی سانسیں اٹکی ہوئی ہیں، جن پر بد عنوانی کے الزام ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *