یہ پورے ملک کی تحریک

سنتوش بھارتیہ
انا ہزارے تاریخ میں سنہرا باب بن کر جڑ گئے ہیں۔ آزادی کے بعد کئی لیڈران نے تحریکیں چلائیں، لوگ ان کے ساتھ جڑے، انھوں نے اپنی باتیں بھی منوائیں۔ بھوک ہڑتالیں بھی کیں، ان میں لوگ شہید بھی ہوئے، لیکن انا کا قصہ ان سب سے الگ ہے۔ ایک ایسا آدمی ،جو ملک میں کہیں گھوما نہیں، جس نے ریاستوں میں اجلاس نہیں کئے، لوگوں کو تیار نہیں کیا، ان کے پاس اپنا ایشو نہیں پہنچایا، کوئی تنظیم نہیں بنائی، اس کے ساتھ آزادی کے بعد کا سب سے بڑا عوامی جم غفیر کھڑا ہے۔ کل کیا ہوگا، کوئی نہیں جانتا، لیکن آج پورا ہندوستان انا ہزارے کے ساتھ کھڑا ہے۔ گزشتہ پندرہ سالوں میں ہندوستان میں عوام کی نبض پہچاننے والے لوگ بچھڑ گئے،قدرت نے انہیں ہم سے چھین لیا، لیکن ان پندرہ سالوں میں ہندوستان کے مسائل میں بھی غیر متوقع طورپر اضافہ ہوا۔ نئی اقتصادی پالیسیاں نافذہوئیں، سال بھر کے اندر ان کے نتیجے آنا شروع ہو گئے۔ پہلا گھوٹالہ پانچ ہزار کروڑ روپے کا ہوا، جس میں غیر ملکی بینک شامل تھے۔ انھوں نے ہندوستان کا پیسہ ریزرو بینک کی جانچ کے حساب سے پانچ ہزار کروڑ روپیہ ملک کے باہر بھیج دیا۔ اس میں کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2005سے 2011کے درمیان ملک میں گھوٹالوں کا سیلاب آ گیا۔
ان اقتصادی پالیسیوں کے نتیجہ میں ایک طرف جہاں بدعنوانی گائوں گائوں پہنچ گئی، پنچایتیں بھی اس میں شامل ہو گئیں، وہیں دوسری طرف ایک لاکھ 76ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ سامنے آیا، جسے 2جی اسپیکٹرم معاملہ میں سی اے جی نے پکڑا۔ اس کے بعد اس سے بڑا کوئلہ گھوٹالہ ہوا اور اس سے بھی بڑا گھوٹالہ ہوا جس کی کوئی رقم سی اے جی کی سمجھ میں ہی نہیں آئی، کے جی بیسن گھوٹالہ۔ ان تمام صورتحال نے اشارے دئے کہ ملک مکمل طور پر بدعنوانی کے ایسے شکنجہ میں پھنس گیا ہے، جس سے نکلنا تقریباً نا ممکن ہے۔ دوسری طرف ملک کا عام آدمی، جس میں60فیصد لوگ براہ راست آتے ہیں، لیکن ہم 70یا 75فیصد مان لیں، یہ تمام لوگ بدعنوانی سے پوری طرح متاثر تھے۔ بدعنوانی کے ساتھ کی بیماری جس کا نام مہنگائی ہے، جس کا نام بے روزگاری ہے، جن کے نتیجہ میں بھوک سے موتیں ہوتی ہیں، ملک میں ترقی نہیں ہوتی اور پیسہ نیچے تک نہیں پہنچتا، یہ تمام چیزیں 2011تک لوگوں کی زندگی میں گھس گئیں۔ لوگ پریشان تھے، من مسوس رہے تھے ، لیکن انہیں لگ رہا تھا کہ پورا سیاسی منظر نامہ ایسا ہے، جس میں کسی جماعت کے پاس جانا اندھے کے آگے رونے جیسا ہے، کیونکہ عوام کو تمام سیاسی جماعتیں ایک ہی کردار میں دکھائی دینے لگی ہیں۔ایسا کوئی بھی لیڈر نظر نہیں آتا، جو الگ ہو۔ ہر کسی کے ساتھ کوئی نہ کوئی اسکینڈل، کسی نہ کسی سرمایہ کار کا چہرہ، کوئی نہ کوئی غیر ملکی طاقت۔ لوگوں کو لگا کہ پوری سیاسی مشینری بدعنوان ہو چکی ہے۔
ہندوستان کی پارلیمنٹ جمہوریت کا چہرہ ہے، لیکن جمہوریت کا یہ چہرہ بھی لوگوں کو ڈرانے  لگا ہے۔انہیں لگنے لگا کہ ان کے کسی بھی مسئلہ کا حل پارلیمنٹ نہیں کر پائے گی اور اس لئے اب انہوں نے اپنے مسائل کے لئے پارلیمنٹ کے دروازے پر آ کر اسے کھٹکھٹانا بند کر دیا ہے۔ لوگ آتے تھے، یہ سو کروڑ سے زیادہ لوگوں کا ملک ہے۔ تنظیمیں لوگوں کو لے کر آتی تھیں، وہ رسمی احتجاج جنتر منتر پر درج کر کے چلی جاتی تھیں۔ عوام نہیں آتے تھے، وہ کسی سیاسی جماعت کے پاس نہیں جاتے تھے، لیکن ان کے اندر پھیل رہی گہری مایوسی نے غصہ کی شکل اختیار کر لی۔ انا جب دہلی آئے اور انھوں نے بھوک ہڑتال کی تو لوگوں کو لگا کہ ہاں، ایک شخص ہے، جس کاکوئی ذاتی مفاد اس بھوک ہڑتال میں نہیں ہے، وہ ہندوستان میں چاروں جانب پھیلی گندگی کے خلاف جدوجہد کرنا چاہتا ہے اور اگر جدوجہد نہ کر پایا تو اپنی جان دے دینا چاہتا ہے۔اس کے ساتھ لوگوں کا دل مل گیا، لوگ جڑنے لگے۔ ایک طرف لوگ ان سے جڑ رہے تھے اور دوسری طرف سیاسی پارٹیاں اور بر سر اقتدار پارٹی یعنی کانگریس پارٹی اس آدمی کے تئیں لوگوں میں بھرم پھیلانے میں اپنی طاقت لگانے لگیں۔ جب سیاسی پارٹیوں نے، جن میں برسراقتدار سب سے آگے تھی، اپنی پوری طاقت لگا لی اور دیکھا کہ کچھ نہیں بگڑ رہا ہے تو انھوں نے میڈیا کا سہارا لیا۔ میڈیا نے بھی انا کے خلاف کئی طرح کے بھرم پھیلائے، لیکن لوگوں کو لگا کہ یہ سب پوشیدہ خودغرضی کے سبب انا کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ اس لئے جب انا نے جن لوک پال کی بات کی اور کہا کہ اس سے بدعنوانی مٹے گی تو ملک کے بھولے بھالے عوام نے سوچا کہ ایسا ہو سکتا ہے اور ایک بے لوث شخص یہ بات کہہ رہا ہے، اس لئے اس کا ساتھ دینا چاہئے۔ نتیجتاً پورا ملک انا کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔
یہ بحث کا موضوع ہے جن لوک پال بدعنوانی پر کتنی لگام لگائے گا، لیکن یہ بدعنوانی سے لڑنے کی سمت میں ایک قدم ثابت ہو سکتا ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ عوام نے بھی یہی سوچ کر اناّ کا ساتھ دیا۔لیکن حکومت،جس کے پاس اتنی بڑی مشینری ہے، ملازمین ہیں، انٹیلی جنس ایجنسی ، ہر محکمہ کی اپنی خفیہ یونٹ ہے، کسی نے یہ خبر حکومت کو نہیں دی کہ انا کے حق میں ملک کا عام آدمی کتنا تیار ہو رہا ہے۔ نتیجہ جو نکلنا تھا، وہی نکلا۔ حکومت مغالطہ میں رہی اور لوگ انا کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ اس حکومت کی دانشمندی ، جسے دوسرے الفاظ میں بے وقوفی کہہ سکتے ہیں، کی مثال اگر لینا ہو تو 12اگست سے لے کر 16اگست تک کا وقت بے حد مناسب ہے۔12,13,14اور 15اگست کو حکومت کے جوتیور تھے، وزراء کے جو تیور تھے، حکومت کے اشارے پر دہلی پولس اور ایم سی ڈی کے جو تیور تھے، وہ ایسے تھے، جیسے تاناشاہ کے تیور ہوں۔کوئی بھی وزیر جمہوری زبان کا استعمال نہیں کر رہا تھا، اس لئے 17اگست کی صبح تک حکومت کو لگا کہ اگر اس نے فوری طور پر اپنا فیصلہ نہیں بدلا تو ہو سکتا ہے کہ ملک میں ایسی صورتحال پیدا ہو جائے، جو اس کے قابو میں نہ رہے اور حکومت نے یو ٹرن لے لیا۔
کیبنٹ کی میٹنگ میں جب انا ہزارے کے خلاف کیا کارروائی کی جائے، اس بارے میں بات ہو رہی تھی تو ملک کے وزیر داخلہ نے کہا کہ انا کے بلانے پر ڈھائی ہزار لوگ بھی نہیں آئیں گے۔ آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں، کیبنٹ کے ایک وزیر نے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ میرے پاس انٹیلی جنس ہے، مجھے پتہ ہے۔ تب دوسرے وزیر نے کہا کہ آپ نے یہی بات بابا رام دیو کی بھوک ہڑتال کے وقت کہی تھی کہ ان کے یہاں500سے 1000لوگ آئیں گے، لیکن آئے 25000لوگ۔ دراصل دو وکیلوںنے اس حکومت کو ڈبونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ کپل سبل اور پی چدمبرم سپریم کورٹ کے وکیل ہیں۔ ان کے دفتر ابھی بھی کام کرتے ہیں، ان کے پریوار کے لوگ ابھی وکالت میں ہیں۔ یہ ایسے وکیل تھے، جو حکومت بننے سے پہلے جب عدالت میں جاتے تھے تو اپنے کلائنٹ سے ایک پیشی کے پانچ لاکھ روپے لیتے تھے ۔عدالت بھلے ہی تاریخ دے دے، لیکن انہیں پانچ لاکھ روپے چاہئے، ورنہ یہ ہل کر سپریم کورٹ میں جج کے چیمبر کی طرف جاتے بھی نہیں تھے۔ ان کا رشتہ ہندوستان کے عام آدمی سے کبھی رہا ہی نہیں۔ان کا رشتہ ان لوگوں سے رہا ، جو ایک گھنٹے کی سماعت کے لئے 5لاکھ روپے دے سکتے ہیں۔ وہ کون لوگ ہیں؟ وہ ملک کے 50بڑے گھرانے ہیں، جن کے مقدمے سپریم کورٹ میں چل رہے ہیں۔ پچاس بڑے مجرم ہیں، جن کے مقدمے سپریم کورٹ میں چل رہے ہیں، وہی پانچ لاکھ روپے ایک پیشی کے دے سکتے ہیں۔ ان وزراء کے پاس کارکنان سے ملنے کا وقت نہیں ہے۔ کارکنان کی بساط کیا، ان کے پاس ممبران پارلیمنٹ سے ملنے کا وقت نہیں ہے۔ میں گواہ ہوں، پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں مجھ سے کانگریس کے بیسیوں ممبران پارلیمنٹ نے کہا کہ یہ دونوں مل کر پارٹی کو ڈبو دیں گے۔ منموہن سنگھ کو استعفیٰ دینے کے لئے مجبور ہونا پڑے گا۔ جب کانگریس کے ممبران پارلیمنٹ ایسی بات کہیں تو مان لینا چاہئے کہ یہ حکومت کیسی چل رہی ہے اور مجھے پورا بھروسہ ہے کہ یہ حکومت کچھ نہ کچھ کمال ابھی اور کرے گی، جس سے ملک کے لوگوں کو لگے گا کہ یہ کسی بھی طرح سے ان کی حکومت نہیں ہے اور اپوزیشن جماعتیں کچھ نہ کچھ ایسا ناٹک ضرور کریں گی، جس سے پتہ چلے گا کہ یہ جتنے لوگ سیاست میں لیڈر بننے کا دعویٰ کرتے ہیں، اس دعوے کے لائق ہیں نہیں، کیونکہ عوام کی خواہش کچھ ہے اور یہ کچھ اور کرنا چاہتے ہیں۔
ہو سکتا ہے، ملک کے تمام لوگ انا ہزارے کی حمایت میں دہلی کی طرف کوچ کر دیں۔ کتنا روکیں گی ریاستی حکومتیں، کیونکہ انہیں بھی سمجھ میں آگیا ہے کہ جو جم غفیر دہلی میں دکھائی دیا، وہی ان کی راجدھانی میں بھی دکھائی دے سکتا ہے۔ اس لئے کوئی بھی ہاتھ سینکتے ہوئے اپنے ہاتھ جلانا نہیں چاہے گا۔ اگر پورے ملک کے لوگ دہلی کی طرف کوچ کر جائیں، بدعنوانی کے خلاف انا کی مہم میں ساتھ دینے کا حلف لینے لگیں تو صورتحال کیا ہوگی؟ اگر یہی بات ملک کے قصبوں، گائووں تک پہنچ جائے۔ بہت سارے قصبوں اور گائووں میں انا کو لے کر انتہائی جوش وخروش ہے۔ شاید وہاں بھی یہ ایشو پہنچ چکا ہے، لیکن ابھی بھی وہ لوگ، جو عوام کے ابھارکے خلاف ہیںاور ٹیلی ویژن چینل، جو عوام کی خواہش کو سمجھ نہیں پا رہے ہیں، ایک نئی بحث شروع کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق، اس تحریک میں دلت نہیں ہیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ انہیں کیسے پتہ چلا کہ اس میں دلت نہیں ہیں، اقلیت نہیں ہیں۔ کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ دلت اسی شکل میں سامنے آئیں، پھٹے کپڑے، پھٹے جوتے پہن کر اور بھوکا پیٹ لے کر، تبھی وہ مانیں گے کہ تحریک میں دلت شامل ہوا۔یا پھر اقلیت، جن میں مسلمان سب سے اہم ہیں، وہ اس شکل میں سامنے آئے کہ لمبی داڑھی، اونچا پائجامہ ، لمبا کرتا، تبھی وہ مانیں گے کہ مسلمان اس میں شامل ہیں۔ نوجوانوں نے پہلی بار ملک میں کھڑے ہوکر یہ بتایا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ وہ بدعنوانی سے نجات اور نیا ہندوستان چاہتا ہے۔ ان نوجوانوں میں دلت بھی ہیں ، اقلیت بھی ہیں اور پسماندہ بھی ہیں اوراعلیٰ ذات بھی ہیں یعنی کل ملا کرپورا ملک شامل ہے۔
یہ متوسط طبقہ کی تحریک نہیں ہے۔ ہم اپنے ساتھیوں کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ثبوت دیں کہ یہ متوسط طبقہ کی تحریک نہیں ہے۔ ہم انہیں ثبوت دیتے ہیں، پوری ذمہ داری کے ساتھ ثبوت دیتے ہیں کہ یہ متوسط طبقہ کی تحریک ہے۔ ملک کی تحریک ہے۔ فوج جب لڑائی لڑتی ہے تو کچھ ٹکڑیاں آگے ہوتی ہیں اور کچھ پیچھے۔ بڑے دانشمندوں کو جو تاریخ میں نکٹے کی شکل میں اپنی موجودگی درج کرانا چاہتے ہیں، ان سے ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ لڑائی میں ہر کسی کا رول ہوتا ہے۔ سرحد پر جو بندوق چلاتا ہے، وہ بندوق نہیں چلا سکتا، اگر اسے گولیوں کی سپلائی نہ ہو۔ گولیوں کی سپلائی کرنے والی الگ یونٹ ہوتی ہے۔ وہ گولی نہیں چلا سکتا، اگر اس کے پاس کھانا بن کر نہ آئے اور اس کے پیٹ میں کھانا نہ جائے۔ وہ گولی نہیں چلا سکتا، اگر اس کے کپڑے صاف نہ ہوں، کیونکہ ایک طرف وہ نشانہ لگاتاہے دشمنوں پر ، اگر اس کے کپڑے گندے ہوں، اس میں کیڑے ہو گئے ہوں تو اس کا نشانہ چوک سکتا ہے۔ ہر ایک کا رول ہے ۔ دھوبی، موچی، ڈاکیا جو پیغام لاتا ہے ، لے جاتا ہے اور وائر لیس آپریٹر ، ان سب کا لڑائی میں رول ہوتا ہے۔ اسی طریقہ سے اس نئی لڑائی میں، جسے انا آزادی کی دوسری لڑائی کہتے ہیں، سب کا رول ہے اور سب اپنا اپنا رول ادا کر رہے ہیں۔ اس عوامی ابھار کو سمجھنا چاہئے، اس کا ساتھ دینا چاہئے اور ملک بدلنے کی امید لئے لوگوں کے ذریعہ دیکھے جانے والے خواب کو ہم سب کو سلام کرنا چاہئے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *